الحمداللہ آج ہم 62واں یوم آزادی منانے جارہے ہیں۔اور اِس آزادی پر خوشیاں منانایقینا زندہ وجاوید قوم کی نشانی ہے۔کیونکہ مفکر پاکستان(علامہ اقبال)فرماتے ہیں
غلامی میں کام آتی ہیں نہ شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقین پیدا توکٹ جاتی ہیں  زنجیریں
اورجہاں تک خوشیاںمنانے کی بات ہے تو یہ حکم قرآن بھی ہے کہ جب کسی نعمت کاحصول ہوتو اُس پرخوب خوشی کااظہار کیاجائے
اللہ عزوجل  ارشاد فرماتاہے :
وامابنعمۃ ربک فحدث (سورہ الضحیٰ آیت11)
(ترجمہ)    اور اپنے رب کی نعمت کاخوب چرچاکرو
اورایک مقام پر یوں ارشاد ہوتاہے۔
(ترجمہ)آپ  فرمادیجئے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر( مسلمان کوچاہیے کہ) خوشیاں منائیں۔ (سورہ یونس)
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتاہے۔  واشکرولی ولاتکفرون
(ترجمہ)اور میرا شکر کرو اور ناشکری مت کرو
یقینا آزادی بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور یہ اس پاک ذات کا ہم پر بہت بڑافضل ہے کہ اُس نے ہمیں یہ سر زمین عطاء فرمائی اوراللہ تعالیٰ نے اس پاک سرزمین  کو معدنی وسائل سے مالامال فرمادیا۔
چنانچہ اللہ رب العزت نے شکرگزاری کی تعلیم دی ہے اور کفران نعمت سے منع فرمایاہے۔ارشاد ہوتاہے۔
فبِاَیِ الاء ربِکماتکذبن
(ترجمہ)اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائوگے
یقینا ایسی سرزمین بغیر کسی محنت و مشقت کے حاصل ہوجائے تو یہ ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنادیاہے کہ
(ترجمہ)اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کواُس وقت تک نہیں بدلتاجب تک وہ خود اپنی حالت کو بدلنے کی فکر نہ کرے۔
برصغیر کے مسلمانوں نے جب یہ دیکھا کہ ہندوستان میںمسلمانوں پر طرح طرح سے ظلم و ستم بڑھتاجارہاہے اُن کے حقوق تلف کئے جارہے ہیں انہیں تجارت و معیشت ،تعلیم و تدریس ،تہذیب وثقافت عدل وانصاف ،مساوات و بھائی چارگی ،غرضکہ تمام معاملات میںکم تر گرداناجارہاہے اور ہندوئوں کو برتر خیال کیاجارہاہے،انہیں اپنے سیاسی ومذہبی اعتقاد وافکار اور افعال سے روکا جارہاہے۔آزادانہ اسلامی رسم و رواج پر قدغن لگائی جارہی ہے اس کے علاوہ مسلمانوں کو ہر ہر سطح دبایاجارہاہے جس طرح کسی انسان کا گلادبادیاجائے تو اُس کا سانس گھٹنے لگتاہے اب بھلا ایسے حالات میں بھی مسلمان ایک پلیٹ فارم پر مجتمع نہ ہوتے توکب ہوتے؟۔اب بھی اگر گھٹ گھٹ کر جیتے تو ایسے جینے کاکیافائدہ۔لہٰذا وہ خواب جو مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھااور پاکستان کے تصور کو پیش فرماکر دو قومی نظریہ کااحیاء فرمایا جس کاآغازحضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اکبر بادشاہ کے سامنے کیا۔جب دین اکبری قائم ہونے جارہاتھا۔اور اُس وقت جبکہ اکبربادشاہ کے سامنے کوئی بولنے والانہ تھا۔حضرت شیخ مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے نسبت نبویﷺ کااحیاء فرمایا اور اپنے مکتوبات شریف کے ذریعے ایسا انقلاب برپا فرمایا کہ دین اکبری کی سلطنت کو تہس نہس کرڈالااور بدعات کاخاتمہ فرماکر صحیح دین محمدی ﷺ کو پیش کیا۔اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے برصغیر میں دو قومی نظرئیے کے وجود کو قائم رکھا۔پھر انسیویںصدی عیسوی میںدوبارہ ہندومسلم بھائی بھائی کے نعرے لگنے لگے ۔گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگادی گئی ۔ہندووانہ عمل کے دخل میں بے تحاشااضافہ ہوتاچلاگیاجس کے سبب مسلمانوں کااحساس محرومی بڑھتاچلاگیا۔جس کو دیکھتے ہوئے اپنے وقت کے مجددمائتہ حاضرہ حضرت مولاناشاہ امام احمدرضاخان فاضل بریلوی (رحمۃ اللہ علیہ)اورمفکر اسلام  ڈاکٹرعلامہ محمداقبال (رحمۃ اللہ علیہ)نے دوقومی نظریہ پیش کیااور جس نظریئے نے مسلم لیگ کے قیام کے بعدقائد اعظم محمدعلی جناح کی قیادت میںتحریک پاکستان کی صورت میں مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا۔اور آزادانہ اپنے دین اور مذہب پر عمل کرنے کیلئے ایک الگ وطن کے حصول کی جدوجہد شروع کرڈالی ۔اور یقینا 14اگست 1947ء کو قائد اعظم کی قیادت میں مسلمان ایک الگ وطن کے حصول میں کامیاب ہوگئے اور اپنی حالت کو بدلنے کیلئے قربانیوں کاایک ایسا مینار کھڑا کرڈالا جس کی تابناکی سے قیامت تک روشنی اور نور کی کرنیں جھلملاتی رہیں گی اور ہجرت مدینہ (بلامثال و بلاتشبیہ)کی طرح اِس تاریخ کی سب سے بڑی قربانی کی یاد دلاتی رہے گی جس میں تقریباً 20لاکھ نفوس نے اپنی جانیں جان آفریں کے سپردکیں۔پاکستان بنتے وقت کے واقعات کامطالعہ کرنایقینا بڑادردناک منظر پیش کرتاہے۔قصہ مختصر میںیہ عرض کررہاتھا کہ اللہ تعالیٰ کانعمتوں کے حصول کے بعد شکر کرناحکم قرآن و سنت ہے۔
محترم قارئین:۔کیا وہ مقاصد اور نظریات جو قیام پاکستان کے وقت پائے جاتے تھے آج تک اُن پر عملدرآمد ہوتاہوانظرآیا؟بالکل نہیں ایساکیوںہوا؟
یقینا اس پیچھے کئی عوامل ہیں کچھ اندورنی ہیں اور کچھ بیرونی سازشیں ہیں اور وہ عوامل بالکل ظاہر و باہر ہیں ان میں جو اندرونی عوامل مقاصد پاکستان کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اُن میں سب سے بڑاکردار طبقہ اشرافیہ کاہے۔اُن لوگوں کا ہے جوحکمران طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو صاحب اقتدار ہیں جو طاقت ور ہیں اور جنہیں بیرونی ہاتھوںنے اقتدار کی زمام تھمائی ہوئی ہیںجو مغرب کاایجنڈالے کر ہم پر حکومت کرتے چلے آرہے ہیں۔بقول حامدمیر(جوکہ روزنامہ جنگ کے صف اول کے صحافی ہیں)’’پاکستانی قوم دنیا کی بہترین قوموں میں سے ایک لیکن بدقسمتی سے اس قوم کا واسطہ دنیا کے بدترین حکمرانوں سے رہاہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جیسی قوم ہوتی ہے اُسے ویسے ہی حکمران ملتے ہیں۔تاریخی لحاظ سے تویہ رائے درست ہے لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پاکستانی قوم نے برے حکمرانوں کوکبھی خوشدلی سے قبول نہیںکیا۔بلکہ کسی نہ کسی اندازمیں اُن کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔ 14اگست 2009ء کو پاکستانکی عمر62سال ہوجائے گی۔تاریخ بتاتی ہے کہ چار فوجی ڈکٹیٹروں جنرل ایوب ،یحییٰ  خان ،جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے کل ملاکر 33سال تک پاکستان پر حکومت کی جبکہ سیاست دانوںنے مجموعی طورپر29سال تک حکومت کی فوجی ڈکٹیٹروں نے پاکستان کو کیادیا؟جنرل ایوب خان نے اپنی وردی کے زور پر محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دے کر پاکستان کو دولخت کرنے کی بنیادرکھی۔سندھ طاس معاہدے کے نام پر تین دریائوں کا پانی بھارت کو بیچ دیا۔جنرل یحییٰ کے دور میں پاکستانی فوج نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں سرنڈرکیااور پاکستان ٹوٹ  گیا جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھارت نے سیاچن پر قبضہ کرلیااور جنرل پرویز مشرف کے دور میں لاکھوں کشمیریوںکی قربانیوں کاسوداکرنے علاوہ پاکستان کو امریکہ کی جنگ میں جھونک کر جگہ جگہ آگ  لگادی گئی۔
یہ کہناغلط نہ ہوگا کہ جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویزمشرف تک ہر فوجی ڈکٹیٹرکو جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں نے کبھی قبول نہیںکیا۔اور ان کے خلاف مزاحمت جاری رکھی لیکن یہ جماعتیں جب بھی اقتدار میں آئیں توان کی قیادت سے ایسی غلطیاں سرزد ہوئیں جن کے نتیجے میںجمہوریت باربارقتل ہوتی رہی۔(حوالہ روزنامہ جنگ کالم بعنوان یہ قوم اتنی بھی کمزورنہیں)حامدمیر تاریخ 06-08-09
اے دردمند پاکستانیو! اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایاکہ اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو۔کیونکہ مایوسی اندھیرا ہے اور زندہ قوموں کا یہ کام ہے کہ اپنی غلطیوںپر اللہ کی پاک بارگاہ میں رجوع کریں اپنی نادانیوں پر معافی طلب کریں اور پھر سے ایک نیا عزم،حوصلہ اور اپنے رب عزوجل پر توکل کرتے ہوئے اِس ملک خداداد کو صحیح راستہ پر گامزن کرنے کی کوشش کریں اور جوجو غلطیاں انفرادی یا اجتماعی سطح پر ہوچکی ہیں اُن کا تدارک کرنے کی کوشش کریں ۔یقیناً ہمیں مایوس ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں۔الحمدللہ! ہمارے پیارے وطن میںمحب وطن حضرات کی کوئی کمی نہیں۔ہمارے پاس بہترین علماء،ڈاکٹرز،انجینئر ، سائنٹس،اساتذہ ،پروفیسرزاور اب تو بہترین اعلیٰ عدلیہ کے شاندار ججز جنہوں نے ملک و قوم کی بہتری کیلئے انصاف و قانون کی راہ میں حائل تقریباً تمام رکاوٹوں کوختم کرنے کی حتی کالامکان کوشش کی اِن ججز کے پختہ عزم اور حوصلہ کی وجہ سے پوری پاکستانی قوم کو اعتماد حاصل ہوا۔تاریخ گواہ ہے کہ ان ڈکٹیٹرزکے سامنے اِس انداز میں آج تک کوئی کھڑانہ ہوسکا۔لیکن جس عزم اور بہادری کامظاہرہ موجود چیف جسٹس اور دیگر ججز نے کیا اُس کی مثال ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔احقر نے ماہنامہ ’’تحفظ‘‘کیلئے اپریل میںلکھے گئے مضمون (بارش کاپہلاقطرہ انقلاب کانقطئہ آغاز)میں یہ عرض کیاتھا کہ 16مارچ کو جس طرح پوری پاکستانی قوم نے اپنے اتحاد  کے ذریعہ حکومت کو مجبور کرڈالا جس کی وجہ سے حکومت نے چیف جسٹس سمیت تمام ججز کو بحال کردیا یہی وہ پریشر گروپ ہے جس کا راقم اپنے سابقہ مضامین میںکئی مرتبہ ذکرکرچکاہے۔اور اب جس طرح حکومتی معاملات پر نظررکھنے کیلئے آزاد عدلیہ اپنے فل اختیارات کے ساتھ وجود میں آچکی ہے۔جس کااندازہ 31جولائی 2009ء کو سابق ڈکٹیٹر جنزل پرویزمشرف کے 3نومبر2007ء کے اقدامات کوغلط قرار دے کر پی سی او ججز کو غیر فعال کرنے کی صورت میں آیا کیاجاسکتاہے۔