اہلسنت کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل

in Articles, Tahaffuz, May 2011, علامہ کمال الدین, متفرقا ت


اہلسنت کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل 

 

 

“اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائے اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کرے اور یہی لوگ کامیاب ہوئے” (آل عمران 192/3)

“تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں (کیونکہ تم) بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اﷲ پر ایمان رکھتے ہو! “(آل عمران 110/3)

کامیاب لوگ

کامیابی ایک ایسی نعمت ہے جس کی ہر انسان کو ہمیشہ سے ضرورت رہی ہے۔ کیونکہ سکون و طمانیت اسی میں پنہاں ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر ذی شعور اسی کو اپنی منزل قرار دیتا ہے، تاہم یہ علیحدہ موضوع ہے کہ کون کس چیز کو کامیابی سمجھتا ہے، لیکن ایک مسلمان کی کامیابی کیا ہے؟ اس سے ہر ذی عقل مسلمان باخبر ہے کہ ’’بندہ مومن کو اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوجائے، یہ اس کی دنیا ومافیہا کی سب سے بڑی کامیابی ہے‘‘ مگر اﷲ تعالیٰ کی رضا کیسے حاصل ہوگی؟ یہ ایک معمولی نعمت نہیں ہے کہ آسانی سے مل جائے، بلکہ اس کے حصول کے لئے جہد مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے تاآنکہ بندہ منصب رضا پر فائز ہوجائے۔

جدوجہد کی اقسام

ہم جدوجہد کو بنیادی طور پر دو قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔

(1) انفرادی جدوجہد (2) معاشرتی جدوجہد

انفرادی جدوجہد

واحد کی جدوجہد ہوتی ہے جس کو وہ اپنی منزل کے حصول کے لئے جاری رکھتا ہے۔ مثلا مومن عبادت گزار جو محض اپنی آخرت سنوارنے کے لئے بارگاہ ایزدی میں سرنیاز کو خم کئے رکھتا ہے۔ حتی کہ وہ مقام رضا کو پالیتا ہے اور جس دنیا سے جاتا ہے تو ندائے ربانی ’’اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف لوٹ جا اس حالت میں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی‘‘ کا مستحق قرار پاتا ہے اور ’’فوزوفلاح کی نوید مسرت، پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ‘‘ کے ساتھ دارالسلام میں استقرار کو پالیتا ہے۔

معاشرتی جدوجہد

یہ انتہائی اہم جدوجہد ہے جس سے اقوام کا دھارا بدل جاتا ہے اور قومیں عروج کی لازوال داستانیں تحریر کرتی ہیں۔ اس جدوجہد کا تعلق گوکہ براہ راست پوری قوم سے نہیں ہوتا مگر قوم کی انتہائی ذمہ دار جماعت کے ساتھ ہوتا ہے جو قوم کو منظم انداز میں راہ راست پر لے آتی ہے اور پھر اس پر قائم رکھنے کے لئے جہد مسلسل کو قائم و دائم رکھتی ہے۔ گویا قوم کے مختصر افراد کی جماعت پوری قوم کو تاریخ میں ایک قوم کی حیثیت سے متعارف کراتی ہے بلکہ ایک اعلیٰ قوم تخلیق کرتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے مذکورہ آیت مبارکہ میں اسی جماعت کی طرف واضح اشارہ فرمایا ہے اور ساتھ ہی اس آیت مبارکہ میں اس بات کا انتباہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی بھی قوم یہ چاہئے کہ وہ راہ راست پر قائم رہے۔ فوزوفلاح کی حقدار بنے۔ دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران رہے تو اس کے لئے اشد ضروری ہے کہ اس کے اندر ایک ایسی جماعت ہو جو مسلسل اس کی اصلاح کرتی رہے، غلط کاموں سے روکے، اچھے کاموں سے آگاہ کرے نہ صرف آگاہ کرے بلکہ اچھے کاموں پر قائم رکھنے کے لئے اقدامات بھی کرے۔ تبھی وہ جماعت اﷲ تعالیٰ کے ہاں کامیاب و کامران ہوسکتی ہے۔

کامیابی کا اولین نکتہ

اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اور اﷲ کی رسی (یعنی دین اسلام کو) مضبوطی سے تھام لو سب مل کر (یعنی متحد ہوکر) اور آپس میں بٹ نہ جانا (آل عمران 103/3)

ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:

’’اور اﷲ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑا نہیں کہ پھر (آپس کے جھگڑے اور عدم اتفاق کی وجہ سے) بزدلی دکھائو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی (یعنی اتحاد و اتفاق کی وجہ سے جو رعب و دبدبہ اور شان و شوکت قائم ہوئی تھی وہ ختم ہوجائے گی) اور صبر کرو۔ بے شک اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (الانفال 46/8)

