زمین پر انسانی زندگی کی ابتداء

in Tahaffuz, July 2012, متفرقا ت, محمد اسماعیل بدایونی

آج پورے گھر میں چہل پہل ہورہی تھی۔ حیدرآباد سے عنبرین آپا کے بچے، لاہور سے بڑی آپا کے بچے اور کراچی میں موجود زنیرہ آپی کے بچے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لئے اپنی نانی کے گھر میں موجود تھے۔
ماموں جان آگئے… ماموں جان آگئے…
تمام بچے شور مچاتے ہوئے سعد کے گرد جمع ہوگئے۔
ارے ماموں جان کو سانس تو لینے دو عنبرین آپا نے اپنے اکلوتے بھائی کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
ارے نہیں آپا! ان بچوں نے تو میری ساری تھکن دور کردی۔ سعد نے بچوں کو پیار کرتے ہوئے کہا۔
ماموں جان! ماموں جان!
آپ نے پچھلی دفعہ وعدہ کیا تھا کہ اگلی دفعہ چھٹیوں پر ہم آئیں گے تو آپ ہمیں قرآن حکیم کے سارے واقعات سنائیں گے۔
(تابندہ نے یاد دلاتے ہوئے جلدی جلدی کہا)
ارے ہاں ہاں! مجھے یاد ہے، مجھے یاد ہے۔ سعد نے تابندہ کے ہی انداز میں مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
لیکن ماموں جان کب سنائیں گے؟ زید نے جلدی سے پوچھا۔
ارے بیٹا اسے (ماموں جان کو) منہ ہاتھ تو دھو لینے دو۔ بڑی آپا نے بچوں سے مسکراتے ہوئے کہا۔
یہ سب بچے تو سعد کے دیوانے ہیں ۔زنیرہ آپی نے نانی جان کو پان دیتے ہوئے کہا۔
آج رات کو عشاء کی نماز کے فورا بعد۔ سعد ماموں نے صوفے سے اٹھتے ہوئے جواب دیا۔
رات کو عشاء کی نماز کے بعد تمام بچے (ام ہانی، ام ایمن، تابندہ، زید، اسید، جنید، جویریہ، حسن اور علی) ڈرائینگ روم میں سعد ماموں کے گرد جمع ہوچکے تھے۔
بڑی آپا کی دو بیٹیاں ام ہانی، ام ایمن اور ایک بیٹا زید اور عنبرین آپا کے دو بیٹے جنید، اسید اور دو ہی بیٹیاں تابندہ، جویریہ جبکہ زنیرہ آپی کے تین بیٹے زید، حسن اور علی تھے، بیٹی کوئی نہیں تھی۔
اچھا بچوں یہ بتائو عشاء کی نماز سب بچوں نے پڑھ لی ہے۔
جی ماموں جان! سب بچوں نے ایک ساتھ کہا۔
ماموں جان! زنیرہ آنٹی کل بتا رہی تھیں کہ شیطان لوگوں کو نیک کام نہیں کرنے دیتا۔ ماموں جان یہ شیطان کون ہے؟ ام ہانی نے تجسس سے پوچھا۔
ماموں جان! یہ شیطان کون ہے؟ اور یہ کہاں رہتا ہے؟ حسن نے حیرت سے پوچھا۔
ہاں بچوں! یہ شیطان جو ہے یہ انسان کو بہکاتا ہے۔ اس کو نیک راستے پر چلنے سے روکتا ہے، گناہوں میں مبتلا کردیتا ہے۔ یہ انسان کا کھلا دشمن ہے۔
مگر ماموں جان! یہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ اور یہ انسانوں کا دشمن کیوں ہے؟ علی نے پرجوش انداز میں پوچھا۔
شیطان کے بارے میں جاننے کے لئے تو بڑی تفصیل درکار ہے۔ سعد ماموں نے کہا۔
ماموں جان تفصیل سنایئے زیادہ مزہ آئے گا۔جویریہ نے چہکتے ہوئے کہا۔
اچھا بچو! تو سنو!
اﷲ عزوجل نے زمین و آسمان کی تخلیق کے بعد انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اور سب سے پہلے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ سیدنا آدم علیہ السلام سے پہلے کوئی انسان نہیںتھا۔ اسی لئے آپ کو ابوالبشر یعنی انسانوں کا باپ کہا جاتا ہے۔ اس زمین کو انسانوں کو آباد کرنے کے لئے اﷲ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تاکہ زمین پر زندگی شروع ہو۔
اﷲ عزوجل نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قبل فرشتوں پر اپنا ارادہ ظاہر فرمایا۔
واذ قال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفہ (سورہ بقرہ آیت 30 پارہ 1)
’’اور یاد کیجئے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا۔ بے شک میں بنانے والا ہوں زمین میں (اپنا) نائب‘‘
فرشتوں کو یہ فرمان سن کر تعجب ہوا۔ انہیں اﷲ عزوجل کے ارادے پر اعتراض نہیں تھا۔ فرشتے تو اﷲ عزوجل کی فرمانبردار مخلوق ہیں۔ کسی صورت بھی اﷲ عزوجل کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اﷲ عزوجل انہیں جو حکم دیتا ہے، وہ بجا لاتے ہیں لیکن وہ حیران اس لئے تھے کہ عبادت کے لئے تو وہ کم نہ تھے پھر اس نئی مخلوق کو کس مقصد کے لئے پیدا کیاجارہا ہے۔ انہوں نے اﷲ عزوجل سے عرض کی۔
اتجعل فیہا من یفسد فیہا ویسفک الدماء ونحن نسبح بحمدک ونقدس لک (سورہ بقرہ آیت 30 پارہ 1)
’’(اے ہمارے رب) کیا ایسے کو (نائب) کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خونریزیاں کرے گا اور ہم تیری حمد اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں‘‘
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)