سوال: عید کا معنی کیا ہے؟
جواب: لغت کی کتاب ’’المنجد‘‘ میں ’’العید‘‘ کے معنی میں لکھا ہے۔ ’’ہر وہ دن جس میں کسی دوسرے آدمی یا کسی بڑے واقعہ کی یاد منائی جائے اسے عید کہتے ہیں‘‘ مزید لکھا ہے کہ عید کو عید اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ ہر سال لوٹ کر آتی ہے نیز ہر وہ دن جس میں کوئی شادمانی حاصل ہو، اس پر ’’عید‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہ دن شرعی طور پر خوشی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔
تفسیر مواہب الرحمن میں ہے ’’عید سے خوشی اور شادمانی مراد ہے اور دلیل کے طور پر قرآن مجید کی آیت قال عیسٰی ابن مریم اللھم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عیدا انا ولنا وآخرنا
’’حضرت عیسٰی بن مریم علیہ السلام نے بارگاہ رب کائنات جل جلالہ میں عرض کیا۔ اے ہمارے رب ہم پر آسمان سے خوان اتار کہ وہ دن ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے لئے عید ہو‘‘ اس آیت میں ’’عید‘‘ سے خوشی اور شادمانی مراد ہے۔
سوال: عیدالفطر کب آتی ہے؟
جواب: عیدالفطر ماہ رمضان المبارک کے اختتام پر آتی ہے۔
سوال: عیدالفطرکو عید الفطر کیوں کہتے ہیں؟
جواب: عیدالفطر کو عیدالفطر اس لئے کہتے ہیں کہ ماہ رمضان گزر جانے کے بعد عید کے دن افطار کرتے ہیں یعنی کھانا وغیرہ کھاتے ہیں۔ روزہ نہیں رکھتے۔
سوال: عید کا مقدس تہوار کب سے منایا جارہا ہے؟
جواب: عید کے تہوار کا آغاز ہجرت کے بعد ہوا۔ اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں: قدم النبیﷺ المدینہ ولھم یومان یلعبون فیہما
نبی کریمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ (منورہ) کے دوران تھے جس میں وہ کھیلا کرتے تھے‘‘۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ما ہذا ن الیومان؟ یہ دو دن کیسے ہیں؟ (حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں) لوگوں نے عرض کیا کنا نلعب فیہما فی الجاہلیۃ ہم ان دو دنوں میں زمانہ جاہلیت میں کھیلا کرتے تھے۔ تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا قد ابدالکم اﷲ بھما خیراً منہما یوم الاضحیٰ ویوم الفطر (2) اﷲ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں ان کے عوض ان سے، دو اچھے دن عطا فرمائے ہیں۔ عید الاضحیٰ (بقرہ عید) اور عیدالفطر‘‘
سوال: مدینہ منورہ کے لوگ جن دو دنوں میں دور جاہلیت میں کھیلتے کودتے تھے، وہ کون سے دن تھے؟
جواب: وہ دن ’’نیروز‘‘ اور ’’مہرجان‘‘ کے دن تھے اور انہیں ناموں سے منائے جاتے تھے۔ ’’نیروز‘‘ سال کا پہلا دن تھا یہ فارسی کا لفظ ہے اور نوروز سے بناہے۔ ’’نیروز‘‘ شاید جنوری کی پہلی تاریخ ہونا ہوگا اور ’’مہرجان‘‘ جولائی کے مہینہ میں منایا جاتا تھا۔یہ شاید ان لوگوں نے یہ دن مجوسیوں سے لئے ہوں گے جو اصل میں فارسی نسل تھے۔
سوال: عید کے دن کیسے کپڑے پہننے چاہئے؟
جواب: عید کے دن اچھے خوشنما، نئے یا پرانے صاف ستھرے کپڑے پہننے چاہئے۔ اچھے کپڑے پہننا مستحب ہے۔


سوال: عیدالفطر اور عیدالاضحی اور نیروز و مہرجان میں بنیادی فرق کیا ہے؟
جواب: عیدالفطر اور عیدالاضحی میں اﷲ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے خوشی منائی جاتی ہے اور نیروز اور مہرجان میں کھیل کود ہی مقصود ہوتا تھا۔ خیال رہے کہ اب بھی کفار اپنے بڑے بڑے دنوں میں جواء کھیلتے ہیں، شراب پیتے ہیں۔ انسانیت سوز اور بے حیائی کے کام کرتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں۔ اسلام کا ہر کام انسانیت بلکہ روحانیت کا داعی ہے۔
سوال: نبی کریمﷺ عید الفطر کے دن کا آغاز کس طرح فرماتے تھے؟
جواب: حضرت بریدہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کان النبیﷺ لایخرج یوم الفطر حتی یعطم (3) ’’نبی کریمﷺ عیدالفطر کے دن نہ تشریف لے جاتے حتیٰ کہ کچھ تناول فرمالیتے‘‘ صحیح بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے اس طرح روایت ہے۔ آپ فرماتے ہیں: کان رسول اﷲﷺ لا یغدو یوم الفطر حتی یاکل تمرات… ویاکلھن وترا (4) نبی کریمﷺ عیدالفطر کے دن جب تک کچھ کھجوریں نہ کھا لیتے، نماز کے لئے تشریف نہ لے جاتے… اور آپﷺ طاق کھجوریں تناول فرماتے‘‘ (یعنی تین یا پانچ) اس میں اﷲ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کا شعار ہے۔
سوال: اگر کھجوریں میسر نہ ہوں تو پھر کیا کھائیں؟
جواب: پھر کوئی بھی میٹھی چیز کھا کر نماز عیدالفطر ادا کرنے کے لئے جائیں۔ بعض تابعین نے اسی حدیث شریف کی روشنی میں عید کے دن نماز سے پہلے کچھ میٹھا کھانا مستحب رکھا ہے اور شربت پینا بھی کافی ہے۔ اگر گھر میں کچھ نہ کھا سکے تو راہ میں کسی ہوٹل وغیرہ میں کھالے یا عیدگاہ میں پہنچ کر کھالے۔ اس کا ترک کرنا مکروہ ہے۔ سنت مطہرہ یہ ہے کہ عیدالفطر کے دن عیدگاہ یا مسجد میں جانے سے پہلے کچھ نہ کچھ کھالے۔ اب مسلمان میٹھی سویاں پکاتے ہیں۔ سویاں پکانے کا مقصد یہ نہیں کہ اس کے بغیر عید نہیں ہوتی بلکہ اصل مقصد کچھ نہ کچھ کھانا اور ایسا کرنے سے ظاہر کرتا ہے کہ آج روزہ نہیں ہے۔
سوال: کھجوریں کھانے کی حکمت کیا ہے؟
جواب: کھجوریں کھانے میں حکمت یہ ہے کہ روزہ رکھنے سے جو ضعف بصر ہوجاتا ہے، میٹھی شے کھانے سے وہ ضعف جاتا رہتا ہے، اس لئے میٹھی شے سے افطار کرتے ہیں۔ سرکار کائناتﷺ میٹھی شے اور شہد کو پسند فرماتے تھے۔ ابن ابی شیبہ نے روایت کی ہے کہ بعض تابعین کا کہنا ہے کہ میٹھی شے شہد وغیرہ کے ساتھ افطار کرنا مستحب ہے اور اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس سے پیشاب کم آتا ہے (تفہیم البخاری جلد 2ص 106)
سوال: نبی کریمﷺ عیدگاہ میں پہلا کام کیا کرتے تھے؟
جواب: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں:
کان النبیﷺ یخرج یوم الفطر والاضحی الی المصلی فاول شیٔ یبدا بہ الصلاۃ، ثم ینصرف فیقوب مقابل الناس، والناس جلوس علی صفوفہم فیعظہم ویوصیہم ویامرہم فان کان یرید ان یقطع بعثا قطعہ او یامر بشیٔ امربہ ثم ینصرف (5)
’’نبی کریمﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے تو عید کے دن پہلا کام جو کرتے وہ (عید) کی نماز ہوتی۔ پھر نماز ادا فرمانے کے بعد لوگوں کے سامنے (جلوہ افروز ہوتے) کھڑے ہوجاتے، لوگ صفیں باندھے بیٹھے رہتے (اور دیدار پاک سے فیض یاب ہوتے) نبی کریمﷺ انہیں وعظ ونصیحت فرماتے اور اچھی باتوں کا حکم فرماتے۔ پھر اگر کوئی لشکر (فوج) بھیجنا چاہتے تو اس کو الگ کرتے یا اور کوئی حکم (مبارک) جو چاہتے وہ ارشاد فرماتے۔ پھر آستانہ مبارک کی طرف لوٹ آتے‘‘
سوال: عیدگاہ یا مسجد میں نماز عید سے پہلے نفل وغیرہ پڑھ سکتے ہیں؟
جواب: حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں:
ان النبیﷺ صلی یوم الفطر رکعتین لم یصل قبلہا ولابعدھا (6)
’’نبی کریمﷺ نے عیدالفطر کے دن دو رکعتیں پڑھیں، نہ ان سے پہلے کوئی نفل نماز ادا فرمائی اور نہ ہی (عیدالفطر کی نماز کے) بعد نفل ادا فرمائے‘‘
سوال: کیا نماز عید کے لئے اذان پکاری جاتی ہے اور تکبیر کہی جاتی ہے؟
جواب: حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں: میں نماز یوم عید میں رسول کریمﷺ کے ساتھ تھا۔ سو آپﷺ نے اذان اور تکبیر کے بغیر نماز عید پڑھائی (7)


سوال: خطبہ نماز عید سے پہلے پڑھا جاتا ہے یا نماز عید کی ادائیگی کے بعد؟
جواب: حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں، نبی کریمﷺ نے نماز کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا (8)
سوال: کیا بچوں کو عیدگاہ میں لے جانا چاہئے؟
جواب: جی ہاں! بچوں کو لے جاسکتے ہیں۔ لیکن سات آٹھ سال کے بچوں کو مردوں کی صف میں کھڑا نہیں کرسکتے۔ ہاں البتہ دس بارہ سال کے بچے صف میں کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں تو حرج نہیں۔ اگر جماعت کھڑی ہوچکی تو دس بارہ سال کے بچوں کو صفوں سے نکال کر پیچھے نہیں کرسکتے۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما عیدالفطر اور عیدالاضحی میں نبی کریمﷺ کے ہمراہ نکلے۔ پہلے آپﷺ نے عید کی نماز پڑھی۔ نبی کریمﷺ کی وفات کے وقت حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کی عمر 13 سال تھی۔
سوال: عید کے دن راستہ بدل کر جانے کی حکمت کیا ہے؟
جواب: راستہ بدل کر جانے کی حکمت یہ ہے کہ دونوں راستے نمازی کے گواہ بن جاتے ہیں اور دونوں راستوں میں رہنے والے جن اور انسان گواہی دیتے ہیں اور اس میں اسلام کے شعار کا اظہار بھی ہے۔ حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ کان النبی ﷺ اذا کان یوم عید خالف الطریق نبی کریمﷺ عید کے روز نماز عید کے بعد راستہ تبدیل کرتے تھے۔
سوال: عیدالفطر کی نماز جلدی پڑھنی چاہئے یا دیر سے؟
جواب: عید کی نماز دیر سے پڑھنی چاہئے۔
