کیا نبی کریمﷺ کے مزار کی یہ تصاویر جعلی ہیں؟

in Tahaffuz, July 2012, متفرقا ت

 

 

 

 


یہ تین وہ تصویریں ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو یہ دھوکہ دیا جارہا ہے کہ یہ حضور علیہ السلام کی قبر انور کی تصویریں ہیں۔ حالانکہ یہ تینوں تصویریں جعلی ہیں اور ان کا نبی علیہ السلام کی قبر انور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلی تصویر ترکی کے شہر قونیہ میں مدفون مولانا روم کے مزار مبارک کی ہے، جن کی مثنوی مولانا روم مشہور ہے۔ دوسری دونوں تصویروں کے متعلق معلوم نہیں کہ یہ بھی دوسرے بزرگوں کی قبور کی ہیں یا محض خیالی ہیں لیکن کئی لوگوں نے انہیں حضور علیہ السلام کی قبر مقدس کی تصویریں سمجھتے ہوئے انہیں فریم کروا کر عقیدت سے گھروں میں سجایا ہوا ہے۔ بعض کتابوں میں بھی انہیں چھاپ دیا گیا ہے۔ آج سے کافی عرصہ قبل مجھے ایک دوست نے انٹرنیٹ کے ذریعے پہلے نمبر پر دی گئی تصویر کا عکس دیا جس کے نیچے انگریزی میں لکھا ہوا تھا:
This is a view of rauza a rasool (P.B.U.H) which is not visable / open for zayexens visiters perhapes not even 0.1% muslims had the opportunity to see this view. Please pass it to all you know for the spritual benefits. May Allah belss all of us (Ameen)
ترجمہ: یہ روضہ رسولﷺ کا عکس ہے جوکہ زائرین کے لئے کھلا نہیں ہے۔ شاید 0.1 فیصد مسلمانوں کو بھی یہ عکس دیکھنے کا موقع نہ ملا ہو۔ برائے مہربانی اس کو روحانی فائدہ کے لئے عام لوگوں تک پہنچائیں جنہیںآپ جانتے ہیں۔ اﷲ ہم سب پر اپنی رحمت فرمائے۔ آمین
مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی قبر انور کی تصویر لے سکے کیونکہ میرے مطالعہ میں یہ بات تھی کہ گنبد خضرٰی کے اندر ایک اور بھی پنج گوشہ دیوار ہے جسے ’’حظار مزور‘‘ یعنی حرمت والا احاطہ کہتے ہیں۔ یہ دیوار چھت تک ہے اور کافی عرصے سے اس میں کوئی کھڑکی ، دروازہ نہیں ہے اور یہ کہ حضور علیہ السلام کی قبر انور کی تصویر ہوتی تو یقیناً وہ ہمارے لئے باعث برکت و سعادت ہوتی اور ہمیں جان و دل سے زیادہ عزیز ہوتی، لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ نبی علیہ السلام کے گنبد خضرٰی کی تصاویر تو موجود ہیںلیکن قبر انور کی کوئی بھی حقیقی دنیا میں کسی بھی شخص کے پاس نہیں ہے اور نہ ہی ہوسکتی ہے۔ اس لئے کہ مقصورہ (حجرہ) شریف کے اندر ایک اور پنج گوشہ دیوار ہے جو کہ چھت تک ہے اس میں کوئی دروازہ نہیں ہے۔ حضور اکرمﷺ کی قبر پر انوار اور شیخین (حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہم) کی قبور مبارکہ اس پنج گوشہ دیوار کے اندر ہیں۔ 881ھ کے بعد اس مقام تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ہوئی اور نہ ہی انسانی آنکھ اس کی زیارت کرسکتی ہے۔ یہ جو آئے روز اخبارات میں یا ٹی وی پر ہم سنتے ہیں کہ فلاں بادشاہ یا صدر یا کسی اور کے لئے روضہ مبارکہ کا دروازہ کھولا گیا یا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ روضہ مبارک کے اندر گئے ہیں تو یہ اسی پنج گوشہ دیوار جس پر سبز رنگ کا غلاف چڑھا ہوا ہے، تک جاسکتے ہیں۔ اس سے آگے دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ بھی نہیں جاسکتا کیونکہ وہ دیوار ہر طرف سے بند ہے۔ خدام گنبد خضریٰ بھی اسی دیوار تک جاسکتے ہیں۔ ممتاز محقق محترم جناب راجا رشید محمود صاحب نے اس حوالے سے ایک معلومات افزا نقشہ اپنی کتاب ’’آثار مدینہ‘‘ کے صفحہ 97 پر دیا ہے، ملاحظہ فرمائیں۔
محترم راجا رشید محمود صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’۸۸ھ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حجرہ مبارکہ کو پانچ پہلو جنگلے حظار مزوّر (حرمت والا احاطہ) میںمحفوظ کیا۔ ۶۹۴ء میں ملک زین الدین نے اس جنگلے کو چھت تک بلند کردیا۔ سلطان قاتیبائی کے دور حکومت ۸۸۱ء میں اس میں موجود دروازے بھی بند کردیئے گئے۔ آخری آدمی امام نور الدین سمھودی علیہ الرحمہ تھے جو حظار مزوّر میں داخل ہوئے‘‘ (آثار مدینہ ص ۹۸، مطبوعہ مدنی گرافکس لاہور)
جب حظار مزوّر کے اندر جانے کا راستہ تھا تو اس وقت کیمرہ نہ تھا۔ جب کیمرہ ایجاد ہوا تو اندر جانے کا راستہ بند کردیا گیا تھا۔ لہذا مرقد منورہ کا فوٹو کس طرح ہوسکتا ہے۔ ممتاز سیاح افتخار احمد حافظ قادری اپنی کتاب ’’اولیائے ڈھوک قاضیاں شریف‘‘ کے آخر میں اس مضمون کے شروع میں دی گئی پہلی اور تیسری تصویر کے بارے میں اہم پیغام کے عنوان سے لکھتے ہیں:
’’ایک بلند اور طویل چبوترے پر یہ مقام حضرت مولانا جلال الدین رومی کا مزار مبارک ہے جو ترکی کے ایک خوبصورت شہر ’’قونیہ شریف‘‘ میں واقع ہے۔ الحمدﷲ اس بندۂ ناچیز کو نومبر ۹۵ء میں اس عظیم مقام پر حاضری کا شرف اور مثنوی پڑھنے کی سعادت حاصل ہوچکی ہے۔ بغیر تحقیق کے ان تصاویر کو نبی پاکﷺ کی قبرمبارک سے منسوب کرکے مختلف انداز میں استعمال کیا جارہا ہے۔ جو کسی طور بھی ایک گناہ سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ ۸۸۱ھ کے بعد حجرہ مبارکہ کے اصل مقام تک کسی ظاہری آنکھ کی بھی رسائی نہیں تو اتنی جدیدتصاویر کا حصول کس طرح ممکن ہوا۔ براہ کرم اس بات کی تصحیح کرلیں اور باقی لوگوں تک بھی یہ اہم پیغام ضرور پہنچائیں یہ آپ کی ذمہ داری ہے‘‘
علامہ یاقوت حمدی المتوفی ۶۲۶ء اور علامہ ابن موقل تحریر فرماتے ہیں:
’’عمر بن عبدالعزیز کی تعمیر کردہ پنج گوشہ دیوار میں کوئی دروازہ نہیں رکھا گیا اور نہ ہی اندر جانے کے لئے اس وقت کوئی دروازہ پایا جاتا ہے (معجم البلدان ج ۷ ص ۴۲۴ بحوالہ تاریخ المدینۃ المنورہ مطبوعہ لاہور)
مولانا ارسلان بن اخترمیمن دیوبندی نے ’’تبرکات نبویﷺ‘‘کا تصویری البم کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اہل سنت وجماعت کی تائید میں کافی مواد موجود ہے۔ وہ اس کے ص ۱۵۴ پر لکھتے ہیں:
’’مخمس دیوار جس کو عمر بن عبدالعزیز والی مدینہ نے ۸۸ھ میں بنوایا جو تراشیدہ پتھر کی تھی۔ محقق بات ہے کہ اس میں کسی جانب کوئی دروازہ نہیں اور اسی دیوار پر سبز غلاف پڑا ہوا تھا‘‘
حظار مزوّر پر غلاف کے بارے میں غیرمقلد عالم مولانا قاضی سلیمان منصور پوری نے بھی لکھا ہے:
’’اب اس عام عمارت پر ازسر تا پاکسوہ پڑی ہوئی ہے یعنی عمارت کا سراپا لباس سے ملبوس ہے۔ سب سے پہلے ہارون رشید کی ولادہ خیزران خاتون نے ۱۷۰ھ میں اس پر ریشمی پردے چڑھائے تھے (سفرنامہ حجاز ص ۲۴۰، مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور)
المختصر یہ کہ جب نبی علیہ السلام کی قبر انور کی تصور ثابت ہی نہیں تو پھر جعلی تصویریں مرقد شریف سے منسوب کرنا کتنے گناہ کی بات ہے۔ لہذا ہمیں سب سے پہلے خود اس سے بچنا چاہئے اور دوسروں کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کرنا چاہئے۔ واﷲ تعالیٰ و رسولہ اعلم بالصواب