سوال: لڑکی کا اپنے ولی کی اجازت کے بغیر عدالت میں جاکر شادی کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
الجواب بعون الملک الوہاب: لڑکی کا اپنے ولی یا سرپرست کی اجازت کے بغیر عدالت میں جاکر نکاح کرنے کو ’’سول یا کورٹ میرج‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی قانونی صورت یہ ہوتی ہے کہ لڑکی اپنا شناختی کارڈ، میڈیکل سرٹیفکیٹ یا کوئی بھی دستاویزی ثبوت پیش کرکے کسی مجاز عدالت کے سامنے خود کو شناخت کراکے عدالت کو اس بات پر مطمئن کردے کہ وہ اپنی مرضی سے بلاجبر و اکراہ کسی سے شادی کرنا چاہتی ہے اور پھر اطمینان کے بعد عدالت نکاح کی اجازت دے دے۔ لہذا اگر لڑکا اور لڑکی دو گواہوں (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کے سامنے باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ نکاح کرلیں تو اس طرح قانوناً یہ نکاح نافذ العمل ہوجاتا ہے۔ جہاں تک شریعت مطہرہ کا تعلق ہے تو اس نے معاشرتی و سماجی فوائد اور نکاح کے حقیقی ثمرات و نتائج کے حصول کی غرض سے ولی کی اجازت کو مستحسن قرار دیا ہے۔ کیونکہ یہ طریقہ نہ صرف شرعی بلکہ اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے پسندیدہ بھی ہے اور اس کے دینی اور دنیاوی ہر اعتبار سے فوائد موجود ہیں۔ تاہم اگر کسی لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر مگر دو گواہوں کے روبرو ایجاب و قبول کے ساتھ نکاح کرلیا تو فقہ حنفی کی ظاہرا الروایۃ کے مطابق یہ نکاح منعقد ہوجائے گا۔ البتہ لڑکے کے غیر کفو ہونے کی صورت میں ولی کو اعتراض کا حق حاصل ہوگا لہذا اگر وہ چاہے تو عدالت کے ذریعے اس نکاح کو فسخ کروا سکتا ہے۔ کفو سے مراد یہ ہے کہ لڑکا حسب و نسب، مال و دولت، دین داری اور صنعت و حرفت یعنی پیشہ کے لحاظ سے لڑکی کے ہم پلّہ ہو۔ آج کل جدید شہری ماحول میں عہدہ و منصب اور تعلیم بھی اس معیار میں شامل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر عدالتوں کے ذریعے نکاح کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے کیونکہ عام طور پر لڑکا اور لڑکی جذبات سے مغلوب ہوکر اس طرح کا فیصلہ کرتے ہیں، جو بعد میں پچھتاوے کا سبب بنتا ہے۔ مزید براں اس طرح کے نکاح کا نتیجہ دشمنی، قتل و غارت گری، طلاق اور متعدد سماجی و اخلاقی برائیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ والدین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی اولاد خصوصاً لڑکیوں کے نکاح کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں بلکہ اگر مناسب رشتہ ہو تو پسند کی شادی کرانے میں تامل نہ کریں، واﷲ اعلم بالصواب۔
اسمگلنگ اور تجارت
سوال: ایک شخص ایکسپورٹ کا کام کرتا ہے اور وہ اس ملک میں اپنا مال ایکسپورٹ کرتا ہے، جہاں اس کو زیادہ منافع ملے، اگرچہ اس مال کی اس کے ملک میں ضرورت کیوں نہ ہو۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ یہ تجارت ہے، جبکہ دوسرے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ اسمگلنگ ہے اور حرام ہے؟ براہ کرم اس مسئلہ کا حل فرمادیں؟
الجواب بعون الملک الوہاب: شریعت مطہرہ نے معاملہ خرید و فروخت کی درستگی کے لئے یہ شرائط عائد کی ہیں کہ یہ باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ ہو۔ علاوہ ازیں فروخت کی جانے والی شے مال متقوم (شریعت کی نگاہ میں تسلیم شدہ مال) موجود اور فروخت کنندہ کی ملکیت میں ہو۔ اگر یہ شرائط پوری ہورہی ہوں تو خریدوفروخت کا یہ معاملہ شرعی اعتبار سے درست ہوگا۔ اسی طرح تاجر کے لئے بھی یہ جائز ہے کہ وہ اپنا مال جس سے چاہے اور جس علاقے میں چاہے، درج بالا شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے فروخت کرے، البتہ اس پر اخلاقی اعتبار سے یہ ذمہ داری ہے کہ جس علاقے میں ان اشیاء کی زیادہ فروخت ہے، انہیں اس علاقے میں فروخت کرے تاکہ اس کے مال سے مخلوق خدا کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔ لیکن اگر کوئی تاجر مال کا احتکار یعنی ذخیرہ اندوزی کرتے ہوئے اشیائے ضرورت کو روکتا ہے اور پھر اس جگہ یا دوسری جگہ اسے زیادہ منافع لینے کے لئے فروخت کرتا ہے تو یہ جائز نہیں ہوگا۔ رسول اﷲﷺ کی کئی احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ جہاں تک اسمگلنگ کا تعلق ہے، اس حوالے سے مفتیان کرام کی رائے یہ ہے کہ اگر حکمران وقت اپنے ملک یا رعایا کے مفاد میں کسی شے کی برآمدگی پر پابندی عائد کرتا ہے تو ایسی صورت میں تاجر حضرات پر یہ لازم ہے کہ اس قانون کے تحت مال دوسرے ممالک میں نہ بھیجیں اور اگر بھیجنا ضروری ہو تو مروجہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے بھیجیں۔ وگرنہ نہ صرف قانونی طور پر بلکہ شرعی نقطہ نگاہ سے درست نہیں ہوگا۔ شرعی اعتبار سے درست نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اسمگلنگ کے ذریعے مال فروخت کرنے والا اگر پکڑا جائے تو ایسی صورت میں اسے سزا ہوگی اور اسے رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور شریعت میں یہ حکم بھی ہے کہ جس کام سے عزت جانے کا اندیشہ ہو، اس سے اجتناب ضروری ہے۔ واﷲ اعلم بالصواب۔