موجودہ دور کے چیلنجز اور ان کا حل

in Tahaffuz, September 2009, متفرقا ت, مولانا محمد شعیب سعیدی

یوں تواسلام کو ہر دور میں ملت کافرہ کی جانب سے خطرات اورمسائل کاسامنارہاہے لیکن موجودہ دورمیں جن چیلنجز کا سامناہے وہ اِس قدر کثیر ہیں کہ ان سے نمٹنا ایک امرناممکن نظرآتاہے۔آج عالم اسلام کے لئے ہرطرف ایک نیامحاذ کھول دیاگیاہے اور ہر میدان ان کیلئے چیلنج بنادیاگیاہے۔مذہب سے لے کر سیاست تک،سیادت سے لے کر قیادت تک،معیشت سے لے تجارت تک اور تعلیم سے لے کر تربیت تک ہر میدان میں ہمیں پرے دھکیل دیاگیاہے اور اٹھاکرپیچھے پھینک دیاگیاہے۔
اگرہم مذہب کی طرف نظراٹھاکر دیکھیں توہمیں دیوبندیت ،وہابیت، قادیانیت، مرزائیت ،چکڑالویت، پرویزیت اورغامدیت جیسے فتنے تحفے میں ملتے نظرآتے ہیں۔اور اگر ہم سیاست کی طرف دیکھیں تواسے دین سے دور کرکے اس میں چنگیزیت و دہشتگردی کاعنصر نمایاں کردیاگیاہے۔اگر ہم اپنی سیادت و قیادت کی طرف دیکھیں تو کلیتاً نااہل حکمرانوں کی جماعت ہمیں منہ چڑاتی ہوئی نظرآتی ہے۔اگر ہم اپنی معیشت کی طرفت دیکھیں تو دنیا کے 70فیصد وسائل کے مالک ہونے کے باوجود ان پر قبضے سے محروم نظرآتے ہیں۔اور اگر ہم اپنی تعلیم و تربیت کی طرف دیکھیں توکلیجہ پھٹ کر منہ کوآجاتاہے اور دل پسپاہوجاتاہے کہ ان ظالموں نے ہمیں ثریاسے اٹھاکر زمین پہ دے مارااور ہم سے ہمارے اسلوف کی میراث چھین لی۔
معززقارئین:۔ ہم ایک نظریاتی قوم تھے ان ظالموںنے ہمیں ہمارے نظریات سے دور کردیا۔ ہمارے دلوں سے روح محمدی ﷺ کو نکال کر اس کی جگہ موت کاخوف اور دنیاکالالچ بھردیاوہ قوم جس کے ہاتھوں کی زینت شمشیر و سنال ہواکرتے تھے آج ان کے ہاتھوں میں طائوس و رباب تھمادیا،وہ قوم جس کی تربیت عدل ،احسان، اخوت،تعاون، مساوات اور حلال و حرام میںتمیز زریں اصولوں پر ہوتی تھی آج اسے زنا ،شراب، چوری ،ڈاکہ زنی قتل و غارت گری ،وحشت و درندگی ،ظلم و بربریت اور فحاشی وعریانی کی طرف دھکیل دیاگیا ہمارا رشتہ گنبد خضراء سے توڑکر ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کردیاگیا،ہماری قوت اور غیرت وحمیت کاجنازہ نکال کر ہمیں کشمیر،فلسطین،عراق ،افغانستان اور بوسنیاو چیچنیا میں پیس کررکھ دیاگیا اور آج ہم سمندر کی جھاگ کے برابر ہونے کے باوجود جھاگ کی طرح بے بس و بے کس ہوکر رہ گئے ہیں اور ایسا کیوں ہوا؟صرف اس وجہ سے کہ ہم نے خداو رسولﷺ پر بھروسہ کرنے کی بجائے دنیا والوں پر بھروسہ کرلیا،اسلام کے زریں اصولوں کو ترک کرکے دنیا کے قوانین کو اپنالیااور جب ایسا ہواتودنیا کا ہرمعاملہ ہمارے لئے چیلنج بنتاچلاگیا اور ذلت و رسوائی ہمارا مقدر ٹھہرگئی۔
قارئین کرام:۔آج ان مسائل سے نمٹنے کاحل اور اس کے سدباب کے طریقے پوچھے جاتے ہیں حالاں کہ آج سے چودہ سو  سال پہلے ان مسائل سے نمٹنے کے طریقے بتادیئے گئے تھے ارشاد ہوا۔ ’’تم ہی غالب رہوگے اگر تم ایمان پر قائم رہے۔‘‘دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا’’واعتصموابحبل اللہ جمیعاولاتفرقوا‘‘یعنی تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو۔نیز سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اور ان سے بچنے کیلئے زریں اصول واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا’’ترکت فیکم امرین:ماان تمسکتم لن تضلواکتاب اللہ و سنۃ الرسول‘‘یعنی میں تمہارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑے جارہاہوں جب تک ان سے چمٹے رہوگے ہرگزراہ سے نہیں بھٹکوگیکتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ۔
قرآن ہمیں حکم دے رہاہے،’’یایھاالذین امنوا لاتتخذوا الیھودوالنصریٰ اولیائ‘‘اے ایمان والو! یہود ونصاری کو اپنایارومددگار نہ بنائو اور اس کی وجہ بھی بتادی کہ ’’بعضھم اولیاء بعض‘‘یعنی کیوں کہ ان میں سے بعض بعض کے مددگارہیں۔لیکن اس کے باوجودہم ان ہی کو یارومددگاربنائے ہوئے ہیں۔وہ ہمیں ترقی کاراز بتاتے ہوئے پکاررہاہے کہ ’’ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعاً‘‘یعنی کیا یہ لوگ (مسلمان)ان (یہودونصاری) کے پاس عزت وغلبہ کو تلاش کرتے ہیں پس بے شک عزت ساری کی ساری اللہ کے ہاں ہے لیکن ہم اس کے احکام کونظرانداز کرتے ہوئے امریکہ و اسرائیل کے تلوے چاٹنے میں لگے ہوئے ہیں
قارئین کرام:۔یادرکھنا کہ ہمیں اسلام کی ضرورت ہے،اسلام کو ہماری ضرورت نہیں،وہ غالب ہونے کیلئے آیاہے اور وہ غالب ہوکر رہے گا اگر چہ شیطان کے پجاری انہی پھونکوں سے اس چراغ کو لاکھ بجھانے کی کوشش کریں لیکن اس کانور کم ہونے والانہیں۔بلکہ وہ تمام ہوکر رہے گا۔کیوںکہ اللہ رب العزت نے قرآن میں واضح طورپر اعلان فرمادیاہے ۔’’یعنی وہی ہے دین کو غالب کردے دیگر تمام ادیان پر اگرچہ مشرکین اس کو ناپسند کرتے ‘‘ اور دوسرے مقام پر فرمایا’’یعنی کفاریہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھادیں حالاں کہ اللہ اپنے نورکو پایہ تکمیل تک پہنچانے والاہے اگرچہ کافروں پریہ ناگوارہی کیوں نہ گزرے۔‘‘
لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس دین کو غالب کرنے والے کون لوگ ہوں گے۔اس کا جواب اہل عقل کے سامنے عیاں ہے کہ وہی لوگ ہوںگے جو اس کے احکامات کواپنائیں گے اور اس کے اصولوں پر عمل پیراہوں گے۔
قارئین کرام:۔تف ہے ہم پر کہ ہم قرآن و حدیث کی اس طرح کھلم کھلا نافرمانی کرکے بھی اپنے مسائل کاحل دریافت کرتے ہیں۔کیااہل ایمان کے لئے ابھی تک وہ وقت نہیں آیا کہ انکے دل اللہ کے ذکر اور اس کے خوف سے پسیج جائیں ۔کیا اہل ایمان کے لئے ابھی تک وہ وقت نہیں آیا کہ وہ اغیار کاقلادہ گلے سے اتارکر نبی کریم ﷺ کی غلامی اختیار کریں کیااہل ایمان کیلئے ابھی تک وہ وقت نہیںآیا کہ وہ آپس کے انتشار وافتراق کوچھوڑکراللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