سوال: اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: حضرت ابو حویرث رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں، نبی کریمﷺ نے نجران کے حکم حضرت عمرو بن حزم رضی اﷲ کو لکھا: عجل الاضحی واخر الفطر وذکر الناس (9) ’’بقر عید جلدی پڑھو اور عیدالفطر دیر سے اور لوگوں کو وعظ کرو‘‘
سوال: دونوں میں اس فرق کی وضاحت کریں؟
جواب: حکمت ظاہر ہے کہ عیدالفطر کے دن فطرہ نماز سے پہلے دیا جاتا ہے اور بقر عید کے دن قربانی نماز کے بعد ہوتی ہے۔ نیز عیدالفطر میں کھانا وغیرہ نماز سے پہلے کھایا جاتا ہے۔ اس لئے نماز عیدالفطر کچھ دیرسے پڑھنا بہتر ہے۔ بقر عید میں نماز کے بعد کھانا کھایا جاتا ہے۔ اس لئے بقر عید جلدی پڑھی جاتی ہے۔
سوال: نماز عیدین کا وقت کب سے کب تک ہوتا ہے؟
جواب: نماز عیدین کا وقت سورج طلوع ہونے کے بیس منٹ بعد شروع ہوتا ہے اور نصف النہار تک رہتا ہے۔
سوال: اگر عید کی نماز پہلے دن نہ پڑھی جائے تو کیا دوسرے روز پڑھ سکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں! واقعہ ملاحظہ فرمائیں! حضرت انس رضی اﷲ عنہ کے بیٹے سے روایت ہے۔ وہ اپنے متعدد چچوں سے نقل کرتے ہیں۔ جو نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما سے تھے کہ ایک دفعہ ایک قافلہ (کہیں باہر سے) نبی کریمﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور انہوں نے شہادت دی کہ کل (راستہ میں) انہوں نے (شوال المکرم) کا چاند دیکھا ہے تو نبی کریمﷺ نے لوگوں کو حکم فرمایا کہ وہ روزہ کھول دیں (بظاہر یہ قافلہ دن کو دیر سے مدینہ منورہ پہنچا اور نماز کا وقت نکل چکا تھا۔ کل جب صبح ہوئی تو نماز عید ادا کرنے کے لئے عیدگاہ پہنچا۔ شرعی مسئلہ بھی یہی ہے۔ اگر چاند کی روایت ایسے وقت معلوم ہوکہ نماز عید اپنے وقت پرنہ پڑھی جاسکتی ہو تو پھر اگلے روز صبح کو پڑھی جائے گی (10)
سوال: نماز عیدین میں کون سی سورتوں کی تلاوت کرنی چاہئے؟
جواب: حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبہ بن مسعود تابعی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو واقد الیشی رضی اﷲ عنہ سے پوچھا کہ رسول اﷲﷺ عیدالاضحی اور عیدالفطر (کی نماز) میں کون کون سی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ق والقرآن المجید اور اقتربت الساعۃ (11) (یہ سوال حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اﷲ عنہ کے علم و حافظہ اور اپنے اطمینان قلب کے لئے پوچھا تھا)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ عیدین کی نماز میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور حل اتاک حدیث الغاشیہ پڑھا کرتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعۃ المبارک ایک ہی دن ہوتے تو پھر دونوں نمازوں میں یہی سورتیں تلاوت فرماتے تھے (12)
سوال: کیا مسجد میں نماز عید پڑھ سکتے ہیں؟
جواب: حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ایک دن عید کے دن بارش ہوگئی تو نبی کریمﷺ نے انہیں نماز عید مسجد میں پڑھائی (13)
سوال: عید کے دن مستحباب کیا کیا ہیں؟
جواب: 1۔ حجامت بنوانا، 2۔ ناخن ترشوانا، 3۔ غسل کرنا، 4۔ مسواک کرنا، 5۔ اچھے کپڑے پہننا (نیا ہو تو نیا ورنہ دھلا ہوا) 6۔ (چاندی کی ساڑھے چار ماشے کی) انگوٹھی پہننا، 7۔ خوشبو لگانا، 8۔ صبح کی نماز مسجد محلہ میں ادا کرنا (امام صحیح العقیدہ اہلسنت و جماعت ہو)، 9۔ عیدگاہ میں پیدل چلنا، 10۔ نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا، 11۔ عیدگاہ کو پیدل جانا، 12۔ دوسرے راستہ سے واپس آنا، 13۔ نماز کو جانے سے پیشتر چند کھجوریں کھا لینا، تین، پانچ یا سات کم و بیش مگر طاق، کھجوریں نہ ہوں تو میٹھی چیز، 14۔ خوشی ظاہر کرنا، 15۔ کثرت سے صدقہ دینا، 16۔ عیدگاہ کو اطمینان، وقار اور نیچی نگاہ کئے جانا، 17۔ آپس میں مبارکباد دینا، 18۔ واپسی پر گلے ملنا نماز عید پڑھنے کے بعد۔
سوال: نماز عید کی ادائیگی کا طریقہ کیا ہے؟
جواب: دو رکعت واجب نماز عیدالفطر کی نیت کرکے کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اﷲ اکبر کہہ کر (زیر ناف) ہاتھ باندھ لے پھر امام و مقتدی سب ثناء پڑھیں۔ پھر زائد تکبیریں کہے۔ پہلے تکبیر میں کانوں تک ہاتھ اٹھالے اور گرالے۔ پھر دوسری تکبیر کے لئے ہاتھ اٹھائے اور اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ چھوڑ دے۔ پھر تیسری تکبیر کے لئے ہاتھ اٹھائے اور اﷲ اکبر کہتا ہوا زیر ناف باندھ لے۔ پھر مقتدی خاموش رہیں گے اور امام خاموشی سے تعوذ اور تسمیہ پڑھے گا پھر جہر کے ساتھ سورۃ الفاتحہ اور کسی دوسری سورت کی قرأت کرے گا (اور مقتدی حکم خداوندی کے مطابق کہ اذا قری القرآن فاستمعوا الہ وانصتو العلکم ترحمون (خاموش رہیں گے) پھر معمول کی نمازوں کے مطابق رکوع و سجود کرے اور دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو۔ دوسری رکعت میں امام سورۃ الفاتحہ شریف اور کوئی سورت جہر سے تلاوت کرے گا۔ مقتدی سنیں گے اور رکوع سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جائیں گی اور چوتھی تکبیر بغیر ہاتھ اٹھائے رکوع کیا جائے گا۔ پھر بقیہ نماز دیگر نمازوں کی طرح مکمل کی جائے گی۔ ہر دو تکبیروں کے درمیان تین تسبیح کی مقدار سکتہ کرے (ماخوذ از بہار شریعت حصہ چہارم) نماز عید کے فورا بعد امام صاحب خطبہ سنائیں گے۔ وہ سننا سنت ہے۔ خطبہ مبارک سننے کے بغیر نہیں جانا چاہئے۔
حوالہ جات
1… المائدہ: 114
2… ابو دائود جلد 1ص 68، مرآۃ جلد 2ص 361، مشکوٰۃ ص 126
3… مشکوٰۃ ص 126، مرآۃ جلد 2ص 361
4… بخاری جلد 1ص 130
5… بخاری جلد 1ص 131، مسلم جلد 1،ص 290، ابو دائود جلد 1ص 169
6… بخاری جلد 1ص 131، مسلم جلد ص 189، ابو دائود جلد 1ص 171
7… مسلم جلد 1ص 289
8… بخاری جلد 1ص 130، جلد 1ص 134
9… ابو دائود جلد 1ص 176
10… ابو دائود جلد 1ص 171
11… مسلم جلد 1ص 289
12… ابو دائود جلد 1ص 171
13… بخاری جلد 1ص 133