انبیا ء کرام کی توہین کیوں

in Tahaffuz, September 2012-October 2012, تحفظ نا مو س ر سا لت

مجلہ البرہان الحق بابت جولائی تا ستمبر کے شمارے کے اداریہ میں“انبیاء کرام کی توہین کیوں؟” کے عنوان سے لکھا تھا

“کیبل پر موجود ایک ٹی وی چینل آج کل یوسف علیہ السلام کے بارے میں ایک فلم دکھا رہا ہے جس میں وہ اداکار یعقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام کا کردار ادا کررہے ہیں جوکہ انبیاء کرام کی توہین ہے۔ لہذا خود بھی یہ فلم دیکھنے سے اجتناب کریں اور اپنے اہل خانہ اور بچوں کو بھی اس سے دور رکھیں کیونکہ یہ شرعاً ناجائز ہے”

اس پر کئی لوگ فلم کے جواز اور افادیت کے بارے میں من مانے دلائل سے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے لیکن ہم نے اپنا موقف نہ بدلا۔ مقام مسرت ہے کہ مختلف مکتبہ ہائے فکر مفتیان کرام نے بھی اس کو غیر شرعی قرار دے دیا ہے اور ناموس رسالت لائرز فورم کی کاوشوں سے فلم نشر کرنے والے نجی ٹی وی چینل کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ اوصاف اسلام آباد نے مورخہ 24 اپریل 2012ء بروز منگل پہلے صفحہ پر دو خبریں شائع کی ہیں جن کا عکس قارئین کی معلومات اور ریکارڈ کے لئے پیش خدمت ہے۔

ایمانداری اور دیانتداری کی عمدہ مثال

ہمارے ہاں جب کوئی جرم ہوتا ہے تو ہمارا میڈیا اس کی خوب تشہیر کرتا ہے لیکن جب کوئی اچھی اور نیکی خبر ہوتی ہے تو اسے یا تو نظر انداز کردیتا ہے یا زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اس خبر کے ساتھ کیاگیا جوکہ روزنامہ ایکسپریس اسلام آباد میں 2 جولائی 2012ء کو شائع ہوئی۔ خبر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن اسے ایک کالم میں تھوڑی سی جگہ دی گئی۔ خبر یہ ہے کہ پولیس کے ایک آدمی کو گمشدہ 55 لاکھ روپے ملے اور اس ایماندار اور دیانتدار آدمی نے وہ رقم اصل مالک کو پہنچا دی۔