حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ ۔۔۔ آخری قسط

in Tahaffuz, September 2012-October 2012, شخصیات

“کیا میں نے عشاء کی نماز پڑھ لی ہے؟”

“سیدی! آپ نماز باجماعت ادا کرچکے ہیں”

خدام نے دست بستہ عرض کیا۔

“میں دوبارہ عشاء کی نماز پڑھنا چاہتا ہوں”

حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا

“اﷲ ہی جانتا ہے کہ پھر کیا ہو؟”

یہ کہہ کر آپ نے دوبارہ نماز ادا کی اور پھر بے ہوش ہوگئے۔

اس بار بے ہوشی کا وقفہ زیادہ طویل تھا۔ دوسری مرتبہ ہوش آیا تو خدام سے پوچھا

“کیا میں نے عشاء کی نماز پڑھ لی ہے؟”

خدام نے عرض کیا

“سیدی! آپ دو بار نماز ادا کرچکے ہیں”

”میں ایک بار اور نماز پڑھنا چاہتا ہوں”

حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا

“اﷲ ہی جانتا ہے کہ پھر کیا ہو؟”

یہ کہہ کر آپ نے تیسری بار عشاء کی نماز ادا کی اور پھر سجدے کی حالت میں خالق حقیقی سے جاملے۔

حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے نماز ہی سے اپنی زندگی کا آغاز کیا اور نماز ہی میں آپ کی سانسوں کا شمار ختم ہوا۔

سرور کونین حضور اکرمﷺ کا ارشاد مقدس ہے کہ

“نماز مومن کی معراج ہے”

حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کو بھی یہ معراج حاصل ہوئی اور اس شان سے کہ آخری سجدہ ادا کرنے کے بعد آپ کی آنکھوں نے کوئی دوسرا منظر نہیں دیکھا۔

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سے دریافت کیا گیا کہ وفات کے وقت حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی عمر مبارک کیا تھی؟

“پچانوے سال”

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ فرمایا۔

”انتقال کے وقت حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی زبان مبارک پر یہ کلمات جاری تھے ’’ یاحی یا قیوم

حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ 666ھ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔

٭…٭…٭

حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے تمام صاحب زادوں کا اس پر اتفاق تھا کہ آپ کو اجودھن کی فصیل کے باہر اس مقام پر سپرد خاک کیا جائے جہاں شہداء مدفون ہیں۔ اسی غرض سے آپ کے جنازے کو فصیل کے باہر لے جایا گیا۔ ابھی نماز جنازہ کا اہتمام کیا جارہا تھا کہ عین موقع پر آپ کے محبوب ترین صاحب زادے حضرت شیخ نظام الدین علیہ الرحمہ تشریف لے آئے۔ اس وقت وہ سلطان غیاث الدین بلبن کے ملازم تھے اور پٹیالی میں مقیم تھے۔ شیخ زادہ نظام الدین علیہ الرحمہ نے کچھ دن پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ والد محترم انہیں یاد فرما رہے ہیں۔ آپ نے فورا ہی سلطان سے رخصت کی اجازت لی اور اجودھن روانہ ہوگئے۔ شیخ زادہ نظام الدین علیہ الرحمہ اسی رات اجودھن پہنچے جس رات حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کا وصال ہوا تھا۔ آپ نے شہر میں داخل ہونے کی بہت کوشش کی مگر تمام دروازے بند ہوچکے تھے۔ اس لئے مجبوراً پوری رات شہر کے باہر گزاری۔

وفات سے پہلے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ بار بار فرماتے تھے

نظام الدین آتو گیا ہے مگر کیا فائدہ کہ اب اس سے ملاقات نہیں ہوسکتی۔

پھر جب صبح ہوئی اور شیخ نظام الدین علیہ الرحمہ شہر میں داخل ہونے کے لئے فصیل کے دروازے تک پہنچے تو سامنے سے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کا جنازہ آرہا تھا۔

شیخ نظام الدین علیہ الرحمہ نے بے مثال صبروضبط کا مظاہرہ کیا مگر والد محترم کی محبتیں یاد کرکے آپ کی آنکھیں اشکوں سے لبریز ہوگئیں۔ پھر بھائیوں سے پوچھا کہ حضرت شیخ کو کہاں آسودۂ خاک کرو گے؟

فصیل کے باہر جہاں شہداء کی قبریں ہیں‘‘ بھائیوں نے جواب دیا۔ ’’یہ وہی مقام ہے جہاں حضرت شیخ ذکر الٰہی میں مصروف رہتے تھے

اگر تم نے حضرت شیخ علیہ الرحمہ کو فصیل کے باہر دفن کیا تو کوئی بھی تم پر اعتبار نہیں کرے گا بھائیوں کی بات سن کر شیخ نظام الدین علیہ الرحمہ نے کہاجو عقیدت مند بھی حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی زیارت کو آئے گا، وہ باہر ہی سے فاتحہ پڑھ کر چلا جائے گا

الغرض شیخ نظام الدین علیہ الرحمہ کے مشورے سے جنازہ فصیل کے اندر لایا گیا اور اس جگہ دفن کیا گیا جہاں آج آپ کا مزار مبارک موجود ہے۔