اﷲ جل مجدہ کے فرامین سے یہ نکتہ روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ معاشرتی کامیابی کے لئے ’’آپس کا اتحاد‘‘ اولین نکتہ ہے اور اس اتحاد کی شکل ایک جماعت کی صورت میں ہو۔ جماعت سے مراد کوئی مروجہ تناظیم یا جماعتیں نہیں ہیں بلکہ وہ جماعت ہے جو دین حق پر قائم و دائم اور دین حق کی داعی ہو اور اس کا نظریہ اﷲ عزوجل اور اس کے رسولﷺ کا دیا ہوا نظریہ ہو۔

اسلام میں صرف ایک جماعت کا تصور

راہ حق پر قائم و دائم اور اﷲ تعالیٰ اور رسولﷺ کے منشور پر عمل پیرا جماعت صرف ’’اہلسنت واہلجماعت‘‘ ہے جو 14 سو سال سے اب تک قائم و دائم ہے۔ یہی وہ جماعت ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے ’’حزب اﷲ‘‘ یعنی ’’اﷲ کی جماعت‘‘ کا نام دیا ہے اور دنیا و آخرت میں مژدہ جانفرا کے پیغام ابدی سے نوازا ہے۔ ’’یہ ہیں جن کے دلوں میں اﷲ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی جانب سے روح کے ذریعے (یعنی رحمت الٰہی) سے ان کی مدد کی اور انہیں باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہیں گے اﷲ سے راضی اور وہ اﷲ سے راضی یہ اﷲ کی جماعت ہے۔ سنو! اﷲ ہی کی جماعت کامیاب ہے‘‘ (الحشر 22/59)

خود نبی اکرمﷺ نے اس کامیاب جماعت کی طرف واضح اشارہ فرمایا کہ ’’میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی، یہاں تک کہ اﷲ ان پر قیامت لائے اور وہ دشمنان دین پر غالب رہے گی‘‘ (البخاری ج 2ص 1087)

مگر آج کی صورتحال یہ ہے کہ یہ ایک جماعت باقی تو ہے مگر منظم نہیں ہے جبکہ آپس کے اتحاد اور نظم وضبط کو بھی اﷲ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے اور یہاں یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ جب ایک جماعت باقی ہے اور اس ایک جماعت کے لئے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے کامیابی کی بشارت دی ہے اور آخر تک اسے غالب بھی قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ کامیابی ہمیں نظر تو نہیں آرہی اور اس کے علاوہ ہر ایک جانتا ہے کہ یہ جماعت غالب کے بجائے مغلوب ہوتی دکھائی دیتی ہے تو اس کا یہی جواب ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس جماعت کی کامیابی کو اتحاد اور نظم وضبط کے ساتھ مشروط کیا ہے۔

سنی تنظیمیں اور مقاصد

پورے عالم اسلام سے قطع نظر اگر آپ صرف برصغیر کے اہم خطہ وطن عزیز پاکستان میں دیکھیں تو آپ کو اہلسنت کو اتنی تنظیمیں نظر آئیں گی کہ آپ شمار نہ کرسکیں اور پھر آپ جس تنظیم کا منشور اٹھا کر دیکھیں تو اگر وہ غیر سیاسی کہلاتی ہے تو اس کا اولین منشور یہ نظر آئے گا کہ ’’عوام اہلسنت میں عشق رسول بیدار کرنا یا پیدار کرنا‘‘ اور اگر وہ سیاسی کہلاتی ہے تو اس کا منشور بھی اس سے ہٹ کر نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ الفاظ کی تبدیلی اور اس منشور کا تعلق اقتدار کے ساتھ کردیا جاتا ہے کہ ’’ہمارا منشور ملک میں نفاذ نظام مصطفیﷺ ہے‘‘ پھر اگر آپ ذرہ اندر کی طرف جھانک کر دیکھیں تو آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا کہ سوائے چند تنظیموں کے اکثر تنظیموں کے پاس اتنے افراد نہیں کہ وہ اپنی آواز خواب غفلت میں سوئے ہوئے غافل حکمرانوں تک پہنچا سکیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بڑی تنظیمیں بھی اس سے خالی نظر آتی ہیں، کیونکہ آپ حقائق دیکھیں تو معلوم ہوجائے گا کہ ماضی قریب میں اگر کسی مسئلہ کو حکمرانوں تک پہنچایا گیا اور ان کو حل کرایا گیا تو اس میں تنظیم سے بڑھ کر ہمارے اکابرین کے ذاتی کردار اور ان کی قابل قدر عزت و عظمت کو دخل نظر آتا ہے۔

عوام اہلسنت کو لاحق تشویش

ہمیں اس بات سے انکار نہیں کہ بہت سی تنظیمیں ایک قابل قدر حیثیت رکھتی ہیں مگر اس کے باوجود ہم اغیار کے مقابلے میں بہت کمزور ہیں۔ غیر جب چاہے قد آور سنی شخصیات کو آنا فانا لمحے بھر میں ایک ہی دھماکے میں شہید کردیتا ہے۔ ہماری اعلیٰ قیادت کو راستے سے ہٹانے کے لئے کسی بھی ناپاک حربے کا بے دریغ استعمال کرتا ہے اور آج کی تاریخ تک ہمارے کتنے ہی قائدین اور عوام اہلسنت کو شہید کیا جاچکا لیکن ہماری تنظیموں نے آج تک عوام اہلسنت کو کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں دیا!

اور یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ یہ غیر ہمیں ایک ایک کرکے اس وقت تک نشانہ بناتا رہے گا جب تک ہمارے اکابرین اور ان کے ماتحت تناظم اہلسنت ایک پلیٹ فارم پر جمع نہ ہوجائیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل کہ عوام اہلسنت بزرگوں کو ایک جگہ دیکھنا چاہتے ہیں۔’’تحفظ ناموس رسالت ریلی‘‘ ہے جو 16 فروری کی ریلی کے نام سے مشہور ہے کہ عوام اہلسنت آج تک اسے انہیں بھولے اور ساری دنیا نے دیکھا کہ اہل حق اکابرین اگر جمع ہوجائیں تو ان کے پاس آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی ایک بہت بڑی قوت ہے جس کے ذریعے یہ تاریخ کا دھارا بدل سکتے ہیں۔ وہ تاریخ ساز ریلی ہمارے بزرگوں کے لئے نوشتہ دیوار پیغام ہے کہ اگر آپ متحد ہوجائیں تو عوام اہلسنت کی اجتماعی قوت آپ کے ساتھ ہے۔

خوش آئند اقدامات

عوام اہلسنت کے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ ان نامساعد حالات میں بھی ہمارے بعض قائدین نے حال ہی میں انتہائی بہادری کا مظاہرہ کیا اور ہزاروں مشکلات کو عبور کرکے غیر کی دہشتگردی کے خلاف جلسے جلوس اور کامیاب لانگ مارچ کے ذریعے پوری دنیا کو تسلیم کرایا کہ اہلسنت ایک پرامن مگر مضبوط قوت ہیں اور یہ اپنی منزل تک بہر صورت پہنچ سکتے ہیں۔ چاہے راستے میں کتنی مشکل رکاوٹیں کیوں نہ ہوں!

اب عوام اہلسنت کی اپنے بزرگوں اور مقتدر تنظیمات سے یہی توقعات وابستہ ہیں کہ دیرآید درست آید کے تحت ہمارے اکابرین اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے اور اہلسنت کو ایک متحد اور مضبوط پلیٹ فارم مہیا کریں گے! انشاء اﷲ عزوجل

عوام اہلسنت پر ضروری ہے کہ ادھر ادھر کان نہ دھریں بلکہ اﷲ و رسول عزوجل وﷺ کی اطاعت کریں اور ان کے حکم کے مطابق اپنے اکابرین قائدین کی اطاعت کریں ان کے احکامات پر کاربند رہیں۔ ان کی عزت و توقیر کریں، اسی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی رضا ہے حضور اکرمﷺ کی خوشنودی ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے ایمان والو! حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکم دینے والے ہیں‘‘ (النسآء 59/4)

چونکہ قیادت دور اندیش اور خیر اندیش ہوتی ہے اس لئے ان کے فیصلوں پر چوں چراں نہیں کرنی چاہئے۔ کوئی بھی عالم دین ، قائد اہلسنت ہو، ہمارا فرض ہے کہ ہم بلاتفریق ان کا احترام کریں خواہ اس کا تعلق اس تنظیم سے ہو یا نہ ہو جس سے ہمارا تعلق ہے۔ بلکہ اتنا ضروری ہے کہ اس کا تعلق اس جماعت سے ہو جس سے ہمارا تعلق ہے یعنی مسلک حق مسلک رضا ’’اہلسنت وجماعت‘‘ اور دعا کرتے ہیں اﷲ تعالیٰ ہمیں اتحاد کی بابرکت دولت نصیب فرمائے۔ (جاری ہے)