نص قرآن سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم غیب کے منکر پکے منافق ہیں

قل ابا ﷲ، واٰیاتہ ورسولہ کنتم تستھزء ون O لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم O
’’(اے محبوب) آپ کہہ دیجئے کہ کیا مذاق کرنے کے لئے اﷲ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی رہ گیا ہے۔ باتیں نہ بنائو، ایمان قبول کرنے کے بعد تم کافر و مرتد ہوگئے‘‘ (درمنشور)
شان نزول: بیان کرتے ہیں کہ سرکار دوعالمﷺ کسی غزوہ میں تشریف لے گئے۔ اثنائے سفر میں کسی صحابی کا اونٹ گم ہوگیا۔ وہ اپنے عقیدہ کے مطابق سرکارﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر فریادی ہوئے اور غیب کی خبر رکھنے والے رسولﷺ سے اپنے گم شدہ اونٹ کا پتہ دریافت کیا۔
سرکار دوعالمﷺ نے اپنے علم کی روشنی میں فرمایا:
’’تمہارا اونٹ فلاں وادی میں فلاں مقام پر کھڑا ہے‘‘
وہ صحابی الٹے پائوں سرکارﷺ کے بتائے ہوئے مقام پر روانہ ہوگئے۔
اب ادھر کا قصہ سنیے… لشکر میں کچھ منافقین بھی تھے۔ جب انہیں یہ اطلاع ملی کہ حضورﷺ نے کسی گم شدہ اونٹ کے بارے میں یہ خبر دی ہے کہ وہ فلاں وادی میں فلاں مقام پر کھڑا ہے تو ازراہ طنز انہوں نے آپس میں کہنا شروع کیا ومایدری محمد بالغیب محمدﷺ غیب کی بات کیا جانیں (یعنی معاذ اﷲ انہوں نے یہ بالکل فرضی خبر دی ہے اونٹ فلاں مقام پر ہے) چھپی ہوئی باتوں کا حال انہیں کیا معلوم؟ یہ منافقین جب مدینہ پلٹ کر واپس آئے تو بعض صحابہ رضی اﷲ عنہما نے حضورﷺ تک یہ خبر پہنچائی کہ فلاں فلاں لوگ حضورﷺ کے علم غیب کے بارے میں اس طرح کا طنز کررہے تھے۔ سرکارﷺ نے جب انہیں بلاکر دریافت کیا تو ایک دم بدل گئے۔ کہنے لگے کہ ہماری قوم کے چندنوخیز لڑکوں نے یونہی ازراہ مذاق آپس میں اس طرح کی باتیں کی تھیں۔ ویسے درحقیقت ہم لوگ حضورﷺ کی غیب دانی کے منکر نہیں ہیں۔ ہمارا بھی وہی عقیدہ ہے جو عام صحابی رضی اﷲ عنہ کا ہے، اپنی صفائی میں وہ بیان دے ہی رہے تھے کہ روح الامین قرآن کی یہ آیتیں لے کر اترے۔
تشریح: اﷲ اکبر! اپنے محبوبﷺ کی حمایت میں ذرا ان آیتوں کا تیور تو دیکھئے، تنبیہات کی یہ لگاتار سرزنش لرزا دینے کے لئے کافی ہے۔
پہلی تنبیہ: تو یہ فرمائی گئی کہ رسولﷺ کی شان میں کسی طرح کا اہانت آمیز جملہ فقط رسول ہی کا انکار نہیں، خدا کا بھی انکار ہے۔ آج جو لوگ توحید خداوندی کا نام نہادسہارا لے کر اس کے رسول کی تنقیص (کسی کی ذات میں نقص نکالنا) کرتے ہیں، وہ اس گمان میں نہ رہیں کہ یہ تنقیص صرف رسولﷺ کی ہی ہے۔ بلا تفریق یہ تنقیض شان خداوندی کی بھی ہے۔
دوسری تنبیہ: یہ فرمائی گئی کہ رسول کے بارے میں علم غیب کا عقیدہ کوئی فرضی چیز نہیں ہے کہ اس کا مذاق اڑایا جائے۔
اسلام و ایمان کے دوسرے حقائق کی طرح یہ بھی ایک ایسی مثبت حقیقت ہے جس کا انکار کرتے ہی اسلام و ایمان کے ساتھ کوئی رشتہ باقی نہیں (۱) رہ جاتا۔
تیسری تنبیہ: یہ فرمائی گئی کہ رسول کی تنقیض و توہین بس یہی نہیں ہے کہ معاذ اﷲ ان کی شان میں مغلظ الفاظ استعمال کئے جائیں بلکہ ان کی کسی لازمہ نبوت فضیلت وکمال سے انکار بھی ان کی تنقیص شان کے لئے کافی ہے۔(۲)
چوتھی تنبیہ: یہ فرمائی گئی کہ دنیا میں بڑے بڑے گناہ کی معذرت قبول کی جاسکتی ہے، لیکن شان رسولﷺ میں گستاخی کا جملہ استعمال کرنے والوں کی کوئی تاویل نہیں سنی جائے گی۔
