زمین پر انسانی زندگی کی ابتدا

in Tahaffuz, September 2012-October 2012, متفرقا ت, محمد اسماعیل بدایونی

اﷲ جل جلالہ نے فرمایا

انی اعلم مالا تعلمون (سورہ بقرہ آیت ۳۰ پارہ ۱)

اے میرے فرشتوں بے شک میں وہ جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔

اﷲ عزوجل تو ہر بات کو جانتا ہے خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ اﷲ عزوجل کے علم میں یہ بات بھی تھی کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد میں انبیاء کرام، اولیاء اﷲ، نیک صالح زاہد، عابد اور اس سے محبت کرنے والے لوگ بھی پیدا ہوں گے۔

اﷲ عزوجل یہ بھی جانتا تھا کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جو برے کام کریں گے … ناحق لوگوں کو قتل کریں گے… چوری کریں گے… رشوت لیں گے… جھگڑا کریں گے… زمین میں فساد پھیلائیں گے۔ ماموں جان! جھگڑا کرنے والے لوگ تو اچھے نہیں ہوتے نا! حسن نے معصومیت سے پوچھا۔

ہاں بیٹا جو لوگ لڑتے جھگڑتے ہیں وہ اچھے لوگ نہیں ہوتے۔

سعد ماموں نے پیار بھری نظروں سے حسن کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

لیکن ماموں جان! اﷲ عزوجل نے سیدنا آدم علیہ السلام کو کس طرح پیدا فرمایا۔

ہاں بیٹا! اﷲ عزوجل نے سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی کی ایک مٹھی سے پیدا فرمایا۔

اس مٹھی بھر مٹی کو تمام زمین سے لیا۔ اس مٹی میں ہر قسم کے ذرات شامل تھے۔ سفید رنگ، سیاہ رنگ اور درمیانی رنگ والی مٹی لی گئی۔ اسی طرح کچھ مٹی نرم زمین سے لی گئی اور کچھ سخت سے اور پھر اس مٹی کا گارا بنایا پھر اس گارے سے ایک صورت تیار کی۔ یہ صورت آدمی کی تھی۔ پھر اس میں اپنی روح پھونکی، اس طرح ان میں زندگی آگئی۔ وہ حرکت کرنے لگے۔

مٹی کی اس مٹھی میں چونکہ تمام اقسام کی مٹی شامل تھی۔ اس لئے دنیا میں جتنے لوگ پیدا ہوئے یا ہوں گے، سب مختلف رنگوں اور مختلف مزاجوں کے ہیں۔

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ جو جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا (میں اس کا مفہوم بتا دیتا ہوں) اﷲ عزوجل نے سیدنا آدم علیہ السلام کو ایسی مٹی کی مٹھی سے پیدا فرمایا جس کو تمام زمین سے لیا گیا تھا۔ اس لئے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں وہ تمام خصوصیات ہیں، جتنے قسم کے رنگوں والی مٹی آپ کے جسم میں لگائی گئی۔ آپ کی اولاد میں اتنے ہی رنگ پائے جاتے ہیں۔ کوئی سفید رنگ کا ہے، کوئی گندمی رنگ کا ہے اور کوئی کالے کا کوئی اچھا کوئی برا کوئی نرم دل اور کوئی سخت مزاج۔

ماموں جان تو آپ کہہ رہے تھے کہ تخلیق آدم کے وقت فرشتوں نے اﷲ عزوجل سے کہا تھا کہ تو ایسی مخلوق کو پیدا کررہا ہے جو زمین میں فساد کرے گی اور خون بہائے گی۔ جنید نے کہا۔

ہاں تو بچو!

چونکہ فرشتے تخلیق آدم کی حکمت سے ناواقف تھے۔ اسی لئے اﷲ عزوجل نے ارادہ کیا کہ تخلیق آدم کا مقصد اور فرشتوں پر ان کی فضیلت و برتری واضح کردی جائے۔ چنانچہ اﷲ عزوجل نے سیدنا آدم علیہ السلام کو چھوٹی بڑی تمام اشیاء کا نام سکھا دیا اور پھر فرشتوں کے سامنے ان تمام چیزوں کو پیش کرکے فرمایا۔

ثم عرضہم علی الملائکۃ فقال انبئونی باسماء ہولاء ان کنتم صادقین (سورۂ بقرہ آیت 31 پارہ 1)

’’پھر پیش کیا انہیں فرشتوں کے سامنے اور فرمایا بتائو تم مجھے نام ان چیزوں کے اگر تم (اپنے اس خیال میں) سچے ہو‘‘

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں