جان من، جان دادہ ام ایمان ندادہ ام

in Articles, Tahaffuz, January 2011, متفرقا ت, محمد آصف حسین انصاری غفرلہ

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

شرار مصطفوی سے چراغ لو لہبی

حق و باطل کی معرکہ آرائی رونق کائنات میں وجود انسانی کی زینت سے پہلے سے جاری ہے۔ قافلہ حق کے علمبردار اور گروہ باطل کے نمائندے تبدیل ہوتے رہے، لیکن حق کے طرفدار اور باطل کے طرحدار اپنی اپنی روش پر قائم رہے۔

معرکہ سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ابلیس لعین کا ہو یا دیگر انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے عہد کے شریر لوگوں کا، مثلا حضرت سیدنا ابراہیم اور سیدنا موسیٰ علیہما السلام اوران کے درپئے آزار نمرود وفرعون لعین وغیرہ کا، یہ بات بہرحال مسلمہ و ثابت شدہ ہے کہ حق کے طرفدار اور باطل سے برسر پیکار افراد ایمان اور محبت الٰہی کی راہ میں کوئی چیز بھی حائل نہیں ہونے دیتے۔ حق کی خاطر دنیا کی ہر نعمت و قوت کو نظر انداز کرنا اور خاطر میں نہ لانا ان کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے۔

تاریخ کا یہ ورق جو آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں، اپنے اندر ایسی آب و تاب، جذب دروں اور جاذبیت رکھتا ہے کہ مطالعہ کرنے والے میں ایمان کی رمق پیدا کردیتا ہے، وقت کی رفتار کے پیداکردہ جمود کو توڑ کر انسان میں قوت عمل پیدا کردیتا ہے اور مصلحت کشی کا خاتمہ کرکے غازی علم الدین شہید اور عامر چیمہ شہید جیسے بطل حریت سے معاشرے کو جگمگ جگمگ کردیتا ہے اور پھر ایک اور بطل حریت اور مولانا محمد علی جوہر رحمتہ اﷲ علیہ کے بقول دنیا کہہ اٹھتی ہے۔

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

مغلیہ دور میں عہد اکبری، جہاں شاہانہ جاہ و جلال اور سطوت کشوری کے اعتبار سے یادگار ہے، وہیں نشہ اقتدار میں بدمستی کے نتائج کا بھی غماز ہے کہ نشہ اقتدار نے اکبر بادشاہ کو فرعون وقت بنادیا۔ اپنی دانست میں دینی اقدار کو مٹانے اور دین کی شکل بگاڑنے میں اکبر اور اس کے باطل شعار رافضی نورتن ابوالفضل اور فیضی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ خلاصے کے طور پر بلامبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کو مندروں کی دہلیز پر سجدہ ریز کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔۔۔ لیکن اﷲ تعالیٰ اپنے دین کی حفاطت کے جو شاہکار مظاہر لوگوں کو دکھاتا ہے تو کبھی لشکر ابابیل سے ابرہہ کے لشکر کو تباہ و برباد کرکے بیت اﷲ کی حفاظت فرماتا ہے تو کبھی ہندوستان میں شکوہ اکبری کے سامنے ایک بوریا نشیں فقیر اور حق کے علمبردار عالم شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمہ اﷲ کو مجدد عصر بناکے دین کی حفاظت کا سامان میسر فرماتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی علیہ الرحمہ والرضوان اکبری نظام کے دین دشمنی پر مبنی ظالمانہ و جابرانہ اقدامات کی آندھی اور طوفان کے مقابل آہنی دیوار یا مرد آہن بن کر کھڑے ہوگئے اور اپنی تحریر و تقریر کے مضبوط و مستحکم لب و لہجے اور قوم و مذہب سے اٹوٹ وابستگی سے وہ تاریخی کردار ادا کیا کہ اکبر اس دنیا سے رخصت ہوگیا مگر اپنے خود ساکتہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر مبنی دین کو نافذ کرنے کی حسرت دل ہی میں لے گیا، البتہ اس مجاہدانہ کردار ادا کرنے کی پاداش میں قیدوبند کی ناقابل برداشت صعوبتیں اس مرد مجاہد نے اس شان سے اٹھائیں کہ اکبر کے رخصت ہونے کے بعد جہانگیر بادشاہ کو اﷲ تعالیٰ نے قبول حق کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس نے آپ کو رہا کیا، آپ کی ہدایات سے بہرہ مند ہوا، اکبری اقدامات سے اسلامی معاشرہ، اسلامی اقدار اور تمام مسلمانوں کو پہنچنے والے اقدامات کی تلافی کی۔

جہانگیر بادشاہ ایرانی نژاد ملکہ نورجہاں کے عشق میں مبتلا ہوگیا اور مورخین و مبصرین کے بقول ہندوستان کی حکمرانی جہانگیر کے درپردہ ملکہ نورجہاں کے ہاتھ میں چلی گئی تو ملک ہندوستان میں رافضیت کا غلبہ ہوتا نظر آنے لگا۔ ایسے میں مجدد وقت حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمہ اﷲ نے ایک بار غلبہ دین کی جدوجہد کی اور اسلامی اقدار کی تجدید کا فریضہ ایک بار پھر انجام دیا۔ حتی کہ رافضیت کی حدود کے قریب جاتا ہوا جہانگیر بادشاہ اس سے تائب ہوگیا۔

جہانگیر بادشاہ حضرت مجدد الف ثانی کی تبلیغ و تحریک اصلاح سے ایسا تائب ہوا کہ ملکہ نور جہاں کا عشق تو برقرار رہا، لیکن پھر دین و مسلک پہ اس کی اجارہ داری نہ ہوسکی اور ایک مقدمے کے فیصلے کے موقع پر تاریخ نے جہانگیر بادشاہ کا ملکہ نورجہاں سے کہا ہوا یہ جملہ محفوظ کرلیا:

جان من، جان دادہ ام ایمان ندادہ ام

(میری جان! میں نے تمہیں جان دی ہے، ایمان نہیں دیا ہے)

جہانگیر بادشاہ کا یہ جملہ فیضان مجددی کا مظہر ہے اور ساتھ ہی ان لوگوں کو دعوت فکر بھی دیتا ہے جو دوستی اور تعلقات کے معاملے میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں، بے لگام ہوجاتے ہیں کہ دل کے معاملے کو مذہب کی قید سے بالکل آزاد سمجھنے لگتے ہیں حتی کہ دوستی کے معاملات کو دینی احکامات پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اسی طرح بعض کاروباری حضرات اس ذہنی سطح پر آجاتے ہیں کہ وہ کاروبار کو دین و مذہب سے مقید کرنا غیرضروری خیال کرنے لگتے ہیں حالانکہ ایک کامل مسلمان کی زندگی کا کوئی شعبہ خدا اور رسولﷺ کی رضا کی طلب سے خالی ہونا ایمان کے ناقص ہونے کی علامت ہے۔

اﷲ تبارک و تعالیٰ ہمارے ایمان و عمل کو خلوص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور دنیا وآخرت میں اپنے محبوبین میں شامل فرمائے۔