غیر مسلموں سے دوستی ، محبت و تعلقات کی حیثیت

in Tahaffuz, November 2008, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

موجودہ دور میں جہاں دنیا ترقی کی منازل طے کررہی ہے‘ ایٹمی ٹیکنالوجی اور مشنری کا دور دورہ ہے۔ سالوں میں ہونے والے کام ہفتوں میں ہوجاتے ہیں جہاں دور بدل گیا وہاں ہمارے اذہان بھی بدل گئے۔ ہم روشن خیال ہوگئے۔ ہم آرام پسند  ہوگئے‘ بلندوبالا عالیشان مکانات میں رہنے والے ہوگئے۔ جب ہماری سوچ‘ فکر اور حالات بدل گئے تو پھرہمیں اسلامی قوانین بھی پرانے لگنے لگ گئے۔ پھر ہماری سوچ یہ ہوگئی کہ پوری انسانیت ایک ملت ہے یعنی مسلمان‘ ہندو‘ عیسائی‘ یہودی‘ پارسی‘ بدھ مت اور سکھ وغیرہ تمام کے تمام آپس میں دوست اور بھائی بھائی ہیں۔ تمام مذاہب برابر ہیں۔ کیا معلوم کہ دوسرے مذاہب کے لوگ جنت میں جائیں‘ کیا معلوم (معاذ اﷲ) مسلمانوں کو روک لیا جائے۔ اسی بناء پر بعض روشن خیال مسلمان اغیار سے دوستی‘ ان سے محبت اور تعلقات استوار کرنے کو ایک اچھا فعل سمجھتے ہیں لہذا ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سوال کرتے ہیں کہ کیا تیرے اور تیرے رسولﷺ سے کفر کرنے والے ہمارے دوست‘ وفادار اور مددگار ہوسکتے ہیں؟
قرآن مجید سے سوال: کیا کفار مسلمانوں کے دوست ہوسکتے ہیں؟
قرآن مجید کا جواب: یاایھا الذین امنوا لاتتخذو الیھودوالنصاری اولیاء بعضھم اولیاء بعض ومن یتولھم منکم فانہ منھم (سورہ مائدہ آیت ۵۱ پارہ ۶)
ترجمہ: اے ایمان والو نہ بنائو یہود و نصاری کو (اپنا) دوست (مددگار) وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جس نے دوست بنایا انہیںتم میں سے سو وہ ان ہی میں سے ہے۔
القرآن: بشر المنفقین بان لھم عذابا الیماo الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین‘ ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ ﷲ جمیعا o   (سورہ نسآء آیت ۱۳۸ پارہ ۵)
ترجمہ: منافقوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں؟ حالانکہ عزت تو ساری اﷲ کے لئے ہے۔
القرآن: لایتخذوا المومنون الکفرین اولیاء من دون المومنین ومن یفعل ذلک فلیس من اﷲ فی شیٔ (سورۃ ال عمران پارہ ۳ آیت ۲۸)
ترجمہ: مسلمان کافروں کو دوست نہ بنائیں مسلمانوں کے سوا اور جو ایسا کرے گا اس کا اﷲ سے کچھ تعلق نہ رہا۔
القرآن: یاایھا الذین امنوا لا تتولو اقوما غضب اﷲ علیہم قدیسوامن الاخرۃ کمایئس الکفار من اصحب القبور o
ترجمہ: اے ایمان والو! ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اﷲ کا غضب ہے وہ آخرت سے آس توڑ بیٹھے ہیں جیسے کافر آس توڑ بیٹھے ہیں قبر والوں سے (سورہ ممتحنہ آیت ۱۲ پارہ ۲۸)
القرآن: یاالھا الذین امنوا لاتتخذو عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیہم بالمودۃ
ترجمہ: اے ایمان والو! میرے دشمن اور اپنے دشمن یعنی کافر کو دوست نہ بنائو کہ تم ان کوپیغام بھیجو دوستی کے (سورہ ممتحنہ پارہ ۲۸ آیت ۱)
القرآن: ومن یفعلہ منکم فقد ضل سواء السبیل (سورہ ممتحنہ آیت ۱ پارہ ۲۸)
ترجمہ: یعنی جس شخص نے ان سے دوستی کی (کفار سے) تو وہ سیدھے راستے سے گمراہ ہوگیا۔
القرآن: لاتجد قوما یومنون باﷲ والیوم الاخریوادون من حاداﷲ ورسولہ ولوکانوا ابائھم او ابنائھم اواخوانھم او عشیرتھم (سورہ مجادلہ آیت ۲۲ پارہ ۲۸)
ترجمہ: آپ نہ پائیں گے کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اﷲ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر کہ دوستی کریں ایسے لوگوں سے جو مخالف ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے اور اس کے رسول ﷺ کے‘ خواہ وہ (ان کے) اپنے باپ دادا ہی ہوں‘ یا اپنی اولاد‘ یا اپنے بھائی یا اپنے خاندان والے)
مذکورہ بالا آیات سے درج ذیل احکامات سامنے آئے۔
۱۔ کفار کو دوست مت بنائو کیونکہ وہ تمہارے دوست نہیں ۔ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
۲۔ کفار سے دوستی رکھنے میں مسلمانوں کی عزت نہیں بے عزتی ہے۔
۳۔ کفار سے دوستی رکھنا اﷲ تعالیٰ‘ رسول اﷲﷺ اور قرآن مجید کے احکامات سے روگردانی ہے۔
۴۔ جو کفار سے تعلقات رکھے اﷲ تعالیٰ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
۵۔ کفار کو دوستی کے پیغامات بھی مت بھیجو۔
قرآن مجید سے سوال: جب کفار ہمارے دوست نہیں تو پھر ہمارے دوست اور بھائی کون ہیں؟
قرآن مجیدکا جواب: فان تابو واقابو الصلواۃ واتو الزکواۃ فاخوانکم فی الدین ونفصل الایت لقوم یعلمون (سورہ توبہ آیت ۱۱ پارہ ۱۰)
ترجمہ: پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکواۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں جاننے والوں کے لئے۔
القرآن: انما المومنین اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم واتقوا اﷲ لعلکم ترحمون
ترجمہ: مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اﷲ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔ (سورہ حجرات آیت ۱۰ پارہ ۲۶)
معلوم ہوا کہ: مسلمان ہی آپس میں بھائی بھائی ہیں دیگر مذاہب کے لوگ ہمارے بھائی اور دوست ہرگز نہیں بن سکتے۔
قرآن مجید سے سوال: کیا ہم غیر مسلموں کو اپنا رازدار بنائیں کیا ہم ان پر بھروسہ کریں؟
قرآن مجید کا جواب: یاایھا الذین امنوا لاتتخذو بطانۃ من دونکم لایالونکم خیالاء وداماعنتم قد بدت البغضاء من افواھھم‘ وما تخفی صدورہم اکبر‘ قدبینالکم الایت ان کنتم تعقلون (سورہ ال عمران آیت ۱۱۸ پارہ۴)
ترجمہ: اے ایمان والو! غیر مسلموں کو اپنا رازدار نہ بنائو۔ یہ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ ان کی آرزو ہے کہ تمہیں ایذا پہنچے۔ دلی عداوت ان کی باتوں سے ٹپک پڑتی ہے اور جو سینوں میں کوڑھ چھپا ہوا ہے وہ بہت بڑا ہے ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر بتادیں کہ تمہیں عقل ہو۔
قرآن مجید فرقان حمید نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنادیا کہ غیر مسلم تمہارے خیر خواہ نہیں ہیں تمہیں تکلیف پہنچا کر ان کو خوشی ہوتی ہے انہیں اپنا رازدار بھی نہ بنائو چنانچہ اب ہم بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوکر آپﷺ کا فرمان سنتے ہیں۔
حدیث شریف: سرکار اعظم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مشرک سے صحبت رکھے اور اس کے ساتھ سکونت پذیر رہے تو وہ بھی اسی جیسا ہے (بحوالہ: ابودائود کتاب الجہاد رقم الحدیث ۱۰۱۴ جلد دوم)
فائدہ: مشرکوں میں گھل مل کر رہنا یعنی ان سے میل محبت رکھنا ان کے ساتھ اتحاد کرنا‘ ان سے استعداد و استعانت کرنا‘ انہیں اپنا خیرخواہ و خیر اندیش سمجھنا اور باور کرانا کہ یہ ہمارے یاروغم خوار اور مددگار ہیں‘ یہ دراصل خود فریبی اور دوسروں کو فریب دینا ہے جبکہ کافر و مشرک ہرگز ہرگز مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔ اگر خیرخواہ ہوتے ہیں تو صرف اپنے مفاد کے لئے نہ کہ مسلمانوں کی خیر طلبی میں جو انہیں مسلمانوں کا خیر خواہ بتائے‘ وہ جھوٹ بولتا ہے کیونکہ سچے خدا نے اپنی سچی کتاب میں صاف صاف فرمایا ہے۔
مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دینا
حدیث شریف: حضرت سعید بن جبیر رضی اﷲ عنہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ سرکار اعظم نور مجسمﷺ نے تین باتوں کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دینا قاصدوں سے وہی سلوک کرنا جو میں کیاکرتا ہوں۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ تیسری بات سے آپ خاموش ہوگئے۔ یا یہ فرمایا کہ میں اسے بھول گیا (سنن ابو دائود‘ جلد دوم کتاب الخراج رقم الحدیث ۱۲۵۵)
حدیث شریف: ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اﷲ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے بتایا جنہوں نے سرکار اعظم نور مجسمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ یہود نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے ضرور نکال دوں گا اور اس میں نہیں چھوڑوں گا مگر مسلمان (یعنی مسلمانوں کے سوا) جزیرہ عرب میں کسی کو رہنے نہیں دیا جائے گا۔ (ابو دائود جلد دوم کتاب الخراج رقم الحدیث ۱۲۵۶)
مشرکین کے تحائف بھی قبول مت کرو
حدیث شریف: یزید بن عبداﷲ بن شخیر سے روایت ہے کہ حضرت عیاض بن حمار رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ میں نے سرکار اعظم نور مجسمﷺ کی خدمت میں ایک اوٹنی تحفے کے طور پر پیش کی۔ فرمایا کیا تم مسلمان ہوگئے ہو؟ میں نے کہا نہیں سرکار اعظم نور مجسمﷺ نے فرمایا مجھے مشرکین کے تحفوں سے منع فرمایاگیا ہے۔ (ابو دائود حصہ دوم کتاب الخراج رقم الحدیث ۱۲۸۳)
کفار کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟
یہ مضمون بہت سی آیات قرآنیہ میں مجمل اور مفصل مذکور ہے۔ جس میں مسلمانوںکو غیر مسلموں کے ساتھ موالات‘ دوستی اور محبت سے شدت کے ساتھ روکا گیا ہے۔ ان تصریحات کو دیکھ کر حقیقت حال سے ناواقف غیر مسلموں کو یہ تو شبہ ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب میں غیر مسلموں سے کسی قسم کی رواداری اور تعلق بلکہ حسن اخلاق کی بھی کوئی گنجائش نہیں اور دوسری طرف اس کے بالمقابل جب قرآن کریم کی بہت سی آیات سے اور پھر رسول کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشادات و عمل سے اور خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین کے تعامل سے غیر مسلموں کے ساتھ احسان‘ سلوک‘ ہمدردی اور غم خواری کے ایسے ایسے واقعات ثابت ہوتے ہیں جن کی مثالیں دنیا کی اقوام میں ملنا مشکل ہیں۔
ایسے احکامات اور واقعات سے ایک سطحی نظر رکھنے والے مسلمان کو بھی قرآن و سنت کے احکام و ارشادات ہیں۔ باہم تعارض اور تصادم محسوس ہونے لگتا ہے۔ مگر یہ دونوں خیال قرآن پاک کی حقیقی تعلیمات پر طائرانہ اور ناقص تحقیق کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اگر مختلف مقامات سے قرآن پاک کی آیات کو (جو اس معاملہ سے متعلق ہیں) جمع کرکے غور کیا جائے تو غیر مسلموں کے لئے وجہ شکایت باقی رہتی ہے نہ آیات و روایات میں کسی قسم کا تعارض اس لئے اس مقام کی پوری تشریح کردی جاتی ہے جس سے موالات اور احسان و سلوک یا ہمدردی و غمخواری میں باہمی فرق اور ہر ایک کی حقیقت بھی معلوم ہوجائے گی۔ اور یہ پتہ چل جائے گاکہ ان میں کون سا درجہ جائز اور کون سا درجہ ناجائز اور جو جائز ہے‘ اس کی وجوہ کیا ہیں۔
بات دراصل یہ ہے کہ دو شخصوں یا دو جماعتوں میں تعلقات کے مختلف درجات ہوتے ہیں جوکہ مندرجہ ذیل ہیں۔
پہلا درجہ
ایک درجہ تعلق کا قلبی موالات یا دلی مودت و محبت ہے۔ یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے۔ غیر مومن کے ساتھ مومن کا یہ تعلق کس حال میں بھی قطعا جائز نہیں۔
دوسرا درجہ
دوسرا درجہ موالات کا ہے۔ جس کے معنی ہمدردی و خیر خواہی اور نفع رسانی کے ہیں‘ یہ بجز کفار اہل حرب (اہل حرب سے مراد وہ غیر مسلم ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار و جنگ ہوں) کے باقی سب غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔
دلیل پنجم
سورہ ممتحنہ میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ جس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
لاینھٰکم اﷲ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجو کم من دیارکم ان تبدوھم وتقسطوا الیھم (پ ۲۸ ممتحنہ ۸)
یعنی اﷲ تعالیٰ تم کو منع نہیں کرتا‘ ان سے جو لڑتے نہیں تم سے دین پر اور نکالا نہیں تمہیں تمہارے گھروں سے کہ ان کے ساتھ احسان اور انصاف کا سلوک کرو۔
تیسرا درجہ
تیسرا درجہ مدارت کا ہے جس کے معنی ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتائو کے ہیں۔ یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے جبکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہنچانا ہو(دینی نفع سے مراد اسلام کی دعوت دینا کہ وہ اسلام قبول کرلیں اور اپنی عاقبت سنوارلیں) یا وہ اپنے مہمان ہوں‘ یا ان کے شر اور ضرررسانی سے اپنے آپ کو بچانا مقصود ہو۔ دلیل دوم میں سورہ آل عمران کی مذکورہ آیت میں الا ان تتقو امنھم تقۃ سے یہی درجہ مدارت کا مراد ہے۔ یعنی کافروں سے معاملات جائز نہیں مگر ایسی حالت میں کہ جب تم ان سے اپنا بچائو کرنا چاہو اور چونکہ مدارت میں بھی صورت موالات کی ہوتی ہے۔ اس لئے اس کو موالات سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔
چوتھا درجہ
چوتھا درجہ موالات کا ہے کہ ان سے تجارت یا اجرت و ملازمت اور صنعت و حرفت کے معاملات کئے جائیں۔ یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔ بجز ایسی حالت کے کہ ان معاملات سے عام مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ رسول کریمﷺ اور خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین کا تعامل اس پر شاہد ہے۔ فقہاء نے اسی بناء پر کفار اہل حرب کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے اور باقی تجارت وغیرہ کی اجازت دی ہے۔ اسی طرح ان کے ملازم رکھنا یا خود ان کے کارخانوں اور اداروں وغیرہ میں ملازم ہونا یہ سب جائز ہے۔ اس تفصیل سے آپ کو یہ تو معلوم ہوگیا ہوگا کہ قلبی اور دلی دوستی و محبت تو کسی کافر کے ساتھ کسی حال میں بھی جائز نہیں اور احسان و ہمدردی اور نفع رسانی بجز اہل حرب (جنگجو کفار) کے اور سب کے ساتھ جائز ہے۔ اسی طرح ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتائو بھی سب کے ساتھ جائز ہے۔ اسی طرح ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتائو بھی سب کے ساتھ جائز ہے جبکہ اس کا مقصد مہمان کی خاطر داری یا غیر مسلموں کو دینی معلومات اور دینی نفع پہنچانا یا اپنے آپ کو ان کے کسی دائو‘ نقصان اور ضرر سے بچانا ہو۔
رسول کریمﷺ جو رحمتہ للعالمین ہوکر اس دنیا میں تشریف لائے آپﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ جو احسان وہمدردی اور خوش خلقی کے معاملات کئے۔ اس کی نظیر دنیا میں ملنا مشکل ہے۔ فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے غیر مسلم محتاج ذمیوں کو مسلمانوں کی طرح بیت المال سے وظیفے دیئے۔ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کے معاملات اس قسم کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ سب مواسات یا مدارات یا معاملات کی صورتیں تھیں اور جس موالات و قلبی دوستی سے منع کیاگیا ہے وہ نہ تھی۔
غیر مسلموں کے ساتھ قلبی موالات سے منع کرنے کی حکمت
اس تفصیل وتشریح سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوگیا کہ غیر مسلموں کے لئے اسلام میں کتنی رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم ہے۔ دوسری طرف جو ظاہری تعارض ترک موالات کی آیات سے محسوس ہوتا تھا‘ وہ بھی رفع ہوگیا۔ اب ایک بات یہ باقی رہ گئی کہ قرآن پاک نے کفار کے ساتھ موالات‘ قلبی دوستی اور دلی محبت کو اتنی شدت کے ساتھ کیوں روکا کہ وہ کسی حال میں بھی کسی کافر کے ساتھ جائز نہیں رکھی۔ اس میں کیا حکمت ہے؟ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں اس دنیا کے اندر انسان کا وجود عام جانوروں یا جنگل کے درختوں اور گھاس پھوس کی طرح نہیں کہ پیدا ہوئے پھلے پھولے اور پھر مرسڑ کر ختم ہوگئے۔ بلکہ انسان کی زندگی اس جہاں میں ایک مقصدی زندگی ہے۔ اس کی زندگی کے تمام ادوار اس کا کھانا‘ پینا‘ اٹھنا بیٹھنا‘ سونا جاگنا‘ یہاں تک کہ جینا اور مرنا سب ایک مقصد کے گرد گھومتے ہیں۔ جب تک وہ اس مقصد کے مطابق ہے۔ تو یہ سارے کام صحیح اور درست ہیں اور اگراس کے مخالف ہے تو یہ سب کے سب غلط ہیں۔ دانائے روم رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے فرمایا
زندگی از بہر ذکر و بندگی است
بے عبادت زندگی شرمندگی است
جو انسان اس مقصد سے ہٹ جائے وہ عارف رومی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اور دیگر اہل حقیقت کے نزدیک انسان ہی نہیں۔ اسی لئے تو فرمایا
آنچہ مے بینی خلاف آدم اند
نیستند آدم غلاف آدم اند
یعنی ذکر خداوندی اور عبادت الٰہی کے بغیر جو انسان نظر آتے ہیں۔ ان کی شکلیں آدمیوں کی ہیں لیکن حقیقت میں یہ انسان نہیں ہیں۔ قرآن کریم نے اسی مقصد کا اقرار انسان سے ان الفاظ میں لیاہے۔
قل ان صلوٰتی ونسکی ومحیای و مماتی ﷲ رب العالمین
ترجمہ: آپ فرمادیجئے کہ میری نماز اور میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت سب اﷲ تعالیٰ رب العالمین کے لئے ہے (سورہ انعام آیت ۱۶۲ پارہ ۸)
جب انسان کی زندگی کا مقصد اﷲ تعالیٰ رب اللعالمین کی اطاعت و عبادت ٹھہرا تو دنیا کے کاروبار‘ ریاست و سیاست اور عائلی و منزلی تعلقات سب کے سب اس کے تابع ٹھہرے۔ تو جو انسان کے اس مقصد کے مخالف ہیں وہ انسان کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور اس دشمنی میں چونکہ شیطان سب سے آگے ہے۔ اس لئے قرآن حکیم نے فرمایا۔
ان الشیطٰن لکم عدو فاتخذوہ عدوا
یعنی شیطان تمہارا دشمن ہے۔ اس کی دشمنی کو ہمیشہ یاد رکھو (سورہ فاطر آیت ۶ پارہ ۲۲)
چونکہ پیٹ انسان سے گناہ کرواتا ہے‘ اس لئے بخاری و مسلم کی حدیث شریف میں فرمایا۔
اعدی عدوک الذی بین ایدک و ارجک
یعنی تیراسب سے بڑا دشمن تیرا پیٹ ہے۔ اسی طرح جو لوگ شیطانی وسواس کے پیرو اور انبیاء علیہم السلام کے ذریعے آئے ہوئے احکام خداوندی کے مخالف ہیں۔ ان کے ساتھ دلی ہمدردی اور قلبی دوستی اس شخص کی ہوہی نہیں سکتی جس کی زندگی ایک مقصدی زندگی ہے اور دوستی و دشمنی اور موافقت و مخالفت سب اس مقصد کے تابع ہیں۔ اسی مضمون کو صحیحین کی ایک حدیث مبارک میں اس طرح ارشاد فرمایا گیاہے۔
من احب ﷲ و ابغض ﷲ فقد استکمل ایمانہ
یعنی جس شخص نے اپنی دوستی اور دشمنی کو صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے وقف کردیا‘ اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا۔
معلوم ہوا کہ ایمان کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب انسان اپنی محبت و دوستی اور نفرت و دشمنی کو اﷲ تعالیٰ کے تابع بنادے۔ اس لئے مومن کی قلبی موالات اور مودت صرف اسی کیلئے ہوسکتی ہے جو اس مقصد کا ساتھی اور اﷲ تعالیٰ جل شانہ کا تابع فرمان ہو۔
دیکھئے نوح علیہ السلام نے جب بیٹے کو غرق ہوتا دیکھ کر عرض کیا
ان ابنی من اہلی
یعنی اے میرے رب میرا بیٹا میرے اہل سے ہے۔ تو یہ مطابق تیرے وعدہ کے بچنا چاہئے تو جواب ملا
انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح
یعنی یہ تیرے اہل سے نہیں ہے کہ یہ تو بداعمال ہے
اسی لئے قرآن حکیم کی مذکورہ بالاآیتوں میں کافروں کے ساتھ دلی اور قلبی موالات اور دوستی کرنے والوں کے بارے میں کہا گیاکہ وہ انہی میں سے ہیں اور ظاہری طور پرایسی نشست و برخاست ان کے ساتھ رکھنا کہ جو ان کے ساتھ دوستی کی غمازی کرے اور اس پر دلالت کرے یہ بھی نہ چاہئے۔
کفر کہیں کا بھی ہو کفر ایک ملت ہے اور مسلمان ایک ملت ہیں۔ چاہے وہ کسی بھی خطے میں بستے ہوں۔ وہ ہمارے بھائی ہیں لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ غیر مسلموں سے دوستی نہ کریں۔ ان کی مجلسوں میں نہ جائیں‘ غیر مسلموں میں تمام کفار شامل ہیں‘ جن میں ہندو‘ سکھ‘ یہودی‘ عیسائی‘ بدھ مت‘ پارسی اور دیگر مذاہب شامل ہیں۔ ان سے قلبی رشتہ رکھنا حرام ہے۔ یہ مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہیں۔ یہ سب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک ہیں کوئی کم نفرت رکھتا ہے تو کوئی زیادہ نفرت رکھتا ہے مگر پس پردہ سب ایک ہیں۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی نہیں چاہتے۔ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کاکوئی لمحہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور مٹانے کے لئے یہ سب ایک ہیں جس کا عملی نمونہ دور حاضر میں سب کے سامنے ہے۔
نائن الیون کے بعد عالم کفر کھل کر مسلمانوں کے خلاف سامنے آگیا اور ڈٹ گیا اگر یہ مسلمانوں کے ہمدرد ہیں تو مسلمانوں کے قتل عام پر آج تک آواز کیوں نہیں اٹھائی؟
کشمیر میں سوا لاکھ سے زائد مسلمانوں کو بھارتی قابض فوجیوں نے ہلاک کردیا مگر عالم کفر خاموش رہا۔ فلسطین میں لاکھ مسلمانوں کو اسرائیلی یہودی فوجیوں نے ہلاک کردیا مگر عالم کفر خاموش رہا۔ ہندوستان میں ہزاروں مسلمانوں کو سرعام قتل کیاگیا اور مسلمانوں کی املاک کو جلادیا گیا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے مگر عالم کفر خاموش رہا۔چیچنیا میں ہزاروں مسلمانوں کو ظالم روسی فوجیوں نے قتل کیا اور پوری آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کیا مگر عالم کفر خاموش رہا۔کوسوو میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور مسلمانوں کے اموال پر قبضہ کیا گیا مگر عالم کفر خاموش رہا۔ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے خوب بمباری کی جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوئے مگر عالم کفر خاموش رہا۔ عراق کے مسلمانوں پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مل کر بمباری کی جس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان شہید ہوئے اور منتخب عراقی حکومت کو ہٹا کر اسے پھانسی دی گئی اور اب تک امریکی اور اتحادی فوج وہاں قابض ہے مگر عالم کفر خاموش رہا۔
آپ اپنے ضمیر سے پوچھئے کہ اگر غیر مسلم مسلمانوں کے حقیقی حمایتی اور چاہنے والے ہوتے تو کیا وہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوتے؟
ہندوستان‘ روس‘ امریکہ‘ برطانیہ‘ اسرائیل‘ جرمنی‘ فرانس اور دیگر اتحادیوں کا سیاسی‘ سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ نہ کرتے؟
اے کاش کہ مسلمان اس بات کو سمجھیں اور غیر مسلموں سے قلبی وابستگی‘ دوستی نہ رکھیں اور اپنے مولیٰ جل جلالہ اور اس کے محبوبﷺ کے فرامین پر عمل کریں اور حقیقی مومن ہونے کا ثبوت دیں۔