پانچویں تنبیہ: یہ فرمائی گئی کہ کلمہ گوئی اور اسلام کی ظاہری نشانیاں توہین رسالت کے نتائج، و احکام سے کسی کو بچا نہیں سکتیں۔ لاکھ کوئی اپنے آپ کو مسلمان کہتا رہے، تنقیض شان رسول کے ارتکاب کے بعد اس کے لئے دائرہ اسلام میں اب کوئی گنجائش نہیں (۳) ہے۔ تکفیر کے ذریعے اس کے اخراج کا اعلان کردینا ضروری ہے تاکہ مسلم معاشرہ اس کے نمائشی اسلام سے دھوکہ نہ کھائے، اور اس کے ساتھ دینی اشتراک کا کوئی تعلق باقی نہ رکھا جائے۔
حاشیہ
(۱) نبوت کے لئے علم غیب لازم ہے کیونکہ نبوت غیب سے مطلق ہونے کا ہی نام ہے۔ نبی سے مطلق علم غیب کی نفی کرنا کفر ہے کہ یہ نبوت کو لازم ہے۔ لازم کی نفی اور انکار ملزوم کی نفی و انکار ہے۔ امام غزالی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’ان لہ صفۃ بہا یدرک ماسیکون فی الغیب‘‘ (زرقانی علم المواہب جلد 1ص 20) یعنی نبی میں ایک صفت ایسی بھی ہوتی ہے جس سے وہ غیب میں ہونے والی باتوں کو جانتا ہے۔
(۲) یعنی جو لفظ صریح طور پر گستاخی ہوگا، وہاں گستاخی کی کوئی تاویل نہیں سنی جائے گی۔ کیونکہ لفظ صریح تاویل کے قابل نہیں ہوتا۔ چنانچہ خفاجی شرح شفا میں اور انور شاہ  کشمیری دیوبندی اکفارالملحدین میں لکھتے ہیں کہ ’’التقاویل فی لفظ صراح لایقبل‘‘ (شرح شفانسیم الریاض جلد 2ص 378 الکفار الملحدین ص 62) اور ضروریات دین میں تاویل کرنے سے کفر سے نہیں بچ سکتا۔ چنانچہ کشمیری صاحب لکھتے ہیں ’’والتاویل فی ضروریات الدین لایدفع الکفر‘‘ (الکفار الملحدین ص 59) لہذا گستاخ نبوت کو جس نے صریح گستاخی کی ہے ضرور کافر و مرتد قرار دیا جائے گا۔ اور جو اسے کافر نہ کہے، وہ بھی کافر قرار پائے گا۔ اور گستاخ نبوت کا قتل بھی واجب ہے، اسے کوئی معافی نہ دی جائے گی۔ چنانچہ مولانا علی قاری شرح شفا میں اور انور شاہ کشمیری دیوبندی اکفار الملحدین میں لکھتے ہیں ’’اجمع العلماء عی ان شاتم النبیﷺ المقص لہ کافرومن شک وی کفرہ و عذابہ کفر‘‘ (الکفار الملحدین ص 41/50)
یعنی علماء کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ حضور اکرمﷺ کا گستاخ کافر ہے۔ اور جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔ کشمیری صاحب لکھتے ہیں۔ ’’ان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم لہ ان یعفو عن سابہ ولہ ان یقتل وقع کلا الا مرین واما لا امۃ فتجب علیہم قتلہ
یعنی نبی اکرمﷺ کو حق تھا کہ اپنے گستاخ کو معاف فرمادیں یا قتل کرادیں۔ اور یہ دونوں باتیں واقع ہوئیں اور امت پر بہرحال گستاخ نبوت کا قتل واجب ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی (الکفار الملحدین، انور شاہ کشمیری)
(۳) اسی کی تائید انور شاہ کشمیری کی زبانی سنئے، فرماتے ہیں ’’لاخلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان کان من اہل القبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات‘‘ (الکفار الملحدین ص 11) یعنی ضروریات اسلام کی جو مخالفت اور خلاف ورزی کرنے والے کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں، اگرچہ وہ قبلہ کو منہ کرکے نمازیں پڑھیں اور اگرچہ عمر بھر ہمیشہ طاعات و عبادات بجالاتا رہے، اس کی کوئی پروا نہ کی جائے گی (فقیر قادری)