صوفیاء کے نزدیک خدمت خلق کامقام

in Tahaffuz, July 2012, حافظ سعد اللہ, متفرقا ت

طریقت بجز خدمت خلق نیست
بتسبیح و سجادہ و ولق نیست

عبادت کا مفہوم

مخلوق خدا کی خدمت کرنا، ان کے کام آنا، ان کے مصائب و آلام کو دور کرنا، ان کے دکھ درد کو بانٹنا اور ان کے ساتھ ہمدردی و غمخواری اور شفقت کرنے پر شریعت نے کتنا زور دیا ہے۔ یہ خدمت خلق اور شفقت علی الخلق کتنی بڑی نیکی اور کتنی بڑی عبادت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا کیا مقام ہے۔ یہ ایک مستقل لمبا چوڑا موضوع ہے، جس کی یہاں قطعاً گنجائش نہیں۔ تاہم اتنی بات عرض کردینا ضروری ہے کہ قرآن کے مطابق انسان کی تخلیق کا مقصد عبادت الٰہی ہے۔ ارشاد ربانی ہے

وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون (سورۂ الزاریات 56)
اور میں نے جنات اور انسانوں کو پیدا ہی اس غرض سے کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔

مفسرین نے لکھا ہے کہ عبادت سے یہاں مراد فقہ کتاب العبادات والی عبادت پنج گانہ مراد نہیں بلکہ اپنے وسیع و عام مفہوم میں طلب رضا الٰہی کے مترادف مراد ہے۔ امام رازی نے کہا ہے کہ ساری عبادتوں کا خلاصہ صرف دو چیزیں ہیں۔ ایک امر الٰہی کی تعظیم دوسری خلق خدا پر شفقت۔ دوسرے لفظوں میں حقوق اﷲ اور حقوق العباد کی ادائیگی۔ تفسیر کبیر میں ہے۔

ماالعبادہ التی الجن والانس لھا قلنا التعظیم لامراﷲ والشفقہ علی خلق اﷲ فان ہذین النوعین لم یخل شرع منہما
’’وہ عبادت کیا ہے جس کے لئے جنوں اور انسانوں کو پیدا کیا گیا تو ہم کہیں گے کہ یہ امر الٰہی کی تعظیم اور خلق خدا پر شفقت کا نام ہے۔ کیونکہ یہ دو چیزیں ایسی ہیں جن سے کوئی شریعت خالی نہیں رہی‘‘
عبادت کے مفہوم میں وسعت کا اندازہ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ سورہ البقرہ میں ارشاد ہے
ترجمہ: نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف پھیرلو بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ، قیامت کے دن، فرشتوں، (آسمانی) کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور اس کی محبت میں مال صرف کرے، قرابت داروں، مسکینوں، راہ گیروں اور سائلوں پر اور گردنوں کے آزاد کرادینے میں… (سورہ البقرہ 177)

حقیقت عبادت

یہ ملت اسلامیہ کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ اس نے صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کو ہی عبادت کا حدود اربعہ سمجھ رکھا ہے اور اخلاقیات، معاملات اور معاشرت کو دین کے دائرے سے نکال دیا ہے۔ حالانکہ یہ جزو دین ہیں اور اسلام کے اندر ان کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے، جتنی ایمانیات کی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایمانیات کا تعلق انسان کی ذات سے ہے اور معاملات و اخلاقیات کا تعلق پوری قوم، پورے سماج اور سارے معاشرے سے ہے۔ جس کی وجہ سے معاملات اور اخلاقیات کو ایمانیات پر فوقیت حاصل ہے۔
نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ اگرچہ ارکان اسلام میں سے ہیں اور اسلام کی ساری کی ساری عمارت انہیں ستونوں پر کھڑی ہے مگر یہ ارکان اسلام بذات خود عبادت نہیں، محض عبادت کی صورتیں ہیں۔ نماز اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے۔ اس کے اوقات مقرر ہیں، مقررہ وقت پر نماز پڑھنا باعث ثواب ہے اور اس کا نہ پڑھنا گناہ عظیم۔ لیکن اگر یہی فریضہ عین اس وقت ادا کیا جائے جبکہ سورج طلوع یا غروب ہورہا ہو یا عین ہمارے سروں پر کھڑا ہو تو اس وقت نماز پڑھنا ناجائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نہ نماز پڑھنا عبادت ہے اور نہ مقررہ اوقات میں نماز چھوڑنا عبادت ہے بلکہ جس نے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، اس کا حکم ماننا عبادت ہے۔ ماہ رمضان میں روزے رکھنا فرض ہے اور اس کا بلا عذر شرعی ترک کرنا گناہ ہے۔ لیکن یہی روزہ اگر عید کے دن رکھا جائے تو حرام ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ نہ روزہ رکھنا عبادت ہے اور نہ ممنوعہ دن روزہ ترک کرنا عبادت ہے۔ بلکہ روزہ کے متعلق حاکم حقیقی کا حکم ماننا عبادت ہے۔ سو عبادت دراصل اطاعت الٰہی کا نام ہے کہ اس نے جس طرح انسان کی زندگی بسر کرنے کا حکم دیا ہے اور اس نے جس قدر حقوق و فرائض مقرر کئے ہیں، وہ ان کے کماحقہ ادا کرتا رہے تو اس کی ساری زندگی عبادت ہے، ورنہ بغاوت۔

خدمت خلق

غرض کہ اس امر میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ عبادت صرف نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج کا نام نہیں بلکہ ہر سانس پر، ہر قدم اور ہر معاملہ میں اطاعت الٰہی کا نام ہے اور اطاعت الٰہی میں حقوق اﷲ اور حقوق العباد دونوں شامل ہیں۔ حقوق اﷲ کے معاملہ میں حقوق العباد کی فہرست بہت طویل ہے۔ کہیں انسان کی اپنی ذات کے حقوق ہیں، کہیں والدین کے حقوق ہیں، کہیں اساتذہ کے حقوق ہیں، کہیں رشتہ داروں کے حقوق ہیں، کہیں دوستوں کے حقوق ہیں، کہیں ہمسائیوں کے حقوق ہیں اور کہیں اہل علم کے حقوق ہیں۔ یہاں تک کہ جانوروں کے حقوق ہیں اور انہیں حقوق کی کماحقہ ادائیگی پر معاشرہ کی صحت اور حسن کا دارومدار ہے۔ حقوق اﷲ کے مقابلے میں حقوق العباد کی زیادہ اہمیت ہے، کیونکہ یہ مخلوق اﷲ تعالیٰ کی عیال ہے۔ ایک حدیث میں نبی اکرمﷺ نے فرمایا

الخلق عیال اﷲ فاحب الخلق الی اﷲ من احسن الی عیالہ

ساری مخلوق اﷲ تعالیٰ کا کنبہ ہے۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ وہ آدمی ہے جو اس کے کنبے (مخلوق) کے ساتھ نیکی کرے۔

یہ پہلا سبق تھا کتاب ہدیٰ کا
کہ ساری مخلوق ہے کنبہ خدا کا


محبت الٰہی کی عملی راہ

صوفیاء کرام نے محبت الٰہی کی اس عملی راہ کو اختیار کیا تھا۔ ان کی زندگیاں خدمت خلق کے لئے وقف تھیں۔ کسی کو تکلیف میں دیکھتے تو دل پریشان ہوجاتا۔ بھوکوں کا خیال آتا تو لقمے حلق میں اٹکنے لگتے۔ ملفوظات مشائخ پر نظر ڈالئے تو معلوم ہوگا کہ خدمت خلق کو ان بزرگوں نے اپنی زندگی کا اہم ترین فریضہ بنالیا تھا۔ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا:
’’مجھے خواب میں ایک کتاب دی گئی جس میں لکھا ہوا تھا کہ جہاں تک ہوسکے، دلوں کو راحت پہنچاؤکیونکہ مومن کا دل اسرارِ ربوبیت کا محل ہے‘‘

میکوش کہ راحتے بجانے برسد
یا دسدت شکستہ بنانے برسد

اور فرمایا کہ قیامت کے بازار میں کوئی اسباب اتنا مروج اور قیمتی نہ ہوگا، جتنا دلوں کا راحت پہنچانا‘‘
شاہ سلیمان تونسوی رحمتہ اﷲ علیہ کے ملفوظات میں لکھا ہے کہ شیخ نظام الدین اولیاء اورنگ آبادی کی خانقاہ کے دس دروازے تھے، ہر دروازے پر ایک کاتب بیٹھا رہتا تھا، جو حاجت مند آتا، اس کی حاجت کو لکھ کر دیتا، اس پر حضرت کی مہر لگادی جاتی، جس کا سجع تھا ’’ذکر مولیٰ از ہمہ اولیٰ‘‘

در رعایت دولہا بکوش
نظام الدین بدنیا مفروش

حاجت مند یہ پرچی جس امیر کے پاس لے جاتا، وہ اس کی حاجت براری کو اپنے لئے سعادت دارین سمجھتا تھا۔ خانقاہ کے دروازے ہر شخص کے لئے کھلے ہوئے تھے۔

حضرت محبوب الٰہی اور خلق خدا کا غم

مصیب زدوں اور غریبوں سے سچی ہمدردی صرف وہی کرسکتا ہے جو مصیبت اور غربت کی تمام تکلیفوں کا اپنے اوپر طاری کرسکتا ہو۔ جس کو پیٹ بھر کر کھانا ملے، وہ فاقہ زدوں کی حالت کا کیا اندازہ کرسکتا ہے۔ جس کو زندگی کی تمام آسائشیں میسر ہوں، وہ کس طرح حاجت مندوں کی بے چینی اور تکلیف کا احساس کرسکتا ہے؟
حضرت محبوب الٰہی کی زندگی کے واقعات شاہد ہیں کہ ان کی اخلاقی تعلیم زبان تک محدود نہ تھی، وہ ان اخلاقی اصولوں کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ گرمی کا موسم تھا، ایک دن حاضرین کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ سائے میں جگہ نہ رہی، لوگ دھوپ میں بیٹھنے لگے۔ حضرت محبوب الٰہی کی طبیعت بے چین ہوگئی۔ فرمایا
’’ذرا پاس پاس ہوکر بیٹھو تاکہ وہ بھی سائے میں بیٹھیں، کیونکہ دھوپ میں بیٹھے وہ ہیں اور جلتا میں ہوں‘‘
حضرت محبوب الٰہی اکثر روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن اس طرح کہ شاذونادر ہی کبھی سحری کھائی ہو۔ خواجہ عبدالرحیم جن کے ذمہ سحری کا حضرت کی خدمت میں پیش کرنا مقرر تھا، عرض کرتے ہیں ’’مخدوم! آپ نے افطار کے وقت بہت ہی کم کھانا تناول فرمایا ہے، اگر سحری کے وقت بھی تھوڑا سا کھانا تناول نہ کریں گے تو ضعف بڑھ جائے اور طاقت سلب ہوجائے گی‘‘ خواجہ عبدالرحیم کی یہ بات سن کر حضرت محبوب الٰہی زاروقطار رونے لگے اور فرماتے:
’’بہت سے مساکین اور درویش مسجدوں کے کونوں اور دکانوں میں بھوکے اور فاقہ زدہ پڑے ہوئے ہیں۔ بھلا یہ کھانا میرے حلق میں کس طرح اتر سکتا ہے‘‘
اسی طرح کھانا اٹھالیا جاتا۔
سلسلہ چشتیہ میں اطعام (کھانا کھلانے) کی فضیلت سب سے زیادہ ہے۔ مشائخ نے ہر آنے جانے والے کے لئے لنگر عام رکھا ہے۔ حضرت محبوب الٰہی نے فرمایا کہ درویش کی شان ہی اطعام ہے۔ ایک اور موقع پر فرمایا ’’یہ ہمارے خانوادے کی خصوصیت میں سے ہے‘‘ حضرت بابا صاحب کی خدمت میں کوئی شخص اپنی مصیبت بیان کرکے دعا کرانے یا تعویذ لینے آتا تھا تو آپ اصرار کرتے تھے کہ پہلے کچھ کھالو۔ حضرت محبوب الٰہی کا بھی اس پر عمل رہا۔ آپ نے متعدد بار اپنی مجلسوں میں یہ حدیث بیان فرمائی کہ

’’من زار حیا ولم یذق منہ شیئا فکانما زار میتا‘‘

ترجمہ: جس نے کسی زندہ شخص سے ملاقات کی اور اس کے ہاں کچھ نہ چکھا تو گویا اس نے کسی مردے کی زیارت کی۔

عیسائی مشنریوں اور صوفیاء

کی خدمت خلق میں فرق

ڈاکٹر نثار احمدفاروقی نے لکھا ہے

’’آج دنیا بھر میں عیسائی مشنریاں صرف ایک نعرہ خدمت Service of Humanity کو لے کر دوسرے مذاہب کو شرمندہ کررہی ہیں۔ ان کے پاس بڑے مالی وسائل ہیں۔ جنگ کے میدان میں زخمیوں کی خدمت، اسپتال قائم کرکے مریضوں کا علاج، قحط زدہ علاقوں میں خوراک سے بھوکوں کی امداد، تعلیمی اداروں وغیرہ کا قیام۔ ان کی سرگرمیاں مختلف نوعیت کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ بائبل کے مواعظ بھی سناتی ہیں، عیسائیت کا لٹریچر مفت تقسیم کرتی ہیں، تبدیل مذاہب کا لالچ دیتی ہیں اور ان کا مذہب قبول کرنے والوں کو بہت سی رعایتیں بھی حاصل ہوجاتی ہیں۔ پسماندہ اور جاہل استحصال کے شکار علاقوں میں انہیں خاصی کامیابی ہوتی ہے۔
یہ چشتی صوفیاء بھی دراصل اسلام کے مبلغ تھے۔ مگر کیا ان کے پاس اتنے عظیم فنڈز تھے؟ کیا ان کی تحریک اتنی منظم تھی؟ کیا وہ پراپیگنڈے کے فن سے کام لیتے تھے؟ بے سروسامانی اور فقر محض کے باوجود ان کی خانقاہوں میں دن رات لنگر جاری تھا۔ فتوح میں نقد آیا تقسیم ہوگیا۔ نذرانے میں اشرفیاں آئیں لٹ گئیں، ہدیہ میں کپڑا آیا، بانٹ دیا گیا۔ دنیا کی کوئی جماعت یا ادارہ یا مشنری یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ انہوں نے ان مشائخ سے زیادہ دلسوزی سے مجروح انسانیت کی خدمت کی ہوگی۔
خواجہ نظام الدین اولیاء کی خانقاہ کا حال ان کے خلیفہ خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی نے یوں بیان کیا ہے۔

’’از پگاہ تا شام خلق بیامدے۔ نماز حفتن ہم خلق بسیدے۔ ام خواہندہ بیش ازاں بود کہ آرندہ وہرکہ چیزے بیاوردے چیزے یافتے‘‘

یعنی صبح سے شام تک خلق خدا آتی رہتی، عشاء کی نماز کے وقت بھی یہ سلسلہ جاری رہتا تھا مگر مانگنے والوں کی تعداد نذر دینے والوں سے زیادہ ہی ہوتی تھی۔ جو کوئی چیز نذر لاتا تھا، وہ کچھ نہ کچھ عطیہ پاتا تھا۔ (خیر المجالس 257)
حضرت بابا فرید الدین شکر کی خانقاہ کے دروازے بھی نصف شب تک کھلے رہتے تھے اور ’’ہیچ کس خدمت ایشاں نیامدے کہ اور اچیزے نصیب نہ کردے‘‘ (فوائد الفواد 125)
اور فرماتے تھے کہ

’’ہر برمن می آید چیزے می آرو۔ اگر مسکینے بیاید وچیزے نیا رد ہر آئینہ رما چیزے بدوباید داد‘‘ (فوائد الفواد 336)