۹۷۔ قل من کان عدوا لجبریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اﷲ مصدقا لما بین یدید وہدی و بشریٰ للمومنینo
۹۸۔ من کان عدواﷲ وملٰئکتہ ورسلہ و جبریل و میکٰل فان اﷲ عدو للکٰفرین o

 

کہہ دو کہ کون ہے دشمن جبرائیل کا‘ بے شک اس نے تو اتارا اس کو تمہارے دل پر اﷲ کے حکم سے۔ جو تصدیق کرنے والا ہے اس کا جو‘ اس کے آگے ہے اور ہدایت اور خوشخبری ہے مان جانے والوں کے لئے
جو ہوا دشمن اﷲ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائل کا‘ تو بے شک اﷲ دشمن ہے نہ ماننے والوں کا

 

کیسے احمق ہیں یہودیوں میں سے‘ عبداﷲ ابن صوریا اور اس کی بات ماننے والے لوگ‘ جو حضرت جبرئیل کو اپنا دشمن اس بناء پر کہتے ہیں کہ قوم یہود پر جتنے عذاب آئے‘ وہ حضرت جبرئیل ہی لائے۔ یہودیوں نے اپنے نبی سے سن لیا تھا کہ بیت المقدس کی فلاں قوم میں ایک شخص پیدا ہوگا جو لوٹ لے گا‘ اور یہودیوں کا قتل عام کرے گا۔ وہ لڑکا پیدا ہوا‘ اس کا نام بخت نصر تھا۔ یہودیوں نے چاہا کہ اس کو بچپن ہی میں مار ڈالیں‘ لیکن جب‘ سب بہ ارادہ قتل اس تک پہنچے تو جبرئیل تھے جنہوں نے اس کو قتل سے بچالیا۔ اور بالاخر اس کے ظلم سے یہودی خانماں برباد ہوگئے۔ اب بھی وہ جبرئیل ہی ہیں جو پیغمبر اسلام کے پاس آکر ہماری رسوائی کی داستان بتا جاتے ہیں اور ہمارے بھید کو کھول دیتے ہیں۔ ہم لوگ تو میکائل کو پسند کرتے ہیں اور جبرئیل کو جنم کا اپنا دشمن جانتے ہیں۔ چونکہ ہمارے ضد میں وہ قرآن لے کر آتے ہیں‘ تو ہم دشمن کی لائی ہوئی کتاب کو نہ مانیں گے۔ ان احمقوں سے اے پیغمبر اسلام (کہہ دو کہ) اے یہودیو! آخر تم میں سے (کون ہے دشمن جبرئیل) کی معصوم ذات (کا) آج تک جبرئیل نے جو کچھ کیا‘ از خود نہیں کیا‘ اپنے اﷲ تعالیٰ کا حکم بجا لاتے رہے اور اب بھی وہ اﷲ تعالیٰ کے قاصد ہی ہیں۔ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرتے بلکہ دیکھ لو (کہ بے شک اس) جبرئیل (نے تو اتارا اس) قرآن (کو) پڑھتے‘ سمجھاتے‘ یاد کراتے‘ ہوئے (تمہارے دل) حفظ منزل (پر) اپنی خودرائی سے نہیں بلکہ (اﷲ) تعالیٰ (کے حکم سے)‘ تو ان سے دشمنی حماقت ہے۔ وہ تو اﷲ تعالیٰ سے دشمنی ہوئی‘ اور پھر حضرت جبرئیل یہودیوں کے خلاف کیا لارہے ہیں۔ وہ قرآن لائے تو ایسا (جو تصدیق کرنے والا ہے اس) توریت و انجیل و زبور وصحف انبیاء (کا جو اس کے) بہت (آگے) سے اﷲ تعالیٰ کا اتارا ہوا (ہے) اپنی تصدیق کو لے کر آنے والے کو اپنا دشمن کہنا‘ پلے سرے کی کافرانہ حماقت ہے (اور) اس قرآن میں کوئی گتھی اور تاریکی نہیں ہے‘ بلکہ وہ سراپا (ہدایت) ہے (اور)اس میں عذاب کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ بلکہ عذاب سے بچانے کی ہر تدبیراس میں ہے۔ وہ تو صاف صاف (خوشخبری ہے) سارے (مان جانے والوں کے لئے) ہدایت و بشارت کو عذاب سمجھنا‘ نرے پاگل کافر کا کام ہے۔ ذرا یہودیوں کی اس چالبازی کو دیکھو کہ اپنا دشمن نہ خود کو زبان سے کہیں‘نہ فرشتوں کو‘ نہ رسولوں کو‘ اور نہ میکائل کو‘ صرف جبرئیل کو دشمن کہتے ہیں۔ حالانکہ جبرئیل کی دشمنی جس سبب سے بتاتے ہیں اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ اﷲ کے بھی دشمن ہیں۔ اور فرشتوں‘ رسولوں اور جبرئیل کے ساتھ میکائل اور سارے مقربان بارگاہ الٰہی کے بھی دشمن ہیں۔ ایک اﷲ کے پیارے کا دشمن‘ سب کا دشمن ہے۔
ان یہودیوں کو بتادو کہ تم میں سے (جو) بھی (ہوا دشمن اﷲ) تعالیٰ (اور اس کے) تمام (فرشتوں اور اس کے) سارے (رسولوں اور) خاص طور پر جبرئیل اور میکائیل کا) کہ ان میں ایک کی بھی دشمنی دوسرے کے ساتھ دشمنی ہے (تو) خوب سمجھ رکھو کہ (بے شک اﷲ) تعالیٰ بھی (دشمن ہے نہ ماننے والوں کا)