چاندنی رات کا پچھلا پہر تھا۔ مدینے کی گلیوں میںہر طرف نور برس رہا تھا۔ پوری آبادی رحمتوں کے نور میں محو خواب تھی۔ آسمانوں کے دریچے کھل گئے تھے۔ فضائے بسیط میں فرشتوں کے پروں کی آواز دم بدم تیز ہوتی جارہی تھی۔ عالم بالا کا یہ کارواں شاید مدینے کی گلیوں کا تقدس چومنے آرہا تھا۔

اچانک اسی خاموش سناٹے میں بہت دور ایک آواز گونجی۔ فضاؤں کا سکوت ٹوٹ گیا۔ شبستان وجود کے سارے تار بکھر گئے۔ اور ایمان کی تپش چنگاریوں کی طرح بال بال سے پھوٹنے لگی۔

میخانۂ عشق کا دروازہ کھلا، کوثر کی شراب چھلکی اور جذبۂ اخلاص کی والہانہ سرمستیوں میں سارا ماحول ڈوب گیا۔

یہ غلامان اسلام کے آقا حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ کی آواز تھی۔ جس نے ہر گھر میں ایک ہنگامۂ شوق برپا کردیا تھا۔ اب مدینے کی ساری آبادی جاگ اٹھی تھی۔ سرور کونینﷺ کامنادی ایک شکستہ گھر کے سامنے آواز دے رہا تھا۔

گلشن اسلام کی شادابی کے لئے خون کی ضرورت ہے۔ آج نماز فجر کے بعد مجاہدین کا لشکر ایک عظیم مہم پر روانہ ہورہا ہے۔ مدینے کی ارجمند مائیں اپنے نوجوان شہزادوں کا نذرانہ لے کر فوراً بارگاہ رسالت میں حاضر ہوجائیں۔

کلمہ حق کی برتری کے لئے تڑپتی ہوئی لاشوں کی خوشنودی حق کی بشارت مبارک ہو۔  مبارک ہو خون کا آخری قطرہ جو ٹپکتے ہی اسلام کی بنیاد میں جذب ہوجائے گا۔

ایک ٹوٹے ہوئے دل کی طرح یہ ٹوٹا ہوا گھر ایک بیوہ عورت کا تھا۔ چھ سال کے یتیم بچے کو گود میں لئے ہوئے وہ سو رہی تھی۔ حضرت بلال کی آواز سن کر وہ چونک پڑی۔ دروازے پر کھڑی ہوکر پھر غور سے سنا، سنتے ہی دل کی چوٹ ابھر آئی۔ آنکھیں آنسوئوں سے جل تھل ہوگئیں، چھ سال کا یتیم بچہ سویا ہوا تھا۔ ماں رو رہی تھی۔ فرط محبت میں بچے کو سینے سے چمٹالیا۔

سسکیوں کی آواز سن کر بچے نے آنکھیں کھول دیں۔ ماں کو روتا دیکھ کر بے تاب ہوگیا۔ گلے میں بانہیں ڈال کر معصومیت کے ساتھ دریافت کیا۔

ماں کیوں رو رہی ہو؟ کہاں تکلیف ہے تمہیں؟

آہ! ایک ناسمجھ بچے کو کیا معلوم کہ حسرتوں کی چوٹ کتنی دردناک ہوتی ہے۔

کہاں چوٹ ہے یہ نہیں بتایا جاسکتا لیکن اس کی کسک سے سارا جسم ٹوٹنے لگتا ہے۔

پھر ایک بیوہ عورت کا دل تو اتنا نازک ہوتا ہے کہ ذرا سی ٹھیس سے چور چور ہوجاتا ہے۔

بچے کے اس سوال پر ماں کا دل بھرآیا۔ غم کی چوٹ یک بیک جذبات کا دھارا پھوٹ پڑا۔ گرم گرم آنسوئوں سے آنچل کا کونا بھیگ گیا۔

بچہ بھی ماں کی حالت دیکھ کر رونے لگا۔

ماں نے بچے کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا

“میرے لعل مت روؤ، یتیموں کا رونا عرش کا دل ہلا دیتا ہے، تمہارے گریہ درد سے غم کی چوٹ اور تازہ ہوجائے گی۔ بدر کی وادی میں ابدی نیند سونے والے اپنے شہید باپ کی روح کو مت تڑپاؤ۔ دنیا چھوڑنے کے بعد بھی شہیدوں کے دل کا رابطہ اپنے خون کے رشتوں سے باقی رہتا ہے، چپ ہوجاؤ۔ مت رو میرے لعل!”

مگر بچہ روتا رہا، وہ بضد تھا کہ ماں کیوں رو رہی ہے۔ بالاخر اپنے بچے کے لئے ماں کی آنکھ کا ابلتا ہوا چشمہ سوکھ گیا۔ ماں نے بچے کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔

بیٹا! ابھی حضرت بلال جنہیں ہم دہکتی ہوئی آگ کا نکھرا ہوا سونا کہتے ہیں، یہ اعلان کرتے ہوئے گزرے ہیں کہ اسلام کا پرچم دشمنوں کی زد پر ہے۔ آج نماز فجر کے بعد مجاہدین کا ایک لشکر میدان جنگ کی طرف روانہ ہورہا ہے۔ آقائے کونینﷺ نے اپنے جانباز وفاداروں کو آواز دی ہے۔ آج غیرت حق کا سمندر ہلکورے لے رہا ہے۔ رحمتوں کے تاجدار آج ایک ایک قطرہ خون پر جنتوں کی بہار لٹادینگے۔ ایک لمحے میں آج قسموں کی ساری شکن مٹ جائے گی۔ کتنی خوش نصیب ہوں گی وہ مادرانِ ملت جو سپیدہ سحر کی روشنی میں اپنے نوجوان صاحبزادوں کا نذرانہ لئے ہوئے دربار سالتﷺ میں حاضر ہوں گی۔

آہ! کتنی قابل رشک ہوں گی ان کی یہ التجا یارسول اﷲﷺ! ہم اپنے جگر کے ٹکڑے آپ کے قدموں پر نثار کرنی لائی ہیں۔ اسی آرزو میں انہیں دودھ پلاپلا کر جوان کیا تھا کہ ایک دن ان کے لہو سے دین کا چمن سیراب ہوگا۔

یارسول اﷲﷺ ہمارے ارمانوں کی یہ حقیر قربانی قبول فرمالیں۔ سرکار عمر بھر کی محنت وصول ہوجائے گی۔ یہ کہتے کہتے ماں کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ آواز بھر گئی۔ بچہ ماں کو روتا دیکھ کر مچل گیا۔ ماں نے کہا! بیٹا ضد نہ کرو۔ دل کی چوٹ تم ابھی نہیں سمجھ سکتے۔ میں اپنے نصیب کو رو رہی ہوں۔ کاش! آج میری گود میں بھی کوئی نوجوان بیٹا ہوتا تو میں اپنا نذرانہ شوق لئے رحمت عالمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتی۔

افسوس! کہ آج آخرت کے سب سے بڑے اعزاز سے محروم ہوگئی۔ یہ کہتے کہتے پھر دل کا درد جاگ اٹھا۔ پھر غم کی تپش بڑھ گئی اور پھر آنکھوں کے چشمے سے آنسو ابلنے لگے۔ بچے نے ماں کو چپ کراتے ہوئے کہا۔ اس میں رونے کی کیا بات ہے ماں؟ تمہاری گود تو خالی نہیں ہے۔ رحمت عالمﷺ کے حضور میں سب اپنے جوان بیٹوں کو لے کر جائیں گی۔ تم مجھی کو لے چلو۔

ماں نے چمکارتے ہوئے جواب دیا۔ بیٹا! میدان کارزار میں بچوںکو نہیں لے جاتے۔ وہاں تو شمشیر کی نوک سے دشمن کی صفیں الٹنے کے لئے جوانوں کے کس بل کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہاں سروں پر چمکتی ہوئی تلواروں کی بجلیاں گرتی ہیں۔ وہاں نیزوں کی انی سے کفر کے جگر میں شگاف ڈالا جاتا ہے۔ میرے لعل وہ قتل و خون کی سرزمین ہے۔ تم وہاں جاکر کیا کروگے۔

بچے نے ضد کرتے ہوئے کہا

یہ ٹھیک ہے کہ اپنی کمسنی کے باعث ہم میدان کارزار میں جانے کے قابل نہیںہیں۔ لیکن بارگاہ رسالتﷺ میں حاضری کے لئے تو عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ ہماری قربانی سرکارﷺ نے قبول فرمالی تو زہے نصیب! اور اگر بچہ سمجھ کر واپس کردیا تو کم ازکم اس کا غم تو نہیں رہے گا کہ اسلام کے لئے جان کی نذر پیش کرنے سے ہم محروم رہ گئے۔ جان چھوٹی ہو یا بڑی بہرحال جان ہے اور جان ہونے کی حیثیت سے دونوں کی قیمت میں کوئی فرق نہیں۔

