295-C میں ترمیم کیوں؟


وطن عزیز پاکستان میں قرآن و سنت کی روشنی میں گستاخان انبیاء کرام کے لئے سزائے موت کا قانون بنا تو اہل ایمان کے دل باغ باغ ہوگئے۔ ان کے قلوب و اذہان مسرت و خوشی سے جھوم اٹھے اور ان کی آنکھیں ٹھنڈک پاگئیں کہ اب کوئی دریدہ دہن نبی آخرالزماں شفیع مجرماںﷺ کی ذات والاصفات بلکہ کسی بھی نبی و رسول کی توہین، بے ادبی یا گستاخی کرنے کی جسارت، جرات نہ کرنے پائے گا۔ لیکن اسی ملک خداداد پاکستان میں جہاں مصطفی جان رحمتﷺ کے چاہنے والے اور شیدائے خوش ہوئے، وہاں جانے کیوں کچھ لوگ تڑپ اٹھے، اور تب سے اب تک اس قانون میں ترمیم بلکہ تنسیخ کے درپے ہیں اور وقفے وقفے سے سر اٹھاتے رہتے ہیں لیکن جب بھی انہوں نے سر اٹھایا ’’سر منڈاتے ہی اولے پڑے‘‘ کے مصداق غلامان مصطفی نے ان کی سرکوبی کرالی۔ آیئے ان لوگوں کے اعتراضات (شکوک و شبہات) کا بنظر انصاف ایک جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا اعتراض: آپﷺ تو رحمتہ للعالمین تھے۔ اپنے دشمنوں اور راستے میں کوڑا کرکٹ ڈالنے والوں کو معاف فرما دیا کرتے تھے، تو ہم سزا کیوں دیں؟

دوسرا اعتراض: آپﷺ نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام لیا نہ ہی کسی کو سزا دلوائی؟

تیسرا اعراض: اس قانون کی وجہ سے بیرونی دنیا میں ہم دہشت گرد سمجھے جاتے ہیں۔ ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے اور پاکستان کا وقار ختم ہوکر رہ گیا ہے۔

چوتھا اعتراض: اگر کسی سے گستاخانہ کلمات ادا ہو ہی جائیں تو ضروری نہیں کہ اس کی نیت بھی گستاخی کی ہو۔ ہوسکتا ہے اس سے غیر ارادی طور پر ایسے الفاظ صادر ہوگئے ہوں تو اس کے لئے بھی یہی سزا کیوں؟

پانچواں اعتراض: اگر کوئی اپنے الفاظ پر تہہ دل سے نادم ہوکر توبہ کی طرف مائل ہو تو اسے تو اس سزا سے مستثنی ہونا چاہئے۔

چھٹا اعتراض: اس قانون کی آڑ میں لوگ ذاتی دشمنوں پر جھوٹا الزام عائد کرکے انہیں تختہ دار تک پہنچا دیتے ہیں۔

ساتواں اعتراض: یہ قانون اقلیتوں کے سر پر ایک ننگی تلوار ہے

آٹھواں اعتراض: ایسے مقدمات میں اگر ملزم بے گناہ بھی ہو تو جج صاحبان عوامی دبائو کے پیش نظر صحیح فیصلہ نہیں دے سکتے۔

جواب نمبر 1: اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اﷲﷺ رحمتہ للعالمین ہیں اور آپ نے جن لوگوں کے جرائم اور بے ادیبوں کو قابل معافی سمجھا اپنے حقوق معاف کرنے کا اختیار رکھتے ہوئے معاف فرمادیا۔ اس لئے کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہر شص اپنے حقوق معاف کرنے کا اختیار رکھتا ہے لیکن اگر بندہ خود معاف نہ کرے تو بندے تو بندے رہے۔ اﷲ بھی معاف نہیں فرماتا۔ اس لئے آج کے دور میں اگر کوئی بدبخت آپﷺ کی توہین کا مرتکب ہو تو امت اسے معاف کرنے کی کسی صورت بھی مجاز نہیں۔

جواب نمبر 2: جہاں تک دوسرے اعتراض کا تعلق ہے معافی کی مثالیں دینے والوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ حضورﷺ نے خود اپنے حکم سے اپنے کئی گستاخوں کو قتل بھی کروایا ہے۔ بغیر کسی تفصیل کے چند نام پیش خدمت ہیں جنہیں آقاﷺ نے حکماً قتل کروایا:

1: کعب بن اشرف یہودی کو محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ نے قتل کرکے حکم کی تعمیل فرمائی (بخاری و مسلم)

2: ابو رافع عبداﷲ بن ابی الحقیق کو عبداﷲ بن عتیق رضی اﷲ عنہ نے قتل کرکے تعمیل حکم فرمائی (بخاری و مسلم)

3: ایک گستاخ عورت کو حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ نے قتل کرکے حضور پاکﷺ کا حکم پورا کیا (مصنف عبدالرزاق)

4: ایک اور گستاخ عورت کو قتل کرنے کا شرف حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حاصل ہوا (مصنف عبدالرزاق)

5: ایک گستاخ مرد کو بھی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ہی نے حکم رسول پر قتل کیا (دلائل النبوۃ)

6: ایک گستاخ عورت کا قتل کرنے کا حضورﷺ نے حکم دیا تو اسی کے قبیلہ کے ایک شخص نے اس کا کام تمام کردیا (شفاء شریف)

فتح مکہ کے موقع پر رسول اﷲﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمانے کے باوجود چار مردوں اور دو عورتوں کے قتل کا حکم دیا جن میں سے:

7: عبداﷲ ابن حنظل کو غلاف کعبہ سے نکال کر سعید بن حارث رضی اﷲ عنہ نے قتل کرنے کی سعادت حاصل کی (نسائی شریف)

8: مقیس بن صبابہ کو بازار میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ نے قتل کرکے رسول اﷲﷺ کو خوش کیا (نسائی شریف)

جبکہ باقی دو حضرات عکرمہ بن ابی جہل اور عبداﷲ بن ابی السرح قتل ہونے سے پہلے ہی بارگاہ مصطفی میں حاضر ہوکر معافی کے خواستگار ہوئے اور مشرف باسلام ہوکر غلامان مصطفی میں شامل ہوگئے اور یوں رحمتہ للعالمینﷺ کی چادر رحمت میں ہمیشہ کے لئے پناہ لے لی۔

یہ وہ بدبخت تھے جنہیں حضورﷺ کے حکم خاص سے قتل کیا گیا۔ ان دلائل سے آج کا کوئی ’’روشن خیال‘‘ اور بزعم خویش ’’اسلامک اسکالر‘‘ یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ٹھیک ہے جن کے بارے میں حضورﷺ نے حکم دیا انہیں قتل کردیا گیا لیکن ہمیں تو حکم نہیں دیا گیا تو ہم کسی کو یہ سزا کیسے دے سکتے ہیں۔ جواباً گزارش ہے کہ ان دلائل سے اولاً تو ہمیں گستاخان رسول کی سزا معلوم ہوگئی آئندہ جو بھی اس جرم میں گرفتار ہوگا اس کی سزا یہی ہوگی۔ ثانیاً اگر کوئی بضد ہوکہ بغیر حکم کے یہ سزا نہیں دی جاسکتی تو اسے درج ذیل دلائل پر غور کرنا چاہئے جن میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲﷺ کی ظاہری حیات طیبہ میں خود ہی گستاخان رسول کو ٹھکانہ لگادیا اور حضورﷺ نے ان کے اس عمل کو نہ تو غلط کہا اور نہ ہی قصاص یادیت دلوائی۔ بلکہ ان کے عمل کوپسند فرمایا۔

1: سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ایک منافق (بظاہر مسلمان) کو صرف رسول اﷲﷺ کا فیصلہ تسلیم نہ کرنے پر قتل کرڈالا۔ آپ کے اس عمل کو نہ صرف مصطفیﷺ نے سراہا بلکہ خود خدا نے بھی اپنے لاریب کتاب میں تائید کردی (سورۃ النسائ۔ 65)

2: ایک نابینا صحابی نے اپنے دو بچوں کی ماں (اپنی باندی) کو رسول اﷲﷺ کی گستاخی کرنے پر قتل کردیا (ابو دائود شریف)

3: ایک یہودیہ کو گستاخی پر ایک صحابی نے گلا گھونٹ کر ابدی نیند سلادیا (مشکوٰۃ شریف)

ممکن ہے ان روش دلائل کے بعد کوئی غامدی زدہ کلین شیو یہ کہہ بیٹھے کہ چلیں صحابہ صحابہ نے جو جو کیا انہیں رسول اﷲﷺ کی تائید تو حاصل ہوگئی۔ آپ بعد کی کوئی دلیل لایئے کہ کسی کو توہین رسالت پر یہ سزا دی گئی ہو۔ تو لیجئے قارئین کرام! دلائل حاضر ہیں ملاحظہ فرمایئے:

1:سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں والی یمن مہاجر بن امیہ رضی اﷲ عنہ نے گانوں میں توہین رسول کرنے والی ایک خاتون کے دانت بھی تڑوادیئے اور اس کے ہاتھ بھی کٹوا دیئے۔ جب یہ خبر تاجدار صداقت، خیر امت اور بعد الانبیاء افضل البشر سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کاش تم ایسا نہ کرتے تو میں یقینا اس کے قتل کا حکم دیتا (شفاء شریف) معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک بھی شاتم رسول کی سزا قتل ہی ہے۔

2: ایک شخص امامت کرتے ہوئے توہین رسالت کی نیت سے سورۃ عبس کی ابتدائی آیات پڑھتا تھا۔ جب تاجدار عدالت سیدنا عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو پتہ چلا تو آپ نے اس کی گردن اتروادی(روح البیان)

ایسے روشن اور کثیر دلائل کے بعد بھی اگر کوئی توہین رسالت کے مرتکب کی سزا ’’قتل‘‘ ماننے کے لئے تیار نہیں تو پھر اس دن کے لئے کوئی جواب سوچ لے جس دن مصطفی جان رحمت ﷺکے دامن خی سوا کہیں پناہ نہ ملے گی۔ یہاں ایک اور شبہ پیدا کیا جاسکتا ہے کہ رحمتہ للعالمین ہوتے ہوئے آپ کسی سے ذاتی انتقام لے کیسے ہیں۔

قارئین کرام! یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے کہ آپﷺ کی ذات کی حیثیت فقط ایک فرد کی نہیں بلکہ آپ کی ذات بابرکات تو اسلام، ایمان، قرآن بلکہ خود رحمن کی پہچان کا نام ہے۔ جب ایسا ہے تو آپ ک یبے ادبی دین کی بے ادبی بھی ہوگی اور اسلام کی بھی۔ قرآن کی بھی اور خود رحمن کی بھی۔ کیا صدر پاکستان کی توہین کو پاکستان کی توہین نہیں سمجھا جاتا۔ اور کمرہ عدالت میں جج سے الجھنے کو توہین عدالت نہیں تصور کیا جاتا؟

یہاں پر ایک اور مغالطہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آپﷺ کی توہین اسلام، ایمان، قرآن اور رحمن کی توہین ہے تو پھر آپ نے بعض لوگوں کو معاف کیوں کردیا۔ جواب بڑا آسان ہے کہ آپﷺ نے رب ذوالجلال کے دیئے ہوئے علم سے جس کے جرم کو قابل معافی سمجھا رب ذوالجلال کے دیئے ہوئے اختیار سے معاف فرمادیا۔ جس کا جتنا اور جس نوعیت کا جرم تھا آپﷺ نے اس کے مطابق فیصلہ فرمادیا۔ ہمیںاس میں پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔

یہاں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ کرتا چلوں کہ بعض حضرات اس سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ آپﷺ نے اپنی ذات کے لئے کبھی انتقام نہیں لیا البتہ جن لوگوں نے آپﷺ کے مشن میں رکاوٹ ڈالی، ان کو آپﷺ نے کبھی معاف نہیں کیا حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ آپﷺ نے اپنے مشن کے مخالفین کے ساتھ ہمیشہ میدان جنگ میں مقابلہ و مقاتلہ کیا جبکہ اپنے ذاتی گستاخوں کو حکماً قتل کروایا۔ آپﷺ کی ذات کی حیثیت اوپر واضح کی جاچکی ہے۔

جواب نمبر 3: تیسرے اعتراض کے جواب میں گزارش ہے کہ بیرونی دنیا کے ڈر سے کیا ہم ناموس رسالت کے تحفظ سے ہاتھ اٹھالیں اور رسول اﷲﷺ کے گستاخوں کو کھلی چھٹی دے دیں؟ بیرونی دنیا اگر کل ہم سے خدا کو ایک ماننے پر ناراض ہوجائے تو کیا ہم خدا کو ماننا چھوڑ دیں گے؟ دوسری بات یہ ہے کہ بیرونی دنیا اپنے قوانین کیا ہم سے پوچھ کر اور ہماری پسند وناپسند کو سامنے رکھ کر بناتی ہے؟ نہیں نا! تو ہم کس اصول کے تحت ان کے جذبات کے پابند رہیں؟ تیسری بات یہ کہ ان کا اپنا کردار کتنا شفاف ہے۔ عراق، فلسطین، افغانستان اور کشمیر میں جو کچھ بیرونی دنیا کررہی ہے دہشت گردی وہ ہے نہ کہ ناموس رسالت کا تحفظ۔ جہاں تک پاکستان کے وقار کا تعلق ہے خاکم بدہن اس قانون کو ختم کرکے اگر گستاخوں کو کھلی چھٹی دے دی جائے اور گستاخیوں کو عام ہونے دیا جائے تو کیا پاکستان کا کھویا ہوا وقار بحال ہوجائے گا۔ ٹھنڈے دل سے سوچئے گا۔

جواب نمبر 4: چوتھے اعتراض کے بارے میں جان لیں کہ توہین کا اعتبار نیت پر نہیں الفاظ اور عرف عام میں ان کے مفہوم پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے والد صاحب کو گدھا کہہ دے اور والد صاحب کے پوچھنے پر کہے کہ میری نیت آپ کی توہین کرنا نہیں بلکہ آپ کی شرافت کا اظہار ہے۔ گدھا بھی شریف جانور ہے اور آپ بھی شرافت کا پیکر ہیں تو والد اس کی نیت کو دیکھے گا یا الفاظ کو۔ جب ماوشما کے لئے بولے جانے والے الفاظ ہی ہماری عزت یا ذلت کا فیصلہ کرتے ہیں نیت کا دخل نہیں مانا جاتا تو انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے لئے کلیہ و قاعدہ اس سے جدا کیوں؟ نیز قرآن مجید فرقان حمید سے بھی یہی اصول ملتا ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ’’راعنا‘‘ کے الفاط کبھی بھی گستاخی کی نیت سے نہ کہے تھے لیکن رب العزت نے انہیں بھی یہ کلمہ کہنے سے منع فرمادیا۔ اس کے بعد اگر کوئی اچھی نیت سے بھی کہتا تو گستاخی ہی ہوتی حالانکہ یہ کلمہ تو فی نفسہ گستاخی والا تھا بھی نہیں۔ آج اگر کوئی گستاخانہ کلمات بھی کہہ جائے اور پھر نیت درست ہونے کی آڑ لے تو اسے کیسے معاف کیا جاسکتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر نیت اور ارادے کی اچھائی برائی کو درمیان میں ڈال دیاجائے تو یہ گستاخوں کو ایک ہتھیار تھما دینے کے مترادف ہوگا۔ آئے روز کوئی نہ کوئی گستاخی کرے گا اور پھر غیر ارادی طور پر ایسا ہوجانے کاعذر کرکے چھوٹ جائے گا۔

جواب نمبر 5: پانچویں اعتراض کے حوالے سے عرض ہے کہ توبہ کا معاملہ سمجھنے سے پہلے دو اصطلاحات کا جان لینا ضروری ہے:

(1) لزوم کفر           (2) التزام کفر

لزوم کفر کے معنی ہیں ’’کفر کا لازم ہوجانا‘‘ اور التزام کے معنی ہیں ’’کفر کو اپنے اوپر لازم کرلینا‘‘ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ خود قائل کو اپنے ادا کردہ کلمات کے مفہوم کاپتہ نہ ہو۔ یہ لزوم کفر کی صورت ہے۔ یعنی اس کے الفاظ تو کفریہ کہلائیں گے مگر اسے کافر نہیں کہا جائے گا۔ اسے اس کے الفاظ کی حقیقت بتا کر توبہ کی طرف راغب کیا جائے گا۔ اگر اپنے الفاظ کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے فورا توبہ کرلے تو ٹھیک ہے۔ اور اگر ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے توبہ سے گریزاں رہے تو اس پر التزام کفر متحقق ہوجائے گا اور اب وہ کافر کہلائے گا اور سزا کا مستحق بھی ٹھہرے گا۔ اگر کسی شخص سے شان انبیاء میں عدم علم کی بنیاد پر کفریہ کلمات ادا ہوجائیں اور قوی دلائل و قرآئن سے یہ بات ثابت ہوجائے کہ قائل کو معافی کا علم نہ تھا تو ایسے شخص کو سمجھایا جائے گا اور توبہ و رجوع کا موقع دیا جائے گا۔ اگر توبہ و رجوع کرے تو بہتر ورنہ التزام کفر متحقق ہوجائے اور وہ شخص مرتد ہوکر واجب القتل قرار پائے گا۔

جہاں تک صریح اور واضح الفاظ میں توہین و گستاخی کے مرتکب کی توبہ کا تعلق ہے اس کی جمہور فقہا کے نزدیک توبہ نہیں اور وہ واجب القتل ہے جبکہ فقہا کے ایک محدود طبقے کے نزدیک اگر کوئی فی الواقع اپنے شنیع وقبیح فعل پر نادم ہوکر مائل بہ توبہ ہو تو اس سے توبہ کرائی جائے گی تاہم سزا وہی رہے گی یعنی قتل ہی کیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوگا کہ جب سزا معاف نہیں تو توبہ کیوں کرائی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ گستاخی کرنے والا اگر پہلے مسلمان ہو تو گستاخی کرتے ہی وہ مرتد ہوجاتا ہے اب نہ اس کی نماز جنازہ جائز رہتی ہے اور نہ کفن دفن۔ جب توبہ کرے گا تو اس کی مسلمانی واپس آجائے گی اور بعد از قتل اس کی نماز جنازہ پڑھنا بھی جائز ہوجائے گی اور کفن دفن بھی۔ نیز اگر سچے دل سے توبہ کی ہوگی تو بروز حشر بھی کام آسکتی ہے۔