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت شیخ علیہ الرحمہ سے عرض کیا کہ اگر حکم ہو تو مسکینوں کا وہ حجرہ جو لکڑی اور گارے سے بنا ہوا تھا، اسے پختہ اینٹوں سے تعمیر کرادوں۔

جواب میں حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایاسات سال پہلے میں نے عہد کیا تھا کہ اینٹ پر اینٹ نہیں رکھوں گا

الغرض جب حضرت شیخ علیہ الرحمہ کا انتقال ہوا تو اسی حجرے کو توڑ کر آپ کو اسی جگہ دفن کیا گیا۔ آپ کا روضۂ مبارک اسی مقام پر ہے جہاں یہ حجرہ موجود تھا۔

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا بیان ہے کہ حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی لحد کے لئے کچی اینٹیں تک موجود نہیں تھیں۔ مجبوراً پیرومرشد کے مکان سے چند کچی اینٹیں نکال کر لحد میں لگائی گئیں۔

یہ ہے اس مرد فقیر کی آخری آرام گاہ جس کے سامنے بڑے بڑے باجبروت شہنشاہ سرجھکائے بیٹھے رہتے تھے۔

٭…٭…٭

پہلی بیوی نجیب النساء سے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی سات اولادیں تھیں۔ چھ بچے کم سنی میں انتقال کرگئے۔ صرف بی بی شرف النساء جوانی کی منزل تک پہنچیں۔ آپ مشہور بزرگ حضرت مخدوم علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ کی شریک حیات تھیں۔

دوسری بیوی خاتون بیگم سے دس اولادیں ہوئیں۔ حضرت شیخ شہاب الدین گنج علم علیہ الرحمہ یہ آپ کے فرزند اکبر تھے… حضرت شیخ نظام الدین شہید علیہ الرحمہ، حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ انہیں سب سے زیادہ چاہتے تھے۔ شیخ نظام الدین علیہ الرحمہ، سلطان علاء الدین خلجی کے عہد میں رنتھبور کے مقام پر شہید ہوئے… حضرت شیخ بدر الدین سلیمان علیہ الرحمہ، بعض تذکرہ نویسوں کے خیال میں یہ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے سب سے بڑے صاحب زادے تھے… حضرت شیخ محمد یعقوب علیہ الرحمہ، بعض روایتوں کے مطابق امروہہ جاکر مردان غیب میں شامل ہوگئے تھے… حضرت بی بی فاطمہ علیہ الرحمہ، مولانا بدر الدین اسحاق علیہ الرحمہ کی اہلیہ تھیں جن کا مزار مبارک دہلی میں ہے … حضرت بی بی شریفہ علیہ الرحمہ جن کا انتقال بچپن میں ہوگیا تھا… حضرت شیخ عبداﷲ بیابانی علیہ الرحمہ جنہیں مفسدین کی ایک جماعت نے بچپن ہی میں شہید کردیا تھا… حضرت بی بی مستورہ علیہ الرحمہ جن کا انتقال شادی کے بعد ہوا۔ ان کے شوہر کا نام شیخ عمر صوفی علیہ الرحمہ تھا۔ حضرت بی بی ہاجرہ اور حضرت بی بی زینب ان دونوں صاحبزادیوں کا انتقال شیرخوارگی کے زمانے میں ہوا۔

حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی نسبی اولادیں سترہ تھیں… مگر روحانی فرزندوں کاکوئی شمار نہیں۔ عقیدت اور غلامی کا یہ سلسلہ حشر تک جاری رہے گا۔ فارسی زبان کا مشہور شعر ہے۔

ہرگز غیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما

(جس کا دل عشق میں زندہ ہوجاتا ہے، اسے ہرگز موت نہیں آتی۔ زمانے کے اوراق پر ہمیشہ کے لئے ہمارا نام ثبت کردیا گیا ہے)

حضرت بابا فریدعلیہ الرحمہ کی حیات دوام کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ جب صاحبقراں امیر تیمور ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو سب سے پہلے اس نے آپ کے مزار مبارک پر حاضری دی۔ فاتح ایشیاء امیر تیمور کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ’’لرزندۂ جہاں‘‘ تھا اور بڑے بڑے سلاطین اس کے نام سے خوفزدہ رہتے تھے… مگر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ جب امیر تیمور حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ کے جلال روحانی کے اثر سے کانپ رہا تھا۔

پھر اسی فاتح ایشیاء کی نسل میں مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر پیدا ہوا۔ ہر چند شیخ مبارک اور اس کے بیٹوں ابوالفضل اور فیضی نے اکبر کو خدا بنانے کی کوشش کی تھی مگر مغل شہنشاہ زندگی بھر بزرگان دین کے حلقہ اثر سے آزاد نہ ہوسکا۔ اس نے کئی بار حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے مزار مبارک پر حاضری دی اور اجودھن کا نام بدل کر پاک پٹن رکھا۔ آج یہ شہر اسی عقیدت کی یادگار ہے۔

(اس کے ساتھ ہی حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ کی زندگی پر مبنی قسط وار سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ آئندہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی حیات پر مبنی قسط وار سلسلہ شروع ہوگا)