میں نے دعوتِ اسلامی کے کام کا آغاز کیسے کیا ؟

in Tahaffuz, November 2008, امیر دعوت اسلامی مولانا الیاس قادری صاحب, متفرقا ت

حضرت سیدنا سہل بن عبداﷲ تستری علیہ رحمتہ اﷲ القوی نے ایک موقع پر فرمایا کہ بصرہ کا فلاں نانبائی (یعنی روٹیاں پکانے والا) ولی اﷲ ہے۔ آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کا ایک مرید شوق دیدار میں بصرہ پہنچا اور ڈھونڈتا ہوا اس نانبائی کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ وہ اس وقت روٹیاں پکا رہے تھے (پہلے عموما سبھی مسلمان داڑھی رکھتے تھے لہذا اس دور کے نان بائیوں کے دستور کے مطابق) داڑھی کے بالوں کی جلنے سے حفاظت کی خاطر منہ کے نچلے حصے پر نقاب پہن رکھا تھا۔ اس مرید نے دل میں کہا اگر یہ ولی ہوتا تو نقاب نہ بھی پہنتا تو اس کے بال نہ جلتے۔ اس کے بعد اس نے نانبائی کو سلام کیا اور گفتگو کرنا چاہی تو اس روشن ضمیر نانبائی نے سلام کا جواب دے کر فرمایا ’’تو نے مجھے حقیر تصور کیا۔ اس لئے میری باتوں سے نفع نہیں اٹھا سکتا‘‘ یہ کہنے کے بعد انہوں نے گفتگو کرنے سے انکار فرمادیا (الرسالۃ القشیریہ ص ۳۶۳ دارالخیر بیروت) اﷲ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
گدڑی کا لعل: میٹھے میٹھے اسلامی بھائی! معلوم ہوا کہ ولی ہونے کے لئے تشہیر و اشتہار‘ نمایاں جنہ و دستار اور عقیدت مندوں کی لمبی قطار ہونا ضروری نہیں۔ اﷲ عزوجل جسے چاہے نواز دے۔ اﷲ عزوجل نے اپنے اولیاء رحمہم اﷲ تعالیٰ کو بندوں کے اندر پوشیدہ رکھا ہے لہذا ہمیں ہر نیک بندے کا احترام کرنا چاہئے۔ ہمیں کیا معلوم کہ کون گدڑی کا لعل (یعنی چھپا ولی) ہے۔ ایک بار میں (سگ مدینہ عفی عنہ) دعوت اسلامی کے مدنی قافلے میں عاشقان رسول کے ساتھ سفر پر تھا۔ ہمارے ڈبے میں ایک دبلا پتلا بے ریش و بے کشش لڑکا انتہائی سادہ لباس میں ملبوس سب سے جدا کھویا کھویا سا بیٹھا تھا۔ کسی اسٹیشن پر ٹرین رکی‘ صرف دو منٹ کا وقفہ تھا۔ وہ لڑکا پلیٹ فارم پر اتر کر ایک بنچ پر بیٹھ گیا۔ ہم سب نے نماز عصر کی جماعت قائم کرلی۔ ابھی بمشکل ایک رکعت ہوئی تھی کہ سیٹی بج گئی۔ لوگوں نے شور مچایا کہ گاڑی جارہی ہے۔ سب نماز توڑ کر ٹرین کی طرف لپکے تو وہ لڑکا کھڑا ہوگیا اور اس نے مجھے اشارہ سے ڈانٹے ہوئے نماز قائم کرنے کا حکم صادر کیا۔ ہم نے پھر جماعت قائم کرلی۔ حیرت انگیز طور پر ٹرین ٹھہری رہی۔ نماز سے فارغ ہوکر ہم جوں ہی سوار ہوئے۔ ٹرین چل پڑی اور وہ لڑکا اسی بنچ پر بیٹھا لاپرواہی سے ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کوئی ’’مجذوب‘‘ ہوگا جس نے ہمیں نماز پڑھانے کے لئے اپنی روحانی طاقت سے ٹرین کو روک رکھا تھا۔ اﷲ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
تین چیزیں تین چیزوں میں پوشیدہ ہیں
خلیفہ اعلیٰ حضرت‘ فقیہ اعظم مولانا ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی علیہ الرحمتہ اﷲ القوی نقل فرماتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ نے تین چیزوں کو تین چیزوں میں پوشیدہ رکھا ہے‘‘
(۱) اپنی رضا کو اپنی اطاعت میں
(۲) اپنی ناراضگی کو نافرمانی میں
(۳) اپنے اولیاء کو اپنے بندوں میں پوشیدہ رکھا ہے
