گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

in Tahaffuz, July 2012, متفرقا ت

اولاد ایک نعمت ہے۔ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، باعث سکون ہے، غموں کا مداوا ہے، کمزور ہوتے بازؤں کی قوت ہے، سرمایہ حیات بھی اور سرمایہ آخرت بھی، جبھی تو تمناؤں اور دعاؤں میں شامل رہتی ہے۔ لیکن کیا ہوا؟ یہ دور دور کیوں رہنے لگی۔ اس کے لہجے کی چاشنی میں زہر کی آمیزش کیسے ہوگئی۔ روزانہ ایک نیا زخم ماں باپ کے دل میں کیوں لگتا ہے۔ جسے اف کرنے کی اجازت نہ تھی وہ سینہ تان کر سامنے آگئی۔ جسے خون جگر پلایا، جسے آغوش شفقت میں پالا، جس کے لئے اپنا چین اور آرام قربان کیا، اب نہ اس کی نظروں میں اکرام ہے، نہ انداز میں ادب، جس کی تعلیم کے لئے خون پسینہ ایک کیا، وہ ہر لمحہ رنج وغم کی ایک نئی ٹھیس لگا رہی ہے۔ دور حاضر میں اکثر ماں باپ کے لبوں پر ایسی شکایات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔ بحیثیت مسلمان! والدین غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کردار سنوارنے کا ایک اہم پہلو نظر انداز ہوگیا اور وہ ہے ’’اسلامی تربیت‘‘ اسلام ماں باپ کو صرف یہی ذمہ داری نہیں دیتا کہ اولاد کی دنیوی خوشحالی، بہتر لباس، اچھی خوراک اور بہتر رہائش کا بندوبست کریں۔ اسلام اصل ذمہ داری یہ دیتا ہے کہ اس انداز میں تربیت کی جائے کہ عمدہ کردار، حسن اخلاق، تقویٰ، درست عقائد و نظریات، صبروشکر، عدل و انصاف، احسان کرنا، تحمل و بردباری، اخوت و محبت سے سرشار، خدمت خلق کا جذبہ، دینی علوم اور دنیوی علوم کا شوق، احساس ذمہ داری، رشتے داری کا اکرام اور حقوق و فرائض کی بجاآوری، نظم و ضبط کی پابندی وغیرہ صفات اولاد کی شخصیت میں داخل ہوکر اسے ایک اچھا انسان بنادیں۔ زیر نظر موضوع پر حضرت علامہ مفتی محمد آصف عبداﷲ قادری دامت برکاتہم العالیہ کا بیان ہے جو والدین کے نام ایک فکری اور تربیتی پیغام ہے۔ آپ اس کو بغور مطالعہ فرما کر عظیم سعادتوں کے امین بن سکتے ہیں۔رب العالمین سب کی اولاد کو نیک اور سچا عاشق رسولﷺ بنائے۔ آمین بحق طہ و یٰسﷺ

گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

فطرتاً ہر انسان اولاد کا طلب گار ہے، ہر انسان کے دل میں اولاد کے حصول کی تمنا ہے۔ قرآن نے بھی اولاد کے حصول کے لئے دعا کرنے کا ذکر کیا انبیاء علیہم السلام بھی حصول اولاد کے لئے دعائیں کرتے۔ چنانچہ قرآن پاک میں حضرت سیدنا ذکریا علیہ السلام کا ذکر کیا کہ آپ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اولاد کے لئے دعا مانگ رہے ہیں۔
قال رب ہب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ (آل عمران، 38 پ 3)
(حضرت ذکریا علیہ السلام نے) عرض کی اے میرے رب مجھے اپنے پاس سے ستھری اولاد دے۔
آپ سوچئے نبی علیہ السلام کو کس چیز کی کمی ہے لیکن نیک اولاد کی دعا حضرت ذکریا علیہ السلام نے بھی کی اور ساتھ ساتھ جلیل القدر نبی یہ نظریہ بھی دے رہے ہیں کہ اولاد کی تڑپ اور تمنا کے ساتھ ساتھ نیک اولاد کے حصول کی دعا کی جائے۔

احساس نعمت

اولاد واقعی بہت عظیم نعمت ہے جو لوگ اولاد کی نعمت سے محروم ہیں، وہ کیسی تڑپ رکھتے ہیں اس کا احساس صاحب اولاد نہیں کرسکتے کیونکہ جو کسی نعمت سے محروم ہوتا ہے، اکثر وبیشتر اسے ہی نعمت کی قدر ہوتی ہے۔ آنکھ کی قدر معلوم کرنی ہو تو نابینا سے معلوم کیجئے۔ کان کی قدر معلوم کرنی ہے تو بہرے سے پوچھئے۔ اگر ہم مکمل احساس نہیں کرسکتے تو کم از کم اتنا تو غور کریں کہ اولاد کتنی بڑی نعمت ہے کہ اﷲ کے ایک برگزیدہ نبی رب کی بارگاہ میں دعا کررہے ہیں اور اﷲ تعالیٰ ان کی دعا کو اپنے کلام قرآن پاک میں بھی فرمایا جیسا کہ ابھی گزرا۔
نعمت پر شکر ادا کرنا
قرآن مجید فرقان حمید میں اﷲ عزوجل نے ارشاد فرمایا

لئن شکرتم لازیدنکم (ابراہیم 7، پ 13)
اگر تم شکر کروگے تو میں ضرور بضرور تمہاری نعمتوں میں اضافہ کروں گا۔

یقینا اولاد اﷲ کی نعمت ہے۔ اب اس نعمت کا شکر کیسے ادا کیا جائے نعمت پر شکر کے معنی یہ ہے کہ اس کی قدر دانی کی جائے اور اولاد کی نعمت پر شکر ادا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے درست تعلیم و تربیت دی جائے۔

ہرحال میں اﷲ کی رضا پر راضی

اولاد گھر کا چراغ ہے، گھر کا نور ہے، گھر کی رونق ہے، مگر اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں، یقینا یہ اﷲ کی عطا ہے، اسی طرح جس کے یہاں اولاد نہیں، اس کا اپنا ذاتی کوئی قصور نہیں۔ یہ اﷲ کی مرضی اور مشیت ہے اور ہمیں ہرحال میں اﷲ کی رضا پر راضی رہنا چاہئے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔

وما اصابکم من مصیبۃ فمبا کسبت ایدیکم (شوری: 30، پ 25)

اور تمہیں جو تکلیف پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا (کنزالایمان)

اسلامی تربیت کا صلہ

جس کو اﷲ نے اولاد کی نعمت سے نوازا ہے، وہ یہ سوچے کہ یہ اولاد کی ایک ایسی نعمت ہے کہ اگر اس کی صحیح اسلامی تربیت ہوجائے تو یہ والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن کر دونوں جہاں میں ان کو نہ صرف خوش و خرم کردے گی بلکہ میدان محشر میں کامیابی کا سامان بن جائے گی۔ ایسے والدین جنہوں نے اپنے بچوں کی صحیح اسلامی تربیت کی ہوگی۔ ان کے متعلق آقائے دوجہاںﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
بروز قیامت جب ان کے سر پر قیمتی تاج اور نوری لباس پہنایا جائے گا کہ تو کہیں گے اے مالک و مولیٰ یہ کن اعمال کا صلہ ہے؟ فرمایا جائے گا۔ یہ بچوں کی اسلامی و قرآنی تربیت کا صلہ ہے۔ (مفہوم حدیث )مجمع الزوائد ص 161 ج 7)

ایسے والدین کو سورج کی روشنی سے زیادہ حسین اور خوبصورت تاج پہنائے جائیں گے، ان کے درجات بلند کئے جائیں گے اور یہی سعادت مند اولاد اپنے گھر کے افراد کی شفاعت بھی کرے گی۔
مشفق والدین بددعا کیوں کرتے ہیں؟
اگر گھر کے اس چراغ کی حفاظت نہ کی جائے اور صحیح اسلامی تربیت نہ کی جائے تو دنیا میں والدین بسا اوقات اولاد سے تنگ آجاتے ہیں اور انہیں طرح طرح کی بددعائیں دیتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے مرنے کی دعا کرتے ہیں نیز بعض اوقات یہ جملے بھی سننے میں آتے ہیں کہ کاش ہماری اولاد ہی نہ ہوتی افسوس! نوبت یہاں تک کیسے پہنچ گئی، تو پھر یہ کہنا پڑتا ہے کہ جب انہوں نے گھر کے اس چراغ کی حفاظت نہ کی تو اسی گھر کے چراغ سے گھر کو آگ لگ گئی۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

سوچنے کی بات ہے ایک طرف تو ہم اولاد کی تمنا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اولاد اﷲ کی عظیم نعمت ہے، گھر کا چراغ ہے، گھر کا نور ہے، گھر کی رونق اور دوسری طرف بسا اوقات یہ عالم ہے کہ جب اولاد بڑی ہوجاتی ہے تو اس کو گھر سے الگ کردیتے ہیں۔ ایک نظر دیکھنے کو تیار نہیں ہوتے، بددعائیں کرتے ہیں، یہ آخر کیوں ہوتا ہے؟ دراصل اس انجام تک پہنچانے میں سب سے بڑا دخل ہماری غلط فہمی کا ہے، وہ غلط فہمی کیا ہے؟ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بچے جس طرح خود بخود قد آور ہورہے ہیں، اسی طرح نیک پرہیز گار بھی خودبخود بن جائیں گے حالانکہ ایسا نہیں، ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ قد کے اعتبار سے بڑے ہورہے ہیں، اس لئے کہ ہم انہیں غذا دیتے ہیں… کون سی غذا؟ جسمانی غذا جسے ہم صبح سے شام تک محنت کرکے ان کے کھانے کے لئے انتظام کرتے ہیں۔ اسی لئے یہ جسمانی اعتبار سے بڑھ رہے ہیں لیکن جسمانی غذا کے ساتھ ساتھ اگر ہم نے انہیں روحانی غذا نہ دی تو نیکی کا بیج جو ان کے دل میں موجود تھا، روحانی غذا نہ ملنے کی وجہ سے سوکھ کر آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گا پھر گمراہی، گناہوں اور برائی کا بیج ان کے دل میں نشوونما پاجائے گا اور یہ بیج جب تن آور درخت بن جائے گا تو یہ اولاد بڑھاپے میں ہمیں دھکے دے کر گھر سے نکال دے گی۔ تب احساس ہوگا کہ ہائے افسوس! ہم نے اپنی اولاد کی اسلامی تربیت کیوں نہیں کی، ہمیں بچپن ہی سے جسمانی غذا کے ساتھ ساتھ روحانی غذا اسلامی تربیت کی صورت میں دینی چاہئے تھی۔

انگریزی نظام کی خرابیاں

آج ہم نے اپنی اولاد کویورپ اور امریکہ کی جدید تعلیم تو دے دی، ہم نے اسکول و کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم سے تو آراستہ کیا لیکن یہ تمام نظام تعلیم اولاد کے دل میں ماں کی قدرومنزلت قائم کرنے میں ناکام رہا کیونکہ یہ تو انگریزوں کا نظام ہے، یہ جہاں دین سے انسان کو دور کرتا ہے، وہیں یہ نظام خودغرض اور لالچی بنادیتا ہے افسوس! اسکول کالج اور یونیورسٹی کے وہ طلباء جنہیں اسلامی تربیت نہ مل سکی۔ ان کے متعلق یہاں تک معلوم ہوا کہ وہ ماں باپ کو Business Point of View یعنی تجارتی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ماں باپ کی کب تک ضرورت ہے لہذا جب ان کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور جب وہ خود کمانے لگ جاتے ہیں اور ماں باپ بوڑھے ہوجاتے ہیں تو ان کا بوجھ اٹھانے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اب ان سے ہمیں کیا لینا ہے؟ ہاں اگر ماں باپ بوڑھے ہوچکے ہیں لیکن جائیداد بہت ہے تو اب خدمت کی جاتی ہے لیکن یہ خدمت اﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ بس کسی طریقے سے جائیداد ہمیں مل جائے۔ کیا آج کی ماڈرن اولاد وی سی آر، ڈش انٹینا، کیبل، انٹرنیٹ، ٹی وی پر فلمیں، ڈرامے بے ہودہ مناظر دیکھنے والی، میوزک سننے والی، بے پردہ، بے نمازی، دین سے دور دوستوں کی صحبت (Gathering) رکھنے والی اس طرح خدمت گزار ہوسکتی ہے جس طرح دین کو سمجھنے والے خدمت گزار ہوتے ہیں۔ آیئے دین کا شعور رکھنے والوں کی والدین کی خدمت کا انداز توجہ سے پڑھیئے چنانچہ سیدنا بایزید بسطامی علیہ الرحمہ کی والدہ سخت سردی کی رات میں فرماتی ہیں، بیٹا مجھے پانی کی ضرورت ہے پانی لائو آپ نے گھر میں پانی موجود نہ پایا تو اسی وقت کنوئیں کی طرف جاتے ہیں، راستے میں شدید برف باری ہے، سخت سردی ہے لیکن اس کے باوجود پانی لے کر آتے ہیں اور پیالے میں پانی لے کر ماں کے سرہانے پہنچے تو والدہ کی آنکھ لگ چکی ہے۔ اب آپ سوچتے ہیں کہ ماں نے پانی مانگا۔ اب اگر میں سو جائوں تو یہ نافرمانی ہے اگر ماں کو جگائوں تو نیند خراب ہونے کا اندیشہ ہے لہذا ساری رات ماں کے سرہانے کھڑے رہتے ہیں اور سردی اس قدر ہے کہ پیالے سے جو چند قطرے ہاتھ پر گرے تھے، وہ برف بن گئے اور پیالہ ہاتھ سے چپک گیا۔ صبح کے وقت والدہ محترمہ کی آنکھ کھلتی ہے اور پیالہ اٹھاتی ہیں۔ اس وقت بھی ماں پر کوئی احسان کا اظہار نہیں کرتے، خاموشی سے پیالہ پیش کردیتے ہیں لیکن جس وقت پیالہ ہاتھ سے جدا ہوتا ہے، تو برف سے جم جانے کی وجہ سے ہاتھ سے خون جاری ہوجاتا ہے۔ والدہ فرماتی ہیں کہ بیٹا یہ خون کیوں نکل رہا ہے۔ سارا واقعہ عرض کرتے ہیں اور ماں کی دعائیں حاصل کرتے ہیں۔ غور کیجئے! کیا فلموں، ڈراموں اور صرف مغربی تعلیم کے ذریعے اولاد کی ایسی تربیت کی جاسکتی ہے؟ اور اس سے ایسی خدمت کی توقع کی جاسکتی ہے؟

قرآنی حکم اور ماڈرن اولاد

قرآن مجید فرقان حمید نے ارشاد فرمایا

اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلاہما فلا تقل لہما اف (بنی اسرائیل، 32، پ 15)

اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں پڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف (ہوں) نہ کہنا۔

’’اف‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ اگر والدین کی کوئی بات ناگوار بھی محسوس ہو تو پیشانی پر ناگواری کے بل بھی نہیں پڑنے چاہئیں، ماڈرن زمانے کی اولاد والدین کی بات سن کر اف بھی نہ کرے کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ افسوس! صد افسوس! عام طور پر ایسا نہیں۔

یورپ کے حالات

آج ہم یورپی معاشرے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ مغربی تعلیم اور مغربی تہذیب کے پیچھے دوڑنے کا ایک جنون پایا جاتا ہے۔ ہمیں فکر ہے کہ دنیا کدھر جارہی ہے۔ ہمیں اس کے پیچھے جانا ہے۔ آپ کو معلوم ہے دنیا کہاں جارہی ہے؟ اگر آپ کو یورپ کے حالات دیکھنے ہوں تو وہاں کے Old Houses میں چلے جائیں اولڈ ہائوسز میں والدین ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتے ہیں مگر اولاد ملنے تک نہیں آتی۔ اولاد کے ایک فون کے لئے ترس رہے ہوتے ہیں۔

اہل یورپ کا ایک برا نظریہ

یورپ میں ایک نظریہ دیا گیا کہ بوڑھے والدین تم پر بوجھ ہیں۔ تمہارے گھر کے نظام میں خلل پیدا کرتے ہیں لہذا جب یہ 50 یا 60 سال کے ہوجائیں تو انہیں Old Houses میں داخل کروادو۔ آپ کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ اب ہمارے ملک میں بھی Old Houses تیار ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پاکستان میں ایک NGO اس پر کام کررہی ہے جو اندرون سندھ و پنجاب اور مختلف علاقوں میں جاجاکر لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ اپنے بوڑھے والدین کو گھر میں مت رکھو Old Houses میں داخل کراؤ۔

افسوسناک پہلو

ایک صاحب جو پہلے پاکستان میں رہا کرتے تھے۔ کینیڈا جانے کے بعد 22 سال کے بعد پاکستان آئے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ کو پاکستان کیسا لگا تو وہ بولے پاکستان مجھے بہت ہی برا لگا۔ برا لگنے کی وجہ پوچھنے پر وہ بولے کہ جب میں 22 سال پہلے پاکستان چھوڑ کر گیا تھا تو اس وقت ماں باپ کی اتنی عزت تھی کہ ان کی عزت و عظمت تو اپنی جگہ دادا، دادی، نانا، نانی، پردادا، پردادی کے سامنے بھی کوئی آنکھ اٹھا کر بات نہیں کرتا تھا۔ کسی بچے میں اتنی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ بڑوں کے سامنے آواز بلند کرسکے۔ اتنا ادب اور احترام تھا، ایسا خاندانی نظام تھا، ایسی محبتیں الفتیں تھیں لیکن جب 22 سال کے بعد واپس آیا ہوں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ آج دادا اور دادی کی عزت تو دور کی بات ہے، بچے والدین کا بھی احترام نہیں کرتے۔ وہ کہنے لگے کہ اس 22 سال کے عرصے میں، میں نے یورپ اور کینیڈا وغیرہ کے سیمینارز میں شرکت کی۔ وہاں کے اسکالرز آج کل ایک ہی سوچ دے رہے ہیں کہ یہ ہمارا نظام ہمیں تباہ کردے گا لہذا ہمیں ایسا نظام قائم کرنا چاہئے کہ جس میں خاندانی محبت اور رواداری ہو، والدین اور بچوں کے درمیان جو محبت کے رشتے ہیں، اس کو قائم کرنے کے لئے وہ بڑے بڑے سیمینار منعقد کرتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ جس نظام کو وہ لوگ پسند کررہے ہیں۔ وہ یہی اسلامی تعلیمات ہیں مگر آج ہم اسی نظام سے دور ہوتے جارہے ہیں۔

نحوس یورپی رسم

یہ Motherday اور Fatherday (مدر ڈے اور فادر ڈے) کیا ہیں؟ آپ نے کبھی غور کیا؟ دراصل اس کی حقیقت یہ ہے کہ یورپ میں جب یہ دیکھا گیا کہ والدین کی قدرومنزلت لوگوں کے دلوں سے جاتی رہی تو انہوں نے مدر ڈے اور فادر ڈے کا تعین کیا تاکہ ہماری قوم ماں باپ کی عزت اپنے دل میں پیدا کرے مگر یہ دن بھی ایک رسم کی ہی حیثیت رکھتے ہیں لیکن دین اسلام نے تو مسلمان کے ہر دن کو مدر ڈے اور فادر ڈے بنایا ہے۔ اہل یورپ کی طرح مسلمان یہ نہیں کرتے کہ ایک گھنٹے کے لئے مدر ڈے منایا اور والدین کو تحفہ پیش کردیا اور اگلے ہی دن والدین نے کوئی نصیحت اور ہمدردی کی کوئی بات کی تو فورا پولیس کو فون کردیا کہ ہمارے والدین ہماری آزادی میں خلل پیدا کررہے ہیں اور محترم والدین کو پورے ایک ہفتے کے لئے جیل میں بند کروادیا۔خدارا! لوٹ آیئے آپ کو معلوم ہے کہ وہاں بے راہ روی کاکیا عالم ہے، ماں باپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ کیا ہم اس نظام کے لئے تیار ہیں کہ خدانخواستہ ایسا وقت ہم پر بھی آئے اور ہماری اولاد بھی ہمارے ساتھ یہی سلوک کرے یا ہمارے گھر کا چراغ ہمارے گھر کو آگ لگادے تو خدارا واپس ہوجایئے اور دنیاوی زندگی کے اندر ہی توبہ کرکے خود اپنی بھی اصلاح کریں اور اپنی اولاد کو بھی اسلامی تربیت دیں۔

 حصول اولاد کے لئے بہترین وظیفہ

اﷲ تبارک و تعالیٰ بڑا کریم ہے۔ وہی اولاد عطا فرمانے والا ہے۔ بے اولاد لوگ مایوس نہ ہوں، وہ یہ وظیفہ کریں لیکن یاد رہے کہ وظیفہ کرنے کے لئے نماز کی پابندی ضروری ہے۔
یہی آیت

رب ہب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ

ہر نماز کے بعد گیارہ مرتبہ پڑھیں، اول و آخر تین بار درود پاک پڑھ لیں، ان شاء اﷲ عزوجل خصوصی کرم ہوگا۔