علماء کی آڑ لے کر دین پر حملے استعماری طاقتوں کا ہتھیار

in Tahaffuz, November 2008, متفرقا ت, محمد اسماعیل بدایونی

علم ایک نور ہے… علم ایک روشنی ہے… جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے… ایک رہبر ہے جو اچھائی اور برائی سکھاتی ہے… آج علم کی بہاریں چارسونظر آتی ہیں مگر ایک سوال یہ ہے کہ سب سے پہلے علم کی شمع کس نے روشن کی؟ کس نے انسان کو انسانیت سے روشناس کرایا؟ کس نے زندگی کو رموز زندگی سے آگاہ کیا؟
دین مصطفوی نے… تعلیمات مصطفی نے…
چند صدیوں میں تاجدار مدینہ ﷺکے غلاموں نے انسانی معاشرہ کو جو حسن بخشا… انسانی تمدن کو جو نکھار عطا کیا… اور علم کو انسان کے ماتھے کاجھومر قرار دیا… کیا آج تک دنیا اس کی مثال پیش کرسکی‘ اہل عرب جاہل اجڈ گنوار تھے… وحشی و خونخوار تھے… نگاہ مصطفیﷺ نے ان کے سینوں کو علوم و حکمت سے معمور کردیا… مقتدی تھے مقتدا بن گئے… پیش رو تھے پیشوا بن گئے… غلام تھے آقا بن گئے… عام تھے خاص ہوگئے… جاہل تھے عالم ہوگئے… ایک کتاب نہیں سو کتابیں نہیں لاکھوں کی تعداد میں وہ کتابیں تصنیف کیں جن کے ایک ایک لفظ میں علم و عرفان کے سمندر سمودیئے اور علم و عرفان کے وہ دریا بہائے کہ آج تک انسانیت ان سے استفادہ کررہی ہے۔
قرآن حکیم نے بارہا علم اور اہل علم کی عظمت کوبیان فرمایا۔
(۱) یرفع اﷲ الذین آمنو منکم والذین اوتو العلم درجات (سورہ المجادلہ پ ۲۸ آیت ۱۱)
اﷲ تعالیٰ ان کے جو تم میں سے ایمان لے آئے اور جن کو علم دیا گیا‘ درجات بلند فرمائے گا۔
(۲) قل ہو یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون (سورہ الزمر پ ۲۳ آیت ۹)
آپ پوچھئے کیا کبھی برابر ہوسکتے ہیں علم والے اور اہل
(۳) انما یخشی اﷲ من عبادہ العلماء (سورہ فاطر پ ۲۲ آیت ۲۸)
اﷲ کے بندوں میں سے صرف علماء ہی (پوری طرح) اس سے ڈرتے ہیں
(۴) وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون (سورہ العنکبوت پ ۲۰ آیت ۴۳)
اور یہ مثالیں ہیں ہم بیان کرتے ہیں انہیں لوگوں (کو سمجھانے) کے لئے اور نہیں سمجھتے انہیں مگر اہل علم
صرف آیات قرآنی ہی نہیں بلکہ سرکار دوعالمﷺ نے اپنے ارشادات سے مسلمانوں کے دلوں میں علم کی محبت کا جذبہ پیدا فرمایا جس کی وجہ سے نبی کریمﷺ کے غلاموں نے اپنی زندگیاں علم کے لئے وقف کردیں۔ انہوں نے اپنی مادی ضروریات سے بے نیاز ہوکر الہامی علم کے نور سے اپنے سینوں کو منور کیا۔ اور اسی الہامی علم کی خوشبوئوں سے اپنے دماغ کو معطر کیا۔ قرآن حکیم کے ایک ایک لفظ کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا اسے سپرد قلم کیااور پھر پورے خلوص کے ساتھ اسے ملت کی آئندہ نسلوں کی طرف منتقل کیا۔
یہ ہی وہ وارثان نبوت تھے جنہوں نے حیات طیبہ کے ہر لمحہ کواپنے ذہنوں میں صفحات میں محفوظ کیا اور آپ کی زندگی کے ہر ہر لمحہ کا مکمل اور جامع ریکارڈ تیار کیا جو بات آپﷺ کی زبان پاک سے نکلی آپ کی ہر ادا… آپ کا ہر عمل… آپ کی مبارک زندگی کا ایک ایک گوشہ پوری دیانت داری سے آئندہ نسلوں کو منتقل کیا۔
قرآن حکیم نے مسلمانوں کو اس کائنات میں غوروتدبر کرنے کاباربار حکم دیا اور مسلمانوں نے اس ارشاد خداوندی کی تعمیل میں اپنی زندگیاں کائنات کے مخفی رازوں کا کھوج لگانے میں صرف کردیں۔
اور یہ وہ وقت تھا جو یورپ سائنس کے لفظ بھی آگاہ نہ تھا اور پورے کا پورا یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس وقت نہ ان کے یہاں روڈ تھے اور تعلیمی ادارے اگر رات کے وقت کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا تو اپنی ہی غلاظت میں ڈوبا جاتا۔
عزیزان گرامی!
یہ وہ وقت تھا جب اسلامی ممالک میں علم کی ضیاء بکھر رہی تھی۔
مسلمانوں نے نہ صرف مدارس قائم کئے‘ کتابیں لکھیں‘ بلکہ خلفاء وسلاطین اور  حکمرانوں کی علم پیروی نے کتابوں سے محبت کو ملت اسلامیہ کی پہچان بنادیا۔
امراء کی کتابوں سے محبت اور علم پیروی کا یہ حال تھا کہ علماء کے ساتھ وزراء بھی علوم کے حصول میں دلچسپی لیتے۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق لکھتے ہیں۔
علماء کے ساتھ بعض وزراء امراء اور سلاطین بھی کتب خانوں اور صدگاہوں میں جا بیٹھے۔ حکمت یونان کو جسے دنیا بھول چکی تھی پھر زندہ کیا قرطبہ سے سمرقند تک ہزاروں درس گاہیں قائم کیں‘ ان میں طلبہ کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ بقول ول ڈیوران‘ جغرافیہ دانوں‘ مورخوں‘ منجموں‘ فقیہوں‘ محدثوں‘ طبیبوں اور حکیموں کے ہجوم کے باعث سڑکوں پر چلنا مشکل تھا (یورپ پر اسلام کے احسانات صفحہ ۳۷ از ڈاکٹر جیلانی برق)
مزید آگے لکھتے ہیں۔
جب شیخ سعدی رحمتہ اﷲ علیہ (۱۲۹۱ٔئ) بغداد کے دارالعلوم نظامیہ میں داخل ہوئے اس وقت زیر تعلیم طلبہ کی تعداد سات ہزار تھی۔ اور اس میں ابھی مزید طلبہ کی گنجائش تھی۔ مرزا حیرت دہلوی اپنی کتاب (حالات سعدی) میں لکھتے ہیں کہ دارالعلوم نظامیہ پورا ایک شہر تھا۔ لاتعداد کمرے اور وسیع حال جس میں دس ہزار انسان سماسکتے تھے۔ دارالعلوم میں قرآن‘ حدیث‘ فقہ‘ فلسفہ‘ ریاضی‘ ہیئت اور دیگر علوم کا تدریس کا پورا انتظام تھا۔ ایک شعبہ اجنبی زبانوں کا تھا جہاں یونانی‘ عبرانی‘ لاطینی‘ سنسکرت اور فارسی پڑھائی جاتی تھی۔ تیز اندازی‘ تیغ بازی اور گھڑ سواری کی بھی مشق کرائی جاتی تھی۔
(یورپ پر اسلام کے احسانات صفحہ ۱۴۲ بحوالہ معرکہ مذہب و سائنس)
