یہودیت اللہ کے نزدیک کوئی دین نہیں

in Tahaffuz, November 2008, دیگر مذاہب, علامہ محمد کمال الدین رضوی

عن عبداﷲ قال سالت رسول اﷲﷺ ای الذنب اعظم عنداﷲ قال ان تجعل ﷲ ندا وہو خلقت قال قلت لہ ان ذالک لعظیم قال قلت ثم ای قال ثم ان تقتل ولدک مخافۃ ان یطعم معک قال قلت ثم ای قال ان تزانی حلیلۃ جارک
(ترجمہ) حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور پاک علیہ الصلواۃ و السلام سے پوچھا کہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آقا علیہ الصلواۃ و السلام  نے فرمایا (سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) تو اﷲ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا ہے۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ واقعی یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ پھر میں نے (یعنی حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے) عرض کیا کہ اس کے بعد کون سا گناہ ہے؟ ارشاد ہوا ’’یہ کہ تو کھلانے کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرے‘‘ پھر عرض کیا (یارسول اﷲﷺ) اس کے بعد کون سا گناہ ہے؟ ارشاد ہوا ’’یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے منہ کالا کرے‘‘ (صحیح مسلم ج ۲ ص ۶۳)
تشریح
حدیث مذکور کے راوی حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ ہیں۔ آپ کی کنیت ابو عبدالرحمن ہے۔ ایک قول کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ اسلام لانے والوں میں چھٹے نمبر پر ہیں یعنی حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بھی پہلے مسلمان ہوئے۔ حضور پاک علیہ الصلواۃ و السلام کے خاص صحابہ میں سے تھے؟ سفر میں حضور پاک علیہ الصلواۃ و السلام کی مسواک‘ نعلین پاک اور برتن آپ کے پاس ہوتے تھے۔ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے۔ حضور پاک علیہ الصلواۃ و السلام نے ان کے جنتی ہونے کی گواہی دی۔ آپ کے متعلق حضور پاک علیہ الصلواۃ و السلام نے ارشاد فرمایا۔ ’’میں اپنے اْس امْتّیسے راضی ہوں جس سے ابن ام عبد (یعنی عبداﷲ بن مسعود) راضی ہیں اور میں اس سے ناراض ہوں جس سے ابن ام عبد (یعنی عبداﷲ بن مسعود) ناراض ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور میں کوفہ کے قاضی اور کوفہ ہی کے بیت المال کے نگراں مقرر ہوئے۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ابتدائی دور تک خدمات انجام دیتے رہے۔ پھر واپس مدینہ منورہ آگئے اور ۳۲ھ کو خالق حقیقی سے جاملے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا مزار پرانوار جنت البقیع میں ہے۔ آپ رضی اﷲ عنہ سے جہاں بہت سے صحابہ و تابعین نے احادیث روایت کیں وہیں ان روایت کرنے والوں میں چاروں خلفاء علیہم الرضوان بھی شامل ہیں۔ (مشکوٰۃ اسماء الرجال)
یہ حدیث صحیح اور اس کے تمام راوی ثقہ اور اہل کوفہ ہیں علیہم الرضوان (حاشیہ صحیح مسلم )
حدیث پاک میں تین بڑے گناہوں کا ذکر کیا گیا۔ ان میں سے ایک شرک ہے۔
شرک کی تعریف
اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت کا انکار کرنا اور اس کی عبادات یا ذات و صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔
شرک ایک ایسا بدترین گناہ ہے۔ کہ اﷲ جل مجدہ اپنی شان کریمی سے چاہے تو تمام گناہوں کو تو معاف فرمادے گالیکن اس بدترین گناہ پر کوئی معافی نہیں ملے گی۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے جب سے نظام کائنات کو بنایا اور اس میں انسان کو پیدا فرمایا۔ ساتھ ہی ان کو ہدایت کے لئے مختلف انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ بہت سے لوگوں نے ہدایت حاصل کی اور بہت سے اوائل ہی سے بے دین ٹھہرے۔ اور بہت سے بعد میں ایمان لائے پھر کفر و ارتداد کی طرف لوٹ گئے ہم اس عنوان کے تحت نافرمانی اور بے دینی کی طرف لوٹتنے والی ایک قوم ’’قوم یہود‘‘ کی ابتدا سے لے کر اب تک کے حالات ‘ افعال و کردار کا جائزہ لیں گے۔ ملاحظہ کیجئے۔
یہودیت کا آغاز
حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃا والسلام کے دو صاحبزادے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے ایک صاحبزادے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے۔ جن سے ۱۲ بیٹے ثابت ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام ’’اسرائیل‘‘ ہے۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے۔ اسراء کا معنی عبد (بندہ) اور ایل اﷲ تعالیٰ کا نام ہے۔ یعنی (اﷲ کا بندہ) حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل اسرائیل کے نام پر بنی اسرائیل مشہور ہوئی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں میں سب سے بڑے بیٹے کا نام ’’یہودا‘‘ تھا اور سب سے چھوٹے کا نام بن یامین تھا۔ فلسطین کے ایک حصہ کا نام یہودیہ تھا جہاں یہودا اور بن یامین کی نسلیں آباد ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کے رہنے والے یہود کہلائے۔ اس سے واضح ہوا کہ یہودیت اﷲ کے نزدیک کوئی دین نہیں ہے۔ چونکہ بنی اسرائیل میں سے حضرت یوسف علیہ السلام بھی تھے تو جب آپ علیہ السلام عزیز مصر مقرر ہوئے۔ مصر میں بنی اسرائیل کو بہت عروج حاصل ہوا۔ آپ علیہ السلام کی حکومت قریبا ۸۰ سال قائم رہی۔ بائبل کے مطابق آپ علیہ السلام کی حکومت ایک سو دس سال قائم رہی۔ اور جب حضرت یوسف علیہ السلام کی حکومت ختم ہوئی تو متعصب قبطی النسل خاندان برسر اقتدار آگیا اور فرعون وقت نے بنی اسرائیل پر بڑے بڑے مظالم ڈھائے۔ تب اﷲ تعالیٰ نے ان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ جو چھ لاکھ بنی اسرائیل کو فرعون (رعمیسس ثانی) کی غلامی سے نکال لائے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم کی نافرمانی کی وجہ سے چالیس سال تک جنگلات میں ذلیل و خوار پھرتے رہے۔
پھر چالیس سال بعد ان کی نئی نسل حضرت یوشع کی قیادت میں فلسطین میں داخل ہوئی اور وہاں کے باسیوں کو شکست دے کر فلسطین کو فتح کرلیا۔ اس سلسلے کو حضرت دائود علیہ السلام نے کچھ آگے بڑھایا۔ پھر آپ علیہ السلام کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت سلیمان علیہ السلام نے مزید ترقیاں دیں۔ یاد رہے بنی اسرائیل (چند افراد کے سوا) اگرچہ تھے تو انتہائی بے ادب و بے مروت قسم کے لوگ لیکن چونکہ پے درپے ان میں انبیاء و رسل علیہم السلام کی آمد کا سلسلہ جاری تھا تو وہ بتوں وغیرہ کی عبادات کے بعد پھر توحید کی طرف لوٹ آتے تھے۔
لہذا یروشلم کو فتح کرنے کے بعد حضرت دائود علیہ السلام نے سب سے پہلے بیت المقدس کی بنیاد رکھی اور آپ علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو مکمل کروایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال فرماجانے کے بعد آپ کا بیٹا دھوبام تخت نشین ہوا لیکن اس سے حکومت سنبھالی نہ گئی اور بنی اسرائیل قبائل میں بٹ گئے اور آپس میں لڑتے رہے یہاں تک کہ مصر کے فرعون وقت ’’شیشک‘‘ نے یروشلم پر حملہ کردیا۔ پھر مختلف حکمران آتے رہے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو فلسطین سے نکال باہر کردیا۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے انہیں ایک موقع مزید عطا فرمایا کہ ان میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا لیکن جب آپ علیہ السلام نے انہیں غلط باتوں اور خرافات سے منع کیا تو وہ ان کے بھی خلاف ہوگئے۔
بت پرستی
ویسے تو بنی اسرائیل (یہود) نے غلط کاموں کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اس کو بھرپور انجام دیا۔ انبیاء و رسل علیہم السلام کو شہید کرکے خوش ہوتے رہے لیکن حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد یہ لوگ کھل کر اﷲ تعالیٰ کے باغی ہوگئے۔ اب سرعام بالکثرت بتوں کی پوجا شروع کردی۔ چنانچہ اسرائیلی سلطنت کے ایک بادشاہ (جہو) کے علاوہ سب کے سب مشرک ہوچکے تھے۔
انبیاء علیہم السلام کا قتل اور نافرمانی بائبل کی زبانی
ان کی اپنی کتاب مقدس بائبل کی روشنی میں چند واقعات درج کئے جاتے ہیں جن سے بخوبی واضح ہوجائے گا کہ یہود کس قدر نافرمان و بے ادب و غدار تھے۔
(۱) حضرت الیاس (ایلیاہ) علیہ السلام نے جب ’’بعل‘‘ کی پوجا کرنے پر یہودیوں کی ملامت کی اور انہیں ازسرنو دعوت توحید دی تو سرمایہ کا اسرائیلی بادشاہ ’’افی اب‘‘ اپنی مشرک بیوی کی خاطر حضرت الیاس علیہ السلام کی جان کا دشمن بن گیا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی۔ اس وقت آپ علیہ السلام نے دعا مانگی ’’بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک ہی میں اکیلا بچا ہوں سو وہ میری جان لینے کے درپے ہیں‘‘ (سلاطین اول باب ۱۹ آیت ۲۶۔۲۷)
۲۔ پھر جب یہودیہ کی ریاست میں اعلانیہ بت پرستی اور بدکاری ہونے لگی اور ذکریا نبی نے اس کے خلاف آواز بلند کی تو شاہ یہوداہ یو آس کے حکم سے انہیں عین ہیکل سلیمانی میں مقدس اور قربان گاہ کے درمیان سنگسار کردیا گیا (تواریخ دوم باب ۲۴ آیت ۲۱)
۳۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام (جنہیں وہ یوحنا کہتے ہیں) نے جب ان بداخلاقیوں کے خلاف آواز اٹھائی جو یہودیہ کے فرمانروا ہیرودیس کے دربار میں کھلم کھلا ہورہی تھیںتو پہلے وہ قید کئے گئے پھر بادشاہ نے اپنی معشوقہ کی فرمائش پر قوم کے اس صالح ترین آدمی کا سرقلم کرکے ایک تھال میں رکھ کر اس کی نذر کردیا (مرقس اول باب ۶ آیت ۱۷ تا ۱۹)
۴۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو بھی برائیوں سے روکنے کی بناء پر قتل کرنے کا فیصلہ کیا (متی باب ۲۷ آیت ۲ تا ۲۶)
نوٹ: پہلے دو حوالہ جات عہدنامہ قدیم کے ہیں جس کو یہود آج بھی اپنی مقدس کتاب مانتے ہیں باقی دو آخر کے عہدنامہ قدیم کے ہیں۔
یہودیوں کا قوی دیوتا ’’یہوواہ‘‘
یہودجہاں دوسری اقوام کے دیوتائوں کی پوجا کیا کرتے تھے۔ وہیں ان کا ایک مخصوص قومی دیوتا تھا جس کی صرف وہی لوگ پوجا کیا کرتے تھے۔ پہلے پہلے اس کے بارے میں عقیدہ تھا کہ وہ زمینوں کی زرخیزی  اور فصلوں کی افزائش کا دیوتا ہے۔ پھر زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی صفات میں اضافہ ہوتا چلا گیا کہ اس کے بعد وہ جنگ و جدل میں فتح عطا کرنے اور دشمنوں سے محفوظ رکھنے والا بن گیا۔
پھر اولاد عطا کرنے والابن گیا۔ کیونکہ یہود کو عددی قوت میں اصافے کے لئے اولاد کی ضرورت تھی لہذا وہ اس دیوتا کے نام پر منت مانتے اور منت پوری ہونے کی صورت میں اولاد کو اس کی طرف منسوب کردیتے۔ مزید جنون اور پاگل پن کو بھی اسی یہوواہ کو اثر خیال کرتے۔ اس کے بارے میں یہ بھی عقیدہ رہا کہ وہ صرف آبادیوں میں رہتا ہے۔ جنگل اور ویرانے اس کے وجود سے خالی ہیں۔
الغرض وہ صرف انہی کا قومی دیوتا خیال کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہود کا عقیدہ تھا کہ یہود اگر کہیں نقل مکانی کرجاتے تو یہوواہ دیوتا بھی اپنا ٹھکانا بدل کر ان کے ساتھ ہولیتا پھر یروشلم میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے بعد یہوواہ وہاں منتقل ہوگیا اور وہیں اس کا مستقل ٹھکانہ بن گیا (عجیب احمقانہ عقائد ہیں (العیاذ باﷲ تعالیٰ) اس کے علاوہ ہر خاندان کا ایک ایک خاندانی دیوتا بھی رہا ہے۔
یہودیت ایک نسلی مذہب ہے
یہودیت کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ صرف ایک نسل (بنی اسرائیل) کا مذہب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتداء سے لے کر اب تک کوئی بھی غیر اسرائیلی یہودیت اختیار نہ کرسکا نہ کرسکتاہے۔ ان کا یہ بھی نظریہ ہے کہ خدا صرف بنی اسرائیل کا خدا ہے۔ وہ صرف انہی کی حفاظت کرتا ہے۔ صرف انہی کی سنتا ہے۔ صرف انہی سے مخاطب ہونا اور کلام کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ اور یہودی جہاں کہیں منتقل ہوتے ہیں خدا بھی ان کے ساتھ ساتھ وہاں منتقل ہوجاتا ہے۔
یہود کی کتاب ’’بائبل‘‘ غیر محفوظ ہے
بائبل بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ عہدنامہ قدیم یا عہدنامہ عتیق کہلاتا ہے۔ یہودی صرف اسی حصہ کو مانتے ہیں باقی دوسرا حصہ عہدنامہ جدید کہلاتا ہے جس کو یہودی تو نہیں مانتے لیکن عیسائی حضرات اس کو مانتے ہیں۔
