کھجور کو سنسکرت میں بھومی کھرجورکا، سوارشٹھ، دراوہا، سکندھ پھلا، کھرجو، کھر جوری، راج جمبو، پنڈی پھل وغیرہ، مرہٹی میں شندی، کھجوری، پینڈ کھجور، بنگالی میں کھیجور، پنڈ کھجور، انگریزی میں Date Sugar Palm, Wild Date Palm وغیرہ کہتے ہیں۔
یہ ایک مشہور پھل و میوہ ہے۔ اسلام میں اس کی کافی اہمیت ہے۔ خاص طور پر رمضان میں اس کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کیونکہ روزے کے دوران مسلسل فاقہ کی وجہ سے جسم میں نقاہت ہوتی ہے۔ اس وقت ایسی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جو جامع اور سہل الہضم ہو اور اس کا اثر فوری طور پر شروع ہوجائے اور کمزوری جاتی رہے۔ معدہ سارا دن خالی رہنے کی وجہ سے کسی بھاری چیز کو آسانی سے قبول نہیں کرتا۔ کھجور فوری طور پر ہضم ہوکر جگر کے لئے تقویت کا باعث بن جاتی ہے۔
کھجور قدرت کا وہ پھل ہے کہ جو اپنے اندر بے شمار افادی پہلو رکھتا ہے، جس کے ہر تین اجزاء کارآمد ہیں۔ قدرت نے ایسے غذائی اجزاء اس میں شامل کردیئے ہیں جن کی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ کھجور میں پائے جانے والے نمکیات اور معدنیات معدہ کی بڑھتی ہوئی تیزابیت کو اعتدال پر لے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی وجہ سے معدہ اور آنتوں پر سکون دینے والے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو معدہ کے السر کے مریض ہوں، ان کے لئے کھجور بے حد مفید ہے۔
غذائیت کے اعتبار سے یہ ایک بہترین اور مقوی غذا ہے۔ چند ہی ایسی چیزیں ہوں گی جو کم مقدار کے باوجود جسم کو قوت و حرارت فراہم کرنے میں کھجور کے اہم پلہ ہوں گی لیکن کھجور کو اس حوالے سے برتری حاصل ہے کہ یہ بہت جلد ہضم ہوجاتی ہے۔
کھجور کی غذائی اہمیت کا اندازہ اس بات سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے کہ کھجور میں فولاد کی مقدار 16.10 فیصد ہوتی ہے۔ جبکہ پالک میں یہ مقدار 5 فیصد، سیب میں 7.1 فیصد، امرود میں 1 فیصد اور انار میں 3 فیصد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھجور کو خون پیدا کرنے کا خزانہ کہا گیا ہے۔
اگر ایک چھٹانک انار استعمال کریں تو ہمیں 32 کیلوریز حاصل ہوں گے۔ ایک چھٹانک سیب کھائیں تو 35 کیلوریز ملیں گے۔ ایک چھٹانک کے لئے 86 کیلوریز حاصل ہوں گی لیکن ایک چھٹانک کھجور کھانے سے 160 کیلوریز حاصل ہوں گی۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن اے، بی اور سی بھی مناسب مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پوٹاشیم، میگنیشیم، تانبا، سلفر، جست، آرسینک اور آیوڈین جیسے اہم عناصر بھی موجود ہیں۔
ماہرین طب کے مطابق کھجور کا مزاج پہلے درجہ میں گرم تر ہے۔
نوٹ:پہلے درجہ سے مراد ہے کہ کسی قدر۔ اگر کسی چیز کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ تیسرے یا چوتھے درجے میں گرم، سرد، خشک یا تر ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس شے میں گرمی یا متعلقہ کیفیت کی شدت زیادہ ہے۔
کھجور میں مندرجہ ذیل فوائد پائے جاتے ہیں۔
1۔کھجور جسم کو طاقت دینے کے ساتھ ساتھ اعصاب، قلب اور معدے کے لئے تقویت کا باعث بنتی ہے۔
2۔جنسی قوت کو بڑھانے اور اسے طاقتور کرنے میں بھی کھجور بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔
3۔جن لوگوں میں آئیوڈین کی کمی ہو، انہیں خاص طور پر کھجور استعمال کرنی چاہئے۔
4۔کھجور کمزور جسموں کو فربہ یعنی موٹا بناتی ہے۔ اس لئے جو لوگ بہت دبلے پتلے ہوں یا جن کا وزن کم ہو یا جنہیں سردی زیادہ لگتی ہو، انہیں چاہئے کہ وہ کھجور کو باقاعدگی سے استعمال کریں۔
5۔بہترین طریقہ یہ ہے کہ پانچ عدد کھجوریں رات کو نیم گرم دودھ میں بھگو دیں اور صبح دودھ کو جوش دے کر یعنی ابال کر یہ کھجوریں کھالی جائیں اور اوپر سے دودھ پی لیا جائے۔ اسی طریقہ سے دونوں وقت کھانے کے بعد بھی کھدائی جاسکتی ہیں۔
6۔جنسی تقویت حاصل کرنے کے لئے اسی طریقہ سے چھوہارے دودھ میں جوش دے کر کھائے جائیں اور اوپر سے یہ دودھ پی لیا جائے۔
7۔کھجور عورتوں، مردوں اور بچوں کے لئے یکساں مفید ہے اور اسے بلا جھجک استعمال کیا جائے۔
8۔خواتین کی بعض شکایات کا دور کرنے کے لئے بھی کھجور تجویز کی جاتی ہے۔ نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔
’’میرے نزدیک ایام کی تکلیف اور شدت کے لئے پکی ہوئی کھجور سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے‘‘
9۔کھجور ولادت کے عمل میں بھی مدد دیتی ہے۔ اگر بچے کی پیدائش میں دشواری ہو تو کھجور کے سات دانے گرم دودھ کے ساتھ استعمال کئے جائیں۔ اس طرح ولادت میں آسانی ہوجاتی ہے۔
10۔بعض مائیں اپنے بچے کو اپنا دودھ نہیں دے سکتیں کیونکہ ان میں دودھ کی کمی ہوتی ہے۔ ایسی مائوں کو چاہئے کہ دودھ کے ساتھ کھجور کا استعمال جاری رکھیں کیونکہ کھجور دودھ پیدا کرنے والے خلیات کی پرورش کرکے انہیں فعال بناتی ہے۔
11۔حضرت امام محمد احمد ذہبی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حاملہ عورتوں کوکھجور کھلانے سے لڑکا پیدا ہوگا جو کہ حلیم، خوبصورت اور بردبار ہوگا۔
12۔نوزائیدہ بچوں کے لئے کھجور بہترین گھٹی ہے۔
13۔امراض قلب میں بھی کھجور نہایت مفید ثابت ہوئی ہے۔ خاص طور پر عجوہ کھجور اس کے لئے نہایت مفید بیان کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں بیمار ہوا۔ میری عیادت کو رسول اﷲﷺ تشریف لائے۔ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان رکھا تو آپ کے ہاتھ کی ٹھنڈک میری ساری چھاتی میں پھیل گئی۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ اسے دل کا دورہ پڑا۔ اسے حارث بن کلرہ کے پاس لے جائو جو بنو سقیف میں مطب کرتا ہے۔ حکیم کو چاہئے کہ وہ مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں گھٹلیوں سمیت کوٹ کر اسے کھلائے۔ کھجور کے فوائد کے بارے میں یہ حدیث بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ طب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مریض کے دل میں درد کی تشخیص کی گئی۔
14۔کھجور پر جو تازہ تحقیقات ہوئی ہیں اس سے پتہ چلا ہے کہ کھجور میں پائے جانے والے معدنی نمکیات قلب کی حرکت کو منظم رکھتے ہیں۔
15۔دل کے سکڑ جانے اور پھیلنے میں کیلشیم کا بڑا دخل ہے۔ اگر روزانہ پانچ سات دانے کھجور کے کھائے جائیں تو یہ دن بھر کے لئے ہمارے جسم کی کیلشیم کی ضرورت پوری کردیں گے۔
16۔کھجور کے استعمال کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اس کے استعمال سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار نہیں بڑھتی۔ کولیسٹرول کی مقدار خون میں بڑھ جائے تو دل کے دورے کا باعث بن سکتی ہے۔
17۔دماغی کام کرنے والوں کے لئے کھجور ایک بے نظیر تحفہ ہے۔ چونکہ اس میں موجود لحمیات، حیاتین اور معدنی نمکیات دماغ اور اعصاب کو طاقت بخشتے ہیں۔ اس کے متواتر استعمال سے نسیان (بھولنے کی بیماری) سے بھی نجات مل جاتی ہے۔
18۔جن لوگوں کے ہاتھوں اور پیروں میں رعشہ (کپکپاہٹ) ہو وہ بھی کھجور کی مدد سے اس شکایت سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔
19۔ کھجور بلغم کو خارج کرکے کھانسی میں فائدہ پہنچاتی ہے۔ اگر اسے پابندی سے استعمال کیا جائے تو جو پھیپھڑے عام طور پر بار بار کھانسی کے حملوں یا نمونیا کے بعد کمزور ہوجاتے ہیں، دمہ حساسی (الرجک استھما) کی وجہ سے بھی پھیپھڑے کمزور ہوجاتے ہیں اور ان کی خشکی بڑھ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں دس عدد کھجوروں کو گھٹلی الگ کرکے باریک پیس لیا جائے اور ایک اونس مکھن (بغیر نمک والا) میں ملاکر نصف مقدار صبح نہار منہ اور باقی نصف مقدار شام چار یا پانچ بجے استعمال کی جائے۔ خیال رہے کہ اس کے فورا بعد پانی نہ پیاجائے۔
20۔کھجور میں موجود سلفر جراثیم کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ زخموں کو بھرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
21۔یرقان کے لئے بھی کھجور کا استعمال بہترین ہے کیونکہ پتہ اور جگر کے فعل کو درست کرتی ہے۔
22۔اس کی بے شمار اقسام ہیں۔ ان میں خاص طور پر مشہور عجوہ، شامی، شبلی اور برنی وغیرہ ہیں۔
23۔جدیدتحقیقات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کھجور میں زہر کو بے ضرر بنانے کی خاصیت موجود ہے۔
24۔کھجور کی نبیذ (کھجور کو بھگو کر اسکا پانی حاصل کرنا) میں بھی توانائی کے ساتھ ساتھ فرحت پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ پانی جسم کی غلیظ رطوبتوں کو خشک کرتا ہے۔ معدہ کو تقویت دیتا ہے۔ منہ کے زخموں کو مندمل کرتا ہے۔ خاص طور پر مسوڑھوں کی سوزش میں مفید ہے۔
25۔کھجور تمام پھلوں میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ جسم کے ہر حصے کے لئے یکساںطور پر مفید ہے۔
کھجور کا حلوہ: خرمہ 250 گرام، کھویا 100 گرام، دودھ ایک کپ، گھی ایک چمچہ، کھوپرہ، مونگ پھلی، ہر ایک ایک کھانے والا چمچہ، پہلے خرمہ کو کوٹ لیں پھر اس میں گھی ڈال کر بھونیں۔ جب برابر بن جائے تو اس میں دودھ ڈال کر پکائیں، جب دودھ برابر پک جائے تو اس میں کھویا ڈال کر خوب ہلائیں، تھوڑی دیر میں حلوہ تیار ہوجائے گا۔ پھر نیچے اتار کر اس میں مونگ پھلی اور کھوپرہ باریک کرکے ملالیں۔ اس میں چینی وغیرہ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کھجور کے بارے میں یہ احتیاط رہے کہ نیم پختہ اور پرانی کھجور کو ملاکر نہیں استعمال کرنا چاہئے۔ اسی طرح کھجور اور انجیر کو بیک وقت نہیں کھانا چاہئے، جب آنکھیں دکھتی ہوںتو بھی کھجور کھانا مناسب نہیں۔ نیز کھجور کا ایک ہی وقت میں زیادہ استعمال بھی نہیں کرنا چاہئے۔ اس کا ایک چھٹانک تک استعمال صحت کے نقطہ نظر سے جائز و فائدہ مند ہے۔