٭… ماں باپ یا آقا کو نہ ستاو، نہ ایسا کام کرو کہ کوئی ان کو ستائے یا برا کہے، یہ گناہ کبیرہ ہے بلکہ ان کی اطاعت و خدمت کو اپنا فرض سمجھو۔

٭… اﷲ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہ کرو۔

٭… ماں باپ کا انتقال ہوجائے تو ان کے واسطے دعا و استغفار کرتے رہو اور ان کے ملنے والوں سے حسن سلوک سے پیش آؤ، اگر وہ ناراض بھی مرگئے تو اﷲ تعالیٰ ان کو تم سے راضی کردے گا۔

٭… جمعہ کو ماں باپ کی قبر پر جایا کرو۔

٭… عزیزوں اور رشتہ داروں سے سلوک کرتے رہو، اگرچہ وہ تم سے بری طرح پیش آئیں، ان میں دہرا ثواب ہے۔

٭… بڑے بھائی اور چچا کا حق مثل باپ کے اور خالہ وغیرہ کا حق مثل ماں کے سمجھو۔

٭… قطع رحمی یا عزیزوں سے لین دین، گفتگو وغیرہ ترک نہ کرنا، گناہ کبیرہ ہے۔ لیکن اگر ان سے اﷲ اور رسول کی جناب میں گستاخی ہوئی ہے تو اﷲ کے واسطے قطع رحمی جائزہے۔

٭… خاوند کی نافرمانی نہ کرو، حرام ہے۔ حضور انورﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان کو غیر خدا کے آگے سجدہ کا حکم ہوتا تو عورت کو حکم دیتا کہ خاوند کو سجدہ کرے۔

٭… عورتوں کی دلداری میں کسر اٹھا نہ رکھنی چاہئے۔ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم کھائو پہنو تو اسے بھی کھلائو پہنائو۔ اس کے منہ پر نہ مارو، نہ بدکلامی سے پیش آئو اور نہ علیحدہ سوئو۔ حضرت فقیہ ابواللیث رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ مردوں پر عورتوں کے چار حقوق ہیں۔

1۔ پردے میں رکھے           2۔ دین کے احکام ضروریہ سکھائے

3۔ حلال کی کمائی کھلائے       4۔ ظلم نہ کرے اور اس کی بے جا باتوں کو برداشت کرے، غرض حسن سلوک سے رہے۔

٭… جس جس کا تم پر حق ہے، اس کو ادا کرو، خواہ جانوروں کے حقوق کیوں نہ ہوں۔ ورنہ خدا کے حضور میں جواب دینا ہوگا۔ ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں وہ ہماری پرورش سے ہاتھ نہ اٹھالے۔ سب بھگتی جائے گی مگر اس کا بھگتنا ممکن نہیں۔

٭… ہمسایہ کو ہرگز ہرگز ایذا نہ دو۔ حضور اکرمﷺ نے اس کی ایذا کو اپنی ایذا فرمایا ہے۔ پس ہمسایوں کا پورا خیال رکھنا چاہئے، کہیں غفلت سے نامراد نہ ہوجائو۔

٭… اولاد کو علم دین سکھائو، ان کا تم پر حق ہے ورنہ تم سے سوال ہوگا۔

٭… ایسی صفت پیدا کرو کہ اگر کسی مسلمان کو تکلیف پہنچے تو تمہیں قرار نہ آئے۔

٭… جس طرح ممکن ہو لوگوں کی حاجت روائی کرو، نہایت ثواب ہے۔

٭… مسلمان اسی وقت ہوسکتے ہو، جب ہاتھ اور زبان سے کسی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔

٭… جو اپنے لئے، وہی دوسروں کے لئے پسند کرو کہ اس میں اخوت اسلامی کی ایک شان ہے۔

٭… مجلس میں ایسی سرگوشی نہ کرو کہ حاضرین میں سے کسی کو خیال ہو کہ اس کی برائی کررہے ہو۔

٭… بڑوں کی تعظیم کرو اور چھوٹوں سے شفقت و مہربانی کے ساتھ پیش آؤ۔ اگر ایسا نہ کیا تو حضور اکرمﷺ نے ایسے شخص کو اپنے سے جدا فرمایا ہے۔

٭… ہر شخص کے رتبے کے موافق اس سے معاملہ کرو۔

٭… قوم کے سردار کی تعظیم کرو۔

٭… کسی مسلمان سے تین روز سے زیادہ رنجش نہ رکھو۔

٭… ملاقات میں تم پہل کرو گے تو اس میں بڑا ثواب ہے۔

٭… اگر کوئی قصور معاف کردے تو تم بھی اس کا قصور معاف کردو۔

٭… افراط و تفریط سے بچو، میانہ روی اختیار کرو۔

٭… خرچ میں کفایت شعاری رکھو۔

٭… لوگوں سے کہا سنا، لیا دیا معاف کرالو، ورنہ قیامت میں بڑی مصیبت ہوگی۔