عہدنامہ قدیم میں کل ۲۹ کتب ہیں۔ یہ ۲۹ کتب تو آج بھی بائبل میں موجود ہیں۔ لیکن ان کتابوں میں مزید ایسی ۱۷ کتابوں کے حوالہ جات ملتے ہیں جو پہلے بائبل میں موجود تھیں مگر اب موجود نہیںہیں بلکہ وہ کہاں ہیں؟ وہ کہاں گئیں؟ کوئی سراغ تک نہیں ملتا۔
ان میں سے چند کتابوں کے نام بحوالہ ملاحظہ کیجئے۔
(۱) کتاب عہد نامہ موسیٰ (خروج باب ۲۴ آیت ۷)
(۲) جنگ نامہ خداوند (گنی باب ۲۱ آیت ۱۴)
(۳) کتاب یاہوبن حنانی (تواریخ دوم باب ۲۵ آیت ۳۴)
(۴) کتاب اخیاہ بنی (تواریخ دوم باب ۹ آیت ۲۹)
(۵) کتاب اعمال سلیمان (سلاطین اول باب ۱۱ آیت ۴۱)
اختصار کی خاطر مزید نام درج نہیں کئے گئے۔ چنانچہ یہ بات واضح ہوگئی کہ بائبل غیر محفوظ ہے۔
اس کے علاوہ مزید ۳۸ کتب وہ ہیں جوبائبل میں موجود تھیں لیکن پراٹسٹنٹ کلیسیا نے انہیں جعلی قرار دے کر خارج کردیا۔ مثلا کتب سبعہ ثیث ‘ کتاب حنوک‘ کتاب معراج موسیٰ‘ کتاب عزرا نمبر ۱‘ کتاب عزرا نمبر ۲ وغیرہ
بائبل کا مشہور و معروف حصہ توریت بھی غیر محفوظ ہے
دیگر کتب بائبل کے مقابلے میں توریت کو زیادہ اہمیت حاصل ہے اس لئے ضروری سمجھا گیا ہے کہ اس کے غیر محفوظ اور تبدیل شدہ ہونے کو واضح کیا جائے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔ جس سے واضح ہوجائے گا کہ توریت غیر محفوظ ہے اور تبدیل شدہ ہے۔
۱۔ اور بادشاہ جو ملک ادوم پر مسلط ہوئے‘ پیشتر اس سے کہ اسرائیل کا کوئی بادشاہ ہو یہی ہیں (کتاب پیدائش ۳۶/ ۳۱)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ کتاب پیدائش جو کہ توریت کی ایک کتاب ہے چند بادشاہوں کی بادشاہت کے بعد لکھی گئی ہے۔ جبکہ بنی اسرائیل کا پہلا بادشاہ ’’مائول‘‘ حضرت دائود علیہ السلام کے زمانے میں ہوا ہے (سموئیل باب ۸) معلوم ہوا کہ مذکورہ عبارت حضرت موسیٰ علیہ السلام جوکہ صاحب توریت ہیں کے ۶۰۰ سال بعد لکھی گئی ہے۔
۲۔ خداوند نے اسرائیل کی آواز سنی اور کنعانیوں کو گرفتار کردیا اور انہوں نے انہیں اور ان کی بستیوں کو حرام کردیا اور اس نے اس مقام کا نام حرمہ رکھا (تنی باب ۲۱ آیت ۳)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ کتاب گنتی جوکہ توریت کا ایک حصہ ہے اس وقت لکھی گئی جب کنعانی قتل ہوچکے اور بستیوں کا نام حرمہ رکھا جاچکا تھا۔
جبکہ ’’قاضیوں کی کتاب‘‘ کے باب اول آیت ۱۷ کی رو سے یہ واقعات موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے ہیں۔
بائبل کی متضاد باتیں
بائبل کی چند متضاد باتیں درج کی جاتی ہیں جن سے واضح ہوجائے گا کہ بائبل غیر محفوظ کتاب ہے۔ تو جو خود غیر محفوظ اور تبدیل شدہ مزید متضاد باتوں پر مشتمل ہو‘ وہ کیا ہدایت دے گی؟
۱۔ خدا پچھتاتا ہے (پیدائش ۶:۶ خروج ۳۲:۱۴)
خدا پچھتاتا نہیں (گنتی باب ۲۳ آیت ۹)
۲۔ یعقوب کو مکفیلہ کی کھیت میں گاڑا (پیدائش باب ۵ آیت ۱۳)
یعقوب کو سکم میں گاڑا (اعمال باب ۷  آیت ۱۶)
۳۔ ساتویں دن خدا نے آرام کیا اور تازہ دم ہوا (خروج باب ۳۱ آیت ۱۷)
خدا تھک نہیں جاتا اور ماندہ نہیں ہوتا (یسعیاہ باب ۴۰ آیت ۲۸)
انبیاء علیہم السلام سے متعلق عقائد میں تضاد اور نازیبا باتیں
کہیں انبیاء علیہم السلام کو معصوم قرار دیا تو کہیں ایسی غیر اخلاقی باتیں کی گئیں کہ شرم کے مارے انسان کا سر جھک جائے۔ ملاحظہ کیجئے۔
۱۔ نوح اپنے قرنوں میں صادق اور کامل تھا اور نوح خدا کے ساتھ چلتا تھا (پیدائش باب ۶ آیت ۹)
۲۔ میں نے تجھی کو اپنے حضور میں اس زمانے کے اندر صادق دیکھا (پیدائش باب ۷ آیت ۱)
۳۔ نوح علیہ السلام اس راست بازی کا جو ایمان سے ملتی ہے وارث ہوا (عبرانیوں باب ۱ آیت ۷)
۴۔ میں خدائے قادر ہوں تو (اے ابراہیم) میرے ساتھ چل اور کامل ہو (پیدائش باب ۱۷ آیت ۱)
۵۔ میں خداوند تمہارا (موسیٰ علیہ السلام کا) خدا ہوں سو تم (اے موسیٰ) میرے قانونوں اور حکموں پر عمل کرو (احبار باب ۱۸ آیت ۲‘ ۴‘ ۵‘۲)
اب ان کی کتاب بائبل میں انبیاء علیہم السلام سے متعلق نازیبا باتیں ملاحظہ کیجئے۔
(اگرچہ ایسی باتیں لکھنے کو دل نہیں چاہتا۔ لیکن صرف اس لئے ان کا ذکر کیا جارہا ہے تاکہ آئینہ حقیقت آپ کے سامنے واضح ہوجائے)
۶۔ اور نوح کاشتکاری کرنے لگا اور اس نے انگور کا ایک باغ لگایا اس نے اس کی ہے (یعنی شراب) پی اور اسے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈیرہ میں برہنہ ہوگیا (پیدائش باب ۹ آیت ۱۹ تا ۲۵)
۷۔ اور لوط علیہ السلام صغر سے نکل کر پہاڑ پر جا بسا اور اس کی دونوں بیٹیاں اس کے ساتھ تھیں کیونکہ اسے صغر میں بستے ڈر لگا اور وہ اس کی بیٹیاں دونوں غار میں رہنے لگے تب پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ ہمارا باپ بوڑھا ہے اور زمین پر کوئی مرد نہیں جو دنیا کے دستور کے مطابق ہمارے پاس آئے۔ ہم اپنے باپ کو مے (شراب) پلائیں اور اس سے ہم آغوش ہوں تاکہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں (اس کے بعد کا خلاصہ یہ ہے کہ ان دونوں بیٹیوں نے اپنے ارادے کو مکمل کیا‘ نعوذ باﷲ من ذالک) (پیدائش باب ۱۹ آیت ۳۱ تا ۳۸)
یہود کی رسوم
۱۔ختنہ
ہر لڑکے کا یوم پیدائش کے آٹھویں دن ختنہ کیا جاتا ہے اور اسے اﷲ کا عہد قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ پیدائش باب ۱۷ آیت ۹۔۱۷ میں ہے۔
۲۔ عیدفصیح
۱۵ اور ۱۶ اپریل کو یہ دن مناتے ہیں ان دنوں انہیں فرعونیوں سے نجات ملی تھی۔
اس کے علاوہ ’’پوریم‘ چونوکاہ‘ یوم ہائز موت‘ یوم النست‘ یوم خمیس‘ نامی تہوار مناتے ہیں۔
(مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ‘ مذاہب عالم کا انسائیکلو پیڈیا‘ تقابل ادیان و مذاہب)
دورحاضر میں یہودیوں کی اجتماعی حالت
یہودیوں کے سیاہ کارنامے اور سازشی کردار اتنے خطرناک ٹھہرے کہ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں سے انہیں بھگایا نہ گیا ہو۔
ہر مذہب والوں نے ان سے نفرت کا اظہار کیا لیکن ان کے مقابلے میں مسلمانوں نے ان سے رواداری کا بھرپور اظہار کیا ہے جیسا کہ اس بات کا اعتراف ’’اڈورڈعطیہ‘‘ نے اپنی کتاب The Arabs کے صفحہ ۱۲۵ پر کیا ہے۔
جب یہ لوگ دربدر خوار ہوتے رہے اور رسوائیوں اور ذلتوں کا سامنا کرتے رہے تو انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ کسی ملک میں کم از کم اتنا حق حاصل کیا جائے کہ ہم وہاں مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ ابھی تک ان کے اندر ایسی بات نہیں تھی کہ اس کے لئے کوئی آزاد و باقاعدہ یہودی ریاست کا قیام ہو۔ صرف مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے حقوق کا مطالبہ کرنا ان کا مقصد تھا۔ الغرض ان کی نظر دنیا کے مختلف ممالک پر پڑی لیکن مشرقی یہودیوں نے فلسطین کو اس مقصد کے لئے تجویز کیا تو اس تجویز کو اختیار کیاگیا اور یہودی فلسطین میں آباد ہوتے رہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ تبھی انہیں ٹھہرنے کے لئے فلسطین میں جگہ دی گئی لیکن چونکہ یہودی ایک نمک حرام‘ احسان فراموش‘ اﷲ تعالیٰ کے باغی‘ انسانیت کے خلاف قوم ہیں تو انہوں نے مسلمانوں کی اس رواداری کے برخلاف ۱۹۸۱ء سے ایسے حالات پیدا کرنا شروع کردیئے کہ انہیں علیحدہ ملک حاصل ہوجائے اور وہاں سے مسلمانوں کو باہر نکال دیا جائے۔
چنانچہ ۱۹۱۸ء سے ۱۹۲۸ء کے درمیان اسرائیل نامی آزاد ریاست قائم کرنے کا فیصلہ طے پایا۔ جس کے پیچھے امریکا اور برطانیہ کا کلیدی کردار رہا ہے۔ چنانچہ ایک طے شدہ ایجنڈہ کے تحت برطانوی فوج جوکہ وہاں قیام امن کے لئے موجود تھی۔ ۱۹۴۸ء میں نکل گئی۔ ان کے نکلنے کے چند ہی گھنٹوں پہلے آزاد اسرائیلی ریاست کا اعلان کردیا گیا۔ جس کے بعد خون خرابہ مزید پھیل گیا۔ جس کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے ۱۹۴۷ء میں اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے تقسیم فلسطین کی سفارش پیش کردی تھی۔ جب یہودیوں نے آزاد ریاست کا اعلان کیا تو سب سے پہلے امریکہ نے اسے تسلیم کیا پھر سوویت یونین نے اس کو تسلیم کیا۔
اس طرح سے اسلامی دنیا کے عین وسط میں ایک ناسور معرض وجود میں آگیا۔
(تمام اقوال کے حوالہ جات The great religions of the moderen world‘ Muslim of the march‘ The arabs‘ بحوالہ مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ)
یہود کا مجموعی کردار
یہود کے مجموعہ عقائد و اعمال کا خلاصہ یہ ہوا کہ اس مذہب کے پیروکار ایک مخصوص نسل ہیں یہ لوگ اپنے آپ کو دیگر تمام لوگوں سے اعلیٰ‘ افضل‘ اﷲ کے پسندیدہ‘ عذابوں سے محفوظ سمجھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کو صرف قوم یہود کا خدا تصور کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی جا بجا نافرمانی کرتے ہیں۔ انبیاء و مرسلین علیہم السلام کو قتل کرتے رہے‘ کسی بھی نبی یارسول کے حوالے سے پاکیزہ تصور نہیں ہے‘ ہرنبی یا رسول کے خلاف عبارتوں سے بھرپور ہے۔ انتہائی بے وفا‘ عہدشکن سازشی‘ بداخلاق قوم ہیں۔ آج پوری دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہوگا جہاں ان لوگوں کی سازشیں شامل نہ ہوں‘ خود امریکہ جس نے ان لوگوں کو مسلمانوں کے ملک پر ناجائز قبضہ دلایا وہ بھی ان کی سازشوں سے پاک نہیں ہے۔ دوسرے ممالک کا کیا کہنا؟ قرآن مجید کی چند آیات کا ترجمہ ملاحظہ کیجئے۔آپ کو اندازہ ہوجائے۔
قوم یہود قرآن مجید کی نظر میں
ترجمہ: (۱) اور جب ہم نے موسیٰ نے چالیس رات کا وعدہ فرمایا پھر اس کے پیچھے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم ظالم تھے (البقرہ۵۱)
(۲) اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تم پر یقین نہیں کریں گے۔ جب تک علانیہ طور پر خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں (ایک عذاب) کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے (البقرہ ۵۵)
(۳) اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جائو پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھائو اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں۔ ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو زیادہ دیں تو ظالموں نے وہ بات بدل دی جو ان سے فرمائی گئی تھی اس کے سوا سے تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا (البقرہ ۵۸۔۵۹)
وضاحت: اﷲ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تھا کہ دروازے سے داخل ہوتے ہوئے حطتہ(یعنی گناہ معاف ہوں) کہو لیکن ان کی بدبختی اور ڈھٹائی دیکھئے کہ انہوں نے حطتہ کے بجائے حنطتہ کہنا شروع کردیا یعنی ’’گندم‘‘ (حطتہ کا معنی گناہوں کی معافی اور حنطتہ کا معنی گندم ہے۔)
یہ چند مثالیں ہیں ان لوگوں کی بدبختی کی باقی بے شمار ہیں لیکن اس جگہ گنجائش نہیں ہے کہ سب کو بیان کیا جائے (تفصیل چاہیں تو کنزالایمان شریف سے سورہ البقرہ ترجمہ کے ساتھ مطالعہ فرمائیں)
اظہار تشکر
الحمدﷲ علی احسانہ کہ رب ذوالجلال نے ہمیں اپنے حبیب کریم علیہ الصلواۃ و السلام کی امت میں پیدا فرمایا اور پھر ہم گناہ گاروں پر اپنے حبیب کریم علیہ الصلواۃ و السلام کے وسیلہ جلیلہ سے خاص فضل فرماتے ہوئے باادب مسلمان بنایا کہ الحمدﷲ عزوجل ہم پر نبی و رسول علی نبینا و علیہ السلام کا ادب کرتے ہیں۔ ہم اپنے حبیب کریم علیہ الصلواۃ و السلام کی بھرپور تعظیم کرتے ہیں۔ اگرچہ گناہگار سہی لیکن بحمداﷲ بے ادب نہیں ہیں۔ یہی بے ادبی ہے جس نے یہود کو اور ان کے علاوہ دیگر بددین و بدمذاہب کو امن وسکون سے کوسوں دور اور ذلیل و خوار کردیا۔ اگرچہ ان کے پاس بے شمار مال و دولت بھی ہے۔
دعوت اسلام
ہم تمام غیر مسلم حضرات کو دعوت اسلام دیتے ہیں کہ وہ غیر جانبدارانہ طریقے سے قرآن مجید اور احادیث کریمہ کا مطالعہ کریں۔ انشاء اﷲ عزوجل وہ ضرور مطمئن ہوں گے اور اسلام کو ایک آسان اور غیر پیچیدہ دین پائیں گے۔ نیز ادب و آداب‘ اخلاقیات سمیت ہر حوالے سے رہنما دین پائیں گے۔ جبکہ دیگر ادیاب و مذاہب اس چیز سے عاری ہیں۔
اﷲ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو استقامت عطا فرمائے اور تمام غیر مسلم حضرات کو دین عظیم اسلام کی ہدایت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم الامین