1۔ حدیث شریف: صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی تھا۔
2۔ حدیث شریف: صحیح مسلم میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے اس میں یا اس میں بعض بیچ والی میں یا کلمہ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے مجھے منع فرمایا۔
3۔ حدیث شریف: ابو دائود و نسائی نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے دائیں ہاتھ میں ریشم لیا اور بائیں ہاتھ میں سونا۔ پھر یہ فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔
4۔ حدیث شریف: صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اس کو اتار کر پھینک دیا اور یہ فرمایا کہ کیا کوئی اپنے ہاتھ میں انگارہ رکھتا ہے۔ جب حضورﷺ تشریف لے گئے ‘ کسی نے ان سے کہا کہ اپنی انگوٹھی اٹھالو اور کسی کام میں لانا۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم میں اسے کبھی نہ لوں گا جب رسول اﷲﷺ نے اسے پھینک دیا۔
مسئلہ: مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے۔ صرف چاندی کی ایک انگوٹھی کا پہننا جائز ہے جس کا وزن ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو (درمختار‘ ردالمحتار‘ بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم ص 731‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)
فائدہ: جو لوگ بھاری وزن والی بڑی بڑی چاندی کی انگوٹھی پہنتے ہیں جس کا وزن ساڑھے چار ماشہ سے زیادہ ہوتا ہے وہ ایسی انگوٹھی پہننا ترک کردیں کیونکہ یہ جائز نہیں ہے۔
مسئلہ: سونے کی انگوٹھی پہنا حرام ہے (درمختار‘ ردالمحتار‘ بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم ص 731‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)
فائدہ: آج کل نوجوانوں کو دیکھا گیا ہے کہ منگنی‘ شادی اور دیگر مواقع پر سونے کی انگوٹھی بطور فیشن پہنتے ہیں۔ انکو سونے کی انگوٹھی پہننے سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔
مسئلہ: انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے۔ دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔ مثلا لوہا‘ پیتل‘ تانبا‘ جست وغیرہ ان دھاتوں کی انگوٹھیاں مرد عورت دونوں کے لئے ناجائزہیں۔ فرق اتنا ہے کہ عورت سونا پہن سکتی ہے اور مرد نہیں پہن سکتا۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص کو حضورﷺ کی خدمت میں پیتل کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے فرمایا کیا بات ہے تم سے بت کی بوآتی ہے۔ انہوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی پھر دوسرے دن لوہے کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے۔ فرمایا کیا بات ہے کہ تم پر جہنمیوںکا زیور دیکھتا ہوں۔ انہوں نے اس کو بھی اتار دیا اور عرض کی یارسول اﷲﷺ کس چیز کی انگوٹھی بنائوں۔ فرمایا کہ چاندی کی اور اس کو ایک مثقال پورا نہ کرنا (یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو) (درمختار‘ ردالمحتار‘ بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم ص 731‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)
مسئلہ: انگوٹھی انہی کے لئے مسنون ہے جن کو مہر لگانے کی حاجت ہوتی ہے جیسے سلطان و قاضی اور علماء جو فتوے پر مہر لگاتے ہیں ان کے سوا دوسروں کے لئے جن کو مہر لگانے کی حاجت نہ ہو‘ مسنون نہیں مگر پہننا جائز ہے ۔(عالمگیری‘ بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم ص 732‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)
مسئلہ: مرد کو چاہئے کہ اگر انگوٹھی پہنے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے اور عورتیں نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف رکھیں کہ عورت کا پہننا تو زینت کے لئے ہے اور زینت اسی صورت میں زیادہ ہے کہ نگینہ باہر کی جانب رہے (ہدایہ‘ بہار شریعت جلد شانزدھم جلد دوم ص 732‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)
مسئلہ: انگوٹھی وہی جائز ہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو۔ ایک سے زائد نگینے ہوں اگرچہ چاندی کی انگوٹھی ہو‘ ناجائز ہے (ردالمحتار‘بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم ص 731‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)
مسئلہ: مردوں کے لئے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہیں۔ عورتیں چھلے پہن سکتی ہیں (بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم صفحہ نمبر 732 مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)
فائدہ: بعض حضرات مزارات پر حاضری کے موقع پر وہاں پر موجود اسٹالوں سے چھلے اور پیتل اور لوہے کے کڑے خرید کر پہنتے ہیں پھر اس کو صاحب مزار کی جانب منسوب کرکے کہتے ہیں کہ یہ بغداد کا چھلا ہے۔ یہ اجمیر شریف کا چھلا اور کڑا ہے۔ یہ بری امام کا چھلا اور کڑاہے۔ یاد رکھئے چھلا اور کڑا کسی بھی جگہ کا ہو چاہے مکہ اور مدینہ کا ہی کیوں نہ ہونا جائز ہے اسے پہن کر نماز بھی نہ پڑھی جائے۔