لہذا ہر اطاعت اور ہر نیکی کو عمل میں لانا چاہئے کہ معلوم نہیں کہ کس نیکی پر وہ راضی ہوجائے اور ہر چھوٹی سے چھوٹی بدی سے بچنا چاہئے۔ کیونکہ پتا نہیں کہ وہ کس بدی پر ناراض ہوجائے مثلا کسی کی لکڑی کا خلال کرنا ایک معمولی سی بات ہے یا کسی ہمسایہ کی مٹی سے اس کی اجازت کے بغیر ہاتھ دھونا گویا ایک چھوٹی سی بات ہے مگر چونکہ ہمیں معلوم نہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ اس برائی میں حق تعالیٰ کی ناراضگی مخفی ہو تو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی بچنا چاہئے (اخلاق الصالحین ص ۵۶ مکتبتہ المدینہ باب المدینہ کراچی)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے دل میں اولیائے کرام رحمہم اﷲ تعالیٰ کا احترام پیدا کرنے کے لئے فیضان اولیاء سے مالا مال دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہئے۔ اپنے شہر میں ہونے والے دعوت اسلای کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت فرمایٔے۔ پھر دیکھئے آپ پر کیسا مدنی رنگ آتاہے۔ ترغیب کے لئے دعوت اسلامی کی ایک ’’بہار‘‘ پیش خدمت ہے۔ چنانچہ باب المدینہ کراچی کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے۔ اٹھتی جوانی اور اچھی صحت نے مجھے مغرور بنادیا تھا۔ نت نئے فینسی ملبوسات سلوانا‘ کالج آتے جاتے بس کا ٹکٹ بھلانا‘ کنڈیکٹرمانگے تو بدمعاشی پر اتر آنا‘ رات گئے تک آوارہ گردی میں وقت گنوانا‘ جوا میں پیسے لٹانا وغیرہ ہر طرح کی معصیت مجھ میں سرایت کئے ہوئے تھی۔ والدین سمجھا سمجھا کر تھک چکے تھے۔ مجھ بدکار کی اصلاح کے لئے دعا کرتے کرتے امی جان کی پلکیں بھیگ جاتیں۔ ہمارے علاقے کے ایک اسلامی بھائی کبھی کبھی سرسری طور پر دعوت اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کردیتے۔ میں بھی سنی ان سنی کردیتا۔ ایک بار اجتماع والی شام وہی اسلامی بھائی محبت بھرے انداز میں ایک دم اصرار پر اتر آئے کہ آج تو تم کو چلنا ہی پڑے گا۔ میں ٹالتا رہا مگر وہ نہ مانے اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے رکشہ روک لیا اور بڑی منت کے ساتھ کچھ اس انداز میں بیٹھنے کے لئے درخواست کی کہ اب مجھ سے انکار نہ ہوسکا۔ میں بیٹھ گیا اور ہم دعوت اسلامی کے اولین مدنی مرکز جامع مسجد گلزار حبیب آپہنچے۔ جب دعا کے لئے بتیاں بجھائی گئیں تویہ سمجھ کر کہ اجتماع ختم ہوگیا‘ میں اٹھ گیا‘ مجھے کیا معلوم کہ اب آنے والے لمحات میں میری تقدیر میں مدنی انقلاب برپا ہونے والا ہے۔ خیر میرے اس محسن اسلامی بھائی نے محبت بھرے انداز میں سمجھا بجھا کر مجھے جانے سے روکا۔ میں دوبارہ بیٹھ گیا۔ اندھیرے میں باآواز بلند ذکر اﷲ عزوجل کی دھوم نے میرا دل ہلادیا۔ خدا کی قسم! میں نے زندگی میں کبھی ایسی روحانیت دیکھی تھی نہ سنی تھی۔ پھر جب رقت انگیز دعا شروع ہوئی تو شرکاء اجتماع کی ہچکیوں کی آواز بلند ہونے لگی حتی کہ میرے جیسا پتھر دل آدمی بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور دعوت اسلامی کے مدنی ماحول کا ہوکر رہ گیا۔
دعوت اسلامی کا اولین مدنی مرکز
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ واقعہ دعوت اسلامی کے اوائل (یعنی شروع کے دنوں) کا ہے جب ۱۴۰۱ھ میں باب المدینہ کراچی میں دعوت اسلامی کے نام سے مدنی کام کا آغاز کیا۔ اس وقت باب المدینہ میں موزوں جگہ پر کسی بڑی مسجد کی ترکیب نہیں تھی۔ جہاں ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع کیا جاسکے۔ ان دنوں میں (سگ مدینہ عفی عنہ) علماء و مشائخ اہلسنت کی خدمت میں حاضر ہوکر دعوت اسلامی کے ساتھ تعاون کی درخواستیں پیش کیا کرتا تھا۔ کیونکہ میرا درد تھا اور مجھ پر ایک دھن سوار تھی کہ مسلمانوں کے عقائد کے تحفظ اور اصلاح احوال و اعمال کا وسیع پیمانے پر مدنی کام کیا جائے۔ میرے درد کو الفاظ کے قالب میں کچھ اس طرح ڈھالا جاسکتا ہے۔ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے (ان شاء اﷲ عزوجل) بہرحال اسی ضمن میں دعوت اسلامی کے لئے تعاون کی مدنی التجا لئے خطیب پاکستان‘ واعظ شیریں بیان‘ عاشق سلطان دوجہان‘ محب اہلبیت و صحابۂ ذیشان‘ جان نثار اولیاء الرحمن حضرت علامہ مولانا الحافظ الشاہ محمد شفیع اوکاڑوی علیہ رحمتہ اﷲ القوی کے مکان عالی شان پر حاضر ہوا۔ میں نے ان کی خدمت میں دعوت اسلامی کے بارے میں عرض کی تو بہت خوش ہوئے اور اپنے دستخط کے ساتھ دعوت اسلامی کے لئے تائیدی مکتوب مرحمت فرمایا۔ آپ کی مسلک اہلسنت سے محبت صد کروڑ مرحبا! بے مانگے باب المدینہ کے قلب میں واقع اپنی زیر تولیت جامع مسجد گلزار حبیب (واقع گلستان اوکاڑوی باب المدینہ کراچی) میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کی اجازت کی سعادت عنایت فرمائی۔ چنانچہ دعوت اسلامی کا اولین مدنی مرکز جامع مسجد گلزار حبیب بنا۔ ان کی حین حیات اور بعدوفات ہم نے برسوں تک وہاں ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع کیا۔ عاشقان رسول کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہا‘ یہاں تک کہ جامع مسجد گلزارحبیب اجتماع کے لئے ناکافی ہوگئی۔ اﷲ عزوجل نے اسباب مہیا کئے۔ سب اسلامی بھائیوں نے مل کر خوب بھاگ دوڑ کی‘ کم و بیش سوا دو کروڑ پاکستانی روپے کا چندہ اکھٹا کیا اور (پرانی) سبزی منڈی کے پاس باب المدینہ کراچی میں تقریبا ۱۰ ہزار گز کا پلاٹ خریدا اور پھر مزید کروڑوں روپے کے چندے سے عظیم الشان عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ قائم کیا گیا جس میں شاندار مسجد ‘ مدنی کاموں کے لئے متعدد مکاتب اور جامعۃ المدینہ کی عالی شان عمارت کے ذریعے لاکھوں مسلمان فیضان مدینہ لوٹ رہے ہیں۔
سنت کی بہار آئی فیضان مدینہ میں
رحمت کی گھٹا چھائی فیضان مدینہ میں
خطیب پاکستان کی ایک حکایت
خطیب پاکستان حضرت مولانا محمدشفیع اوکاڑوی علیہ رحمتہ اﷲ القوی زبردست عاشق رسول تھے۔ مدینہ منورہ میں سگ مدینہ عفی عنہ کو ۱۴۱۷ھ میں ساکن مدینہ منورہ حاجی غلام شبیر صاحب نے یہ ایمان افروز واقعہ سنایا ’’ایک بار حضرت قبلہ سید خورشید احمد صاحب نے مجھ سے فرمایا ایک دن مدینہ منورہ میں حضرت خطیب پاکستان مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ رحمتہ اﷲ القوی میرے پاس روتے ہوئے تشریف لائے اور کہنے لگے۔ آپ میرے ساتھ مواجھہ شریف پر چلئے۔ میں نے سرکار نامدارﷺ سے معافی مانگنی ہے۔ استفسار پر بتایا کہ کل مسجد النبوی الشریف  علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں ایک بے ادب مقرر نے اﷲ کے محبوب‘ دانائے غیوب‘ منزہ عن العیوب عزوجل وﷺ کی شان عظمت نشان میں توہین کی۔ تو میں نے اس کو ٹوکا‘ اس پر بات بڑھ گئی اور اس کے حمایتی آگئے۔ ان لوگوں نے مجھ پر سختیاں کیں جس سے میں بہت دلبرداشتہ ہوا۔ رات خواب میں جناب رسالت مآبﷺ تشریف لائے اور فرمایا ’’بس میری خاطر تھوڑی سی سختی بھی برداشت نہ کرسکے‘‘ حضرت قبلہ اوکاڑوی صاحب کا کہنا تھا‘ بات دراصل یہ ہے کہ دل میں ذرا بڑائی آگئی اور تذلیل کو میں نے اپنی کسر شان تصور کیا۔ اسی لئے حضور پاکﷺ نے مجھے تنبیہ فرمائی لہذا میں سرکار مدینہﷺ کے دربار شریف میں حاضر ہوکر اپنے خطرہ دلی کی معافی مانگنا چاہتا ہوں۔
اﷲ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
خاک ہوکر عشق میں آرام سے سونا ملا
جان کی اکسیر ہے الفت رسول اﷲ کی
(حدائق بخشش شریف)