احناف کی نماز احادیث کی روشنی میں (دوسری قسط)

in Tahaffuz, May 2011, ا بو ا لحسین مفتی محمد خان قا دری رضو ی, نماز

 احناف کی نماز احادیث کی روشنی میں (دوسری قسط)

اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

وربک فکبر (اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو) (سورۂ مدثر آیت 3، پ 29، ترجمہ کنزالایمان)

اس آیت کریمہ میں رب کریم نے اپنے محبوب کریم کو تکبیر کہنے کا حکم دیا۔ اس کے تحت مفسرین کرام رحمہم اﷲ نے لکھا ہے کہ

فامرنا رسول اﷲﷺ ان نفتح الصلوٰۃ بالتکبیر

یعنی ہمیں رسول پاکﷺ نے حکم دیا ہے کہ ہم اپنی نماز تکبیر کے ساتھ شروع کریں۔ یاد رہے کہ ’’تکبیر‘‘ کا مطلب ہے خدائے بزرگ و برتر کی کبریائی کا بیان کرنا، اس کے لئے ہمیں احادیث کریمہ سے جو تعلیم ملتی ہے، اس کی روشنی میں اس کے الفاظ اور کہنے کا انداز اور اس وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھانے کا صحیح طریقہ کیا ہے، اس کی تحقیق کے لئے احادیث کریمہ کے اولین و مستند مجموعہ جات کی سرسری سیر کرتے ہیں۔

چنانچہ امام بخاری کے استاذ الاستاذ امام عبداﷲ بن محمد بن ابی شیبہ علیہ الرحمہ نے اپنی ’’مصنف‘‘ کے ’’کتاب الصلوٰۃ‘‘ جلد اول کے باب 1 ’’فی مفتاح الصلوٰۃ ماہو‘‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ص  260 پر تکبیر کے پانچ حروف کی نسبت سے احادیث خمسہ بیان کی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

1: حدثنا ابوبکر قال حدثنا وکیع من سفیان عن عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابی الحنفیۃ عن ابیہ قال قال رسول اﷲﷺ ’’مفتاح الصلوٰۃ الطہور وتحریمہا التکبیر و تحلیلہا التسلیم‘‘

2: حدثنا ابوبکر قال حدثنا ابو الاحوص عن ابی اسحق عن ابی الاحوص قال قال عبداﷲ رضی اﷲ عنہ ’’تحریم الصلوٰۃ التکبیر و تحلیلہا التسلیم

3: حدثنا ابوبکر قال حدثنا ابن فضیل عن ابی سفیان السعدی عن ابی نضرۃ عن ابی سعیدن الخدری رضی اﷲ عنہ قال قال النبیﷺ ’’مفتاح الصلوٰۃ الطہور وتحریمہا التکبیر و تحلیلہا التسلیم‘‘

4: حدثنا ابوبکر قال حدثنا ابو خالد الاحمر عن ابن کریب عن ابیہ عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما قال ’’مفتاح الصلوٰۃ الطہور وتحریمہا التکبیر و تحلیلہا التسلیم‘‘

5: حدثنا ابوبکر قال حدثنا بن ہارون عن حسن المعلم عن بدیل عن ابی الجوزاء عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت کان النبیﷺ یضتتح الصلوٰۃ بالتکبیر وکان یختم بالتسلیم

اب بالترتیب ان احادیث خمسہ کا بامحاورہ ترجمہ ملاحظہ کیجئے

1: امام ابن ابی شیبہ سے ابوبکر نے حدیث بیان کی۔ وہ فرماتے ہیں ہم نے حضرت وکیع از سفیان از عبداﷲ بن محمد بن عقیل از ابن حنیفہ والد گرامی بیان کرتے تھے کہ انہوں نے فرمایا رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’نماز کی کنجی طہارت، نماز کی تحریمہ تکبیر اور نماز کی تحلیل سلام پھیرنا ہے‘‘

2: امام ابن ابی شیبہ سے ابوبکر نے از ابوالاحوص از ابو اسحق از ابوالاحوص حدیث بیان کی، کہا کہ حضرت عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ’’نماز کی تحریمہ تکبیر ہے اور نماز کی تحلیل سلام کہنا ہے‘‘

3: امام ابن ابی شیبہ سے ابوبکر نے از ابن فضیل از ابی سفیان سعدی از ابونضرۃ از ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا ’’نماز کی کنجی طہارت ہے، اور نماز کی تحریمہ تکبیر اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے‘‘

4: امام ابن شیبہ سے ابوبکر نے از ابو خالد احمد از ابن کریب از والد کریب از ابن عباس رضی اﷲ عنہما حدیث بیان کی۔ انہون نے فرمایا ’’نماز کی کنجی طہارت ہے، اس کی تحریمہ تکبیر اور تحلیل سلام کہنا ہے‘‘

5: امام ابن ابی شیبہ سے ابوبکر از یزید بن ہارون از حسن معلم از بریل از ابو الجوزا از ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا حدیث بیان کی۔ آپ فرماتے ہیں۔ ’’نبی پاکﷺ اپنی نماز تکبیر سے شروع کرتے اور تسلیم پر ختم کرتے تھے‘‘

تنبیہ: مذکورہ احادیث خمسہ میں سے احادیث اربعہ اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضورﷺ اور آپ کے اصحاب نے تکبیرکو بنیادی نماز قرار دیا جبکہ آخری حدیث میں حضورﷺ کے عمل سے اس کا ثبوت مل گیا۔

اب قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس افتتاح نماز کے لئے تکبیر تحریمہ کہنے کا کیا انداز اپنایا گیا۔ اس سلسلے میں امام بخاری، مسلم اور ترمذی رحمہم اﷲ کی بیان کردہ چند روایات سے استفادہ کرتے ہیں۔

چنانچہ امیر المومنین فی الحدیث سیدنا امام ابو عبداﷲ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ اپنی ’’صحیح‘‘ میں ’’کتاب الصلوٰۃ، باب الی این یرقع یدیہ جلد اول ص 102 طبع قدیمی کتب خانہ کراچی میں نقل کرتے ہیں

حدثنا ابو الیمان قال اخبرنا شعیب عن الزہری قال اخبرنی سالم بن عبداﷲ بن عمر ان عبداﷲ ابن عمر قال رایت النبیﷺ افتتح التکبیر فی الصلوٰۃ فرفع یدیہ حین یکبر حتی یجعلہما حذومنکبیہ واذا کبر للرکوع فمل مثلہ واذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ فعل مثلہ وقال ربنا لک الحمد ولا یفعل ذالک حین یسجد ولاحین یرفع راسۃ من السجود

ابن عمر رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے افتتاح نماز تکبیر کہہ کر کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور کندھوں کے برابر کردیا اور جب رکوع کے لئے تکبیر کہی تو پھر اسی طرح کیا اور جب سمع اﷲ لمن حمدہ کہا تو پھر اسی طرح کیا اور کہا ’’ربنا لک الحمد‘‘ اور سجدہ میں جاتے ہوئے اور سجدہ سے اٹھتے ہوئے ایسا نہ کیا۔

امام المحدثین امام مسلم بن حجاج نیشاپوری علیہ الرحمہ اپنی صحیح میں کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین حذوالمتکبین جلد اول ص 168 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی میں یوں نقل کرتے ہیں:

حدثنی ابو الکامل الجہری قال حدثنا ابو عوانۃ عن قتادۃ عن نصر ابن عاصم عن مالک من الحویرث ان رسول اﷲﷺ کان اذا کبر رفع یدیہ حتی یعازی بہما اذنیہ واذا رکع رفع یدیہ حتی یحازی بہا اذنیہ واذا رفع راسہ من الرکوع فقال سمع اﷲ لمن حمدہ فعل مثل ذالک

وحدثنا محمد بن المثنی قال حدثنا ابن ابی عدی عن سعید عن قتادۃ بہذا الاسناد انہ رای نبیﷺ وقال حتی یحازی بہما فروغ اذنیہ

حضورﷺ نے اپنے ہاتھ دونوں کانوں کی لوتک بلند کئے۔ استاذ المحدثین امام ابوعیسٰی محمد بن عیسٰی بن سورت ترمذی علیہ الرحمہ اپنی جامع میں کتاب الصلوٰۃ، جلد اول مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی، ادب منزل پاکستان چوک کراچی ص 55، 54 پر اس سلسلے کی رہنمائی یوں کرتے ہیں

عن ابی  سعید ن الخدری رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲﷺ مفتاح الصلوٰۃ الطہور وتحریمہا التکبیر وتحلیلہا التسلیم الخ

ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’نماز کی کنجی پاکی حاصل کرنا، اس کی تحریمہ اﷲ اکبر کہنا اور اس کی تحلیل سلام کہنا ہے‘‘

آگے چل کر باب فی نشر الاصابع عند التکبیر میں یوں روایت نقل کرتے ہیں

قال حدثنا قتیبہ وابو سعید الاشج قال حدثنا یحیی بن یمان عن ابی ذئب عن سعید بن سمعان من عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ قال کان رسول اﷲﷺ اذا دکبّر للصلوٰۃ رفع نشر صابعہ

امام ترمذی از قتیبہ وابو سعید حدیث بیان کرتے ہیں وہ دونوں از یحیی بن یمان از ابی زئب از سعید بن سمعان از ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی پاکﷺ جب نماز کے لئے تکبیر کہتے تو اپنی انگلیاں عام حالت پر کھلی رکھتے۔

امام بخاری، امام مسلم و ترمذی رحمہم اﷲ کی بیان کردہ روایات سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ طہارت نماز کے لئے کنجی کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ ابن ابی شیبہ کی احادیث خمسہ بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری کی روایت میں ہے کہ حضورﷺ کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے جبکہ امام مسلم کی روایت میں کانوں تک کا ذکر ہے۔ اس کی تطبیق ممکن ہے وہ یوں کہ ہاتھوں کا کاندھوں کے برابر سیدھا ہوا انگوٹھوں کا کانوں کی لو کے برابر ہونے کو مانع نہیں اور اس پر تجربہ شاہد ہے۔ البتہ ان دونوں حدیثوں میں رکوع میں جاتے اور اٹھتے ہاتھ اٹھانے (رفع یدین) کا تذکرہ ہے۔ اس کی مکمل بحث اگلی قسطوں میں آجائے گی کہ رفع یدین کا عملی ثبوت کب تک رہا اور کب نہ رہا۔ نیز امام ترمذی کی روایت سے یہ بھی پتا چلا گیا کہ حضورﷺ اپنی انگلیوں کو کھول کر تحریمہ کہتے تھے۔ احناف کا اسی پر عمل ہے اور رفع یدین پر عمل میں اس کی وجوہات اگلی قسط میں ملاحظہ کیجئے۔