کہتے ہیں کسی زمانہ میں ایک نیک آدمی رہا کرتا تھا جو بڑا عبادت گزار تھا۔ وہ دنیا کو چھوڑ کر شہر سے دور ایک ویرانے میں دن رات عبارت میں مصروف رہا کرتا تھا۔ قرب و جوار میں ایک آوارہ بدچلن عورت رہا کرتی تھی۔ اس نے اپنی ملازمہ کو اس نیک آدمی کے پاس بھیجا اور اسے کسی مسئلے کی گواہی دینے کے سلسلے میں بلوالیا۔ یہ عبادت گزار جب اس عورت کے گھر داخل ہوا تو اس ملازمہ نے دروازہ بند کردیا۔ آخر وہ اس کمرے میں پہنچا جہاں وہ آوارہ اور بدچلن عورت بیٹھی تھی۔ ملازمہ نے گھر کے تمام دروازے بند کردیئے۔ یہ عورت انتہائی خوبصورت تھی۔ اس کے ایک ہاتھ میں بچہ دوسرے ہاتھ میں شراب کا جام بھرا ہوا تھا۔ اس نے مرد سے کہا۔ میں نے آپ کو کسی گواہی کے لئے نہیں بلوایا بلکہ اس لئے بلوایا ہے کہ تم تین باتوں میں سے کسی ایک بات پر عمل کرو۔پہلی بات یہ کہ مجھ سے بدکاری کرو۔ دوسری یہ کہ اگر یہ نہ ہوسکے تو اس بچے کو قتل کرو۔ تیسری یہ کہ تم شراب کا بھرا ہوا جام نوش کرو۔ اگر تم نے ان باتوں کا انکار کیا تو میں شور برپا کرکے تم کو رسوا کردوں گی۔ عورت کی یہ باتیں سن کر عبادت گزار شخص پریشان ہوگیا اور شراب پینے کو دونوں کاموں سے غنیمت جانا اور اسے پی گیا۔ اور جب اس پر نشے کا غلبہ ہوا تو مدہوشی کی حالت میں اس نے عورت کے ساتھ بدکاری کی اور اس بچے کو قتل بھی کردیا۔

(مواعظ رضویہ در بیان حسنات و سیات جلد 2 ص 87)

محترم مسلمانو! اس واقعہ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ نشہ ایک ایسی بری خصلت ہے جو نشہ کرنے والوں کی سوچ و سمجھ اور فہم و فراست کو ختم کردیتی ہے۔ دیکھئے مذکورہ بالا واقعہ میں عبادت گزارشخص نے قتل اور زنا سے شراب کو غنیمت جانا مگر اس کی تاثیر نے یہ اثر دکھایا کہ اس نے زنا اور قتل جیسے گناہ کبیرہ بھی کر ڈالے۔ نشے کی مدہوشی نے اس کی دنیا اور آخرت کو تباہ کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو شراب اور دیگر نشے سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا

عقل کو ڈھانپنے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (مسلم، ابو داؤد)

مذکورہ بالا حدیث میں ’’خمر‘‘ کا لفظ آیا ہے جو اس نشہ آور شے کا نام ہے جس میں الکحل اور شراب ہی شامل نہیں بلکہ ہر نشہ آور شے شامل ہے۔ جس کے اثرات حواس کو گراں بار دھندلا کردیتے ہیں جسے پی کر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ نشہ وہ بری عادت ہے کہ جو اخلاق کو تباہ اور جوانی کو برباد کردیتی ہے جو تقویٰ، پرہیزگاری، عبادات و ریاضات کا خاتمہ کرکے اعمال صالحہ کو حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دیتی ہے۔

ایک مرتبہ صحابی رسولﷺ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے چند صحابہ کرام کی دعوت کی۔ اس دعوت میں کھانے کے بعد شراب پیش کردی گئی۔ کیونکہ اس وقت شراب حرام نہیں ہوئی تھی لہذا چند صحابہ نے شراب پی لی۔ پھر مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا۔ جماعت کا اہتمام ہوا۔ امام نے سورۂ الکافرون کی تلاوت شروع کردی۔ اور امام نے نشہ میں لااعبد ماتعبدون کی جگہ اعبد ماعبدون پڑھ لیا جس سے معنی بالکل بدل گئے۔ چنانچہ مسلمانوں کو شراب پینے کی ممانعت کردی گئی۔

ارشاد خداوندی ہوا

’’یاایھا الذین امنوا لاتقربوا الصلوٰۃ وانتم سکریٰ‘‘

اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ (سورۂ النساء: ۴۳)

جب اﷲ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا اور اس بات کا علم جیسے ہی صحابہ کرام کو ہوا تو صحابہ کرام نے حکم الٰہی کے آگے اپنی خواہش نفس کو مٹا کر رکھ دیا۔ ان دنوں مدینہ میں شراب پینا عام تھی اور بہت سے مسلمان نشے کے عادی تھے۔ اور اپنے گھروں کے مٹکوں میں شراب کو بھر رکھا تھا۔ جیسے ہی حکم ہوا کہ شراب حرام ہے۔ مسلمانوں نے شراب کے مٹکے مدینہ کی گلیوں میں بہا دیئے۔ جہاں جہاں شراب کے دور چل رہے تھے، وہ وہیں ختم ہوگئے۔ جس نے  جام کو منہ لگا رکھا تھا، حکم سنتے ہی وہیں پھینک دیا۔ یہ تھی مسلمانوں کے ایمان کی کسوٹی۔ حکم خدا کے آگے اپنی خواہشات کو ختم کردیا اور آئندہ کبھی حرام کو ہاتھ نہ لگایا۔ چونکہ اسلام نے ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے لہذا ایک مقام پر حضور اکرمﷺ نے نشہ آور اشیاء کی مذمت کرتے ہوئے اس پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے خریدنے والے پر، اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر جس کے پاس اٹھوا کر اسے لے جایا گیا اور اس کی قیمت کھانے والے پر لعنت کی ہے (دیکھئے: مسند احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ)

حضور اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے

’’ قسم ہے میری عزت کی میرا جو بندہ شراب کا ایک گھونٹ بھی پئے گا میں اس کو اسی کے مثل پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے شراب پینا چھوڑ دے گا، میں اسے مقدس حوضوں میں سے شراب طہور پلاؤں گا‘‘ (مسند احمد، مشکوٰۃ شریف)

ایک اور مقام پر آپﷺ نے ارشاد فرمایاہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص نشہ آور شے پئے گا میں اس کو طینۃ الخبال پلاؤں گا۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اﷲﷺ طینۃ الخبال کیا ہے؟ فرمایا! جہنمیوں کا پسینہ یا فرمایا دوزخیوں کا پیپ۔ اور بعض روایات میں زانیہ عورتوں کی فرجوں کی پیپ پلائی جائے گی۔

ایک مرتبہ حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے حضور اکرمﷺ سے شراب کے متعلق پوچھا تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ تمام برائیوں کی ماں اور اصل ہے۔ جو شخص پیتا ہے، نماز کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنی ماں یا خالہ یا پھوپھی کے ساتھ برا کرتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ نشہ کرنے والا اکثر نماز جیسی عبادت سے محروم رہتا ہے اور بسا اوقات اس پر نشہ کا بھوت اس قدر غالب ہوتا ہے کہ وہ اپنی ماں، بہن، خالہ اور پھوپھی کی بھی پہچان نہیں کرپاتا۔

مسلمانو! اسلام نے ہر طرح کے نشے کو حرام قرار دیا ہے۔ جس طرح شراب پینا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں اسی طرح دوسری نشہ آور اشیاء بھی جائز نہیں۔ یوں تو ہر نشہ آور شے نقصان دہ ہے جس سے بالخصوص مسلمانوں کو بچنا چاہئے مگر ہیروئن ایک ایسا خطرناک نشہ ہے جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ ہیروئن نشہ آور اشیاء میں سب سے زیادہ خطرناک چیز ہے۔ یہ ایک ایسا مہلک زہر ہے جسے پینے سے سگریٹ کا دھواں سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچتا ہے۔ اس کے بعد پورے جسم میں گردش کرتا ہے۔ اگر کوئی عورت پئے تو اس کے رحم میں موجود بچے کے دوران خون میں بھی دھواں شامل ہوجاتا ہے۔ جس سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو تقویت ملتی ہے۔ سگریٹ کا یہ دھواں سارے جسم میں پھیل کر مختلف اعضاء کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جس سے دل کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ شریانوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ گردے متاثر ہوتے ہیں۔ امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق دل کی بیماریوں کی نسبت پھیپھڑوں کے سرطان نے نشہ کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔ برطانیہ میں ہر سال اندازاً 28 ہزار اموات صرف نشہ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ نشہ کرنے والوں کی اموات کی شرح نشہ نہ کرنے والوں کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔ ہیروئن کا نشہ حقیقت میں ایسا چور ہے جو سرمایہ داروں کو دولت سے، صنعت کاروں کو پیداوار سے، دوشیزائوں کو عزت و عصمت سے اہل علم کو فہم و فراست سے اور خود پینے والے کو عمر کے کئی سالوں سے محروم کردیتا ہے۔ بدنصیبی سے آج ہمارے وطن عزیز پاکستان میں ہماری نوجوان نسل اﷲ اور اس کے پیارے رسولﷺ کے احکامات کو پس پشت ڈالتی ہوئی نظرآرہی ہے اور مغربی کلچر کے نرغے میں پھنس کر منشیات کے زہریلے نشے کی سیاہ چادر تان کر دنیا و آخرت سے بے نیاز ہوتی جارہی ہے۔ آج ہمارے اسلامی معاشرے کو منشیات کا کینسر ہماری نوجوان نسل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ جس نے ملک کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ مغربی تہذیب اور ڈش کلچر کی یلغار نے مستقبل کے معماروں اور نوشگفتہ غنچوں کے ہاتھوں سے قلم اور کتاب چھین کر ان کی رگوں میں ہیروئن کا سفید زہر گھول دیا ہے۔ یہ ہیروئن پینے والے کون ہیں۔ یہ کس گھر کے چشم وچراغ ہیں۔ ان کی اصل زندگی میں جھانکنے کی کوشش کسی نے نہیں کی۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق آج ہمارے وطن میں تقریبا چالیس لاکھ سے زائد افراد خصوصاً نوجوان مختلف نشوں کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 18 لاکھ افراد ہیروئن کے نشے میں مبتلا ہیں جو شہر کی فٹ پاتھوں پر زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔ عام طور پر جو لوگ نشہ کرنے کے عادی ہوچکے ہیں اگر ان سے نشہ کرنے کی وجہ پوچھی جائے تو ان کی وجوہات گھریلو ناچاقی، جنسی کمزوری، محبت میں ناکامی، بے روزگاری، ذہنی ٹینشن بتائی جاتی ہے۔ وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بزدل لوگ ہیں جو حالات کا مردانہ وار مقابلہ نہیں کرپاتے اور موت کو مردانہ وار گلے لگانا نہیں چاہتے۔ بلکہ قطرہ قطرہ تمباکو نوشی کا زہر اپنے بدن میں اتار کر دھیرے دھیرے خودکشی کی سمت بڑھنا چاہتے ہیں۔ جو بزدلی کی اعلیٰ قسم ہے۔ نشہ کا آغاز عام طور پر نشہ کرنے والوں کی صحبت میں بیٹھ کر ہوتا ہے، جہاں انہیں نشہ کی دعوت دی جاتی ہے۔ ہیروئن کا نشہ عام طور پر وہی لوگ کرتے ہیں جو پہلے سگریٹ، پھر چرس و شراب کے عادی تھے۔ نشہ کی بیماری کا یہ قانون ہے کہ ہیروئن کا عادی دوبارہ چرس اور شراب پر نہیں آسکتا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں عام طور پر ہیروئن سے تیز نشہ موجود نہیں ہے۔ اس لئے تمام نشوں کے مریض اسی نامراد نشہ پر آکر ٹھہر جاتے ہیں۔ ہیروئن کا شکار ہونے والا اپنی تسکین کی خاطر عام طور پر شدید لعن طعن کے ساتھ ساتھ مالی طور پر تباہ ہوجاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں اپنے گھر کا اثاثہ حسب ضرورت فروخت کرنا شروع کرتا ہے۔ دوسرا مرحلہ ادھار کا، تیسرا مرحلہ چوری اور ہیرا پھیری اور آخری مرحلہ بھیک مانگنے کا ہوتا ہے۔ ملت کے نوجوانوںکو برباد کرنے والے منشیات کے یہ اڈے کہاں قائم ہیں اور انہیں تباہی کے دہانے پر کون لارہا ہے؟ ان اڈوں کا کھوج لگا کر قوم و ملت کے نوجوانوں کو بچانا کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ حکومت وقت کسی بھی ہیروئنچی کا خفیہ تعاقب کرے تو اس کے اصل ٹھکانوں کا باآسانی سراغ لگا سکتی ہے۔ مگر ایسا کیوں نہیں ہورہا۔ یہ تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔ اس پاک دھرتی پر یہ ناپاک اور نجس پائوڈر کس طرح پہنچتا ہے۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر معمورسرکاری عہدے داروں کی عقابی نظروں سے بچ کر یہ کیسے شہروں میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا جواب حکومت وقت ہی بہتر بتاسکتی ہے۔ موت کے سوداگروں کا زیر زمین نیٹ ورک ایک مخلص حکومت کے لئے یقینا ایک چیلنج ہے جو روزانہ ہیروئن کی نئی کھیپ لاکر قوم و ملت کے ہونہاروں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔

محترم مسلمانو! آج اگر ہم بین الاقوامی سطح پر منشیات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہودونصاریٰ جو اسلام کے بدترین دشمن ہیں، منشیات کے ذریعے وہ مسلمانوں کو کمزور و ناتواں کردینا چاہتے ہیں۔ امریکہ جو ساری دنیا میں منشیات کے خاتمہ کا بظاہر ٹھیکے دار نظر آتا ہے۔ جو اکثر پاکستان کو نشانہ بناتا رہتا ہے، مگر وہ خود اس لعنت میں کس قدر ملوث ہے، اس کا اندازہ ایک انگریزی میگزین سے لگایا جاسکتا ہے۔ انگریزی صحافی فلپ نائٹلے کا بیان ہے کہ ’’مغربی تہذیب میں نشہ اپنی جڑیں مضبوط کرچکا ہے۔ لندن کے نائٹ کلبوں میں 97 فیصد نوجوان نشہ میں ڈگمگا رہے ہیں۔ جبکہ 87 فیصد تو باقاعدگی سے اس کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس پر سالانہ کھربوں روپے خروچ کردیئے جاتے ہیں… مگر امریکہ کے مقابلے میں یہ موازنہ ہلکا ہے۔ جہاں 85 ملین یعنی8 کروڑ 50 لاکھ امریکی ایک وقت میں اس قدر نشہ کرتے ہیں۔ ان دنوں وہ منشیات پر سالانہ 70 بلین ڈالرز خرچ کررہا ہے۔ 38 بلین ڈالرز کوکین پر خرچ کررہاہے۔ تقریبا 10 بلین ڈالرز ہیروئن پر۔ غرض یہ کہ منشیات کی زندگی ان کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی کی دوہی باتیں ہیں اور وہ ہیں آزاد خواہش اور آزاد مارکیٹ۔ فلیپ نائٹلے مزید انکشاف کرتا ہے کہ ’’اقوام متحدہ کا ادارہ جو منشیات کو کنٹرول کرتا ہے، اس نے بتایا ہے کہ منشیات کی تجارت اس وقت لوہے، اسٹیل اور موٹر وہیکل کی صنعت سے بڑھ گئی ہے اور یہ تجارت سالانہ 400 بلین ڈالرز کا ٹرن اوور لے رہی ہے۔ یہ اس قدر اچھی تجارت ہے کہ دنیابھر کی تجارت میں منشیات کی تجارت کا حصہ 8 فیصد سالانہ ہوگیا ہے۔ کوکین اور ہیروئن سے جو منافع کی شرح ہے، وہ 20 ہزار فیصد ہے۔ پولیس، فوج اور جیل کا خوف اس تجارت کو کیسے روک سکتا ہے جس کا منافع 20 ہزار فیصد ہو اور اس پر کوئی ٹیکس بھی نہ ہو (دیکھئے: میگزین ویک اینڈ فروری 1988ء)