یہ علم ہی تھا جس نے مسلمانوں کو انفرادیت عطا کی اور جب تک حکمراں اس علم کی سرپرستی کرتے رہے‘ عالم اسلام ترقی کرتا رہا۔ ان کی نظریاتی اور علاقائی سرحدیں محفوظ رہیں۔
علماء کی یہ قدردانی تھی کہ بڑے سے بڑاجابر بھی ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتا‘ علماء کی آمد پر تخت سے اٹھ کر استقبال کرتا۔ ان کے معمولی سے جھونپڑے میں بیٹھ کر ان کی گفتگو سننے کو نہ صرف آخرت کے لئے بہتر تصور کرتا بلکہ دنیا وہ بادشاہت کے استقلال اور استحکام کی ضمانت بھی گردانتا۔ بڑے سے بڑے سلطان کو یہ جرات نہ ہوتی تھی کہ اس منصب کی تحقیر کرسکے یا اسے ختم کرنے کا تصور کرسکے۔ لیکن رفتہ رفتہ علماء کرام‘ شیخ الاسلام کے بعد اسے مولویت کے مقام پر لایا گیا جیسے جیسے مقام بدلتا گیا نام میں بھی تبدیلی آتی گئی۔
علماء کے استحصال سے کیسی صورتحال سامنے آئی۔ قدرت اﷲ شہاب اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں۔
برہام پور سنگلاخ پہاڑیوں اور خاردار جنگل میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا گائوں تھا جس میں مسلمانوں کے بیس پچیس گھر آباد تھے۔ ان کی معاشرت ہندورانہ اثرات میں اس درجہ ڈوبی ہوئی تھی کہ رومیش علیہ ’’صفدر پانڈے‘‘ محمود مہنتی کلثوم دیوی اور پربھادئی جیسے نام رکھنے کا رواج تھا۔ گائوں میں ایک نہایت مختصر کچی مسجد تھی جس کے دروازے پر اکثر تالا پڑا رہتا تھا۔ جمعرات کی شام کو دروازے کے باہر ایک مٹی کا دیا جلایا جاتا تھا۔ کچھ لوگ نہا دھو کر آتے تھے اور مسجد کے تالے کو عقیدت سے چوم کر ہفتہ بھر کے لئے دینی فرائض سے سبکدوش ہوجاتے تھے۔
ہر دوسرے تیسرے مہینے ایک مولوی صاحب گائوں میں آکر ایک دو روز کے لئے مسجد کو آباد کرجاتے تھے۔ اس دوران میں اگر کوئی شخص وفات پاگیا ہو تو مولوی صاحب اس کی قبر پر جاکر فاتحہ پڑھتے تھے۔ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دیتے تھے۔ کوئی شادی طے ہوگئی ہوتی تو نکاح پڑھوا دیتے تھے۔ بیماروں کو تعویذ لکھ دیتے تھے اور اپنے اگلے دورے تک جانور ذبح کرنے کے لئے چند چھریوں پر تکبیر پڑھ جاتے تھے۔ اس طرح مولوی صاحب کی برکت سے گائوں والوں کا دین اسلام کے ساتھ ایک کچا سا رشتہ بڑے مضبوط دھاگے کے ساتھ بندھا رہتا تھا۔ (شہاب نامہ ص ۱۵۷)
اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے قدرت اﷲ شہاب مزید آگے لکھتے ہیں:
برہام پور گنجم کے اس گائوں کو دیکھ کر زندگی میں پہلی بار میرے دل میں مسجد کے ملا کی عظمت کا احساس پیدا ہوا۔ ایک زمانے میں ملا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے‘ لیکن سرکار انگلشیہ کی عملداری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم و ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا‘ اسی رفتار سے ملا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ نوبت بایں جارسید کہ یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک و تحقیر کی ترکش کے تیر بن گئے۔داڑھیوں والے ٹوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کومذاق ہی مذاق میں ملا کا لقب ملنے لگا۔ کالجوں‘ یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا۔ مسجدوں کے پیش اماموں پر جمعراتی‘ شبراتی‘ عیدی‘ بقرعیدی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے‘ قل اعوذکے ملائوں کی پھبتیاں کسی جانے لگے۔ لو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہروں میں خس کی ٹٹیاں لگا کر پنکھوں کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی آذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے… کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟ دن ہو یا رات‘ آندھی ہو یا طوفان‘ امن ہو یا فساد‘ دور ہو یا نزدیک‘ ہر زمانے میں ہر شہرشہر‘ گلی گلی‘ قریہ قریہ‘ چھوٹی بڑی‘ کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملا کے دم سے آباد تھیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسہ میں پڑا تھا اور در بدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اﷲ کے کسی گھر میں سر چھپا کر بیٹھ رہا تھا۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی‘ نہ کوئی فنڈ تھا‘ نہ کوئی تحریک تھی۔ اپنوں کی بے اعتنائی‘ بیگانوں کی مخاصمت‘ ماحول کی بے بسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع‘ کہیں دین کا شعلہ‘ کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ برہام پور گنجم کے گائوں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہوچکی تھی۔ لا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر باد مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔ یہ ملا ہی کا فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان‘ کہیں نام کے مسلمان‘ کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار رہے اور جب سیاسی میدان میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان آبادی کے اعدادوشمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندراج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا۔ برصغیر کے مسلمان عموما اور پاکستان کے مسلمان خصوصا ملا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح‘ کسی نہ کسی حد تک ان کی تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا (شہاب نامہ ص ۱۵۸)
عزیزان گرامی!
مولوی کا یہی کردار تھا جو فکری اغوا کے راستے کا پتھر سمجھا جاتا رہا۔
اہل فکر دوستو!
یہی علماء کرام تھے جو نظریاتی سرحدوں کی حفاظت فرماتے رہے‘ اسی نظریاتی فوج کے خلاف عام مسلمانوں کو بغاوت پر ابھارا گیا مگر یہ فوج نامساعد حالات کے باوجود قوم کی فکری اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتی رہی اسی لئے یہ استعمار کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے اور اس رکاوٹ کو ہٹانے کے لئے بڑا منظم طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی رہنما جاوید ہاشمی لکھتے ہیں:
لارڈ میکالے نے ہندوستان پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے تعلیمی نظام کا نصاب تیار کیا تھا جس کے مقاصد میں لارڈ میکالے نے کہا کہ برٹش راج کی مضبوطی کے لئے مقامی لوگوں کو ایک حد تک شامل کرنا ہماری مجبوری ہے اس لئے انہیں ایک محدود سوچ کی تعلیم دے کر اپنے کے لئے استعمال کیا جائے۔
مزید آگے لکھتے ہیں۔
لارڈ میکالے نے ۲ فروری ۱۸۳۵ء میں برطانوی پارلیمنٹ میں جو تقریر کی وہ مختصر مگر جامع تھی۔ انہوں نے کہا کہ معزز اراکین پارلیمان میں نے ہندوستان کے طول وعرض میں بار بار سفر کیا۔ دنوں اور راتوں میں گھوماپھرا ہوں۔ میری آنکھیں آج تک ایک ایسے شخص کو دیکھنے کے لئے ترستی ہیں جو یہاں بھکاری ہو‘ یاجو لٹیرا ہو‘اس ملک میں ایسی دولت دیکھی ہے ایسی بلند اخلاقی قدریں دیکھی ہیں اور اتنی بڑی ہستیوں سے ملا ہوں کہ مجھے پختہ یقین ہوگیا ہے کہ ہم کبھی اس ملک کو فتح نہیں کرسکیں گے جب تک اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی نہ توڑ دیں‘ اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی کیا ہے؟ ان کا روحانی اور تہذیبی ورثہ! یہی وجہ ہے کہ باآواز بلند تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم ان کا نظام تعلیم اور ان کی ثقافت کو بدل کر رکھ دیں۔ دیکھنے میں خواہ یہ لوگ گندمی یا سانولی رنگت رکھتے ہوں لیکن ان کے سینوں کے اندر سفید فام انگریز کا دل دھڑکتا ہو۔
(تختہ دار کے سائے تلے ص ۲۶۱ از جاوید ہاشمی مطبوعہ جہانگیر بکس اپریل ۲۰۰۷)
اس نظام تعلیم کو اور اس مرکز تعلیم کو جہاں سے علماء بن کر نکلتے ہیں‘ جہاں سے یہ اس علم کی شمع کو روشن کئے ہوئے جنہیں اہل صلیب نے ہر جگہ بجھانے کی کوشش کی ہر جگہ مذہبی شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
مشہور مستشرقیہ کیرن آرم سٹرانگ لکھتی ہیں۔
اتاترک نے تمام مدرسوں کو بند کردیا۔ صوفی سلسلوں کو دبایا اور مردوخواتین کو جدید مغربی لباس پہننے پر مجبور کیا اس طرح کے اقدامات ہمیشہ تخریبی ہوا کرتے ہیں۔اسلام ترکی سے معدوم نہیں بلکہ وہ زیر زمین چلا گیا۔ محمدعلی نے مصری علماء پر پابندیاں لگائیں ان کی وقف املاک چھین لیں اور انہیں اثرورسوخ سے محروم کردیا بعد ازاں جمال عبدالناصر (۷۰۔۱۹۸۱ئ) نے اسلام کی عسکری مخالفت کی۔ ایران میں پہلوی بادشاہ بھی اپنے سیکولر ازم کے معاملے میں سفاک تھے۔ رضا شاہ (۴۱۔۱۸۷۸ئ) نے علماء سے وقف املاک چھین لیں اور شریعت کی جگہ ایک سول نظام نافذ کردیا۔
(مسلمانوں کا سیاسی عروج وزوال از کیرن آرم سٹرانگ ص ۱۷۴۔۱۷۵۔ مطبوعہ نگارشات پبلشرز لاہور)
مزید آگے لکھتی ہیں:
جنزل محمد ایوب خان (۶۹۔۱۹۵۸ئ) کی حکومت ویسے ہی جارحانہ سیکولر ازم کی مثال تھی جس کا ہم تذکرہ کرچکے ہیں انہوں نے اوقاف کو قومالیا۔ مدرسوں کی تعلیم پرپابندیاں لگادیں اور ایک خالصتا سیکولر نظام قانون رائج کیا۔ ان کا مقصد اسلام کو ایک مہذب (Civil) اور ریاستی کنٹرول کے تابع مذہب بنانا تھا
(مسلمانوں کا سیاسی عروج وزوال از کیرن آرم سٹرانگ ص ۱۷۸ مطبوعہ نگارشات پبلشرز لاہور)
یہ ایوب خان کون تھے؟ پروفیسر گل شہزاد سرور اور فرحت شہزاد اپنی کتاب مطالعہ پاکستان میں یوں تبصرہ کرتے ہیں۔
یہ وہی ایوب خان تھے جن کو پنجاب کی سرحدی فوج کا آزادی ایکٹ ۱۹۴۷ء کے تحت صدر مقرر کیا گیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کی ہندوستان سے پاکستان کی جانب ہجرت کو محفوظ بناسکیں لیکن انہوں نے اپنی ذمہ داری فرض شناسی سے انجام نہ دی اور نشہ میں دھت رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح مسلمان مرد‘ عورتیں اور بچے قتل ہوتے رہے اور مسلم عورتوں کی آبروریزی ہوتی رہی اور ایوب خان ساغرو جام میں غرق رہے۔
(مطالعہ پاکستان از گل شہزاد سرور وفرحت شہزاد ص ۳۵۶)
انہی ایوب خان سے متعلق قدرت اﷲ شہاب لکھتے ہیں:
وہ (ایوب خان) غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھے آتے ہی انہوں نے میرا نوٹ میرے حوالے کیا اور کہا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ڈرافٹنگ میں کسی نے کوئی غلطی نہیں کی بلکہ ہم نے سوچ سمجھ کر یہی طے کیا ہے کہ اسلامک ری پبلک آف پاکستان سے اسلامک کا لفظ نکال دیا جائے۔
یہ فیصلہ ہوچکا ہے یا ابھی کرنا ہے میں (قدرت اﷲ شہاب) نے پوچھا۔
صدر ایوب نے کسی قدر غصہ سے مجھے گھورا اور سخت لہجے میں کہا ہاں ہاں فیصلہ ہوگیا ہے (شہاب نامہ ص ۴۸۸۔۴۸۹)
اور دور حاضر میں پرویز مشرف صاحب اور کرائے کے صحافیوں کی علماء اور دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ اس کا کھلم کھلا اظہار نیتوں کے عزم کو ظاہر کررہا ہے۔
علماء اور دینی مدارس کا استحصال کرکے انگریزی نظام تعلیم کو حاصل کرکے کیا حاصل کیا۔
سرسید احمد خان لکھتے ہیں:
اب تو گویا بالا اتفاق تمام مسلمان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انگریزی پڑھنے اور علوم جدیدہ کے سیکھنے سے مسلمان اپنے عقائد مذہبی میں سست ہوجاتے ہیں بلکہ ان کو لغو سمجھنے لگتے ہیں اور لامذہب ہوجاتے ہیں اور اسی سبب سے مسلمان اپنے لڑکوں کو انگریزی پڑھانا نہیں چاہتے۔ مسلمانوں پر کیا موقف ہے‘ انگریز بھی ایسا ہی خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ ڈاکٹر ہنٹر صاحب نے اپنی کتاب جو حال میں انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی نسبت لکھی ہے یہ فقرہ مندرج فرمایا ہے ’’کوئی نوجوان‘ خواہ ہندو خواہ مسلمان‘ ایسا نہیں ہے جو ہمارے انگریزی مدرسوں میں تعلیم پائے اور اپنے بزرگوں کے مذہب سے بداعتقاد ہونا نہ سیکھے۔ ایشیا کے شاداب اور تروتازہ مذہب جب مغربی (یعنی انگریزی) علوم کی سچائی کے قریب آتے ہیں‘ جو مثل برف کے ہے تو سوکھ کر لکڑی ہوجاتے ہیں۔ آمنا و صدقنا‘ یہ قول ڈاکٹر ہنٹر صاحب کا بالکل سچ اور بتمامہ‘ سچ ہے‘‘
(جریدہ ۳۴’۲۰۰۶ء جلد ششم مضمون روایت اور جدیدیت کی کشمکش مضمون نگار سید خالد جامی … عمر حمید ہاشمی صIII  (تین) بحوالہ تہذیب الاخلاق (۲) ص ۱۹۲)
علماء کا علمی استحصال
ایک وہ زمانہ تھا جب علماء کسی بھی مسلمان حکمران کے لئے انتظام سلطنت کے سلسلے میں ناگزیر سمجھے جاتے تھے۔ علماء کا حکم حکمرانوں پر بھی ویسا ہی چلتا تھا جیسے ایک عام آدمی پر لیکن مسلمانوں کو زوال سے دوچار کرنے اور ان کو ذلت و رسوائی کی وادی میں دھکیلنے کی خاطر ان کی فکر کو علماء کے تسلط سے آزاد کرنے کی ہرممکن کوشش کی گئی۔ ابلیس اور اس کی ذریت سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ علماء کا مقام ان کے علمی معیار پر ہے لہذا سب سے پہلا وار ان کے علمی معیار پر ہی کیا گیا۔
برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجے گاڑنے کے بعد فورا ہی یہ اعلان کردیا کہ دینی مدارس کے تعلیم یافتہ افراد کو نوکری نہیں ملے گی۔ یہ علماء کے معاشی حقوق غضب کرنے اور لوگوں کو اسلامی مدارس اور اسلامی تعلیم سے بیزار کرنے کی تدبیر تھی‘ جو بلاشبہ کارگر رہی تھی۔
قدرت اﷲ شہاب اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب اس برصغیر میں مسلمانوں پر تعلیم و ترقی کے سب ہی دروازے بند کردیئے گئے تھے۔ لارڈ میکالے کا فتویٰ تھا کہ یہاں پر جو نظام تعلیم رائج کیا جائے وہ ایسے انسان پیدا کرے جو رنگت میں تو بے شک ہندوستانی ہوں‘ لیکن چال ڈھال‘ فہم و فراست‘ ذوق و مذاق‘ اخلاق و اطوار اور ذہنی اعتبار سے انگریز ہوں۔ اس پالیسی کے تحت جب فارسی کی جگہ انگریزی کو سرکاری زبان بنادیا گیا تو برصغیر کے ہزاروں مسلمان علماء و فضلا بہ یک نوک قلم غیر تعلیم یافتہ قرار دے دیئے گئے۔اس فیصلے کا ہندوئوں نے بڑی گرمجوشی سے خیر مقدم کیا۔ اس لئے کہ انہیں انگریزی سے کوئی خاص محبت تھی‘ بلکہ صرف اس لئے کہ انہیں فارسی سے چڑ تھی‘ کیونکہ اس زبان کا رابطہ مسلمانوں سے تھا۔
یوں بھی جب ۱۸۵۷ء میں سلطنت مغلیہ کا آخری چراغ گل ہوگیا تو انگریزوں اور ہندوئوں کی مشترکہ کوشش یہ تھی کہ اس برصغیر میں ہر اس امکان کو ختم کردیا جائے جس میں مسلمانوں کو دوبارہ سر اٹھانے کا ذرا سا شائبہ بھی موجود ہو۔ یہاں پر مسلمان ہی ایک ایسی قوم تھی جس میں حکومت کرنے کی صلاحیت بھی تھی‘ روایت بھی تھی اور ہزار سالہ تجربہ بھی حاصل تھا۔ چنانچہ اس قوم کا سر کچلنا دونوں کا فرض منصبی قرار پایا۔
(شہاب نامہ از قدرت اﷲ شہاب ص ۱۰۴ مطبوعہ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۲۰۰۶ئ)
مزید آگے لکھتے ہیں
گورنمنٹ اسکولوں میں دینی تعلیم پر مکمل پابندی تھی یہ بات مسلمانوں کے لئے ناقابل فہم تھی۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ اس بات کی شاہد تھی کہ دین کے بغیر تعلیم کا کوئی نظام نہ مکمل ہوسکتا ہے نہ قابل قبول (شہاب نامہ ص ۱۰۴)
صرف یہی نہیں بلکہ یہ تک کہا گیا کہ مذہبی کتابوں کا نہ پڑھنا ان کے پڑھنے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ بس عمل کے لئے نماز پڑھ لی جائے اور روزہ رکھ لیا جائے کافی ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی کتابوں کے پڑھنے سے کیا حاصل ہوگا۔
سرسید احمد خان لکھتے ہیں۔
بڑے بڑے معمم و مشتمل قدوس عالموں نے بہت غور کے بعد یہ تجویز کی کہ انگریزی تعلیم کے ساتھ مذہبی تعلیم بھی دی جائے اور کتب درسیہ عقائد اور فقہ و اصول و تفسیر و حدیث و علم کلام بھی انگریزی کے ساتھ پڑھائی جائیں تاکہ عقائد مذہبی پختہ و درست رہیں اور علوم غریبہ کے ریلے میں نہ بہہ جائیں مگر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ کتب درسیہ مذہبیہ تولا مذہبی کا علاج کر نہیں سکتیں بلکہ اگر یہ کتابیں انگریزی تعلیم اور مغربی علوم کے ساتھ پڑھائی جائیں گی تو اور زیادہ لامذہبی اور بداعتقادی پھیلے گی۔ اس لئے کہ سوائے قرآن مجید کے جس قدر کتب مذہبیہ اس زمانہ تک موجود ہیں ہزاروں غلطیوں سے معمور ہیں۔
ایسی حالت میں ان کتابوں کا نہ پڑھنا ان کے پڑھنے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ مسلمان ہونے اور بہشت میں جانے کو خدا کو ایک اور پیغمبر کو برحق جاننا کافی ہے‘ عمل کو نماز پڑھ لینی اور روزہ رکھ لینا بس ہے۔ ان غیر مفید کتابوں کے پڑھنے سے کیا حاصل ہے۔
(جریدہ ۳۴۔ ۲۰۰۶ء جلد ششم صفحہ ۳۳ مطبوعہ شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ کراچی بحوالہ تہذیب الاخلاق ص ۱۹۲۔۱۹۴)
اسی جریدہ میں محسن الملک کے حوالے سے یہ پیراگراف بھی پڑھنے کے لائق ہے۔
تمام کتب مذہبیہ جو اس زمانہ تک موجود ہیں‘ ہزاروں غلطیوں سے معمور ہیں۔ کوئی ایک کتاب بھی ہمارے ہاتھ میں ایسی نہیں آتی جس میں کوئی نہ کوئی ایسی بڑی غلطی ہمارے سامنے نہ آتی ہو جو اسلام کی سچی اور صحیح حقیقت کو وہمی اور خیالی امر کی طرف مائل نہ کردیتی ہو (ایضا صفحہ ۱۴ بحوالہ مجموعہ لیکچرز محسن الملک ص ۳۶۷)
صرف یہی نہیں بلکہ علماء کا علمی استحصال یوں بھی کیا گیا۔
سرسید احمد خان لکھتے ہیں۔
ہماری قوم کے سرداروں اور شریفوں کو لازم ہے کہ اپنی اولاد کو انگریزی علوم کی اعلیٰ درجہ تعلیم دیں۔ مجھ سے زیادہ کوئی شخص نہ نکلے گا جو مسلمانوں میں انگریزی علوم کی ترقی دینے کا حامی اور خواہش مند ہو۔ جس حیثیت و درجہ کے یہ لڑکے ہیں ان کوانگریزی پڑھانے سے کوئی فائدہ مرتب نہیں ہونے کا۔ ان کو اسی قدیم طریقہ عام تعلیم میں مشغول رکھنا ان کے حق میں اور ملک کے حق میں اور قوم کے حق میں زیادہ تر مفید ہے کہ ان لڑکوں کو کچھ لکھنا اور پڑھنا اور ضروری کارروائی کے موافق حساب کتاب آجائے اور ایسے چھوٹے چھوٹے رسالے ان کو پڑھائے جائیں جن سے نماز روزہ کے ضروری ضروری مسائل‘ جو روزمرہ پیش آتے ہیں اور مسلمانی مذہب کے سیدھے سادے عقائد ان کومعلوم ہوجائیں۔
(جریدہ ۳۴ ۔ ۲۰۰۶ء ص ۲۲ بحوالہ مکمل مجموعہ لیکچرز ۱۸۵۔۱۸۶)
علماء کے استحصال میں صرف ایک جانب ہی سے حملہ نہیں کیا گیا بلکہ قوم کے اس اہم اور لائق فخر طبقہ پر کئی جہت سے حملہ ہوا خاکسار تحریک بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس کے اہم مقاصد میں اہم مقصد یہی ہے۔
خاکسار تحریک کے چودہ نکات یا چودہ اصول میں تیسرے نمبر پر یہ ہے۔
’’مولوی کا آج کل کا بتایا ہوا راستہ غلط ہے خاکسار سپاہی اس غلط مذہب کو صفحہ زمین سے مٹانے اور اس کی جگہ ’’نبوی نظام‘‘ کو  پھر رائج کرنے کے لئے اٹھا ہے‘‘
(ایضا صفہ ۷۰ بحوالہ غلط مذہب نمبر ۴ ص ۱۶)
۱۳۵۰ سال کے بعد یہ تحریک کیوں اٹھی؟
اس کے مقاصد کیا ہیں؟ کیا یہ حقیقی طور پر دین اسلام کے لئے کوشاں ہیں؟ یا درپردہ کچھ اور مقاصد ہیں اوران کا یہ نبوی اسلام کیا ہے؟ صرف ان کی یہ عبارت پڑھ لیجئے۔
’’عمل کے اسلامی معنی اگر سمجھنا چاہتے ہو تو جائو مصطفی کمال (اتاترک) کو دیکھو کہ کیا کررہا ہے‘ امان اﷲ کو دیکھو کہ اس نے کیا کیا تھا‘‘
(ایضا ص ۷۱ بحوالہ غلط مذہب ص ۴)
یہ بالکل وہی تحریک ہے جس کے اثرات سابق صدر محترم پر بھی نظر آتے تھے  اور سابق صدر صاحب کے بھی سب سے بڑے آئیڈیل مصطفی کمال اتاترک تھے۔
عزیزان گرامی!
یہ صدائے بازگشت کوئی نئی نہیں بلکہ علماء اسلام صلیب کی آنکھوں میں ہمیشہ خار بن کر کھٹکتے رہے کیونکہ انہوں نے قرآن و سنت کی تعلیم اور حق بات کی تلقین کرتے ہوئے کبھی اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی۔ ان کی زندگیاں قرآن کی تعلیم اور اس کے اسرار ورموز سمجھاتے ہوئے وقف ہوگئیں۔ اسی لئے آج سے کوئی سو برس قبل برطانوی وزیراعظم گلیڈ اسٹون نے پارلیمنٹ میں قرآن کریم کا نسخہ لہراتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جب تک یہ کتاب مسلمانوں میں پڑھائی جاتی رہے گی اس وقت تک مسلمانوں میں مذہبی جنون باقی رہے گا‘‘ اور اسی مذہبی جنون کو ختم کرنے کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ علماء کا استحصال کیا جائے تاکہ نہ کوئی دینی علم حاصل کرے اور نہ کوئی اس کو پڑھائے۔
سرکاردوعالمﷺ نے علماء کی فضیلت یوں بیان فرمائی۔
خیرکم و من تعلم القرآن و علمہ
تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن حکیم سیکھے اور سکھائے۔
قرآن اور قرآنی تعلیم اہل صلیب کی نگاہ میں کس طرح کھٹکتی ہے مبشر ’’تکلی‘‘ اسلام کی تباہی کے لئے یہ تدبیر پیش کرتا ہے۔
ہمیں سیکولر بنیادوں پر مدارس کے قیام کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ کیونکہ مسلمانوں کی کثیر تعداد نے جب اہل مغرب کی درسی کتابیں پڑھیں اور اجنبی زبانیں سیکھیں تو قرآن اور اسلام پر ان کا اعتقاد متزلزل ہوگیا۔
(ضیاء النبی جلد ششم ص ۲۵۴ بحوالہ قوی الشرالمتحالفہ)
مشہور مستشرق اور مبشر ’’صموئیل زویمر‘‘ جو اپنی اسلام دشمنی کی وجہ سے مشہور ہے وہ اپنے ہم مذہب لوگوں کو نصیحت کرتا ہے۔
’’جب تک مسلمان عیسائی مدارس میں داخلہ لینے سے ہچکچاتے ہیں‘ اس وقت تک ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان کے لئے لادینی مدارس کھولیں اور ان مدارس میں ان کے لئے داخلہ آسان بنائیں۔ یہی مدارس طلبہ کے اندر اسلامی روح کو ختم کرنے میں ہمارے ممدومعاون ثابت ہوں گے‘‘
(ضیاء النبی جلد ششم ص ۲۵۴ بحوالہ قوی الشرالمتحالفہ)
عزیزان گرامی!
آپ نے ملاحظہ کیا کہ ایک منظم سازش کے تحت علماء کرام کے وقار کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسلامی تعلیمات سے نفرت پیدا کرنے کے لئے مغربی تعلیم کو پروان چڑھایا گیا اور ان جامعات سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا۔ جبکہ علماء کرام کے لئے تین چار ہزار ماہوار پر مدرسے میں پڑھانا یا خطبات کرنا اور زیادہ سے زیادہ نکاح پڑھانے جیسے فرائض رہ گئے۔
علماء کامعاشی استحصال
علماء کرام کے معاشی استحصال کے لئے جہاں ان پر ملازمتوں کے دروازے بند کئے گئے وہاں مجبوری کے تحت محدود تعداد میں دی جانے والی ملازمتوں میں تنخواہوں کی مقدار بھی کم رکھی گئی۔
اور اس میں جہاں غیروں کاہاتھ ہے وہاں اپنوں کی کرم فرمائیاں بھی کم نہیں۔ ہم ہزاروں روپے جلسوں میں خرچ کردیتے ہیں مگر عالم دین جو تقریر کرتا ہے اس کو ہم کچھ بھی نذرانہ نہیں دیتے۔
ذرا سوچئے تو سہی… کیا عالم دین کی یہ قدر دیکھ کر کوئی شخص عالم دین بننا چاہے گا؟ نہیں ہرگز نہیں۔
کیا عالم دین بغیر کتابوں کے مطالعہ کرسکے گا؟ اور کتابیں بازار میں کیا مفت ملتی ہیں‘ نہیں تو پھر علماء کے علمی اور معاشی استحصال میں ہمارا بھی برابر کا ہاتھ ہے۔
ہمیں کیسی حکمت عملی اپنانی چاہئے مئی ۲۰۰۵ء کا جام نور ملاحظہ فرمائیں جس میں یہ اشتہار چھپا۔
ہندوستان کے بڑے شہروں میں سے ایک معروف و مشہور شہر کی جامع مسجد کے لئے مندرجہ ذیل شرائط کے جامع امام کی ضرورت ہے۔
(۱) وسیع النظر عالم دین ہو۔
(۲) بہترین حافظ اور خوش الحان قاری ہو۔
(۳) وجیہ اور باوقار ہو۔
(۴) خطبات پر قدرت ہو۔
(۵) دینی و شرعی امور کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی حالات پر اس کی نظر ہو‘ مشاہرہ کی ماہانہ رقم ۲۵ سے ۳۰ ہزار ہوسکتی ہے۔ رہائش وغیرہ کا عمدہ انتظام الگ
(ماہنامہ جام نور دہلی مئی ۲۰۰۵)
عزیزان گرامی!
اگر اس طرز پر ہم علماء کی عزت افزائی فرمائیں تو یقین جانئے ہمارے مدارس سے نورونکہت کا وہ سیلاب برآمد ہوگا کہ ہر طرف اسلامی معاشرہ کے خدوخال ابھر کر سامنے آجائیں گے۔
اور ہمیں اب اس جانب توجہ دینی چاہئے تاکہ ہمارے یہاں مدارس میں طلبہ کی تعداد بڑھے اور نیز طلبہ کی تربیت اسی نہج پر ہو کہ وہ اسلام کے خلاف عالمی سازشوں پر گہری نظر رکھ سکے۔
علماء کا نفسیاتی استحصال اور تحقیر
اسلام دشمنی نے یہود ونصاریٰ اور ان کی پروردہ سیاسی جماعتوں کو اس قدر ذہنی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ کردیا اور انہوں نے علماء کی نفسیاتی تحقیر کے لئے کئی طریقے اپنائے‘ ہر داڑھی والے شخص کو خواہ اس کا ذاتی کردار کیسا ہی ہو‘ وہ دین سے واقف ہے یا نہیں‘ اوئے مولوی کہہ کر پھبتی کسی جانے لگی۔ مولانا ‘ علامہ کے الفاظ کثرت سے استعمال ہونے لگے۔ علماء کاامتیاز ختم کردیا۔ سیاسی جلسوں میں علماء کرام پر پبھتیاں کسی گئیں علماء کے لئے مولوی کی اصطلاح عام ہوگئیں بعد میں تحقیر کے لئے اسے ملا ملا نئے ملا نے حلوہ خور‘ جیسے القابات کی شکل اختیار کرلی۔
برصغیر کے انگریز حکمرانوں نے ہوٹل کے بیروں اور دربانوں کے لئے پگڑی‘ کلاہ اور اچکن کا لباس مقرر کیا جو آزادی کے دور میں علماء کا لباس تھا۔
غرض تحقیر کے لئے ہر وہ طریقہ اپنایا گیا جس سے علماء کی تحقیر ہوسکے۔
معمولی تنخواہیں معاشرتی طور پر معاشی بدحالی نے اعلیٰ لوگوں کو اس جانب سوچنے پرمجبور کردیا کہ اگر انہوں نے اپنے بچوں کو عالم دین بنایا تو ان کے بچوں کا وہی حشر ہوگا جو آج اس محلہ (برہام پور) کے مولوی صاحب کا ہے چنانچہ اکثر مسجدوں کی امامت بھی جاہل اور نادان لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی۔
علماء کی کردار کشی
دین اسلام کو مٹانے کے لئے دین کے محافظوں کی کردار کشی کی گئی اور یہ تصور عام کردیا گیا کہ یہ مولوی ہی قدامت پرست ہے۔ ہماری تنزلی کا سب سے بڑا سبب یہ مولوی ہے اور اس کی بنائی ہوئی اسلامی اقدار (جو درحقیقت مولوی کی نہیں نبی کریمﷺ کی عطا کردہ ہیں) ہی درحقیقت قوم کی تنزلی کا سبب ہیں اور یہ منظر پاکستان اور ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں عام ہے۔ اگر ترکی کو یورپی یونین میں شامل ہونا ہے تو تمام اسلامی اقدار کو پامال کرنا ہوگا ‘ مولوی کا حکم‘ حجاب‘ اسکارف‘ داڑھی‘ ٹوپی یہ تمام اقدار ترک کرنا ہوں گی۔
اسلامی ثقافت کے مظاہر داڑھی‘ اونچی شلوار اور ٹوپی پہننے والے ہر شخص کو متعصب‘ تنگ ذہن اور متشدد سمجھا جانے لگا۔ مولویوں کے ظلم کی داستانیں عام کی گئیں۔ اس کی مثال محترمہ کا درج ذیل بیان ہے۔
’’پاکستان میں عورت‘ ملا‘ شوہر‘ ساس اور سسر کے ظلم کا شکار ہیں۔ خواتین کو ایک سازش کے تحت پس ماندہ رکھا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ان خواتین کی قابلیت اور ذہانت گھر کی چار دیواری کے اندر رہنے سے ختم ہوجاتی ہے‘‘ (روزنامہ جنگ ۱۶ جنوری ۱۹۹۲ئ)
عزیزان گرامی!
عبارت کو غور سے ملاحظہ کیجئے۔ ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’ملا‘‘ بے چارہ چار دیواریوں میں گھس کر عورت پر شوہر‘ ساس اور سسر سے زیادہ مظالم ڈھا رہا ہے ۔ گھر سے باہر نکلنے والی ایسی خواتین کی قابلیت کا عالم یہ ہے کہ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ چار دیواری میں رہنے کا حکم ’’ملا‘‘ نے نہیں اﷲ تعالیٰ نے دیا ہے۔
و قرن فی بیوتکن (سورہ احزاب آیت ۳۳ پ ۲۲)
’’اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو‘‘
اور یہی محترمہ لندن کے ایک نائٹ کلب میں دو پاکستانی خواتین کے برہنہ رقص کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں۔
’’وہ دونوں باغی عورتیں ہیں ان کے باغی ہونے کی وجہ بھی ملااور ساس سسر ہیں‘‘
(روزنامہ جنگ ۱۶ فروری ۱۹۹۲)
ہر کردہ ناکردہ جرم ملا ہی کے کھاتے میں آتا ہے۔
عورتوںپرظلم کون کررہا ہے؟ ملا
ترقی کا دشمن کون ہے؟ ملا
قدامت پرست کون ہے؟ ملا
زوال کی وجہ کون؟ ملا
ہر جرم’’ملا‘‘ ہی کے کھاتے میں آتا ہے۔
علماء کرام کی تحقیر کے لئے جدیدیت کے علمبردار نام نہاد اسکالرز نے شرم و حیاء کی کج کلاہ کو اتار کر پھینک دیا اور آبروئے علم کو یوں بے آبرو کرتے نظر آتے ہیں۔
جدیدیت کے علمبردار علماء کی تحقیر میں پروفیسر علی حسن مظفر یوں رقم طراز ہیں۔
’’ملا کے کئی روپ ہیں کبھی بے چارہ دنیا سے بے نیاز نظر آتا ہے‘ کبھی وہ اپنے آپ کو دنیا سے لاتعلق ظاہر کرتا ہے‘ کبھی دنیا داروں کے سامنے چندہ کی بھیک مانگتا نظر آتاہے‘‘
(اکیسویں صدی اور ہمارے علماء ص ۴۷ از پروفیسر علی حسن مظفر مطبوعہ انجمن ارتقائے ملت گوجرانوالہ فروری ۲۰۰۳ئ)
مزید آگے کچھ اس طرح چراغ ظلمت جلاتے ہیں۔
یہاں (مدارس میں) مولویوں کی کون سی قسم تیار ہوتی ہے۔ ٹیلنٹ تو اﷲ تعالیٰ نے ہر شخص میں دیا ہوا ہے۔ چنانچہ جو اعلیٰ نسل کے مولوی وہتے ہیں وہ ’’علمائ‘’ بن جاتے ہیں اور جو نیم اعلیٰ نسل کے مولوی ہوتے ہیں وہ مسجدوں کے خطیب بن جاتے ہیں اور جو عام نسل کے مولوی ہوتے ہیں وہ مسجدوں کے امام بن جاتے ہیں۔ یہ بے چارے اعلیٰ علوم یعنی (دینی اسکالروں اور دنیاوی مفکروں کی کاوش) سے بے بہرہ ہوتے ہیں مگر اپنے مبتدیوں کو بتاتے ہیں کہ وہ عالم وقت ہیں اور امامت کو اپنا حقیقی منصب سمجھتے ہیں۔
(اکیسویں صدی اور ہمارے علماء ص ۵۷)
اور اپنی ایک دوسری کتاب میں لکھتے ہیں
وہ دن ’’قسمت ترین دن ہوگا‘‘ جب قوم ملا سے اور ملا کی تحقیق سے چھٹکارا پالے گی۔ (روایات اصل دین نہیں ص ۸ از پروفیسر علی حسن ظفر مطبوعہ وینزابل اسلامک پبلیکیشنز وی آئی پی لاہور ایڈیشن سات ۲۰۰۴ئ)
دردمند دوستو!
اس نہج پر علماء کرام کے خلاف پروپیگنڈہ مہم منظم طور پر چلائی گئی۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے علماء کے متعلق برین واشنگ کی جانے لگی۔ ٹی وی ڈراموں میں داڑھی والے کردار بدمعاشوں اور غنڈوں کو دیئے گئے‘ جبکہ شریف‘ اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ اور اچھے کردار کلین شیو کو دیئے گئے۔ مزاحیہ خاکوں میں علماء کا مذاق اڑایا گیا۔ ڈراموں میں ترکی ٹوپی جو کسی دور میں خلافت اور مرکزیت کا شعار تھی‘ مزاحیہ کرداروں کو پہنا دی گئی غرض یہ کہ ایک منظم انداز میں یہ کوشش کی گئی کہ علماء کے کردار کو قوم کے ذہنوں میں معاشرہ کا ایک بوجھ پر راسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔
پی ٹی وی کے ڈائریکٹر ذوالفقار بخاری کے اس بیان کو غور سے پڑھیئے جو انہوں نے ٹی وی اسٹیشن کے قیام کے موقع پر دیا۔
منافقت اور متضاد کردار کے لئے منفی ڈرامہ کرداروں کو داڑھی لگایئے‘ مضحکہ خیز کرداروں اور یتیم العمل کرداروں کو مشرقی لباس پہنایئے‘ یہ یاد رکھئے کہ آپ کو تمام کرداروں اور انائونسروں کو وہ لباس پہنانا ہے جو ہمارے ترقی یافتہ معاشرے میں سو سال بعد رائج ہونا چاہئے۔ جو ایک فیصد اوپر کے طبقے پر رائج ہے (مسلمانوں کی فکری اغوا ص ۱۰۴۔۱۰۵ از مریم خنساء مطبوعہ دارالکتب سلفیہ بحوالہ ویڈیو جنریشن ص ۳۱)
عزیزان گرامی!
اور اب صورتحال یہ ہے کہ قدامت پرست علماء کے بجائے ان لوگوں کو آگے لایا جارہا ہے جو مغربیت سے مرعوب ہیں اور ان علماء کو جو روشن خیال اور لبرل ہیں اور انہیں اس پر فخر بھی اسلام کی لغت میں ہم ان کو علماء سوء کہہ سکتے ہیں۔
یہ بناوٹی مولوی اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پھیلا کر مسلمانوں کا اسلام پر اعتماد ختم کردیتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں شکوک وشبہات پیدا کرنا ان کا اہم مقصد ہے۔
علماء کی آڑ میں اسلام کی مخالفت
خواہشات نفسانی بھی عجیب ہوتی ہے انسان کو انسان نہیں رہنے دیتی اور جب انسان خواہشات کا غلام ہوجاتا ہے تو نفسانی خواہشات آقا کا روپ دھار لیتی ہے اور پھر کیا حکم ہے میرے آقا انسان یہ نعرہ لگاتا نظر آتا ہے۔
سفلی خواہشات کا نہ تھمنے والا سیلاب جب اسلام کی لگائی ہوئی حدود سے آکر ٹکرانے لگتا ہے تو اس کا بس نہیں چلتا کہ یہ حدود یہ بند سب توڑ دے لیکن جب بس نہیں چلتا تو ملا کی آڑ لے کر ان مضبوط فصیلوں پر سنگ باری شروع کردی جاتی ہے۔ کہ یہ ملا کا اسلام ہے‘ ملا ازم اور ملائیت کی اصطلاحات وضع کردی گئیں۔ اسلام کے مسلمہ اصولوں کو ملا کا اسلام قرار دے کر اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی عام ہوگئی۔
ایک معروف صحافی یوں رقم طراز ہیں۔
’’جس میں جمہوریت شامل ہے ہم اس اسلام کے پیروکار ہیں ملا کے اسلام میں جمہوریت نہیں‘‘ (نوائے وقت ۱۹ دسمبر ۱۹۹۱)
عزیزان گرامی!
کیا اسلام کی کئی اقسام ہیں؟
جمہوری اسلام‘ ملا کا اسلام‘ سوشلسٹ اسلام‘ کمیونسٹ اسلام‘ لبرل اسلام‘ روشن خیال اسلام‘ جدید اسلام
نہیں نہیں… ہرگز نہیں۔
اسلام تو صرف ایک ہے یہ تو انسانوں کی وضع کردہ نظریات کا معجون مرکب نہیں‘ اﷲ تعالیٰ کا دین خالص ہے جس میں جمہوریت اور کسی اور نظریہ کی ملاوٹ کی گنجائش نہیں۔ اس کا اعلان ہے کہ
الاﷲ الدین الخالص (سورہ الزمر آیت ۳ پ ۲۳)
’’خبردار! صرف اﷲ کے لئے ہے دین خالص‘‘
تو دوستو! پھر مولوی کا اسلام کیا ہوا؟
حدود آرڈیننس پر روشن خیالوں نے اس طرح شور مچایا
’’حدود آرڈیننس خواتین کو پسماندہ رکھنے کے لئے ملا کی ایک گہری سازش ہے‘‘ (روزنامہ جنگ ۱۶ فروری ۱۹۹۲ئ)
واضح کرتا چلوں کہ حدود آرڈیننس کی دفعات قرآن کی سورہ نور اور کتب احادیث کی نصوص پر مشتمل ہے۔ حد قذف‘ حد رجم کسی ملا نے نہیں اﷲ تعالیٰ نے عورتوں کی عصمت کے تحفظ کے لئے مقرر کی ہے۔
اس حدود اﷲ کو پرویز مشرف نے پارہ پارہ کرڈالا۔ اس کی تفصیلات ہم اپنے رسالہ حدود آرڈیننس کے محرکات اور اس کے معاشرتی اثرات میں لکھ چکے ہیں۔
غرض یہ کہ علماء کی آڑ لے کر دین پر حملے کرنا استعمار کی ایجنڈوں کا ایک ہتھیار ہے۔
ایک سیاسی رہنما کا یہ بیان بھی ملاحظہ کیجئے۔
’’ہم ملا کی وکٹ پر نہیں بلکہ ذوالفقار کی وکٹ پر کھیلیںگے کیونکہ ہم سیکولر ہیں‘‘
(روزنامہ جنگ ۱۹ مئی ۱۹۹۲ئ)
سیکولر کسے کہتے ہیں کون لوگ ہیں سیکولر وہ جن کا کوئی مذہب نہیں۔ گویا یہاں بھی ملا کو اسلام کے ہم معنی استعمال کیا گیا۔
عزیزان گرامی!
مولویوں کے خلاف سینوں میں اتنا زہر بھر دیا گیا ہے کہ موقع بے موقع محل بے محل خواہ وہاں مولوی پر تبرا بھیجنا ضروری ہو یا نہیں مگر بھیجے بغیر چین نہیں ملتا۔
جیسے نعیم بخاری صاحب کا یہ بیان:
’’ڈش انٹینا ہماری گردنوں پر آگیا ہے۔ ۸۴۰۰ روپے کا ہوگیا ہے۔ گھروں میں عام ہورہا ہے لیکن ہمارے مولوی ابھی تک بکھیڑوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ کہاں رہ رہے ہیں۔ تاریخ کی گھڑی مڑتی نہیں‘ چاہے موڑے جائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم اچھے مسلمان تھے مگر آج ہم سب سے گئے گزرے ہیں۔ مولوی فتویٰ دینا ہے کہ ’’تو کافر ہے اور تو مسلمان‘‘ اسلام کا نام لے کر بعض مولوی اور سیاست دان عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔ گناہ کرتے ہیں ہمیں صبر کی تلقین کی جاتی ہے کہ یہاں دکھ سکھ سہ لو ‘ دوسرے جہاں میں تمہیں حور ملے گی۔ نہریںبھی اور جنت بھی۔ ہمیں آج تک وعدہ حور سے بہلایا جاتا ہے اور ہم بہل جاتے ہیں‘‘ (جنگ ۲۶ جون ۱۹۹۲ئ)
بیان کی بے ربطگی مولویوں کے خلاف ذہن میں ابلنے والے جوش و خروش کی غمازہے۔ اس رو میں اس قدر بہہ گئے کہ جنت و حور وقصور پر بھی تنقید کرگئے۔ حالانکہ یہ وعدہ مولوی کا نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کا ہے اور پورا قرآن اس پر گواہ ہے۔
مدیحہ گوہر علماء کے خلاف کچھ یوں زہر افشانی کرتی ہیں۔
’’ٹیلی ویژن پر عریانی اور فحاشی کا الزام سراسر غلط ہے۔ محض سر سے دوپٹہ اتار دینا عریانی نہیں… مارشل لاء کے دور میں جو کلچر ہم پر مسلط کیا گیا تھا‘ وہ ہمارا کلچر نہیں ہے۔ کچھ مولوی حضرات اس چیز کو مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔ انہیں معاشرے کو درپیش دوسرے مسائل نظر نہیں آرہے۔ رقص و موسیقی ہمارے کلچر کا حصہ ہیں۔ میں ٹیلی ویژن کو ورلڈ کپ کے موقع پر کلچرل پروگرام کروانے پر مبارکباد دیتی ہوں۔ محض چند داڑھی والے آکر بدتمیزی کرتے ہیں‘ اسمبلیوں میں ٹھڈے مارے جاتے ہیں۔ الیکشن میں عوام انہیں رد کرتے ہیں۔ محض غیر ملکیوں کی پشت پناہی کی وجہ سے یہ لوگ اس قدر طاقتور ہوگئے ہیں‘‘
عہد نبویﷺ میں اسلام کے خلاف ایسے پرجوش غیظ و غضب کا کافرانہ مظاہرے پر اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا:
قد بدت البغضاء من افواہہم وماتخفی صدورہم اکبر قدبینا لکم الایات ان کنتم تعقلون (سورہ آل عمران آیت ۱۸۸)
’’ان کی عداوت تو ان کی زبان سے ظاہر ہوچکی اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ بہت زیادہ (خطرناک) ہے۔ اگر تم عقل مند ہو تو ہم نے تمہارے لئے آیات بیان کردیں۔ نیز فرمایا:
عضواعلیکم الانامل من الغیظ قل موتو۱ بغیظکم ان اﷲ علیم بذات الصدور (سورہ آل عمران آیت ۱۱۹)
’’وہ تم پر مارے غصے کے انگلیاں چباتے ہیں کہہ دو کہ اپنے غصہ ہی میں مرجائو‘ اﷲ تعالیٰ دلوں کا راز بخوبی جانتا ہے‘‘
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آج کے دور میں صرف مسلمانوں ہی کی غیرت اتنی گہری نیند سوئی ہوئی ہے کہ اپنے مذہبی رہنمائوں کے خلاف ہرزہ سرائی پر بھی جاگتی نہیں ورنہ کسی عیسائی‘ ہندو‘ پارسی‘ سکھ یا یہودی رہنما کے خلاف کوئی بات کرکے تو دیکھے۔ ان مذاہب کے عوام تو عوام حکمران تک آسمان سر پر اٹھالیں گے اور اسے اس کے انجام سے ہمکنار کرکے دم لیںگے۔
حد تو یہ ہے کہ لندن کے مشہور ہائیڈ پارک میں بھی جہاں آزادی اظہار رائے کا ہر کسی کو پورا حق حاصل ہوتا ہے۔ ملکہ اور پوپ کے خلاف کچھ کہنے کی قطعا اجازت نہیں۔
علماء کرام امت اسلامیہ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ اگر انہیں اسلامی حکومتوںمیں منصب عطا کیاگیا تو وہیں اعلائے کلمتہ اﷲ پاداش میں ان کی پیٹھوں کو کوڑوں سے لہولہان بھی کیا گیا۔ استعمار کے ایجنٹوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ان کو درختوں سے الٹا لٹکا کر ان کے سروں کے نشانے باندھے۔ تو کہیں ان کو درختوں سے باندھ کر ذبح کیاگیا۔ کہیںان کی املاک قرق کی گئیں کہیں نذر آتش اور کہیں کالے پانی کی سزا سنا کر اپنے جذبات کو تسکین پہنچائی۔
عالم اسلام میں علماء کی یہ حالت قابل ذکر ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی عدالت نے علماء کے استحصال کرنے والوں کے لئے یہ سزا سنائی ہے۔
ان الذین یکفرون بآیات اﷲ ویقتلون النبین بغیر حق ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرہم بعذاب الیم اولٰئک الذین حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرۃ ومالھم من ناصرین (سورہ آل عمران آیت ۲۱۔۲۲ پ ۳)
بے شک جو لوگ انکار کرتے ہیں اﷲ کی آیتوں کا اور قتل کرتے ہیں انبیاء کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں عدل وانصاف کا لوگوں میں سے تو خوشخبری دو انہیں دردناک عذاب کی یہ ہیں وہ (بدنصیب) اکارت گئے جن کے اعمال دنیا میں اور آخرت میں اور نہیں ہے ان کے لئے کوئی مددگار۔