میجر البرٹ نے سر سے ٹوپی اتاری‘ ماتھے پر ابھرتے ہوئے پسینے کو صاف کیا اور میز سے فائل ہٹاتے ہوئے اٹھنے لگا ہی تھا کہ اس کی نظر کھڑکی سے باہر میدان پر جا پڑی۔ جون کے مہینے کی دوپہر میںجھلسا دینے والی گرمی میں ایک فوجی میدان میں چکر کاٹ رہا تھا۔
میجر البرٹ اگرچہ فوجی تھا لیکن اسے حیرت ہوئی کہ اس شدید گرمی میں جبکہ اٹک کے پہاڑ اور میدان گرمی کی وجہ سے تپ رہے تھے اور باہر پڑی ہر چیز جھلس رہی تھی۔ ایسے میں یہ سزا یافتہ قیدی کون ہوسکتا ہے؟
میجر البرٹ ریمز نے اپنی نشست چھوڑی اور کھڑکی کے پاس آکھڑا ہوا۔ اس نے دیکھا فوجی بدستور آٹھ کے ہندسے کی طرز پر زمین پر کھدے دائرے میں گھوم رہا ہے۔ اس کی کمر پر بندھے فوجی بیگ میں وزن اسے بڑی مشکل میں ڈال رہا تھا۔ فوجی کے قریب ہی ایک سایہ دار جگہ پر سکھ افسر کھڑا تھا جو مسلسل نگرانی کررہا تھا۔ دوڑ لگانے والا فوجی اگر ذرا آہستہ ہوتا تو سکھ فوجی گرج کر اسے تیز بھاگنے کا حکم دیتا۔
فوجی ایک گھنٹے تک مسلسل سزا کاٹتا رہا جب ایک گھنٹہ پورا ہوا تو سکھ افسر نے ہاتھ بلند کیا اور منہ سے رکنے کی آواز نکالی۔ دوڑتا فوجی یک دم رک گیا۔ لیکن وہ بری طرح ہانپ رہا تھا۔ اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا اور تھکاوٹ نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ سکھ فوجی نے اسے بیس منٹ کا وقفہ دیا۔ یہ واقعہ اس کے لئے آرام کا تھا لیکن فوجی نے سکھ افسر کا اشارہ پاتے ہی جلدی سے کندھوں پر چڑھا بیگ اتار ااور اسے زمین پر رکھتے ہی پانی کے نل کی طرف دوڑ لگادی۔ میجر البرٹ جوں کا توں کھڑا کھڑکی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ وہ فوج میں جس رینک میں کام کررہا تھا اس عہدے پر پہنچتے پہنچتے اس نے ایسے بہت سے سزا یافتہ قیدی دیکھے تھے۔ یوں بھی انگریز فوج کا یہ دستور اور قانون تھا کہ جب کوئی فوجی کسی بڑی غلطی کا ارتکاب کرتا تو اس کی کمر پر بوجھ ڈال کر اسے سخت دھوپ میں دوڑ لگوائی جاتی۔ لیکن اس فوجی نے میجر البرٹ کو حیرت کے سمندر میں ڈبو دیا۔ میجر البرٹ کھڑکی میں کھڑا سوچ رہاتھا کہ یہ فوجی آرام کا وقفہ ملتے ہی چھپر کے تلے سائے میں جاکر گر جائے گا اور بیس منٹ تک آرام کرے گا تاکہ سزا پوری کرنے کے لئے خود کو کچھ تازہ دم کرسکے۔ لیکن اس کی سوچ کے برعکس فوجی دوڑتا ہوا پانی کے نل کے پاس گیا۔ پانی کے نل فوج کے لئے بنے ہوئے پریڈ گرائونڈ کے ایک کونے پر لگا تھا۔ ہانپتے ہوئے فوجی نے اپنی سانسیں درست کیں‘ ماتھے اور سر سے بہنے والے پسینے کو ہاتھ سے صاف کیا اور جلدی جلدی وضو کرنا شروع کردیا۔
میجر البرٹ بدستور فوجی پر نظریں جمائے اس کی حرکات و سکنات نوٹ کررہا تھا۔ فوجی نے تیزی سے پہلے ہاتھ دھوئے‘ پھر ناک اور منہ میں تین مرتبہ پانی ڈال کر صاف کیا ‘ چہرہ اور کہنیاں دھو کر سر کا مسح کیا اور پھر پائوں دھو کر قبلے کی طرف منہ کرکے پتھریلی زمین پر ہی نماز کے لئے کھڑا ہوگیا۔ فوجی کے اس سارے عمل نے میجر البرٹ کو بت بنادیا۔ میجر حیرت میں ڈوبے دیکھ رہا تھا کہ فوجی کس قدر شوق اور لگن سے نماز میں مشغول ہے۔ اس کا خیال تھا کہ فوجی گرمی اور دوڑنے کی وجہ سے پیاس سے بے چین ہے اور وہ نل پر جی بھر کر پانی پئے گا لیکن اس نے تو تین بار منہ میں پانی ڈال کر پھینک دیا اور پیٹ میں داخل نہ کیا… وہ سوچ رہا تھا کہ فوجی اس کو آرام کے لئے ترجیح دے گا لیکن وہ بڑے سکون سے نماز کے لئے کھڑا ہے اور اسے یہ احساس بھی نہیں کہ اس کے لئے آرام کا وقت ختم ہورہا ہے…
میجر کے دل میں اٹھنے والے یہ دونوں سوال اسے اور بھی حیرت زدہ کر گئے۔ وہ یہ جاننے کے لئے بے چین ہوگیا کہ آخر کون سا ایسا جذبہ ہے جس نے اس فوجی کو سخت پیاس ہونے کے باوجود بھی پانی پینے سے روکے رکھا۔ حالانکہ کسی کی طرف سے اس پر پانی پینے کی کوئی پابندی نہیں تھی اور یہی حال اس کی نماز کا تھا کہ آرام کی شدید ضرورت کے باوجود بھی فوجی نے آرام کرنے کی بجائے اس وقت کو نماز پڑھنے پر صرف کیا ہواہے۔ میجر ابھی خیالوں میں گم تھا کہ سکھ افسر فوجی کے پاس آیا اور اسے آرام کا وقت ختم ہونے کا اشارہ دیا۔ فوجی نماز سے فارغ ہوا اور سزا والی جگہ پر جا پہنچا۔ اس نے وزن والا بیگ کندھوں پر چڑھایا اور دوبارہ دوڑنے لگا۔
میجر البرٹ دل ہی دل میں فوجی کے حوصلے‘ قوت اور جذبے کی داد دینے لگا۔ سزا یافتہ فوجی کا طرز عمل میجر البرٹ کے لئے لمحہ بہ لمحہ حیرت کا سبب بن رہا تھا اور وہ یہ جاننے کے لئے بے چین ہورہا تھا کہ آخر یہ فوجی کس جذبے کے تحت اتنی سخت سزا جھیل رہا ہے۔ وہ دفتر سے اٹھا اور اس جذبے کی کھوج میں ہندوستان یونٹ کے انچارج اپنے ہم منصب کے پاس جا پہنچا۔ انڈین یونٹ کے انچارج نے میجر البرٹ کا بڑی خوش دلی سے استقبال کیا اور پوچھا کہ آخر اس وقت اسے کیوں آنا پڑا؟
میجر البرٹ نے بغیر کسی تمہید کے ساری بات بتادی۔ اگرچہ انڈین یونٹ کے میجر کے لئے یہ کوئی نئی بات نہ تھی البتہ البرٹ نے جس اشتیاق سے آنکھوں دیکھی کارروائی سنائی تھی اس نے انڈین یونٹ کا میجر بھی بے چین ہوگیا۔ فوج کا اپنا قانون ہے اور اس قانون کے تحت سزا یافتہ فوج کو اپنی سزا پوری کرنا تھی۔ دونوں میجر بیٹھ کر فوج کی سزا کے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ طویل انتظار کے بعد فوجی کی سزا ختم ہوئی تو سکھ نے ہاتھ سے فوجی کو روکنے کا اشارہ کیا اور اسے سزا ختم کرنے کا عندیہ دیا۔ فوجی سامان اتار کر ابھی فارغ نہ ہوا تھا کہ اسے حکم ملا کہ میجر نے اسے اپنے کمرے میں طلب کیا ہے۔ وہ بغیر آرام کئے بوجھل قدموں کے ساتھ میجر کے کمرے کی طرف چل دیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے زور سے سیلوٹ کیا اور تن کر کھڑا ہوگیا۔ میجر البرٹ نے پہلی نظر ہی میں دیکھ لیا کہ سزا یافتہ فوجی مسلمان ہے۔ اس کے چہرے کی بشاشت ور حوصلے کی بلندی میجر البرٹ کے لئے حیرت کا سبب تھی۔ میجر البرٹ نے ہاتھ کے اشارے سے فوجی کو بیٹھنے کو کہا۔ اشارہ پاتے ہی فوجی ہلکے قدم اٹھاتے ہوئے آگے بڑھا اور ایک کرسی پر میجر البرٹ کے سامنے بیٹھ گیا۔
میجر نے فوجی لہجے میں اس کا احوال پوچھا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔
’’تمہیں اس قدر سخت سزا کیوں دی گئی؟‘‘
فوجی نے آہستگی سے جواب دیا ’’آج صبح جب پی ٹی کا ٹائم ہوا تو میں اس کے لئے دو منٹ دیر سے گرائونڈ میں پہنچا۔ ہماری کمپنی کا کمانڈر سکھ کیپٹن ہے جسے مسلمانوں سے سخت نفرت ہے اور وہ مسلمانوں کو ذرا سی غلطی پر بھی سخت سے سخت سزا دیتا ہے چونکہ مسلمان ہوں اس لئے سکھ کمانڈر نے مجھے یہ سزا سنادی‘‘
فوجی خاموش ہوا تو میجر نے کہا ’’کیا میں جان سکتا ہوں کہ سخت گرمی اور شدید پیاس کے باوجود تم نے پانی نہیں پیا حالانکہ تم پر کوئی پابندی بھی نہ تھی اور پھر تم پانی منہ میں ڈال کر گرا دیتے تھے لیکن نگلتے نہ تھے؟‘‘
فوجی نے جواب دیا ’’ہر بالغ مسلمان پر اﷲ تعالیٰ نے روزے فرض کئے ہیں۔ رمضان کے مہینے میں سحری سے لے کر غروب آفتاب تک کچھ بھی نہ کھانے پینے کی ممانعت ہے‘‘
’’لیکن اس وقت تو تمہیں کوئی دیکھ بھی نہ رہا تھا؟‘‘
’’ہاںیہ ٹھیک ہے کہ اس وقت مجھے کوئی دیکھ نہیں رہا تھا‘‘
’’پھر تم کلی کرنے کے بہانے اپنی پیاس بجھا سکتے تھے؟‘‘
’’ہاں آپ کا کہنا بجا ہے کہ مجھے اس وقت کوئی دیکھ نہیں رہا تھا اور میں کلی کرنے کے بہانے اپنی پیاس بجھا سکتا تھا لیکن میں نے جس ذات باری تعالیٰ کے حکم پر روزہ رکھا ہے‘ وہ دنیا کی ہر چیز کو ہر وقت دیکھتا اور جانتا ہے۔ اس لئے میرا کوئی بھی عمل اس سے مخفی نہیں ہے۔ ہاں میں اس اﷲ کے حکم پر جان تو دے سکتا ہوں لیکن اس کے حکم کا انکار نہیں کرسکتا‘‘
نوجوان فوجی کا جواب سن کر میجر البرٹ کے چہرے پر حیرت کے آثار لوٹ گئے۔ وہ گفتگو میں دلچسپی لیتے ہوئے بولا
’’سزا کے دوران جب آرام کا وقفہ ہوا۔ اس تھوڑی سی مدت میں تمہارے لئے ضروری تھا کہ تم اس وقت کا فائدہ اٹھاتے اور اس وقت میں آرام کرتے لیکن تم نے ایسا نہیں کیا۔ کیوں؟‘‘
’’قلیل وقت آرام میں گزار دیتا تو میری نماز رہ جاتی‘‘
میجر نے تشویش آمیز لہجے میں کہا ’’نماز کیاہے؟‘‘
’’ہمارے مذہب اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ اﷲ پر ایمان اور کلمہ شہادت کے بعد مسلمان کا نماز پڑھنا ضروری ہے‘‘
میجر البرٹ فوجی کا جواب ختم ہوتے ہی خوشی سے بولا ’’ویلڈن نوجوان تم گریٹ انسان ہو‘‘
میجر کو اپنے عہدے کا پاس نہ ہوتا تو وہ سزا یافتہ فوجی کو گلے سے لگا لیتا۔ اس نے خوشی اور مسرت کے آثار چہرے پر سجا کر فوجی کو اپنے کمرے سے جانے کی اجازت دی فوجی چلا گیا تو میجر البرٹ دیر تک اپنی نشست پر بیٹھا اس فوجی اور مذہب اسلام کے متعلق سوچتا رہا۔ سزا یافتہ فوجی کی ایمانداری اپنے اﷲ کے حکم کی پابندی اور اس کا خوف میجر کو متاثر کرگیا۔
میجر نے بیٹھے بیٹھے ایک نظر اپنے مذہب‘ عبادت اور اپنے ہم مذہب لوگوں کی اﷲ پر یقین پر دوڑائی تو اسے خود سے اور اپنے ہم مذہب لوگوں سے نفرت کی بوآنے لگی۔ دوسری طرف وہ اس نوجوان فوجی اور مذہب اسلام کی شائستگی دیکھتا تو اسے خوشی کا احساس ہوتا۔ وہ کوئی فیصلہ تو نہ کرسکا البتہ دفتر سے اٹھ کر اپنے کوارٹر میں چلا آیا۔ اپنے رہائشی کمرے میں کام کرتے ہوئے اس نے کئی بار سوچا کہ میں یہ کام کیوں اور کس لئے کررہا ہوں؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میں کس لئے جی رہا ہوں؟ وہ جیسے جیسے سوچتا جاتا‘ ویسے ویسے اسے محسوس ہوتا رہا جیسے وہ کسی اندھیرے کمرے میں بیٹھا ہے اور روشنی کی کرن کا متلاشی ہے۔ کبھی کبھار اس کے دل میں آتا جیسے کوئی طاقت اس کا ہاتھ پکڑ کر اس اندھیرے سے اسے باہر نکالنا چاہتی ہے۔ میجر رات کو بھی ایک لمحہ سو نہ سکا۔ سزا یافتہ نوجوان فوجی اور اسلام کی تعلیمات اس کے ذہن میں گردش کررہی تھی۔ صبح ہوئی تو اس نے دو ماہ کی چھٹی لی اور اٹک سے راولپنڈی آگیا۔ پنڈی پہنچتے ہی اس نے اسلام کے متعلق کتابیں خریدیں۔ بازار سے قرآن مجید کا انگلش ترجمہ لیا اور اسلام کا گہرائی سے مطالعہ شروع کیا وہ جیسے جیسے اسلام کے متعلق جانتا گیا۔ ویسے ویسے اس کے دل میں اسلام کی محبت زور پکڑتی گئی۔ ایمان کی روشنی سے اس کا دل منور ہونے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ یہ جان گیا کہ اسلام کیا ہے؟ اس کے ارکان کیا ہیں اور یہ اپنے ماننے والوں کو کیا درس دیتا ہے؟ قرآن مجید کی آیت اس کے لئے رہنمائی مہیا کرتی گئی۔ دن رات ایک کرکے جب وہ کسی حد تک کتابیں پڑھ چکا تو اس کا دل مکمل طورپر اطمینان حاصل کرچکا تھا۔ یوں میجر نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا اور پہلے تمام گناہوں کی معافی مانگ کر آئندہ کے لئے خود کو اﷲ کے دین کے لئے وقف کرنے کا عزم کرلیا۔
جمعہ کا روز آیا تو میجر البرٹ نے نہا کر نئے کپڑے پہنے۔ جمعہ کی نماز سے قبل ہی مسجد میں چلا گیا۔ مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی تو نمازی بھی مسجد میں آنا شروع ہوگئے۔ اذان ختم ہوئی تو امام صاحب منبر پر کھڑے ہوگئے لیکن اس سے پہلے ہی میجر البرٹ اس کے پہلو میں کھڑا ہوکر بلند آواز میں بولا۔
’’میں انڈین آرمی کا میجر ہوں‘ میرا نام البرٹ ہے اور مجھے ایک مسلمان فوجی کے کردار نے متاثر کیاہے۔ میں دو ماہ سے اسلام کے متعلق معلومات حاصل کرتا رہا اب میری خواہش ہے کہ مجھے کلمہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا جائے‘‘
نمازیوں کے لئے یہ بڑی خوشی کی بات تھی مسجد میں بیٹھا ہر شخص قابل دید نگاہوں سے میجر کی طرف دیکھ رہا تھا اور میجر ایک نئی زندگی کاآغاز کرتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں سے درخواست کررہا تھا۔ امام مسجد نے میجر البرٹ کو کلمہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ میجر البرٹ نے عیسائیت چھوڑ کر اپنا نیا نام عبدالرحمن رکھ لیا۔ میجر نے اسلام قبول کیا تو اسے فوج سے نکال دیا گیا اور اسے سخت سزا دی گئی لیکن میجر نے وہ سزا بڑے حوصلے اور جذبے سے پوری کی کیونکہ سزا پوری کرتے ہوئے اس کے سامنے وہ روزہ دار فوجی گھوم رہا تھا جس نے اسے نئی راہ دکھائی تھی۔ وہ نئی راہ جس پر چلتے ہوئے میجر البرٹ نے نئی زندگی کا آغاز کیا۔