اعتکاف کے فضائل ومسائل

in Tahaffuz, July 2012, آپ کے مسا ئل کا شر عی حل

اعتکاف رسول اﷲﷺ کی سنت ہے۔ آپﷺ اعتکاف کا خوب اہتمام فرماتے تھے۔ آپﷺ کا یہ معمول تھا کہ ہر رمضان کے عشرۂ آخر (یعنی آخری دس روز) کا اعتکاف فرمایا کرتے اور اسی سنت کریمہ کو زندہ رکھتے ہوئے امہات المومنین رضی اﷲ عنہن بھی اعتکاف کرتی رہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے سرتاج صاحب معراجﷺ رمضان مبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے آپﷺ کو وفات (ظاہری) عطا فرمائی، پھر آپﷺ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔ (بخاری و مسلم)
1… رسول اﷲﷺ نے ایک دن کے اعتکاف کے بارے میں فرمایا کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ایک دن کا اعتکاف کرے گا، اﷲ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں حائل کردے گا جن کی مسافت آسمان و زمین کے فاصلے سے بھی زیادہ ہوگی۔ (کنزالعمال)
2… رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص خالص نیت سے بغیر ریا اور بلا خواہش شہرت ایک دن اعتکاف بجا لائے گا، اس کو ہزار راتوں کی شب بیداری کا ثواب ملے گا اور اس کے اور دوزخ کے درمیان فاصلہ پانچ سو برس کی راہ ہوگا (تذکرۃ الواعظین)
3… رسول اﷲﷺ نے فرمایا جو شخص خالصاً لوجہ اﷲ رمضان شریف میں ایک دن اور ایک رات اعتکاف کرے تو اس کو تین سو شہیدوں کا ثواب ملے گا (تذکرۃ الواعظین)
سبحان اﷲ چند گھنٹوں کے اعتکاف کی اس قدر فضیلت ہے تو جو رمضان شریف میں پورے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے ہیں ان کی فضیلت کا کیا کہنا!
4… حضرت سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ ہوجاتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی ہیں جیسے وہ ان نیکیوں کو خود کرتا رہا ہو (مشکوٰۃ شریف)
5… ایک مقام پر سرکار مصطفیﷺ نے فرمایا جس نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کرلیا تو ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کئے۔ (بیہقی شریف)
سبحان اﷲ احادیث بالا کی روشنی میں ثابت ہوگیا کہ اعتکاف کی فضیلت اور اس کی اہمیت کا مقام کتنا بلند وبالا ہے اور اﷲ رب العزت کس قدر اعتکاف کرنے والوں پر اپنا فضل فرماتا ہے۔ اس لئے ہم سب مسلمان بھائیوں کو چاہئے کہ اگر کوئی معقول اور خاص مجبوری نہ ہو تو ماہ رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی سعادت ضرور حاصل کریں۔ اگر ہر سال نہ ہوسکے تو کم از کم زندگی میں ایک ہی بار صحیح مگر ضرور کرنا چاہئے۔
اعتکاف کے چند ضروری مسائل
اعتکاف کی تعریف
اعتکاف کی نیت سے اﷲ تعالیٰ کے واسطے مسجد میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔
1۔ اعتکاف واجب، 2۔ اعتکاف سنت، 3۔ اعتکاف نفل یا مستحب
اعتکاف واجب
یہ نذر کا اعتکاف ہے، جیسے کسی نے اعتکاف کی نذر مانی تو اب نذر پوری ہونے پر جتنے دن کا کہا ہے، اتنے دن کا اعتکاف کرنا واجب ہوگیا۔ اعتکاف واجب کے لئے روزہ شرط ہے، بغیر روزہ کے صحیح نہیں ہوگا (قانون شریعت)
اعتکاف سنت
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف سنت موکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی پورے شہر میں سے کسی ایک نے کرلیا تو سب کی طرف سے ادا ہوگا، اور اگر کسی ایک نے بھی نہ کیا تو سبھی مجرم ہوئے (بہار شریعت بیان اعتکاف)
رمضان کے اعتکاف میں یہ ضروری ہے کہ رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے پہلے مسجد کے اندر بہ نیت اعتکاف چلا جائے اور انتیس کے چاند کے بعد یا تیس کے غروب آفتاب کے بعد مسجد سے باہر نکلے۔ اگر غروب آفتاب کے بعد مسجد میں داخل ہوئے تو اعتکاف کی سنت موکدہ ادا نہ ہوئی بلکہ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے مسجد میں داخل ہونا ضروری ہے (بہار شریعت)
اعتکاف کی نیت
رمضان شریف کے اعتکاف کی نیت اس طرح کریں
’’میں اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے سنت اعتکاف کی نیت کرتا/ کرتی ہوں‘‘
اعتکاف نفل
اس کے لئے نہ روزہ شرط ہے، نہ کوئی وقت کی قید ہے۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوں، اعتکاف کی نیت کرلیں۔ جب تک مسجد میں رہیں گے، مفت بغیر محنت کے ثواب ملتا رہے گا۔ جب مسجد سے باہر نکلیں گے، اعتکاف ختم ہوجائے گا۔ اعتکاف کی نیت کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، اگر دل ہی میں آپ نے ارادہ کرلیا کہ میں سنت اعتکاف کی نیت کرتا ہوں تو یہی کافی ہے۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بہتر ہے۔ اپنی مادری زبان میں بھی نیت ہوسکتی ہے۔ اگر عربی زبان میں نیت آتی ہو تو بہتر و مناسب ہے۔
اعتکاف کی نیت عربی میں یہ ہے۔
نویت سنت الاعتکاف ﷲ تعالیٰ
ترجمہ: میں نے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے سنت اعتکاف کی نیت کی۔
مسئلہ: مسجد کے اندر کھانے، پینے اور سونے کی اجازت نہیں ہوتی، مگر اعتکاف کی نیت کرنے کے بعد اب ضمناً کھانے، پینے اور سونے کی بھی اجازت ہوجاتی ہے، لہذا معتکف دن رات مسجد میں ہی رہے، وہیں کھائے، پیئے اور سوئے اور اگر ان کاموں کے لئے مسجد سے باہر ہوگا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ: اعتکاف کے لئے تمام مساجد سے افضل مسجد حرام ہے۔ پھر مسجد نبوی شریف، پھر مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) پھر ایسی جامع مسجد جس میں پانچ وقت باجماعت نماز ادا کی جاتی ہو۔ اگر جامع مسجد میں جماعت نہ ہوتی ہو تو پھر اپنے محلہ کی مسجد میں اعتکاف کرنا افضل ہے (ردالمحتار)
مسئلہ: اعتکاف کا اہم ترین رکن یہ ہے کہ آپ اعتکاف کے دوران مسجد کی حدود ہی میں رہیں اور حوائج ضروریہ کے سوا ایک لمحہ کے لئے بھی مسجد کی حدود سے باہر نہ نکلیں، کیونکہ ایک لمحہ کے لئے بھی شرعی اجازت کے بغیر حدود مسجد سے باہر چلا جائے تو اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔
مسجد کی حدود کا تعین
عموماً ہمارے اسلامی بھائی حدود مسجد کا مطلب ہی نہیں سمجھتے اور اس بناء پر ان کا اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لئے جب کسی اسلامی بھائی کا کسی مسجد میں اعتکاف کرنا کا ارادہ ہو تو سے سب سے پہلے یہ کام کرنا چاہئے کہ مسجد کے بانی یا متولی سے مسجد کے احاطہ کی ٹھیک ٹھیک حدود معلوم کرلیں اور خوب اچھی طرح حدود مسجد کا مطلب سمجھ لیں۔
دیکھئے! عام بول چال میں تو مسجد کے پورے احاطے کو مسجد ہی کہتے ہیں لیکن شرعی اعتبار سے پورا احاطہ مسجد ہوناضروری نہیں بلکہ شرعاً صرف وہ حصہ مسجد ہوتا ہے جسے بانی مسجد نے مسجد قرار دے کر وقف کیا ہو۔ استنجا کی جگہ، نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ، امام و موذن اور خادم صاحبان کے حجرے پر شرعاً مسجد کے احکام جاری نہیں ہوتے۔ بلکہ یہ خارج مسجد ہوتے ہیں۔ وضو خانہ بھی مسجد کا حصہ نہیں ہوتا ، اس لئے معتکف کے لئے ضروری ہے کہ بغیر شرعی ضرورت کے وہاں نہ جائے۔
اسی طرح مسجد میں جوتے اتارنے کی جگہ، مسجد میں داخل ہونے کے زینے، بعض مسجدوں کے صحن میں حوض بنا ہوتا ہے، وہ حوض اور بعض مسجدوں میں نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ بنی ہوتی ہے، وہ جگہ یہ سب کے سب خارج مسجد کہلاتے ہیں (فیضان سنت)
مسئلہ: بعض مساجد میں اصل مسجد کے بالکل ساتھ ہی بچوں کو قرآن پاک پڑھانے کے لئے مدرسہ بنایا جاتا ہے، اس جگہ کو بھی جب تک بانی مسجد نے مسجد قرار نہ دیا ہو، اس وقت تک معتکف کے لئے اس میں جانا جائز نہیں (ایضاً)
مسئلہ: دوران اعتکاف مسجد کے اندر ضرورتاً دینوی بات کرنے کی اجازت ہے، لیکن حتی الامکان دھیمی آواز کے ساتھ اور احترام مسجد کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہی بات کرنی چاہئے۔
مسئلہ: صحن مسجد اور اس کی چھت دونوں مسجد کا ہی حصہ ہیں، اس لئے چھت پر جانا اور صحن میں بیٹھنا جائز ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ چھت پر جانے کا راستہ مسجد کے اندر سے ہو اور اگر باہر سے ہے تو جائز نہیں۔ اگر جائے گا تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔ (فیضان سنت بحوالہ فتاویٰ رضویہ)
نوٹ: فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ مسجد کی چھت پر بلا ضرورت چڑھنا مکروہ ہے کہ یہ بے ادبی ہے۔