آہ! شیخ اعظم علیہ الرحمہ وصال فرماگئے

in Tahaffuz, July 2012, شخصیات

آہ! 22 فروری 2012ء رات پونے گیارہ بجے پیر طریقت رہبر شریعت، جانشین سرکار کلاں حضرت علامہ مولانا سید محمد اظہار اشرف اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ علیہ الرحمہ کا شمار عالم اسلام کی ان عظیم شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے آپ کو دین و مسلک کے لئے وقف کردیا تھا۔ پوری دنیا میں جاکر آپ نے اسلامی مراکز قائم فرمائے اور اسلامی تعلیمات سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ آپ پوری دنیا میں سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کی پہچان سمجھے جاتے تھے۔ آپ نے ساری زندگی اپنے والد ماجد حضور بقیۃ السلف پیر طریقت رہبر شریعت ولی نعمت حضرت علامہ مولانا محمد مختار اشرف اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ کے مشن کو جاری رکھا۔

فقیر (محمد شہزاد قادری ترابی) آپ علیہ الرحمہ سے طالب ہے ،لہذا جب بھی حضور اظہار اشرفی علیہ الرحمہ کراچی تشریف لاتے، آپ کی زیارت و صحبت سے فیضیاب ہوتا۔ آپ علیہ الرحمہ کا خوبصورت اور حسین چہرہ جس سے سفیدی جھلکتی تھی، نہایت ہی قد آور آپ کا جسم اور آہستہ آہستہ گفتگو کرنے کا انداز، سر پر سفید ٹوپی اور گلے میں ہندی چادر، سفید لباس آپ کی پہچان تھی۔

نہایت ہی پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ ایک نظر دیکھنے والا پلٹ کر دوبارہ ضرور دیکھتا بلکہ پہلی نظر ہی چہرۂ انور پر ٹھہر جاتی، نہ ہٹتی نہ ہٹانے کا دل چاہتا تھا۔ فقیر ایک مرتبہ آپ علیہ الرحمہ کو کراچی ایئرپورٹ چھوڑنے ساتھیوں کے ساتھ گیا۔ آپ لاہور تشریف لے جارہے تھے، طبیعت کی وجہ سے آپ ویل چیئر پر تشریف فرما تھے۔ ویل چیئر چلانے کی سعادت فقیر کو حاصل ہوئی۔ میں نے ویل چیئر کو تھوڑی دیر روکا، ہر گزرنے والا شخص آپ کو ضرور دیکھتا اور لوگ فقیر نے پوچھتے کہ اتنی نورانی صورت والے کون بزرگ ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ کس کے سلسلے کے بزرگ ہیں، جب میں ان سے تعارف کرواتا تو فوراً دست بوسی کرتے اور دعائیں لیتے۔

فقیر تعارف ذرا اس طرح کرواتا تھا کہ غازی ملت حضرت علامہ مولانا سید محمد ہاشمی میاں اشرفی الجیلانی صاحب کے پیر ومرشد حضور بقیۃ السلف حضرت علامہ مولانا سید محمد مختار اشرف اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے ہیں۔ یہ سن کر فورا لوگ زیارت اور مصافحہ سے مستفیض ہونے لگے۔

آپ علیہ الرحمہ کافی عرصے سے سخت علیل تھے۔ کمزوری اور جسم میں تکلیف کی وجہ سے آپ کے شروع کئے ہوئے کافی کام پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکے۔ آخری وقت میں آپ اکثر مریدین و محبین سے کہا کرتے تھے کہ دعا کرو۔ اﷲ تعالیٰ مجھے زندگی دے تو میں اپنے ہاتھوں سے شروع کئے ہوئے کاموں کی تکمیل کروں مگر زندگی نے وفا نہ کی۔ علالت کی وجہ سے آپ اسپتال میں داخل رہے اور وہیں آپ نے رحلت فرمائی۔ آپ علیہ الرحمہ کا وصال اہلسنت کے لئے بہت بڑا سانحہ ارتحال ہے۔ آپ جیسی ہستیاں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے۔ آپ کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے، پسماندگان خصوصا آپ کی اولاد کو صبرجمیل عطا فرمائے اور صبرجمیل پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین