’’واﷲ یعطی وانا قاسم ‘‘کی شرح

عن معاویۃ قال قال رسول اﷲﷺ… وانما انا قاسم واﷲ یعطی
’’اور بے شک میں تقسیم کرتا ہوں اور اﷲ تعالیٰ عطا فرماتا ہے‘‘
(مشکوٰۃ، کتاب العلم، فصل اول، حدیث ۳)
’’یعطی‘‘ فعل ہے اور ’’قاسم‘‘ صیغہ اسم فاعل، اسلم فاعل اور اسم مفعول یہ سب مشبہ فعل ہوتے ہیں۔ یعطی فعل ہے اور قاسم مشبہ یا فعل، اور قاعدہ ہے کہ کبھی مشبہ فعل کا معمول حذف کیا جاتا ہے، فصاحت و بلاغت کی کتابیں جیسے ’’مختصر المعانی‘‘ بیان کی شرحیں آپ پڑھیں تو فعل و مشبہ فعل کے معمولات کو حذف کرنے کی وجوہات کا پتہ چل جائے گا۔ کبھی فعل اور مشبہ فعل معمول کو اس لئے حذف کیا جاتا ہے کہ معمول عام ہوجائے اور کبھی فعل اور مشبہ فعل کے عموم کو ثابت کرنے کے لئے معمول کو حذف کیا جاتا ہے۔
حضورﷺ نے فرمایا ’’واﷲ یعطی‘‘ اﷲ دیتا ہے، اﷲ کیا دیتا ہے؟ اﷲ تعالیٰ سب کچھ دیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے یعطی کا مفعول ذکر نہیں کیا کہ اﷲ کیا دیتا ہے؟ کیونکہ اﷲ ہر چیز دیتا ہے، کس کس چیز کا ذکر کیا جائے، لہذا ان چیزوں کا ذکر نہ کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ اﷲ تعالیٰ جو کچھ دیتا ہے، وہ عام ہے، کبھی مفعول کے عام ہونے پر دلالت کرنے کے لئے مفعول کو حذف کردیا جاتا ہے، جس طرح یعطی کا مفعول عام ہے اور اسی طرح ’’وانا قاسم‘‘ کا مفعول بھی عام ہے، یعنی اﷲ تعالیٰ سب کچھ دیتا ہے اور میں سب کچھ بانٹتا ہوں۔ نہ اﷲ تعالیٰ کے دینے میں کمی ہے اور نہ میرے تقسیم کرنے میں کوئی کمی ہے، اس کی عطا بھی عام ہے، میری تقسیم بھی عام ہے، وہ دنیا بھی دیتا ہے، میں دنیا بھی بانٹتا ہوں، وہ دین بھی دیتا ہے، میں دین بھی تقسیم کرتا ہوں۔ علم، اولاد اور ایمان غرض کہ دین و دنیا کی ہر نعمت وہ دیتا ہے  اور میں بانٹتا ہوں۔
ایک سوال
’’واﷲ یعطی وانا قاسم‘‘ تو حضورﷺ کی حیات دنیاوی کے ساتھ خاص تھی۔
جواب: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جو شخض حضورﷺ کی حیات کو نہ مانتا ہو، وہ مومن بھی نہیں، کیونکہ یعطی میں استمرار ہے اور استمرار میں دوام کے معنی ہیں، جب حیات ختم ہوگئی تو عطا میں دوام کیسے ہوا؟ معلوم ہوا کہ نہ حیات ختم ہوئی اور نہ عطا، عطا مستمر ہے تو حیات بھی، اگر عطا منقطع ہوجائے تو حیات بھی منقطع ہوگئی۔ عطا منقطع ہوتی نہیں کیونکہ عطا میں استمرار ہے۔ لہذا زندگی بھی منقطع نہیں ہوتی۔ اگر حضور نبی کریمﷺ کی حیات کا انکار کریں گے تو عمل رسالت کا انکار کرنا پڑے گا، اور عمل رسالت کا انکار ہم کر ہی نہیں سکتے، کیونکہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا (سورۃ الفرقان، آیت 1)
’’بڑی برکت والا ہے وہ جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب اپنے (مقدس) بندے پر اتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو‘‘
میرے آقاﷺ العالمین کے لئے نذیر اور رسول ہیں۔
وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (سورۃ الانبیائ، آیت 107)
’’اور ہم نے تمہیں نہیں بھیجا مگر (اے محبوب) سارے جہانوں کے لئے رحمت بناکر‘‘
العالمین کے اندر دنیا بھی ہے  اور عقبیٰ بھی، العالمین کے اندر عالم برزخ بھی ہے اور عالم آخرت بھی، العالمین کے اندر عالم بیداری بھی ہے اور عالم نوم بھی، الغرض زمین، آسمان، ظاہر، باطن، تمام عالم خلق، تمام عالم امر، عالم اجسام، عالم ارواح، عالم جواہر، عالم اعراض، عالم معانی سب کچھ العالمین کے عموم میں شامل ہیں اور میرے آقا تمام عالموں کے رسول ہیں اور رسول کے معنی ہیں پیغام پہنچانے والا، پیغام پہنچانا ایک عمل ہے اور عمل حیات پر دلیل ہے۔ جہاں عمل ختم ہوجاتا ہے، وہاں حیات ختم ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب تک کسی کی نبض چلتی رہے دل کی حرکت قائم رہے تو حیات باقی ہے کیونکہ دل کا حرکت کرنا، نبض کا چلنا یہ ایک عمل ہے، جب تک عمل ہے تو حیات ہے، عمل نہیں تو حیات نہیں، لہذا میرے آقا ہر آن اور ہر وقت رسول ہیں۔
ایک شبہ کا ازالہ
اگر میرے آقا ہر آن اور ہر وقت رسول نہیں ہیں تو وہ وقت بتائو جس وقت حضورﷺ رسول نہیں ہیں؟ جب کوئی ایسا وقت نہیں ہے کہ جس وقت عمل رسالت نہ ہو، اور جس وقت عمل رسالت نہیں ہوگا، اس وقت حضور رسول نہیں ہوں گے، اور جس وقت سرکار رسول نہیں ہوں گے، اس وقت ہم آپﷺ کے رسول ہونے کا کلمہ کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ اس لئے ہر وقت اس کلمہ کا ہمارے اندر ہونا ضروری ہے، تو پتہ چلا کہ ہر وقت آپﷺ کا رسول ہونا ضروری ہے، اور یہ اس وقت ہوگا جب ہر وقت آپ کا عمل رسالت جاری ہو اور عمل رسالت تب ہی جاری رہے گا، جب حیات جاری رہے گی، کیونکہ عمل بغیر حیات کے ہو نہیں سکتا، جہاں عمل ختم ہوگیا، وہ حیات ختم ہوگئی اور حضورﷺ کا عمل رسالت تا قیامت جاری ہے اور جاری رہے گا۔ حضور کی سخا اور عطا کی کوئی حد نہیں۔ آپﷺ اپنے امتیوں میں اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ تمام نعمتوں کو بانٹ رہے ہیں۔
(خطبات کاظمی، حصہ دوم، مطبوعہ مکتبہ انوار صوفیہ، علی پور، ضلع مظفر گڑھ، ص 91 تا 94)