ماں نے فرط محبت سے بچے کا منہ چوم لیا اور حیرت سے منہ تکنے لگی۔ اس کم سنی میں داناؤں جیسا شعور صرف اس رحمتِ خاص کا صدقہ ہے جو یتیموں کی نگران ہے۔ سپیدہ سحر نمودار ہوچکا تھا۔ جلوہ زیبا کے پروانے آنکھوں میں خمارِ شوق لئے مسجد نبوی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے۔ درد آشنا دلوں کے لئے ایک رات کا لمحہ فراق بھی طویل مدت کی طرح بوجھل ہوگیا تھا۔ حجرہ عائشہ کے خورشید کی پہلی کرن کے نظارہ کے لئے ہر نگاہ اشتیاق آرزو کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

نماز فجر کے بعد مسجد نبوی کے میدان میں مجاہدین کی قطاریں کھڑی ہوگئیں جو نوجوان محاذ جنگ پر جانے کے قابل تھے۔ انہیں لے لیا گیا۔ باقی واپس کردیئے گئے۔ انتخاب کے کام سے فارغ ہوکر سرکارﷺ واپس تشریف لاہی رہے تھے کہ اچانک پردہ نشین خاتون پر نظر پڑی جو چھ سال کا بچہ لئے کنارے پر کھڑی تھی۔

سرکارﷺ نے بلال سے ارشاد فرمایا

اس خاتون سے دریافت کرو وہ بارگاہ رحمت میں کیا فریاد لے کر آئی ہے؟

حضرت بلال نے قریب جاکر نہایت ادب سے پوچھا۔

دربار رسالت میں آپ کیا فریاد لے کر حاضر ہوئی ہیں؟

خاتون نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا

آج رات کے پچھلے پہر آپ اعلان کرتے ہوئے میرے گھر کے سامنے سے گزرے۔ اعلان سن کر میرا دل تڑپ اتھا۔ میرے گھر میں کوئی جوان نہیں  تھا۔ جس کے خون کی اسلام کی بارگاہ میں نذر پیش کرتی۔ چھ سال کا یہ یتیم بچہ ہے جس کا باپ گزشتہ سال جنگ بدر میں جام شہادت سے سیراب ہوا۔ یہی کل میری متاع زندگی ہے۔ جسے سرکارﷺ کے قدموں پر نثار کرنی لائی ہوں۔

حضرت بلال نے بچے کو گود میں اٹھالیا اور سرکارﷺ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ سرکارﷺ نے بچے کو آغوش رحمت میں جگہ دی۔ سر پر ہاتھ پھیرا، پیار کیا اور نہایت شفقت کے ساتھ ارشاد فرمایا

میری رحمتوں کے محبوب صاحبزادے تم ابھی کمسن ہو۔ محاذ جنگ پر جوانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ابھی تم اپنی ماں کی آغوش میں پلو، بڑھو اور اور گلشن اسلام کی بہار بنو۔ جب تمہارے بازو میں کس بل پیدا ہوجائے گا تو میدان جنگ خود تمہیں آواز دے گا

بچے نے اپنی تتلائی ہوئی زبان سے کہا

یارسول اﷲﷺ میں نے اپنی امی جان کو دیکھا ہے کہ جب وہ چولہا جلاتی ہیں تو پہلے چھوٹے چھوٹے تنکوں کو سلگاتی ہیں۔ جب آگ دہکتی ہے تو پھر موٹی موٹی لکڑیاں ڈالتی ہیں

یارسول اﷲﷺ میں جنگ کرنے کے قابل تو نہیں ہوں لیکن کیا میدان کارزار گرم کرنے کے لئے مجھ سے تنکوں کا بھی کام نہیں لیا جاسکتا۔ اگر آپ مجھے اپنے ہمراہ نہیں لے گئے تو میری امی روتے روتے ہلکان ہوجائیں گی۔ وہ اس غم میں ہر وقت روتی رہتی ہیں کہ آج میری گود میں کوئی جوان بیٹا ہوتا تو میں بھی اسے اسلام کی نذر کرکے سرکارﷺ کی خوشنودی کا اعزاز حاصل کرتی۔

جن معصوم اداؤں کے ساتھ بچے نے اپنی زبان میں دل کے حوصلے کا اظہار کیا۔ سارے مجمع پر رقت طاری ہوگئی۔ سرکارﷺ بھی فرط اثر سے آبدیدہ ہوگئے۔

حضرت بلال سے فرمایا

جاکر اس بچے کی ماں سے کہہ دو کہ اس ننھی سی جان کی قربانی قبول کرلی گئی ہے۔ قیامت کے دن وہ غازیان اسلام کی ماؤں کی صفوں میں اٹھائی جائے گی۔

آج سے خدا کی ایک مقدس امانت سمجھ کر وہ بچے کی پرورش کا فرض انجام دے اور خدا کے یہاں بال بال کا اجر محفوظ رہے گا۔