انگریزی صحافی کے اس انکشاف سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ امریکہ اور مغربی دنیا منشیات کے اصل تاجر ہیں۔ جسے وہ دنیا بھر میں عام کرکے بالخصوص عالم اسلام کو کمزور کردینا چاہتے ہیں اور امریکہ اور یہودیوں کے ایجنٹ سرزمین پاکستان میں یہودیوں کے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے منشیات کو عام کررہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اس گھنائونے کاروبار میں بعض مسلمان بھی شامل ہوں۔ میں اس موقع پر گندے کاروبار میں ملوث مسلمانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اے اسلام کے فرزندو! تم جس دین کے ماننے والے ہو، تمہاری وجہ سے وہ دین بدنام ہورہا ہے۔ تمہاری وجہ سے امت مسلمہ منشیات کے تھپیڑوں کی زد میں آچکی ہے۔

پیارے مسلمانو! یاد رہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین اسلام ہے۔ ہمارا یہ دین کسی ایک خطے کے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لئے ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اسلامی تعلیمات سے دنیا کو آگاہ کریں تاکہ اسلام کی حقانیت کا سکہ مغربی دنیا کے دلوں پر بھی بیٹھ سکے۔ اسلام نے جو ہمیں تعلیمات دی ہیں، ان تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ بھی ہے کہ نشہ آور اشیاء سے پرہیز کیا جائے۔ پیارے مسلمانو! منشیات کا عادی نہ صرف اپنے وجود کا دشمن ہے بلکہ اپنی قوم کا بھی دشمن ہے۔ نشہ انتہائی تباہ کن اور ہلاکت خیز چیز ہے۔ جس کا انجام دنیا میں بھی برا اور آخرت میں بھی ہولناک ہے۔ نشہ خواہ شراب کا ہو، یا ہیروئن کا، بھنگ کا ہو یا چرس یا دیگر حرام شے کا، ایک مسلمان کو پینا کسی صورت میں جائز نہیں۔ عام طور پر لوگ جاہل ملنگوں کو چرس پیتا ہوا دیکھ کر خود بھی پینا شروع کردیتے ہیں اور اسے ’’فقیروں کی بوٹی‘‘ قرار دیتے ہیں جو انتہائی غلط اور شیطانی وار ہیں۔ اﷲ کے نیک بندے ہمیشہ چرس اور بھنگ سے دور رہے اور اس حرام شے کو پینا کبھی گوارا نہ کیا۔

اے نشہ کرنے والے مسلمانو! اب بھی وقت ہے کہ اﷲ کی بارگاہ میں سچی توبو کرلو۔ جب تک آپ کی زندگی کی سانسیں ہیں، توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو زندگی کی یہ مہلت اچانک ختم ہوجائے اور تم کف افسوس ملتے رہ جائو۔ حضور اکرمﷺ کے سچے امتی کا کردار ادا کرکے یہ عزم کرو کہ آئندہ کسی بھی قسم کا نشہ نہیں کریں گے۔ خود بھی بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے۔ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہر مسلمان کو نشہ کی لت سے محفوظ فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اﷲ اور اس کے پیارے رسولﷺ کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین ثم آمین