اس کے علاوہ ایک پریشر گروپ اورہوناچاہیے۔جس میںہر طبقے کے لوگوںکو شامل ہوناچاہیے خواہ علماء ہوں یاوکلاء ڈاکٹرزہوں یا انجینئرز اساتذہ ہوں یا پروفیسرزصحافی ہوں یا سول سوسائٹی کے کسی بھی شعبے کی نمائندگی کرنے والے معزز افراد ان تمام پر مشتمل ایک بہت بڑے پریشر گروپ کی تشکیل اب وقت کا تقاضہ ہے 62سال سے ظلم و جبر کاشکارعوام مہنگائی کی چکی میں پستے پستے آج اِس حال کو پہنچ چکے ہیں کہ اکثریت کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ۔اقبال نے کہا
ہم کو تو میسر ہی نہیں مٹی کا دیابھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
ورثہ میں ملی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کا نشیمن
آئیے ! مقاصد پاکستان کا تحفظ کرنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں اور اُس اصل مقصد جس کیلئے یہ ملک وجود میں آیا یعنی اسلامی تعلیمات کانفاذنظام مصطفی ﷺ کامطالبہ وقت کا تقاضا ہے۔
بقول شفیق صدیقی صاحب:
تقاضا کررہا ہے اب وطن کا ہر گلی کوچہ
یہاں جاری کسی صورت نظام مصطفی کردو
آج 62واں یوم آزادی ہم سے تقاضہ کررہاہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں زبان،رنگ و نسل ،ذات پات سے بالاتر ہوکر سوچیں کیونکہ صرف تقویٰ و پرہیز گاری ہی بزرگی کی اصل علامت ہے۔
محترم قارئین: آج وقت یہ تقاضہ کررہاہے کہ ہم آپس میں مل جل کر رہیںآپس میںتفرقہ کا شکار نہ ہوں اپنے اندر  سے منافقت نکال باہر کریں جھوٹ اور بدعہدی سے بچیں حقوق العباد ،قوانین کی پاسداری اور اپنے ہر اس عمل اور فعل سے جس سے اسلام اور پاکستان بدنام ہوتاہے بازآجائیں آج پاکستان کو ناکام ریاست کہنے والوں کے منہ بند کرنے کیلئے یقیناً ہمیں اپنے قول وفعل سے یہ ثابت کرناہوگا کہ ہم میں نہ تو زبان کی بنیاد پر کوئی اختلاف ہے اور نہ ذات پات کی بنیاد پر اورنہ رنگ و نسل اورقوم قبیلہ کی بنیاد پر گذشتہ کئی دہائیوں سے یہ بات بھی بیرونی سازشی عناصرکہہ رہے ہیںکہ پاکستان قائم رہ سکتاہے؟ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجودمیں آیا‘ یقیناً اللہ پاک عزوجل اور رحمت دوعالمﷺکی نظررحمت سے یہ قائم رہنے کیلئے ہی بناہے چونکہ اللہ کے فضل سے ہم ایٹمی طاقت ہیںاوراسلامی ممالک میں واحدیہ صلاحیت صرف ہمارے ہی پاس ہے لہٰذا تمام  بدخواہوں کی نظریں ہم پراور ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی کی صلاحیت پر ہے اس کے علاوہ ہمارے جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے بھی ملک کو کمزور کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔لیکن کیا یہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں ہے کہ آج بھی ہماراپیاراوطن قائم ہے اورانشاء اللہ یہ قائم ہی رہے گا۔آج جشن آزادی مناتے ہوئے ہمیں یہ عہد کرناچاہیے کہ ہم ملک میں نظام مصطفی ﷺکونافذکرکے ہی دم لیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں علم وعمل اوراخلاص کی دولت سے مالامال فرمائے۔اور پاکستان کومزیدترقیاں اورپاکستانی قوم کو ایسی ہزاروں آزادیاں منانے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین