حکومت یہود ونصاریٰ کے مشن کی تکمیل پر گامزن

in Tahaffuz, July 2012, ا د ا ر یے

جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے، پاکستان پستی کی طرف ہی جارہا ہے۔ ظالم و جابر حکمران ہر ہر لمحہ اس ملک کی معیشت کو کمزور کرنے اور اپنے بینک بیلنس کو بڑھانے میں مصروف عمل ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مخصوص پارٹی کو یہودونصاریٰ خاص طور پر ملک کو تباہی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے برسر اقتدار لائے ہیں اور حکومت کا اس کام میں مکمل سپورٹ کررہے ہیں۔ یہ بات محض ایک الزام نہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں، جنہیں پڑھ کر آپ کو یقین آجائے گا کہ واقعی یہ حکومت یہودونصاریٰ کے مشن کی تکمیل پر گامزن ہے۔

قوم کو ہر ہر لمحہ پریشان رکھو

اس قوم کو ہر ہر لمحہ پریشان رکھنے کے لئے ہر چیز خصوصا روزمرہ کی اشیاء مہنگی کردو، مثلا اشیائے خوردونوش چاول، آٹا، دالیں، گھی، تیل، سبزیاں، گوشت اور پھل مہنگے کردو تاکہ یہ قوم اپنے اخراجات پورے کرنے میں ہی مشغول رہے، اسے اتنی فرصت ہی نہ ملے کہ یہ ملک کی ترقی، اسلام کی ترویج و اشاعت اور ملک دشمن حکمرانوں کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائے۔

دوسری جانب گیس، بجلی، پیٹرول اور ادویات کی قیمتیں بڑھادو تاکہ یہ قوم پورا مہینہ اسی کو پورا کرنے میں گزار دے اور ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی مصنوعی لوڈشیڈنگ جاری رکھو، چاہے سردی ہو یا گرمی، یہ کام جاری رہنا چاہئے تاکہ قوم اسی میں پریشان اور الجھی ہوئی رہے، نہ اپنے گھروں سے نکل کر ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور نہ ہی حکومت کی ملک دشمن پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائے۔ دوسری جانب تم اپنے بینک بیلنس بڑھائو، سوئز اکائونٹ کو مضبوط کرو اور ملک و قوم کو کھوکھلا کرو لہذا موجودہ حکومت ان یہودی پالیسیوں پر پوری قوت سے گامزن ہے۔

ملکی اداروں کو کمزور سے کمزور کردو

موجودہ حکومت نے یہودونصاریٰ کے اس فرمان پر بھی لبیک کہتے ہوئے جتنے بھی ملکی ادارے خصوصا کے ای ایس سی، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاکستان اسٹیل مل، پاکستان ریلوے، پی آئی اے اور دیگر روز بروز کمزور تر کئے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان اداروں کو مکمل طور پر کھوکھلا کردیا گیا ہے۔ ان اداروں سے ہونے والی آمدنی حکمرانوں اور وزراء کی جیبوں میں جاتی ہے۔ یہ کوئی الزام نہیں ہے۔ آپ خود تحقیقات کرلیں، نتیجہ یہی نکلے گا۔ یہودونصاریٰ کو اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ادارے کمزور ہوں گے تو پھر خود بخود ملک کھوکھلا ہوتا رہے گا اور یوں ملک جسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، جو اسلام کا قلعہ کہلاتا ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے، تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہی یہودونصاریٰ چاہتے ہیں۔
قوم پرستی اور فرقہ پرستی کے نام پر ملک میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کردو۔ قوم آپس میں لڑتی رہے، حکمران عیاشی کرتے رہیں اور یہودونصاریٰ خوش ہوتے رہیں۔ اس کے علاوہ لوٹ کھسوٹ کا بازار ملک بھر میں گرم رہے۔ چوری، ڈکیتی اور بھتہ خوری کو عام کردیا جائے، چوروں اور ڈکیتوں کی سرپرستی ہماری پولیس کے افسران کریں اور بھتہ خوروں کی سرپرستی حکومت اور ان کے وزراء کریں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت میں شامل ہر سیاسی جماعت کے کارندے پورے ملک میں بھتہ وصول کرتے ہیں۔ پرائیویٹ کمپنیوں، صنعتوں، فیکٹریوں کے مالکان، سرمایہ کاروں، تاجروں، دکانداروں اور گلی کوچوں کو بھتے کی پرچیاں دے کر ان سے کروڑوں روپیہ وصول کیا جاتا ہے۔
ذرا سوچیئے! اگر یہی حال رہا تو سرمایہ کار کب تک اس ملک میں کاروبار کریں گے۔ بالآخر وہ سب کچھ سمیٹ کر پاکستان کو خیرباد کہہ کر چلے جائیں گے۔ جب اس ملک سے سرمایہ کار چلے جائیں گے تو سرمایہ کاری کیسے ہوگی؟ اور اگر سرمایہ کاری نہ ہوئی تو بے روزگاری بڑھے گی اور بے روزگاری بڑھے گی تو ملک میں لوٹ مار عام ہوجائے گی۔

حکمران جواب دیں!

اگر وہ یہودونصاریٰ کی پالیسیوں پر کاربند نہیں تو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیوں نہیں کیا جارہا؟ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کیوں کیا جارہا ہے؟ ملک میں گیس و بجلی کی مصنوعی لوڈشیڈنگ کیوں ہے؟ ملکی اداروں کو کمزور کیوں کیا جارہاہے؟ اپنے بینک بیلنس میں بے دریغ اضافہ کیسے ہورہا ہے؟ جبکہ ملک پستی کی جانب جارہا ہے۔ قوم پرست لیڈران اور تنظیموں کی حکومت حمایت کیوں کررہی ہے؟ قاتلوں کو اعلیٰ عہدیداران کیوں فون کرکے چھڑواتے ہیں؟ دہشت گرد اور کالعدم جماعتوں کو حکومت نے کھلی چھوٹ کیوں دے رکھی ہے؟ بھتہ خور جماعتیں خود حکومت کی اتحادی ہیں، بلکہ وزراء خود بھتہ خوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنے دیتے… ایسا کیوں؟کیا یہ تمام باتیں یہ ثابت نہیں کررہی ہیں کہ حکومت ملک پاکستان میں یہودونصاریٰ کے مشن کی تکمیل پر گامزن ہے؟؟؟