(احناف کی نماز احادیث کی روشنی میں (قسط نمبر6

in Tahaffuz, July 2012, ابو الحسنین مفتی محمد عارف محمود خان قادری رضوی, نماز

احناف کی نماز احادیث کی روشنی قسط نمبر 5 میں ’’ثنائ‘‘ کا بیان آگیا۔ اس کے بعد ’’قرأت‘‘ کی جاتی ہے۔ اس سے قبل حنفی تعوذ اور تسمیہ پڑھتے ہیں۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ قرأت قرآن سے قبل ’’تعوذ‘‘ کا حکم خدائے بزرگ وبرتر نے اپنے لاریب کلام مجید میں یوں ارشاد فرمایا:
فاذا قرأت القرآن فاستعذ باﷲ من الشیطن الرجیم
تو جب تم قرآن پڑھو تو اﷲ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے (النحل 98)
تفاسیر معتبرہ میں ہے کہ تلاوت قرآن سے پہلے تعوذ پڑھنا مسنون ہے اور نماز میں امام اور تنہا پڑھنے والے کے لئے سبحانک اللہم سے فارغ ہوکر آہستہ اعوذ باﷲ پڑھنا سنت ہے۔ یاد رہے تعوذ اور تسمیہ نماز میں آہستہ پڑھنا سنت ہے۔ بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ حضورﷺ اور شیخین کریمین رضی اﷲ عنہما نماز کی بلند قرأت ’’الحمد ﷲ رب العالمین‘‘ سے شروع کرتے تھے۔ (خلاصہ تفسیر روح المعانی و خزائن العرفان)
امام ابو عیسٰی محمد بن عیسٰی ترمذی علیہ الرحمہ اپنی جامع کی جلد اول ص 57 مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان چوک کراچی میں رقم طراز ہیں:
عن ابی سعید نالخدری قال کان رسول اﷲﷺ اذا قام الی الصلوٰۃ باللیل کبرثمہ یقول سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الٰہ غیرک، ثم یقول اﷲ اکبر کبیراً ثم یقول اعوذ باﷲ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم الخ
یعنی: رسول اﷲﷺ جب نماز پڑھنے کے لئے رات کو قیام فرماتے تو اولاً سبحانک اللھم پڑھتے پھر (نوافل میں) اﷲ اکبر کبیراً بھی کہتے پھر تعوذ پڑھتے،
اعوذ باﷲ السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم
اس حدیث پاک میں بھی قرأت سے پہلے اعوذ باﷲ پڑھنے کا ثبوت موجود ہے۔
امام ترمذی علیہ الرحمہ اس سے اگلے باب میں رقم طراز ہیں۔
عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما قال کان النبیﷺ یفتتح صلوٰۃ بسم اﷲ الرحمن الرحیم
یعنی: ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی پاکﷺ ’’سبحانک اللھم‘‘ کے بعد اور تعوذ کے بعد افتتاح قرأت بسم اﷲ سے کرتے تھے۔
اس کے بعد والے باب میں یوں رقم طراز ہیں۔
عن انس قال کان رسول اﷲﷺ و ابوبکر و عمر و عثمان یفتتحون القرأۃ بالحمد ﷲ رب العالمین
یعنی: حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اﷲ عنہم اپنی قرأت کا (جھہراً) آغاز الحمد رب العالمین سے کرتے تھے۔ اس کے بعد وقال ابو عیسٰی ہذا حدیث حسن صحیح کہہ کر یہ تبصرہ بھی کرتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور مزید لکھتے ہیں کہ:
والعمل علی ہذا عند اہل العلم من اصحاب النبیﷺ والتابعین ومن بعدہم
یعنی: اصحاب، تابعین اور تبع تابعین کا یہی عمل رہا ہے کہ اولاً تعوذ، پھر تسمیہ اور پھر اپنی قرأت کا آغاز فاتحتہ الکتاب سے کرتے تھے۔ بلکہ اس سے آگے چل کر فرماتے ہیں کہ (احناف کی طرح) امام شافعی علیہ الرحمہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ فاتحۃ الکتاب سے آغاز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے تعوذ و تسمیہ پڑھتے تھے انتہیٰ… البتہ باقاعدہ قرأت کا آغاز فاتحہ سے ہوتا تھا۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ امام شافعی بسم اﷲ کی جہری قرأت کے قائل ہیں، احناف اس بات کے قائل ہیں کہ نماز میں جہری یاسری قرأت ہو دونوں میں تعوذ و تسمیہ آہستہ ہی پڑھی جائیں گی کیونکہ جہراً ان کا پڑھنا سنت صحیحہ مرفوعہ سے ثابت نہیں ہے۔
ایمان کی حفاظت کا وظیفہ
اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَاَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ
اے اﷲ مجھے میری ہدایت عطا فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے بچا
نوٹ: اول و آخر ایک بار درود شریف پڑھ کر مذکورہ بالا وظیفہ دن میں تین مرتبہ پڑھنے والے کا ایمان محفوظ رہے گا، اوراد ووظائف کی تاثیر کے لئے باجماعت نماز اور تلفظ کی درستگی ضروری ہے۔ اس شرط کے ساتھ ہر شخص مسلمان مرد وزن کو میری طرف سے اس کی اجازت عام ہے۔