زکوۃ کی وصولی اور اس کی تقسیم کس حد تک ضروری ہے؟

in Tahaffuz, July 2012, متفرقا ت

 

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے۔ اس اعتبار سے اس کی اہمیت دیگر بنیادی عبادتوں سے کچھ کم نہیں۔ قرآن کریم نے نماز کے ساتھ ساتھ جا بجا زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس طرح نماز کے ساتھ کم از کم 82 جگہوں پر قرآن کریم میں زکوٰۃ کا ذکر وارد ہوا ہے۔ حدیث رسول میں بھی زکوٰۃ کا غیر معمولی بیان ہے۔ حدیث جبریل جو اسلام کی بنیادوں پر جامع حدیث تصور کی جاتی ہے، بھی زکوٰۃ کے بیان سے خالی نہیں۔ حضرت ابن عمر کی مشہور حدیث ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے‘‘ میں زکوٰۃ کا تذکرہ تیسرے نمبر پر کیا گیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے جب معاذ بن جبل کو یمن بھیجا تو ایک جامع وصیت فرمائی، اس ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’یمنیوں کو اس بات سے باخبر کرنا کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پر صدقہ (زکوٰۃ) فرض کیا ہے، امیروں سے وصول کرکے محتاجوں میں اسے تقسیم کیا کرنا‘‘ عہد خلفاء میں زکوٰۃ کی وصولیابی کا پورا پورا اہتمام کیا جاتا تھا اور اس کے منکرین سے سختی سے نپٹنے کا عمل رائج تھا۔ عہد صدیقی میں مانعین زکوٰۃ کے خلاف اعلان جنگ کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتی ہے۔
گرچہ زکوٰۃ کی فرضیت کا مفصل بیان، اس کی ادائیگی کے طریقے، مستحقین کی نوعیت کی تفصیل مدنی عہد کی حسین یادگار ہے، تاہم اس کی تلقین اور ادائیگی کی ترغیب کا بیان مکی عہد میں بھی پوری طرح قرآنی سورتوں میں ملتا ہے۔ اس عہد میں قرآن کریم نے گرچہ خصوصیت کے ساتھ بکثرت لفظ ’’زکوٰۃ‘‘ کا استعمال نہیں کیا، مگر اس کے عام مفہوم کی توضیح محتاجوں کو کھانا کھلانا، بھکاری کی مدد کرنا، اور مسکینوں، یتیموں کی پوری رعایت کرنا جیسی باتیں مکی عہد کی خوبصورت مثال ہیں۔ سورہ قلم کی آیت نمبر 19 تا 33، سورہ مدثر کی آیت نمبر 38 تا 46، سورہ حاقہ کی آیت نمبر 33 اور 34، سورہ فجر کی آیت نمبر 17 اور 18 میں مکی عہد میں زکوٰۃ کے عام مفہوم کا بڑا واضح بیان ہے۔ جبکہ بعض مکی سورتوں نے ’’ایتاء زکوٰۃ‘‘ کا لفظ استعمال کرکے انگلیوں پر گنے جانے والے مسلمانوں کو راہ خدا میں خرچ کی ترغیب دی ہے۔
سورہ توبہ کی آیت نمبر 60 میں زکوٰۃ کے آٹھ مستحقین کو بیان کیا گیا ہے۔ ان آٹھ قسموں کے مستحقین میں غور و فکر کرنے سے زکوٰۃ کی حکمت سے متعلق دو اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اول یہ کہ اس کا تعلق انسانی سماج کے مختلف افراد سے ہے۔ اس قسم میں مسلمانوں کا جو فرد ایک مخصوص قسم کی منفی زندگی سے دوچار ہوگا، ایسے لوگوں کی امداد زکوٰۃ کے مال سے کرنا مالدار انسان کا دینی فریضہ ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ زکوٰۃ کا تعلق اسلامی حکومت سے ہے اور جہاں اسلامی حکومتیں موجود نہیں، مسلمانوں کی رفاہی تنظیمیں اور فلاحی ادارے اس کے نمائندہ ہیں۔ حکومت یا ان اداروں کی ذمہ داری یہ ہے کہ مالداروں سے زکوٰۃ کا مال وصول کر تبلیغ اسلام، مسلمانوں کے تشخصات کی حمایت، اسلام کی ترویج و اشاعت اور دعوت اسلام جیسے اہم امور میں زکوٰۃ کا مال صرف کریں۔ اس دوسری حکمت کا بیان ’’تالیف قلب‘‘ اور ’’فی سبیل اﷲ‘‘ کے ضمن میں واضح کیا گیا ہے۔ تالیف قلب میں انفرادی دعوت و تبلیغ اور اس کے تمام ممکنہ عصری وسائل کا استعمال شامل ہے اور ’’فی سبیل اﷲ‘‘ میں جہاد کے ذریعے اسلامی عقیدے کا دفاع اور اعلاء کلمۃ اﷲ مراد ہے۔ غرض کہ زکوٰۃ کی مشروعیت کی وسیع حکمت میں بعض کا تعلق افراد سے ہے اور بعض کا تعلق معاشرہ اور سماج سے اور بعض کا تعلق اسلامی دعوت و تبلیغ کے ممکنہ عصری وسائل سے۔ ان میں سے جہاں بھی اموال زکوٰۃ صرف کیا جائے، وہ زکوٰۃ کے وسیع مفہوم اور اس کی مشروعیت کی حکمتوں میں شامل ہوگا۔
2۔ عہد رسولﷺ میں زکوٰۃ کی وصولی کے لئے خاص افراد مقرر کئے جاتے تھے۔ ہر علاقہ کا الگ الگ نمائندہ ہوتا تھا۔ یہ نمائندے زکوٰۃ کی وصولی میں رسول کریمﷺ کے اوامر کے پابند ہوا کرتے تھے۔ نبی اکرمﷺ انہیں خاص طور پر حکم دیا کرتے تھے کہ مالداروں سے زکوٰۃ وصول کر اس علاقے کے حاجت مندوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے اور اس کے بعد جو رقم یا غلے بچ جائیں، انہیں مدینہ پہنچا دیا جائے۔ حضرت معاذ بن جبل کو نبی اکرمﷺ نے یمن بھیجا، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو مال زکوٰۃ کی وصولی کے لئے ایک خاص علاقہ کی طرف روانہ کیا اور ابن لتبیہ کو اسی کام پر مامور کیا۔ امام نووی اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس مال ہوتا ہے، مگر انہیں یہ معلوم نہیں کہ اس کے حقوق کیا ہیں، کچھ ایسے لوگ ہیں جن کو ان حقوق کا پتہ ہوتا ہے مگر ادائیگی میں بخالت سے کام لیتے ہیں، لہذا ایک ایسے شخص کو مقرر کرنا ضروری ہے جو ہر طرح کے لوگوں سے زکوٰۃ کا مال وصول کرکے حکومت یا متعلقہ ادارے کے سپرد کردے (الجموع 167/6)
3۔ گزشتہ توضیحات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ زکوٰۃ کی حکمت کے دو بنیادی پہلو ہیں۔ ایک کا تعلق فرد سے ہے اور دوسرے کا تعلق حکومت، سماج اور معاشرے سے ہے۔ دوسرا پہلو جس کا تعلق حکومتی ادارے سے ہے، کے لئے ضروری ہے کہ اس کی وصولی کے لئے خاص ادارہ ہو، جس کے تحت زکوٰۃ وصول کرنے والے مقرر کئے جائیں۔ قرآن کریم نے حکومتی ادارے کے تحت زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو ’’عاملین‘‘ سے خطاب کیا ہے اور مستحقین زکوٰۃ کی آٹھ قسموں میں ایک قسم ’’عاملین‘‘ کا بھی شمار کیا ہے۔ عہد حاضر میں تقریبا اسلامی ریاستیں ناپید ہیں، بالخصوص ہندوستان، یورپ، اور امریکہ جیسے ملکوں میں اسلامی ریاست کا کوئی نام و نشان بھی نہیں، ایسی صورت میں مسلم رفاہی تنظیمیں، اسلامی مدارس زکوٰۃ کی وصولی اور اس کی تقسیم سے متعلق اسلامی ریاست کے قائم مقام ہیں۔ رفاہی تنظیمیں جن کے مقاصد زکوٰۃ وصول کرکے اس کے اصل مستحقین تک پہنچانا ہے اور اسلامی مدارس جن کا مقصد مسکین طلبہ کے لئے اسباب تعلیم مہیا کرنا ہے۔ اگر زکوٰۃ کی وصولی کے لئے اپنے نمائندے یا چندہ کنندگان مقرر کرتے ہیں تو ان کی حیثیت ’’عاملین‘‘ کی ہوگی۔ اس میں شک نہیں کہ ’’عاملین‘‘ کا شمار آٹھ مستحقین میں ہوتا ہے، تاہم اسے کتنی اجرت ملنی چاہئے، اس بارے میں فقہائے کرام کے مختلف نظریات ہیں۔ جمہور فقہاء کا ماننا ہے کہ اس کی محنت کے مطابق ادارہ اس کی اجرت مقرر کرے جسے تنخواہ کی شکل میں ادا کیا جاسکتا ہے۔ چندہ کنندگان کی حیثیت جب ’’عاملین‘‘ کی ہے تو جمہور کی رائے کے مطابق کمیشن مقرر کرنا یا فیصد پر چندہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ امام شافعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ’’عاملین‘‘ کے لئے آٹھواں حصہ مقرر کرتے ہیں لہذا ان کی رائے کے مطابق آٹھواں حصہ ہی چندہ کنندگان کا حق ہوگا۔ کمیشن یا فیصد کے طور پر اسے کم یا زیادہ لینا درست نہیں ہوگا۔
4۔ عہد حاضر میں اسلام اور کفر کی جنگ کے تیور بدل چکے ہیں۔ کسی زمانہ میں میدان کارزار میں ہل من مبارز کا نعرہ بلند کرنا اسلامی جہاد کی بڑی علامت تھی، مگر عہد حاضر میں سنجیدگی، متانت، دانشمندی اور شعور کے ساتھ عصری وسائل کا استعمال کرکے مخالفین کے حملوں کا ترکی بہ ترکی جواب دینا اسلامی جہاد کی علامت ہے۔ ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ، انٹرنیٹ کے مختلف شعبے مثلا یوٹیوب، فیس بک، ٹیوٹر، اخبارات وغیرہ کے ذریعہ اسلام اور اسلامی عقیدے کا دفاع کرنا بھی اسلامی جہاد کی علامت ہے، لہذا ان مقاصد کے لئے زکوٰۃ کا مال خرچ کرنا میدان کارزار میں لڑنے والوں پر خرچ کرنے کے مترادف ہے۔
بلاشبہ مدارس زکوٰۃ کے مستحق ہیں مگر صرف مدارس کو ہی زکوٰۃ کا مستحق ماننا عصر حاضر کی حقیقتوں سے آنکھ چرانا ہے۔ قرآن کریم نے مستحقین زکوٰۃ کی فہرست میں ’’فی سبیل اﷲ‘‘ کا تذکرہ بھی کیاہے۔ اکثر مفسرین نے اس سے مراد میدان جہاد میں لڑنے والے غازی مراد لیاہے، جبکہ بعض مفسرین مثلا امام رازی نے ’’فی سبیل اﷲ‘‘ کے مفہوم میں بعض علماء سے وسعت نقل کیاہے۔ جس کے دائرہ میں ہر وہ کام جو دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے کیا جائے، وہ فی سبیل اﷲ کے ضمن میں شمار کیا جائے گا۔ عہد حاضر کے محقق علامہ یوسف قرضاوی نے ’’فی سبیل اﷲ‘‘ کے مفہوم میں امام رازی کی وسعت کے علاوہ ایک دلچسپ توضیح کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ’’فی سبیل اﷲ‘‘ سے مراد جہاد ہی ہے مگر یہ بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ جہاد صرف شمشیر و سنان کے ذریعہ میدان کارزار میں ہی لڑنے کا نام نہیں بلکہ قلم و قرطاس کے ذریعہ اسلام کا جو کام بھی کیا جائے گا، وہ جہاد کی وسیع تعریف میں داخل مانا جائے گا۔ اس کے تحت علامہ قرضاوی نے عہد حاضر میں ’’فی سبیل اﷲ‘‘ کے مصرف کے تحت ثقافتی معرکے، تربیتی کیمپس، جدید ذرائع ابلاغ، اخبارات کی نشرواشاعت، دعوت و تبلیغ کے مراکز کا قیام، میڈیا سینٹر کی تاسیس اور ان اداروں کو چلانے کے لئے باصلاحیت افراد کا انتخاب، جن کے مقاصد صرف اور صرف اسلام کی بالادستی ہو، پر زکوٰۃ سے حاصل شدہ مال کو خرچ کرنا اولیٰ قرار دیا ہے (ملخصاًفقہ الزکوٰۃ 681-679/2)
5۔ زکوٰۃ کے مال کی وصولی اور اس کی تقسیم سے متعلق امانت داری سب سے پہلے شرط ہے جو شخص وصولی کے کام پر مقرر ہے اور جو ادارے یا تنظیمیں زکوٰۃ کے مال وصول کرکے مستحقین تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں، ان کے لئے امانت دار ہونا نہایت ضروری ہے۔ جو ادارے یا چندہ کنندگان امانت داری سے کام نہیں لیتے، وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ رسول کریمﷺ نے جن صحابہ کرام کو زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر کیا تو اس کے ساتھ امانت داری کی بھی خاص نصیحت کی اور خیانت کے بدلے جہنم کی دردناک سزا کی خبر دی۔ چندہ کنندگان عام طور پر تحفے تحائف کے نام پر اپنے لئے مال زکوٰۃ کا کچھ حصہ رکھ لیتے ہیں۔ عہد رسول میں بھی ایک مرتبہ ابن لتبیہ نامی شخص نے ایسا ہی کیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے پرزور تقریر کی اور فرمایا کہ اگر تم، لوگوں کی نگاہ میں اتنے ہی محبوب ہو تو گھر میں بیٹھے رہنا چاہئے، پھر دیکھتے ہیں کتنے تحفے تحائف تم وصولتے ہو، غرض کہ تحفے تحائف کے نام پر زکوٰۃ کے مال میں خیانت کرنا سنگین جرم ہے، چندہ کنندگان اور چندہ اکھٹا کرنے والے اداروں کو اس کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔
زکوٰۃ کی مروج وصولی کا طریقہ اہل اسلام میں جس طریقے پر عام ہے، وہ شرعاً صحیح و درست ہے۔ البتہ وصولی کرنے والوں پر واجب ہے کہ مال زکوٰۃ کو یا مال صدقہ فطر یا کسی دوسرے مد کا چندہ ہو، مسئلہ امانت کا پاس رکھتے ہوئے اس تک پہنچائیں، جس کے نام پر وصول کیا گیا ہے۔ خود اپنی جانب سے اس میں کوئی تصرف نہ کریں، اس لئے اہل مدارس کو چندہ وصول کرنے پر ایسے لوگوں کا انتخاب کرنا چاہئے جو مسئلہ امانت سے واقف ہوں اور دل میں خوف الٰہی رکھتے ہوں، نیز صدقات واجبہ اور نافلہ میں فرق و امتیاز بھی سمجھتے ہوں۔
2۔ مذہب اسلام میں زکوٰۃ کا نظام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔فرائض اسلام میں سب سے اہم فریضہ نماز ہے۔
قرآن حکیم اور احادیث کریمہ کے بعد اکثر مقامات پر زکوٰۃ کا ذکر دیکھا گیا۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ بدنی عبادت کے بعد مالی عبادت کو اہمیت حاصل ہے۔ نظام زکوٰۃ میں سب سے بڑی حکمت فقرائے مسلمین کی اقتصادی مسائل کی اصلاح ہے۔
3۔ عہد رسالت اور عہد صحابہ میں زکوٰۃ کی وصولی پر عمال کا تقرر ہوتا رہا، وہی حضرات زکوٰۃ  و فطرے کی رقوم وصول کرتے، پھر امیر المومنین یا امیر المومنین کے مقرر کردہ محافظ کے پاس جمع کرتے، اس کے بعد مستحقین میں وہ تقسیم ہوجاتی۔ بعد کے ادوار میں شرعی ضرورت و حاجات کے پیش نظر حدیث رسولﷺ کی روشنی میں مصارف زکوٰۃ کے علاوہ دوسرے مصارف میں بھی حیلہ شرعی کرکے استعمال کی راہیں نکالی گئیں۔ لیکن ضرورت و حاجت کا تحقق صاحب نظر علماء کی تعیین و تشخیص سے ہوتا رہاہے۔
4۔ عہد حاضر میں چندہ کنندگان کی حیثیت زکوٰۃ دینے والوں اور مدارس ومساجد کی انتظامیہ کے وکیل کی ہوا کرتی ہے اور انہیں دیا جانے والا کمیشن بسلسلہ وصولی ان کی محنت و مشقت کی اجرت ہے۔
5۔ شرعی ضرورت و حاجت کا تحقق اس طور پر ہو کہ زکوٰۃ وفطرے کے رقوم کے علاوہ دوسری رقوم کی دستیابی ناممکن یا حد درجہ دشوار ہو، جس سے دینی و شرعی ضرورت و حاجت کو پورا کیا جائے، گو بعد حیلہ شرعیہ مدارس کے علاوہ دوسرے مصارف میں بھی استعمال جائز ہوگا۔ لیکن اصحاب نظر اہل تقویٰ علمائے دین کی متفقہ آراء سے دینی و شرعی ضرورت کا متعین و محقق ہونا امر لازمی ہے۔