اذانِ بلالی

in Articles, Tahaffuz, July 2012, شخصیات

یہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز
نہیں معلوم ہوتی ہے کہاں سے پیدا
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود
ہوتی ہے بندہ مومن کی اذان سے پیدا

مدینے کے افق سے بہت دور سورج چلتے چلتے رک گیا۔ سپیدہ سحر کے انتظار میں اہل مدینہ کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ لوگ حیران و پریشان بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے۔
یارسول اﷲﷺ آج کی رات کتنی طویل ہوگئی ہے۔ تہجد کی نماز ادا کرنے والے کب کے اپنے معمولات سے فارغ ہوچکے۔ بچے کئی کئی بارسو کر جاگے اور جاگ جاگ کر سوئے لیکن رات ہے کہ ختم ہونے کو نہیں آتی۔

لوگ عرض مدعا کر ہی رہے تھے کہ آسمان کا دروازہ کھلا۔ پروں کی آواز فضاء میں گونجی۔ پلک جھپکنے پر جبرائیل امین سامنے کھڑے تھے۔
یارسول اﷲﷺ عرش کے سب سے اونچے کنگرے پر ایک فرشتہ مقرر ہے، جس کے قبضہ میں سورج کی باگ ڈور ہے۔ حضرت بلال کی آواز سن کر وہ مدینہ کے افق پر سورج کو آگے بڑھنے کی اجازت دیتا ہے۔ آج وہ اب تک انتظار میں ہے تاہنوز مدینے سے اذان کی آواز عرش تک نہیں پہنچی ہے۔

ارشاد فرمایا: اذان تو ہوگئی۔ البتہ بلال نے اذان نہیں دی ہے۔ کچھ لوگوں کی درخواست پر آج سے ایک خوش الحان موذن مقرر کیا ہے۔
جبرائیل نے عرض کیا۔ دل کے عشق و اخلاص کی جس گہرائی میں اتر کر حضرت بلال اذان دیتے ہیں۔ یہ انہی کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرش تک پہنچنے کی پرواز سوائے ان کی آواز کے اور کسی کو اب تک حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ اس لئے جب تک وہ اذان نہیں دیں گے، مدینے کے افق پر سحر کا اجالا نہیں پھیل سکے گا۔

حضرت روح الامین کی درخواست پر حضرت بلال کو اذان کہنے کا حکم دیا گیا۔ جونہی اذان کے کلمات فضاء میں گونجے رات کی سیاسی چھٹنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف صبح کا اجالا پھیل گیا۔
اس دن ہر کہہ و مہ پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی کہ عشق رسالت نے حضرت بلال کا مقام کتنا اونچا کردیا ہے اور یہ فیضان نبوت کے بل پر ایک نحیف و نزار غلام کی آواز میں کس قیامت کی توانائی پیدا ہوگئی ہے۔

حضرت بلال کے جگر میں عشق کے سوزو گداز کا وہ دردناک منظر تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی جب جان عالمﷺ نے ظاہری دنیا سے پردہ فرمالیا تو حضرت بلال کے شوق کی دنیا اجڑ گئی۔ ہمیشہ کے لئے زندگی کی امنگوں کا خاتمہ ہوگیا۔ دیوانہ وار مدینے کی گلیوں میں راستہ چلنے والوں سے اپنے محبوب کا پتہ پوچھتے پھرتے۔ عہد رسالت کے بیتے ہوئے دن یاد آجاتے تو آنکھوں سے خون حسرت ٹپکنے لگتا۔ کبھی کبھی ان کی رقت انگیز آہ و فغان سے اہل مدینہ کے دل ہل جاتے بالآخر ہجر وفراق کا صدمہ تاب ضبط سے باہر ہوگیا۔ ایک دن سوگوار اٹھے اور ملک شام کی طرف چلے گئے اور حلب میں سکونت اختیار کرلی۔

ایک دن ذرا سی آنکھ لگ گئی تھی کہ قسمت بیدار نے انہیں آواز دی۔ پلٹ کر دیکھا تو طلعت زیبائے رسولﷺ سے سارا گھر منور تھا۔ چہرہ انور سے تجلیات کی کرن پھوٹ رہی تھی۔ ارشاد فرمایا۔
بلال! تم ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ کیا تمہارے دل میں کبھی ہماری ملاقات کا شوق پیدا نہیں ہوتا۔ خواب سے اٹھے تو ان پر ایک عجیب رقت انگیز کیفیت طاری تھی۔ آنکھیں اشکبار تھیں اور زبان پر لبیک یاسیدی کا نعرہ تھا۔ اسی وقت افتاں و خیزاں مدینے کی طرف چل پڑے۔ جذبہ شوق کے اضطراب میں شب و روز چلتے رہے۔ مدینہ جب قریب آگیا تو دل کا حال قابو سے باہر ہوگیا۔ پہاڑوں، صحراؤں اور وادیوں سے پچھلے دور کی بہت سی یادیں وابستہ تھیں۔ ایک ایک کرکے حافظے میں تازہ ہونے لگیں۔ چند قدم آگے بڑھے تو سامنے مدینہ چمک رہا تھا۔
اچانک سیلاب کا بند ٹوٹ گیا، شدت غم سے کلیجہ پھٹنے لگا، بے ساختہ منہ سے ایک چیخ نکلی اور بے ہوش ہوکر زمین پر گر پڑے۔
کچھ دیربعد سکون ہوا تو اٹھے، دیوانہ وار زاروقطار روتے ہوئے مدینے میں داخل ہوئے، انہیں دیکھتے ہی اہل مدینہ میں ایک شور ماتم بلند ہوا۔ چاروں طرف سے جاں نثاروں کی بھیڑ لگ گئی، پھر وہ عالم احاطہ تحریر سے باہر ہے جب حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے محبوب کے روضہ پر حاضر ہوئے، روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں، غم سے سینہ دہکنے لگا۔ تربت انور کے سامنے پہنچتے ہی ضبط کا پیمانہ چھلک اٹھا، چیخ مار کر زمین پر گرے اور بے ہوش ہوگئے۔

اسی عالم میں لوگ انہیں اٹھا کر لے گئے۔ کافی دیر کے بعد ہوش آیا تو کئی دن ’’یامحمد‘‘ کا نعرہ بلند کرتے رہے۔ جب تک مدینہ میں رہے عشق و محبت کی دنیا اتھل پتھل ہوتی رہی۔ ایک دن لوگوں نے اذان دینے کے لئے اصرار کیا تو آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ فرمایا! وہ زمانہ پلٹا لائو جب میرے سرکارﷺ مسجد میں تشریف رکھتے تھے اور میںشہادت کی انگلیوں سے ان کی طرف اشارہ کرتا تھا۔

جواب سن کر جب لوگ مایوس ہوگئے تو شہزادۂ رسول سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی سرکار میں حاضر ہوئے، لوگوں کو یقین تھا کہ شہزادہ رسول کی بات حضرت بلال کبھی بھی نہیں ٹالیں گے،بالاخر سیدنا امام عالی مقام کے اصرار پر حضرت بلال اذان دینے کے لئے تیار ہوگئے۔

جس وقت مینار پر کھڑے ہوکر انہوں نے اﷲ اکبر کہا تو سارے مدینے میں ایک کہرام مچ گیا۔ لوگوں کے دل ہل گئے۔ آہ و فغاں سے ہر گھر میں قیامت کا منظر برپا ہوگیا۔ پردہ نشیں عورتیں جذبۂ بے خودی میں گھروں سے باہر نکل آئیں۔ کمسن بچے اپنے والدین سے پوچھنے لگے کہ حضرت بلال تو آگئے، ہمارے آقاﷺ کب تشریف لائیں گے؟
اذان دیتے ہوئے حضرت بلال جب کلمہ شہادت پر پہنچے تو حالت غیر ہوگئی، حسب معمول انگلیوں کا اشارہ کرنے کے لئے نگاہ صحن مسجد کی طرف اٹھ گئی۔

حضرت بلال کی یہ پہلی اذان تھی جب حضورﷺ کا چہرہ انور سامنے نہیں تھا۔ ایک عاشق دلگیر اس دردناک حالت کی تاب نہ لاسکا۔ فضا میں ایک چیخ بلند ہوئی اور حضرت بلال بے ہوش ہوکر زمین پر گر پڑے، پھر مدینے میںایک شور محشر برپا ہوا پھر عشق کی دبی ہوئی چنگاری جاگ اٹھی پھر ہجر رسول کا غم سینوں میں تازہ ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد بہت دنوں تک اہل مدینہ کی پلکیں بھیگی رہیں۔ حضرت بلال جب تک مدینے میں رہے، دل کا زخم رستا رہا، غم فراق نہیں ضبط ہوسکا تو کچھ دنوں کے بعد ملک شام کی طرف روانہ ہوگئے۔

آہ! کتنی رقت انگیز کہانی ہے ایک حبشی نژاد غلام کی جس کے تن کی سیاہی غلاف کعبہ میں جذب ہوگئی اور جس کے دل کا نور عرش کی قندیل نے مستعار لے لیا جو اپنے نسب کے اعتبار سے غلام تھا لیکن حسب ملت اسلام کا آقا کہلایا۔
اے خوشا نصیب! کہ عشق رسالت کے فیضان نے ایک غبار مشت کو کائنات کے دل کی دھڑکن بنادیا۔ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ و ارضاہ عنہا۔