فاروق اعظم کا غیر مسلموں سے حسن سلوک

in Tahaffuz, September 2009, پروفیسر مسعوداحمد صاحب, د ر خشا ں ستا ر ے

ایک نظریاتی حکومت میں ان لوگوں کے لئے جگہ نہیں ہوا کرتی جو اس نظریئے کے دل سے مخالف ہوں اور ہر وقت کاٹ میں لگے رہتے ہوں… ایسے لوگوں کو گوارا کرنا مستقبل کے فتنوں کو دعوت دینا ہے لیکن فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے ایسے لوگوں کے ساتھ بھی حسن سلوک روا رکھا… ان کے مال کی حفاظت کی‘ ان کے جان کی حفاظت کی‘ ان کے مذہب کی حفاظت کی‘ ان کی تہذیب و تمدن کی حفاظت کی‘ ان کے غریبوں اور ضعیفوں کی کفالت کی‘ ان کے دشمنوں سے مقابلہ کیا… غرض وہ کچھ کیا جو اس ترقی یافتہ دور میں بھی نہیں کیا جاسکتا… اس ترقی یافتہ دور میں نظریاتی حکومتوں میں حکومت سے اختلاف رکھنے والا گردان زدنی‘ سوختنی اور کشتنی ہے… جہاں رواداری نظر آتی ہے وہاں صرف دکھاوا ہی دکھاوا ہے‘ حقیقت کچھ اور ہے… ڈبلیو منٹگمری واٹ (W. Montgomery Watt) غیر مسلموںکے عناد و اختلاف کے باوجود عہد فاروقی میں مسلمانوں کی وسعت قلبی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
ترجمہ: (ذمیوں کی) اس سرکشی اور خودرائی کے باوجود (جو مسلمانوں کی نظر میں سرکشی و خودرائی ہی تھی) سلطنت اسلامیہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کو ذمی کی حیثیت سے قبول کرنے کے لئے مسلمان تیار تھے اور یہ تسلیم کرتے تھے کہ ان یہود ونصاریٰ کی موجودگی سلطنت کی مذہبی اساس سے بالکل متصادم نہیں۔
ہم پرانی شراب کو نئے پیمانے سے ناپتے ہیں لیکن اصول تنقید یہ ہے کہ پرانی شراب کو پرانے پیمانے سے ہی ناپا جائے…اگر ایسا کیا گیا تو فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کا حسن سلوک‘ ظلم و استبداد او تعصب و تنگ دلی کی موجودہ فضائوں میں آفتاب عالم تاب کی طرح چمکتا نظر آئے گا… آئو آئو! اغیار کی جفا کاریوں کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اسلام کی اس چاندنی کا چھٹکنا دیکھو!
عہدوپیماں کی پاسداری‘ انسان کی شرافت و صداقت شعاری کا معیار ہے… جوشخص معمولی سے معمولی عہدوپیماں کا پاس لحاظ رکھتا ہے بلاشبہ وہ گلشن شرافت کا گل سرسبد اور دیار صداقت کا تاجدار ہے… فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے اغیار سے کئے گئے عہدوپیمان کا جو پاس و لحاظ رکھا شاید ہی کسی نے رکھا ہو… آج کل دوستوں سے کئے گئے عہدوپیماں کا خیال نہیں رکھا جاتاتو اغیار سے کئے گئے عہدوپیماں کا کہاں خیال رکھا جاسکتا ہے۔ بلکہ دور جدید مین تو عہد شکنی سیاسی مصلحتوں کا تقاضا ہے… لیکن فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کا دامن صداقت عہد شکنی کے داغ سے داغدار نہیں… دیکھو دیکھو رئیس خوزستان (ایران) ہرمز‘ دربار فاروقی رضی اﷲ عنہ میں قید ہوکر آیا ہے… گردن زدنی ہے کہ اس نے بہت سے مسلمان افسروں کو شہید کیا ہے‘ قتل کا مصمم ارادہ ہے‘ اچانک وہ پانی مانگتا ہے اور پانی پینے تک کی امان طلب کرتا ہے‘ امان دی جاتی ہے لیکن وہ پانی نہیں پیتا‘ رکھ دیتا ہے یا پھینک دیتا ہے‘ حاضرین ہکا بکا رہ جاتے ہیں‘ اگر کوئی اور ہوتا تو دشمن کی اس حرکت سے اور طیش میں آجاتا‘ لیکن نہیں نہیں فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے ہاتھ روک لیا۔ عہدوپیماں کی اس پاسداری کو دیکھ کر ہرمز حیران رہ گیا اور اسی وقت مسلمان ہوگیا۔
جب غالب‘ مغلوب سے معاہدہ کرتا ہے تو خواہ ایک ہی دین و ملت کے کیوں نہ ہوں لیکن ہمیشہ غالب اپنی بات اوپر رکھتا ہے اور اگرکسی مصلحت و حکمت کی وجہ سے بات نیچی رکھتا بھی ہے تو پھر عمل نہیں کرتا‘ وہ معاہدہ ایک افسانہ بن کر رہ جاتا ہے‘ دور جدید کی سیاست میں آئے دن یہ نظائر سامنے آتے رہتے ہیں لیکن دیکھو دیکھو فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کو دیکھو‘ سرزمین قدس میں ایک خادم ساتھ لئے چلتے آرہے ہیں‘ وہ خلیفۃ المسلمین ہیں لیکن فقیرانہ آرہے ہیں… ان کی سادگی نے شاہوں کے تکلفات خاک میں ملا کر رکھ دیئے… اور دیکھو بیت المقدس کے مغلوب عیسائیوں سے ایک معاہدہ کیا جارہا ہے… شاید تاریخ عالم اس معاہدے کی نظیر نہ پیش کرسکے۔ ۱۵/۶۳۶ء میں یہ معاہدہ لکھا گیا… حضرت خالد بن ولید‘ حضرت عمرو بن العاص‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف‘ حضرت معاویہ بن سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اس پر گواہ ہیں۔ ذرا اس معاہدے کی تمہید تو ملاحظہ ہو۔
’’یہ وہ امان ہے جو خدا کے غلام امیر المومنین عمر نے ایلیاء (بیت المقدس) کے لوگوں کو دی۔ یہ امان ان کے جان و مال‘ گرجا‘ صلیب‘ تندرست‘ بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لئے ہے‘‘
اور اب اس معاہدے کی تفصیلی دفعات ملاحظہ ہوں:
(۱) ان کے گرجائوں میں نہ سکونت کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے‘ نہ ان کو اور نہ ان کے احاطے کو نقصان پہنچایا جائے گا۔
(۲) نہ ان کی صلیبوں اور نہ ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی۔
(۳) مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہ کیا جائے گا۔
(۴) نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔
(۵) یونانیوں میں جو شہر سے نکلے گا اس کی جان و مال کو امان ہے تاآنکہ وہ جائے پناہ میں پہنچ جائے اورجو ایلیا (بیت المقدس) میں رہنا اختیار کرے تو اس کو بھی امان ہے اور اس کو جزیہ دینا ہوگا۔
ٹی ڈبلیو آرنلڈ (T.W. Arnold) نے اس معاہدے کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے:
ترجمہ: اس رواداری کی رفعت و بلندی کا اندازہ ان شرائط سے لگایا جاسکتا ہے جو مفتوحہ شہروں کے لئے منظور کی گئیں… یہ رواداری ساتویں صدی عیسوی میں نہایت حیرت ناک اور قابل توجہ ہے۔
معاہدے کے بعد فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ بیت المقدس میں داخل ہوئے… ایک پادری کے ساتھ ایک گرجا میں تشریف لے گئے کہ نماز کا وقت آپہنچا‘ پادری نے عرض کیا کہ گرجا میں ہی نماز ادا فرمالیں لیکن فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے وہاں نماز ادا نہ فرمائی کہ مبادا مسلمان اس گرجا کو مسجد بنالیں کہ امیر المومنین نے یہاں نماز ادا فرمائی ہے… اﷲ اﷲ یہ حزم و احتیاط اور معاہدین کے ساتھ یہ حسن سلوک!
فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے مذہبی تعصب و تنگ دلی کے اس دور میں وہ مذہبی آزادی دی کہ شاید اس ترقی یافتہ دور میں بھی میسر نہ ہو… عہد فاروقی کے تمام معاہدات اٹھا کر دیکھ لیجئے‘ مذہبی آزادی کی ضمانت نمایاں نظر آتی ہے… جرجان‘ آزربائیجان‘ موقان کے باشندوں سے جو معاہدات کئے گئے وہاں مذہبی آزادی کی ضمانت موجود ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا آزادی ہوگی کہ ان کے معاہد میں خود نماز پڑھنے سے احتراز کیا جائے۔
جو شخص مذہبی آزادی کے معاملے میں اتنا روشن خیال ہو‘ کیا وہ اپنے غلام استشیق سے بھی باز پرس نہ کرے‘ صرف ترغیب و تشویش سے کام لے‘ جب وہ نہ مانے تو آیت قرآنی پڑھ کر خاموش ہوجائے… لا اکراہ فی الدین… بھلا دوسروں سے مذہب کے معاملے میں کیا باز پرس کرتا!
ٹی پی ہیوز (T.p. Hughs) نے فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی رواداری کا ذکر کرتے ہوئے بنو تغلب کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جب انہوں نے حضرت ولید بن عقبہ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اورآپ نے تبدیلی مذہب پر ان کو مجبور کرنا چاہا تو دربار خلافت سے یہ فرمان جاری ہوا۔
ترجمہ: آپ نے تحریر فرمایا کہ ’’ان کو دین عیسوی پر ہی رہنے دو‘‘
مصرکی مکمل فتح کے بعد بہت سے قبطی اور رومی گرفتار ہوکر آئے‘ فاتح مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہ نے فاروق اعظم سے استفسار فرمایا تو جواب آیا:
’’سب کو بلا کر کہہ دو کہ ان کو اختیار ہے‘ مسلمان ہوجائیں یا اپنے مذہب پر ہی رہیں۔ اسلام قبول کرلیں تو ان کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں ورنہ جزیہ دینا ہوگا جو تمام ذمیوں سے لیا جاتا ہے‘‘
دور جدید کے مورخ فلپ کے ہٹی (Philp.K.Hitti) نے اگرچہ فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے معاملے میں زیادہ انصاف سے کام نہیں لیا لیکن یہ اعتراف اس نے بھی کیا ہے کہ آپ کے عہد مبارک میں غیر مسلموں کو بالکل مذہبی آزادی حاصل تھی‘ وہ لکھتا ہے:
ترجمہ: قانون اسلامی کے دائرہ سے باہر ہونے کی وجہ سے ذمیوں کو اپنے مذہبی فرقوں کے مقدمات فیصل کرنے کا عدالتی اختیار حاصل تھا۔
مشہو رشیعہ مورخ امیر علی نے بھی فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی اس رواداری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
مسلمانوں کو حکما لوگوں کے دین میں مداخلت سے روک دیا گیا۔
ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی رواداری کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:
ترجمہ: ذمیوں کو اپنے مذہبی رسوم ادا کرنے کی بلاروک ٹوک کھلی اجازت تھی۔
معاہدین کے علاوہ وہ غیر مسلم جنہوں نے برضا و رغبت خلافت اسلامی میں رعیت کی حیثیت سے رہنا قبول کیا‘ یعنی ذمی‘ ان کا بھی پورا پورا خیال رکھا گیا‘ ان کو جو خصوصی رعایات دی گئیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ خلافت فاروقی میں غیر مسلموں کو کیا عزت و وقار حاصل تھا‘ شاید یہ عزت و وقار خود مسلمانوں کو کسی مسلم حکومت میں بھی حاصل نہ ہو۔ فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی عالی حوصلگی‘ دریا دلی اور بے مثالی رواداری نے مسلم اور غیر مسلم رعیت کو ایک دوسرے سے اتنا قریب کردیا کہ حقوق کے حوالے سے دونوں بڑی حد تک مساوی ہوگئے۔ ذمیوں کے لئے مندرجہ ذیل اصول و قوانین پیش نظر رکھئے اور پھر دیکھئے کہ مساوی تھے یا نہیں۔
(۱) مسلمان کسی ذمی کو قتل کرتا تھا تو قصاص میں قتل کیا جاتا۔ چنانچہ بقول حضرت امام شافعی رضی اﷲ عنہ ایک مرتبہ ایک مسلمان نے عیسائی کو قتل کردیا‘ یہ مقدمہ خلیفہ کے پاس پیش کیا گیا۔ آپ نے مقتول کے ورثاء کو اختیار دیا کہ وہ قاتل سے قصاص لیں چنانچہ قاتل قصاص میں قتل کیا گیا۔
دور جدید میں غیر مسلم رعایا کا کیا پوچھنا اگر مسلمان ہی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے تو اس کا کوئی پرسان حال نہیں… پھر سچ بتایئے‘ امن و سلامتی خلافت فاروقی رضی اﷲ عنہ میں تھی یا جدید حکومتوں میں ہے؟
(۲) ذمی پر کسی مسلمان کا ظلم و ستم کرنا تو بڑی بات تھی اگر وہ سخت کلامی بھی کرتا تو سزا کا مستحق ہوتا… اور سزا تو بعد میں ملتی‘ مسلمان افسران خود اس کا خیال رکھتے کہ یہ نوبت نہ آنے پائے… چنانچہ حاکم حمص (شام) حضرت عمر بن سعد رضی اﷲ عنہ نے غصے میں ایک ذمی کو صرف اتنا کہا…
’’اخزاک اﷲ‘‘ (خدا تجھے رسوا کرے)… حاکم موصوف کو اس حرکت پر اتنی ندامت ہوئی کہ دربار خلافت میں اپنا استعفی پیش کردیا۔
یہ تابناک مثال سامنے رکھئے اور اپنی حالت پر غور کیجئے۔ غیر تو غیر اپنوں کے لئے وہ گالیاں‘ دشنام طرازیاں اور ستم رانیاں کہ الامان والحفیظ… یہ ہماری حالت ہے اور وہ ان کی حالت تھی… وہ اخلاق کی کس بلندی پر تھے اور ہم کس پستی میں ہیں۔
ببیس تفاوت رہ ز کجاست تابہ کجا!
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں