حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, July 2012, شخصیات

گذشتہ سے پیوستہ

ملا صاحب اپنی ناکامی پر افسوس کرنے لگے پھر جب انہوں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو سمندر سامنے تھا، مجبورا کنارے پر بیٹھ کر کسی کشتی یا جہاز کا انتظار کرنے لگے، ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک جہاز نظر آیا۔ ملا صاحب نے اپنا عمامہ اتار کر، دیوانہ وار ہوا میں لہرایا اور چیخ چیخ کر مدد کے لئے پکارنے لگے۔
اتفاق سے جہاز کے کسی مسافر کی نظر ملا صاحب پر پڑی اور پھر ناخدا نے اپنے سفینے کا رخ ساحل کی طرف موڑ دیا۔ خوش قسمتی سے یہ جہاز ہندوستان کی طرف جارہا تھا اور اس میں ہندوستانی حاجی سوار تھے۔ جہاز کے مسافروں نے ملا صاحب کی خوب خاطر مدارات کی یہاں تک کہ ملا صاحب بخیروعافیت گھر پہنچ گئے اور بیوی بچوں سے مل کر بہت خوش ہوئے۔
پھر ایک دن ملا صاحب اپنی ریاضت و عبادت کا احوال سنانے کے لئے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی خانقاہ میں بڑے بڑے علماء اور مشائخ موجود تھے۔ ملا صاحب کو دیکھتے ہی حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوگئے اور مزاج پرسی کرتے ہوئے فرمایا۔
’’آیئے ملا صاحب! بہت دنوں میں تشریف لائے۔ ہم تو ہمیشہ آپ کو یاد کیا کرتے تھے؟ آخر کیا وجہ تھی کہ اتنے عرصے تک آپ کا دیدار نہیں ہوسکا‘‘
ملا صاحب نے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ بڑی بے دلی اور ناگواری کے ساتھ مصافحہ کیا اور حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے قریب ہی بیٹھ گئے، ان کے بیٹھنے کا انداز بڑا متکبرانہ تھا۔ حاضرین مجلس کو ملا صاحب کی یہ ادا سخت ناگوار گزری۔ دیکھنے والوں کو محسوس ہوا کہ جیسے ملا صاحب حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے ہمسر ہیں یا ان سے بھی زیادہ مرتبہ رکھتے ہیں، کئی علماء اور مشائخ نے چاہا کہ وہ ملا صاحب کو ٹوکیں اور ان سے کہیں کہ مسند سے اٹھ کر حضرت شیخ کے سامنے دست بستہ بیٹھیں… مگر حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے رعب و جلال کے باعث کسی کو اظہار کی جرأت نہ ہوسکی۔
’’ہاں ملا صاحب! آپ نے بتایا نہیں کہ اتنے دنوں تک کہاں رہے؟؟ ہم تو آپ کے دیدار کو ترس گئے تھے‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے نہایت مشفقانہ انداز میں فرمایا۔
’’میں یہاں ہوتا تو آتا‘‘ ملا صاحب نے انتہائی خشک لہجے میں جواب دیا۔
’’آخر پتہ تو چلے کہ آپ کہاں تشریف لے گئے تھے؟‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے ہونٹوں پر وہی جانفزا تبسم نمایاں تھا۔
’’میں ہندوستان میں موجود نہیں تھا‘‘ ملا صاحب کے چہرے سے نخوت و غرور کا رنگ جھلک رہا تھا۔ ’’حج کرنے گیا تھا۔ سات سال تک مکہ معظمہ میں مقیم رہا۔ سات بار مدینہ منورہ کی زیارت کی اور سات حج ادا کئے، حرمین شریفین میں نمازوں اور روزوں کا جو زیادہ ثواب ملتا ہے، وہ سب میں نے حاصل کیا، سات سال بعد وطن لوٹا ہوں۔ واپسی میں جہاز کی تباہی کا صدمہ بھی اٹھایا مگر حق تعالیٰ کے کرم سے راستے کی مصیبتیں ختم ہوئیں اور میں بخیرو عافیت گھر پہنچ گیا۔ اہل و عیال کو خوش و خرم اور سلامت پاکر اﷲ کا شکر ادا کیا‘‘
’’ملا صاحب کی روداد سن کر حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’ملا صاحب!واقعی آپ بہت خوش نصیب ہیں۔ سات حج کئے، سات بار مدینہ منورہ کی زیارت کی، سات سال تک حرمین شریفین میں نمازیں پڑھیں۔ سات سال رمضانوں کے روزے رکھے۔ سبحان اﷲ! آپ نے بڑی سعادتیں حاصل کیں۔ اب تو آپ ہم سے ناراض نہیں ہیں؟‘‘
’’میں آپ سے خفا ہی کب ہوا تھا؟‘‘ ملا صاحب نے اسی خشکی اور بے رخی کا مظاہرہ کیا۔
’’سات سال پہلے آپ یہاں سے ناراض ہوکر گئے تھے‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’میں اسی خفگی کا ذکر کررہا ہوں‘‘
ملا صاحب نے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کا عاجزانہ طرز عمل دیکھا تو کچھ اور مغرور ہوگئے۔ بڑی بے نیازی کے ساتھ کہنے لگے ’’مجھے تو کچھ یاد نہیں، آپ یاد دلائیں تو شاید یاد آجائے‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’میں نے آپ سے سوال کیا تھا کہ اسلام کے کتنے رکن ہوتے ہیں؟ جواب میں آپ نے پانچ معروف ارکان کا ذکر کیا تھا مگر میرا اصرار تھا کہ چھٹا رکن روٹی ہے۔ آپ اسی بات پر خفا ہوکر چلے گئے تھے اور جاتے وقت آپ نے قرآن کریم کی یہ آیت مقدسہ بھی پڑھی تھی کہ ’’نصیحت کرنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھو‘‘ (ترجمہ) گویا اس طرح آپ نے ہمیں ظالم قرار دے دیا تھا۔ اس بات کا ہمیں بڑا صدمہ تھا۔ پھر بھی ہم آپ کو روزانہ یاد کرتے رہتے تھے‘‘ یہ سن کر ملا صاحب زور سے ہنسے۔ ان کی ہنسی کا انداز بھی مذاق اڑانے والا تھا۔ ’’ہاں! مجھے یاد آیا میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ درویش لوگ اپنی کم علمی کے سبب ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہوتی ہیں۔ اسلام میں کوئی چھٹا رکن نہیں ہے‘‘’’مولانا! اگرچہ میں بے علم یا کم علم ہوں مگر میں نے یہ بات لکھی ہوئی دیکھی ہے‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے حاضرین مجلس سے کہا ’’میں کچھ دیر کے لئے تنہائی چاہتا ہوں‘‘ خلوت ہوتے ہی حضرت بابا علیہ الرحمہ نے وہ کتاب ملا صاحب کے حوالے کردی، ملاحظہ فرمایئے‘‘ملا صاحب کی پیشانی پر بل نمایاں تھے، انہوں نے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے ہاتھ سے کتاب لے کر ورق گردانی شروع کردی پھر انتہائی ناگوار لہجے میں بولے ’’یہ کیا مذاق ہے؟ آپ نے مجھے کتاب دی ہے یا سادہ اوراق کا دفتر اس میں کوئی تحریر تو کجا کسی حرف کا بھی نشان نہیں ہے‘‘
’’مولانا! آگے دیکھئے‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
ملا صاحب کتاب کی ورق گردانی کرتے رہے۔ ہر ورق سادہ تھا، اس سے پہلے کہ ملا صاحب پھر کسی مذاق کا ذکر کرتے یکایک ان کی نظر ایک عبارت پر پڑی۔ یہ وہی تحریر تھی جس میں ملا صاحب نے اپنی زندگی بھر کی عبادتوں کا ثواب ایک نان فروش کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا تھا۔ ملا صاحب چند لمحوں تک حیرت و سکوت کے عالم میں بیٹھے رہے پھر ایک زور کی چیخ ماری اور حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے قدموں میں گر پڑے۔ ’’شیخ! میں نے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے‘‘ ملا صاحب رو رو کر اپنی زیادتیوں کا اعتراف کررہے تھے۔’’اٹھیں ملا صاحب! مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے محبت آمیز لہجے میں فرمایا ’’ایک معمولی سا اختلاف تھا، وہ آج دور ہوگیا‘‘ ملا صاحب اپنے غرور، تکبر، جھوٹی شان اور جارحانہ روش سے تائب ہوئے اور حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی غلامی کا پٹّہ اپنی گردن میں ڈال لیا۔ مرید ہونے کے بعد کسی نے انہیں بولتے نہیں دیکھا۔ جب تک زندہ رہے، ہر وقت روتے رہتے تھے۔اس بزرگانہ شان کے باوجود حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے انکسار کا یہ عالم تھا کہ اپنی مجالس میں عام لوگوںکے ساتھ چٹائی پر بیٹھتے تھے، کسی کرسی یا مسند پر کبھی جلوہ افروز نہ ہوئے۔ آپ کی محفل روحانی میں ادنیٰ سے ادنیٰ انسان بھی معزز ترین فرد معلوم ہوتا تھا۔ کبھی کسی فاجر و فاسق کو بھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ کسی جلیل القدر ہستی سے مخاطب ہے یہ ایک بار حضرت والا کے پائوں میں تکلیف تھی جس کے سبب زمین پر نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ مجبورا مجلس میں ایک چارپائی پر تشریف فرما ہوئے… مگر آپ کو نشست کا یہ انداز پسند نہیں تھا۔ اس لئے درس کے دوران بار بار حاضرین سے معذرت کرتے ہوئے فرماتے تھے۔