جواب نمبر 6: چھٹے اعتراض کی بابت التماس ہے کہ اگر کوئی کسی پر جھوٹا الزام لگاتا ہے تو عدالت کا کام ہے کہ صحیح صورت واقعہ تک پہنچ۔ حقیقتاً اگر الزام جھوٹا ہو تو الزام لگانے والے کے لئے بھی شریعت میں مفتری کی سزا موجود ہے۔ جھوٹا الزام لگانے والوں اور ذاتی دشمنی کی بنیاد پر 295-C کی آڑ لینے والوں کو قانون شریعت کے مطابق سرعام سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی جرات نہ ہو۔ اس مسئلہ کا یہ حل نہیں کہ توہین رسالت کا قانون ہی بدل دیا جائے یا ختم کردیا جائے۔ ہمارے تھانوں میں روزانہ کتنی جھوٹی FIR درج کرائی جاتی ہیں اور بے گناہوں کا گناہ گار ٹھہرایا جاتا ہے۔ تو کیا FIR درج کرنا ہی بند کردیا جائے۔

جواب نمبر 7: ساتویں اعتراض کے حوالے سے یہ جان لیں کہ یہ تصور ہی غلط اور خود ساختہ ہے کہ یہ قانون صرف اقلیتوں کے لئے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کا اطلاق ہر اس فرد پر ہوتا ہے جو گستاخی کا مرتکب ہو اس کا تعلق چاہے اقلیت سے ہو چاہے اکثریت سے۔ مسلمانوں سے ہو یا غیر مسلموں سے۔ پاکستانیوں سے ہو یا غیر پاکستانیوں سے اور وہ فرد مرد ہو یا عورت۔

نیز یہ قانون ننگی تلوار نہیں بلکہ ننگی تلوار سے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اس قانون سے پہلے اگر کسی پر گستاخی کا الزام لگتا تو بغیر تحقیق کے اور ملزم سے کوئی وضاحت لئے بغیر ہر کوئی اس کی گردن اڑا دینے کے لئے تیار ہوجاتا۔ لیکن اب ملزم جب تک عدالت کے روبرو مجرم ثابت نہ ہوجائے سزا سے محفوظ رہتا ہے۔ اور لوگ بھی دست درازی سے باز رہتے ہوئے عدالتوں کا ہی رخ کرتے ہیں۔

یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ یہ قانون صرف جناب رسالت مآبﷺ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی گستاخی و بے ادبی کرنے والوں کے لئے ہے۔

جواب نمبر 8: آٹھویں اعتراض کے متعلق گزارش ہے کہ اگر یہ قانون اس لئے قابل تنسیخ یا ترمیم ہے کہ جج صاحبان عوامی دبائو کے پیش نظر درست اور مبنی برانصاف فیصلہ نہیں کرسکتے تو پھر تو وہ سب قوانین بھی ختم کرنا پڑیں گے جن کا درست اور مبنی برانصاف فیصلہ کرتے ہوئے کبھی رشوت کا دبائو بڑھ جاتا ہے تو کبھی سفارش کا۔ کبھی دشمنی کا خوف آڑے آجاتا ہے تو کبھی کسی عزیز کی ہمدردی قلم کا رخ موڑ دیتی ہے۔ اور یہ بھی بتایئے گا کہ ان قوانین کا کیا کیا جائے جن کا درست فیصلہ سامنے آنے کے امکان پر یا تو ججز کا تبادلہ کردیا جاتا ہے یا انہیں برطرف کردیا جاتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ عوامی دبائو تلے دب کر درست فیصلہ نہ کرسکنا جج کی کمزوری یا غلطی تو ہوسکتی ہے قانون کی نہیں۔ لہذا جج کی اصلاح کے بارے میں سوچا جائے نہ کہ قانون کے بارے میں۔ نیم حکیم (ڈاکٹر) کے غلط علاج پر ڈاکٹر کا معالجہ سلجھانے کے بجائے اسپتال بند کروادینا کون سی عقلمندی ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ اگر ججز (نہ صرف ججز بلکہ ہر مسلمان) کوئی بھی فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اس عدالت کا تصور ذہن میں رکھ لیں کہ جس میں سب کے فیصلوں کا فیصلہ احکم الحاکمین نے کرنا ہے تو عوامی دبائو ان شاء اﷲ ایمانی بہائو میں بہہ جائے گا۔

٭٭٭