قادیانی اخلاق، ایک سازش ایک جال

in Tahaffuz, September 2012-October 2012, ا سلا می عقا ئد, طایر عبدالرزاق

ایک سادہ لوح دوست مجھے کہنے لگا کہ جناب آپ تو ہر وقت ہاتھ دھو کر قادیانیوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ان کے خلاف زبان و قلم کو متحرک رکھتے ہیں۔ حالانکہ قادیانی تو بڑے بااخلاق ہوتے ہیں۔ بڑی محبت سے ملتے ہیں۔ بڑی الفت سے مصافحہ کرتے ہیں۔ بڑے غمگسار بن کر خیروعافیت دریافت کرتے ہیں۔ بڑی میٹھی اور رسیلی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے لہجے میں بڑی انکساری ہوتی ہے۔ اور ان کے الفاظ بڑے ملائم اور ٹھنڈے ہوتے ہیں۔

اس کی لاعلمی دیکھ کر اور اس کی فریب خوردگی ملاحظہ کرکے میری لوح دماغ پر ڈاکٹر اقبال کے قادیانیت کے بارے میں اسی صورت حال کو بیان کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اشعار بجلی بن بن کر کوندنے لگے۔

آپ بھی یہ اشعار پڑھیئے اور دیکھئے کہ ملت اسلامیہ کا یہ غمگسار حکیم الامت قادیانیوں کے دام تزویر میں پھنسے ہوئے ایسے مسلمانوں کی سادہ لوحی اور جہالت پر کس طرح رویاہے۔

مذہب میں بہت تازہ پسند ہے اس کی طبیعت

کرے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا

ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد

تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے

یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

میں نے اس دوست سے کہا:

’’جناب! ہماری تو قادیانیوں سے جنگ ہے۔ آپ کی تو قادیانیوں سے کوئی جنگ نہیں اور نہ آپ ان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہیں۔ آپ ان کے لئے ایک بے ضرر انسان ہیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ جیسا شخص جو صرف ساحل کا تماشائی ہو، اس کے بارے میں قادیانی کتنے بااخلاق ہیں‘‘

میں نے اس سے کہا کہ اے قادیانیوں سے صلح جو انسان! ذرا آنکھیں کھول اور کان بھی کھول…

٭ قادیانیوں کے ٹھنڈے اور ملائم الفاظ ملاحظہ کر

٭ قادیانیوں کے مہکتے جملے سن

٭ قادیانیوں کی میٹھی تحریریں پڑھ

٭ قادیانیوں کی معطر عبارتیں دیکھ

٭ ان کا شیریں لہجہ دیکھ

٭ان کا طرز تکلم سے کانوں میں رس گھول

٭ ان کے اخلاق عالیہ سے اپنے قلب و جگر کو ٹھنڈا کر

میں نے اسے پوری طرح متوجہ کرکے قادیانیوں کی عبارتیں سناناشروع کیں جوکہ آپ کے ملاحظہ کی خاطر درج ذیل ہیں:

قادیانیوں کی عبارتیں

٭ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری جماعت میں داخل نہیں ہوگا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے

(اشتہار مرزا غلام احمد قایدانی، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد نمبر 9،ص 27)

میں نے کہا کہ اس عبارت کی رو سے ’’تو خدا کا نافرمان ہے… تو جہنمی ہے‘‘

٭ میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کی معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکردار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی (آئینہ کمالات اسلام، ص 547، مصنفہ مرزا قادیانی)

٭ میرے مخالف جنگلوں کے سور ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں.

(نجم الہدیٰ، ص 15، مصنفہ مرزا قادیانی)

اس عبارت کی رو سے “تو، تیرا باپ، تیرے بھائی، تیرا دادا، تیرا نانا، تیرے چچا اور تیرے ماموں وغیرہم سب جنگل کے”سور” اور اسی طرح تیری ماں، تیری نانی، تیری دادی، تیری خالہ، تیری بہنیں وغیرہم”کتیوں”سے بڑھی ہوئی ہیں”

٭ جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں (انوار الاسلام ص  30، مصنفہ مرزا قادیانی)

اس عبارت کی رو سے” تو حرام زادہ ہے، تیری ماں زانیہ ہے، تیرا باپ ایک بے غیرت انسان ہے”

٭ ہر وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچتی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ (حقیقۃ الوحی، ص 163، مصنفہ مرزا قادیانی)

اس عبارت کی رو سے“تو کافر ہے”

٭ اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی، یہودی اور مشرک رکھا گیا

(نزول المسیح، مصنفہ مرزا قادیانی، حاشیہ ص 4، مندرجہ کلمۃ الفصل ص 62)

اس عبارت کی رو سے”تو عیسائی ہے، تو یہودی ہے تو مشرک ہے’’

٭ ایک شخص نے حضرت خلیفہ المسیح الاول، حکیم نورالدین صاحب سے سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا نہیں۔ فرمایا”اگر خدا کا کلام سچا ہے تو مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی”

(رسالہ تشہید الاذہان، قادیان نمبر 11، ص 24بابت ماہ نومبر 1914ء، اخبار بدر جلد 12نمبر2 مورخہ 11 جولائی 1913ء)

اس عبارت کی رو سے”آخرت میں تیری نجات نہیں ہوسکتی اور تو واصل جہنم ہوگا’’

٭ جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں، وہ مجھے نہیں مانتے۔

اس عبارت کی رو سے“تو شیطان ہے”

میں نے اسے کہا کہ میں نے تجھے یہ نہیں بتایا کہ قادیانی، اﷲ تعالیٰ، رسول اﷲ، کتاب اﷲ، کعبتہ اﷲ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، احادیث رسول، امہات المومنین، صحابہ کرام اور اولیائے امت کے بارے میں کیا کیا بکتے ہیں۔ میں نے تو تجھے صرف تیرے بارے میں بتایا ہے کہ قادیانی تجھ جیسے بے ضرر انسان کو جس کے ہاتھ اور زبان سے انہیں کوئی مزاحمت نہیں سہنا پڑی، اس کے بارے میں قادیانیوں کے نظریات کیا ہیں۔

میں نے اسے کہا کہ دیکھ لیا تونے قادیانیوں کے اخلاق کہ ان کے ہاتھ سے تیری عفت مآب ماں کی عزت بھی محفوظ نہیں، ان کی زبان سے تیری باعصمت بہنوں کی حرمت بھی مامون نہیں۔ ان کے قلم سے تیرے شریف باپ کی آبرو بھی سلامت نہیں۔ تیرے دادا اور نانا جیسی باریش بزرگ ہستیاں بھی ان کی زبان کی نیش زنی سے نہیں بچیں۔

میں نے دیکھا کہ بار ندامت سے اس کی نگاہیں جھک گئی ہیں۔ اس کا سر نیچے ڈھلک چکا ہے اور اسے اپنے سابقہ طرز فکر پر بڑا تاسف اور افسوس ہے۔

طاہر بھائی!

اگر یہ لوگ اندر سے اتنے کالے اور زہریلے ہوتے ہیں تو پھر ظاہری طور پر اتنے بااخلاق اور بامروت کیوں ہوتے ہیں؟ اس نے سوال کیا۔

دنیا کے ہر لٹیرے اور فریبی کو ایسا ہی روپ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ میں نے جواب دیا۔

جب کوئی خرکار کسی بچے کو اغوا کرنا چاہتا ہے تو اسے بڑے پیار سے اپنے پاس بلاتا ہے۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے۔ ماتھا چومتا ہے اور مسکراتے ہوئے اسے ٹافی کھانے کے لئے دیتا ہے۔ بچہ اسے اپنا ہمدرد سمجھ کر ٹافی منہ میں ڈال لیتا ہے۔ ٹافی میں بے ہوش کرنے والی دوائی ہوتی ہے۔ ادھر اس نے ٹافی کھائی، ادھر وہ بے ہوش ہوا اور جب اسے ہوش آیا تو کسی عقوبت خانے میں اسیر تھا۔ معصوم بچے کو کیا معلوم تھا کہ ٹافی کھانے کے بعد وہ کبھی بھی واپس اپنے گھر نہیں جاسکے گا۔ اس کے کھلونے اس کے منتظر رہ جائیں گے، وہ کبھی بھی اپنے بہن بھائیوں کو دیکھ نہ سکے گا۔ اس کی ماں کی ممتا ہمیشہ ماہی بے آب کی طرح تڑپتی رہے گی اور اس کے باپ کی آنسو ٹپکتی آنکھیں ہمیشہ اسے نگر نگر ڈھونڈتی رہیں گی۔

افغانستان پر جب روس نے حملہ کیا تو ظالم روسی تخریب کار افغانستان کے شہروں اور دیہاتوں میں بچوں کے کھیلنے کی جگہ پر”کھلونے بم’’ بکھیر دیتے۔ یہ کھلونے بم خوبصورت کھلونوں کی شکل میں ہوتے۔ بچے جب ان دیدہ زیب کھلونوں سے کھیلنے لگتے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد یہ کھلونے بم پھٹ جاتے۔ بچے خاک و خون میں تڑپنے لگتے۔ ان کی معصوم مسکراہٹیں، دلدوز چیخوں میں بدل جاتیں۔ کسی کا ہاتھ نہیں ہے۔ کسی کا پائوں نہیں ہے۔ کسی کی قوت بینائی نہیں ہے۔ کسی کی قوت شنوائی نہیں ہے اور کوئی زندگی کی بازی ہار گیا ہے۔ وہ جگہ جہاں تھوڑی دیر پہلے ننھے ننھے ہاتھ پائوں شوخیاں کررہے تھے، اب وہ مقتل بن چکی ہے۔ جہاں تھوڑی دیر پہلے قہقہوں کی گونج تھی، وہاں اب ماؤں کی چیخوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔

مچھلی کاشکار کانٹے پر گوشت کا ٹکڑا لگا کر اسے دریا میں پھینک کر شکار کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے۔ ایک مچھلی کانٹے کے پاس سے گزرتی ہے۔ گوشت کو دیکھ کر اس کا دل للچانے لگتا ہے اور وہ گوشت کے ٹکڑے کو کسی شفیق انسان کا تحفہ سمجھتی ہے اور دل میں سوچتی ہے کہ یہ شخص مجھ پر کتنا مہربان ہے کہ اس نے اس دریا میں میری ضیافت کا اہتمام کیا۔ یہ سوچ کر وہ منہ کھولے گوشت کے ٹکڑے کی طرف بڑھتی ہے۔ ایک بزرگ مچھلی اس کا راستہ روک کر اس کے سامنے آجاتی ہے اور اسے کہتی ہے خبردار! اس گوشت کے ٹکڑے کیپاس مت جانا۔ یہ گوشت کا ٹکڑا کسی محسن کا تحفہ نہیں بلکہ ایک شکاری کا حربہ ہے جو تمہیں پکڑنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ جونہی تم گوشت کھانے لگو گی، تیر کانٹا تمہاری منہ میں چبھ جائے گا۔ تم خود کو کانٹے کی گرفت سے چھڑا نہ سکوگی۔ ایک زوردار جھٹکا لگے گا اور تم دریا سے خشکی پر موت کا رقص کررہی ہوگی۔ تمہارے مرنے کے بعد شکاری تمہاری جسم کی کھال کو کھرچ کھرچ کر اتار پھینکے گا۔ پھر ایک خطرناک چھرے کے ساتھ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کرے گا۔ پھر ان ٹکڑوں کو نمک مرچ لگائے گا۔ پھر ان ٹکڑوں کو ایک کڑاہی جس میں کھولتا ہوا تیل ہوگا، اس میں پھینک دے گا۔ جب تمہارے ٹکڑے پک جائیں گے تو پھر تمہارے اس محسن کے دو ہاتھ تمہاری طرف بڑھیں گے اور ان کے ہاتھوں کی دس انگلیاں تمہارے ٹکڑوں کو توڑ ڈالیں گی۔ پھر تمہارے گوشت کو تمہارے محسن کے بتیس دانت پیسیں گے۔ پھر تم اپنے محسن کے تاریک پیٹ میں اتر جائوگی۔ کچھ گھنٹے وہاں قیام کرنے کے بعد تم گل سڑ کر فضلہ بن جاؤگی اور تمہارا محسن اس فضلے کو اپنے پیٹ سے باہر نکال دے گا۔

لہذا اے مچھلی!

تو اس گوشت کے ٹکڑے کے پاس مت جانا۔ لیکن وہ مچھلی اس بزرگ کی سوچ کو دقیانوسی، رجعت پسندی، غیر حقیقی، فرسودہ اور بے روش قرار دے کر جھٹک دیتی ہے۔ پھر جونہی وہ گوشت کے ٹکڑے کو کھانے لگتی ہے تو نہایت باریک اور تیز کانٹا اس کے منہ میں چبھ جاتا ہے اور شکاری کے ایک جھٹکے سے وہ دریا سے باہر خشکی پر تڑپ رہی ہوتی ہے۔ اور پھر اس کے جسم پر وہ سارے وار ایک ایک کرکے آزمائے جاتے ہیں اور پھر بڑی شدت کے ساتھ اسے بزرگ مچھلی کی یاد آتی ہے لیکن موت کے بعد کف افسوس ملنے سے کیا حاصل ہوتا ہے؟

میں نے کہا…

اے فریب قادیانیت میں مبتلا سادہ دل انسان!

٭… قادیانیوں کے ہر مقال کے پیچھے ایک جال ہوتا ہے

٭… ان کی ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک زہر ہوتا ہے

٭… انکی اسلامی گفتگو کے پیچھے مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کی ہولناک سازش ہوتی ہے

٭… ان کی ہر نمائشی تعمیر ایک منظم تخریب ہوتی ہے

٭… ان کی دوستی کے پیچھے ارتداد کا دودھاری خنجر ہوتا ہے

٭… ان کی معاشی مدد کے پیچھے کفر کا پھندا ہوتا ہے

٭… ان کی تعلیم کے پیچھے ذہنی ارتداد کے بیج ہوتے ہیں اور ان کے ہر نعرے کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا مفاد ہوتا ہے۔

حسین سانپ کے نقش و نگار خوب سہی

نگاہ زہر پر رکھ، خوشنما بدن پر نہ جا