’’اگر مجھے یہ مجبوری لاحق نہ ہوتی تو میں ہرگز اس اونچی جگہ پر نہ بیٹھتا‘‘
آپ کے خلوص و انکسار کا یہ مظاہرہ دیکھ کر حاضرین مجلس رونے لگے ’’اﷲ آپ کو صحت بخشے کہ ہماری زندگی تو آپ ہی کے دم سے وابستہ ہے‘‘
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا کہ عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے تھے۔ ہر رات دو قرآن شریف ختم فرماتے تھے۔ نماز کے علاوہ طویل سجدے ادا کرتے تھے۔ رمضان المبارک میں ہر رات تراویح کے دوران دو قرآن شریف سنایا کرتے تھے۔ آخر عمر میں تراویح بیٹھ کر پڑھتے تھے مگر فرض نماز کھڑے ہوکر ادا کرتے تھے۔ اکثر وبیشتر استغراق اور جذب کی کیفیت طاری رہتی۔ اسی حالت میں کسی خدمت گار نے عرض کیا۔
’’شیخ زادہ نظام الدین علیہ الرحمہ نے فلاں شخص کی معرفت آپ کو سلام بھیجا ہے‘‘ شیخ زادہ نظام الدین حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے سب سے محبوب صاحبزادے تھے اور پیٹالی میں رہتے تھے۔
’’کون نظام الدین؟‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے خدمت گار کی بات سن کر عرض کیا۔خدمت گار حیران و پریشان کھڑا رہا ’’آپ کے محبوب فرزند!‘‘
’’کون فرزند؟‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے خادم سے دریافت کیا۔
آخر کئی بار کے سمجھانے پر آپ نے اپنے صاحبزادے کو پہچانا پھر فرمایا۔ ’’نظام الدین خیریت سے تو ہیں؟‘‘پھر یہی استغراق و جذب کی کیفیت آپ کو راہ فنا سے منزل بقاء کی طرف لے گئی۔حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ پیرومرشد کو ’’خلہ‘‘ کا مرض لاحق ہوا اور پھر اسی مرض میں آپ نے انتقال فرمایا۔ خلہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں پہلو اور جوڑوں کا درد یکایک حملہ آور ہوتا ہے۔
حاضرین مجلس میں سے کسی شخص نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سے پوچھا کہ کیا آپ پیرومرشد کی وفات کے وقت موجود تھے؟
اس سوال پر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ پھر اسی اشک ریزی کے دوران فرمایا ’’حضرت شیخ علیہ الرحمہ نے مجھے شوال کے مہینے میں دہلی روانہ کیا تھا اور آپ کی وفات ۵ محرم کو ہوئی تھی۔ وصال کے وقت پیرومرشد نے مجھے یاد فرمایا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ تو دہلی میں ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ میں بھی حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے انتقال کے وقت ہانسی میں تھا‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ یہ واقعہ بیان کرتے وقت روتے جاتے تھے۔ آپ کی یہ کیفیت دیکھ کر حاضرین مجلس پر بھی گریہ طاری ہوگیا تھا۔ کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو فراق شیخ کا ذکر سن کر بھیگ نہ گئی ہو۔
مختصر سے وقفہ سکوت کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’پانچویں محرم کو مرض کی شدت بڑھ گئی۔ حضرت شیخ نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی اور پھر بے ہوش ہوگئے ، ایک گھنٹے کے بعد ہوش میں آئے تو حاضرین سے پوچھا۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں