حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, November 2008, د ر خشا ں ستا ر ے

’’فرید! تم بھی اپنی کوئی کرامت دکھائو‘‘
بڑا مشکل مرحلہ تھا۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے نہایت عجزوانکساری کے ساتھ عرض کیا ’’میں تو ایک طالب علم ہوں اور بزرگوں سے کچھ سیکھنے اور ان کی خدمت کے لئے گھر سے نکلا ہوں‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنی عاجزی کا اظہار کرتے رہے مگر حضرت شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کے کسی عذر کو تسلیم نہیں کیا۔ بالاخر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ مجبور ہوگئے۔ آپ نے آنکھیں بند کرلیں اور دل ہی دل میں خداوند ذوالجلال سے درخواست گزار ہوئے۔
’’اے اپنے بندوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرنے والے! تجھ پر سب باطن و ظاہر روشن ہے۔ تو خوب جانتا ہے کہ میں تیرا ایک گناہ گار بندہ ہوں مگر ان لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوں جو بے شمار کمالات روحانی رکھتے ہیں۔ میری ذات میں نہ کوئی کرامت پوشیدہ ہے اور نہ میں کرامت کے اظہار کو مناسب سمجھتا ہوں۔ پھر بھی میرے سر سے ان کڑے لمحات کو ٹال دے اور مجھ بے ہنر کو ان حضرات کے سامنے سرخرو فرمادے جو اہل علم بھی ہیں اور اہل کمال بھی‘‘
ابھی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ خیالوں ہی خیالوں میں اپنے رب کے حضور دست بہ دعا تھے کہ یکایک تصورات کے پردے پر آپ کے پیرومرشد حضرت قطبرحمتہ اﷲ علیہ  کا چہرہ مبارک روشن ہوگیا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ فرمارہے تھے۔
’’بابا فرید! آزردہ کیوں ہوتے ہو؟ جس خدا نے تمہیں سلطان الہندرحمتہ اﷲ علیہ کے آستانہ عالیہ تک پہنچایا ہے‘ وہی ہرحال میں تمہاری مشکل کشائی کرے گا۔ ان بزرگوں سے کہو کہ اپنی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ پھر انہیں تمہاری کرامت نظر آئے گی‘‘ ان الفاظ کے ساتھ ہی حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کا پرنور چہرہ بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ آپ نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔
شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا ’’فرید! خاموش کیوں ہو؟ کیا ابھی اس منزل تک نہیں پہنچے ہو؟‘‘
’’منزل تو میری بہت دور ہے مگر آپ حضرات اپنی آنکھیں بند کرلیں پھر دیکھیں کہ خدا کیا ظاہر کرتا ہے؟‘‘
شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے بزرگوں نے اپنی اپنی آنکھیں بند کرلیں یکایک تمام بزرگوں نے دیکھا کہ وہ سیستان کے بجائے خانہ کعبہ میں موجود ہیں۔ خود بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی ان درویشوں کے ساتھ بیت اﷲ میں موجود تھے۔ کچھ دیر بعد جب تمام درویشوں نے آنکھیں کھولیں تو نظروں کے سامنے شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ تھی اور حاضرین مجلس خاموش بیٹھے نظر آرہے تھے۔
حضرت شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ نے بے اختیار ہوکر فرمایا ’’فرید! اس نوعمری میں تمہیں یہ اعلیٰ مقام مبارک ہو‘‘
شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ کے ساتھ دوسرے درویش بھی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے روحانی تصرف کا اعتراف کررہے تھے مگر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ آپ کیسے بتاتے یہ سب کچھ کیا تھا؟ کس کی دعائوں کااثر تھا اور کس کے فضل و کرم کی کرشمہ سازی تھی۔
٭…٭…٭
سیستان سے رخصت ہوکر بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ بدخشاں تشریف لے گئے۔یہاں آپ کی ملاقات مشہور بزرگ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ سے ہوئی۔ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ مشہور صوفی حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اﷲ علیہ کے مرید تھے۔ حضرت شیخ عبدالواحدرحمتہ اﷲ علیہ عشق خداوندی سے اس قدر سرشار تھے کہ اہل دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ اسی بے نیازی اور قلندری کے سبب آپ شہری حدود سے نکل کر ایک غار میں مقیم ہوگئے تھے۔ جب کوئی دنیا پرست حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اپنے کسی کام کے لئے آپ سے دعا کی درخواست کرتا تو حضرت شیخ نہایت تلخ لہجے میں فرماتے۔
’’تم کب تک اس مردار (دنیا) کے پیچھے بھاگتے رہوگے؟ کیا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اﷲ کی خوشنودی حاصل کرے؟ اور اس بھڑکتی ہوئی آگ سے بچنے کی کوشش کرے۔ جس کا ایندھن انسان ہیں۔ تم میرے پاس اس لئے کیوں نہیں آتے کہ میں تمہارے حق میں اپنے اﷲ سے عافیت طلب کروں… تم میرے پاس دنیا مانگنے کے لئے آتے ہو تو غور سے سن لو کہ دنیا سے میرا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ میں نے اس سیاہ کار اور کریہہ المنظر عورت کو طلاق دے دی ہے۔ جائو کسی اور کے دروازے پر جائو‘ تمہیں دینے کے لئے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جانتے تھے کہ حضرت شیخ عبدالواحدرحمتہ اﷲ علیہ ملاقاتیوں سے بیزار رہتے ہیں پھر بھی ایک خدا رسیدہ بزرگ کا شوق دیدار آپ کو اس غار تک لے گیا جہاں سناٹے اور ویرانی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ جیسے ہی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ڈرتے ڈرتے غار کے دروازے میں قدم رکھا۔ ایک تیزآواز گونجی۔
’’اے جاں سوختۂ عشق! ادھر آکہ تجھ پہ میرے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اندازے سے پہچان لیا کہ یہ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز تھی۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ غار کے اندر پہنچے تو آپ نے ایک نحیف و نزار شخص کو دیکھا جو بظاہر ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آرہا تھا اور جس کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ آگے بڑھتے رہے مگر جب غار کے درمیان میں پہنچے تو حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز دوبارہ سنائی دی۔ آپ پرنہایت پرجلال لہجے میں فرمارہے تھے۔
’’فرید! میرے قریب ہرگز نہ آنا کہ جل کر خاک ہوجائے گا… اور مجھ سے دور بھی نہ رہنا کہ تجھ پر جادو کا اثر ہوجائے گا‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر اس مرد جاں سوختہ کی اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ بڑھتے ہوئے قدم رک گئے‘‘ وہیں خاک پر بیٹھ جاکہ تو میرا مہمان ہے اور میری میزبانی یہ ہے کہ میں اپنے مہمانوں کو خاک کے سوا کچھ نہیں دیتا… اور میرے پاس خاک کے سوا ہے بھی کیا کہ میں خود ہی خاک ہوچکا ہوں‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس مرد قلندر کی خدمت میں سلام پیش کیا اور بڑی خوش دلی کے ساتھ فرش خاک پربیٹھ گئے۔ غار میں سناٹا چھا گیا۔ کچھ دیر بعد بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا۔
’’شیخؑ عشق خداوندی کیا ہے؟‘‘
’’مجھے دیکھ کہ میں عشق کی ادنیٰ ترین مثال ہوں‘‘ حضرت شیخ عبدالواحد نے جوابا فرمایا ’’میرے جسم پر نظر کر کہ یہ آتش فراق میں بوند بوند پگھل رہا ہے۔ بس کچھ دنوں کی بات ہے کہ یہ پگھلتے پگھلتے خاک میں جذب ہوجائے گا۔ میرے پیروں کی جانب دیکھ کہ میں ایک ٹانگ سے محروم ہوں۔ مجھے دنیا کو طلاق دیئے ہوئے پون صدی گزر چکی ہے۔ میں ستر سال سے اس گوشہ تنہائی میں پڑا ہوں اور میں نے تمام اسباب ظاہری کی نفی کردی ہے۔ بہت دن پہلے اس غار میں ایک عورت آئی تھی۔ اس کے حسن فریب کار کو دیکھ کر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی غار سے باہر چلا جائوں۔ مگر جیسے ہی قدم اٹھایا‘ ایک غیبی آواز نے میرے پیروں میں ہمیشہ کے لئے زنجیر ڈال دی‘‘
کہنے والا کہہ رہا تھا۔ ’’کہاں جارہے ہو؟ محبت کا دعویٰ تو ہم سے کیا تھا‘‘
’’میں واپس لوٹ آیا اور فورا اپنی ایک ٹانگ کاٹ کر پھینک دی۔ اب تیس سال سے شرم و ندامت کی آگ میں جھلس رہا ہوں کہ قیامت کے دن اپنے دوست کو یہ چہرہ کس طرح دکھائوں گا‘‘
حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی داستان حیات سن کر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اس قدر روئے کہ آپ کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ پھر خود کلامی کے انداز میں فرمانے لگے ’’فرید! تجھے کیا پتا کہ اس سرزمین پر اس کے کیسے کیسے جاں نثار موجود ہیں‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کے ساتھ ایک ہفتے تک اس غار میں مقیم رہے۔ آپ کے لئے یہ بات شدید حیرت کاباعث تھی کہ بظاہر کوئی شخص نظر نہیں آتا تھا مگر رات کے وقت کھانے کے لئے دودھ اور کھجوریں موجود ہوتی تھیں۔
کچھ دن بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بدخشاں سے رخصت ہونا چاہتے تھے۔ آپ نے حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ سے اجازت طلب کی۔ جوابا حضرت شیخ نے سکوت اختیار کیا۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ یہ سوچ کر خاموش ہوگئے کہ ابھی شیخ کی مرضی نہیں ہے پھر نصف شب گزر جانے کے بعد حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ  نے بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ  کو مخاطب کرکے فرمایا۔
’’فرید ! تو بھی چلا جائے گا؟‘‘ شیخ کے لہجے سے دل کا درد جھلک رہا تھا ’’ہاں سب کچھ جانے ہی کے لئے ہے۔ کسی کو دوام نہیں‘ کسی کو قرار نہیں اور کسی کو بتاتے نہیں سب کے سب منزل دو منزل کے ساتھی ہیں۔ بس جدائی اور تنہائی ہی اپنے ہم درد و غم گسار ہیں‘‘
’’شیخ محترم! اگر آپ حکم دیں تو کچھ دن اور ٹھہر جائوں‘‘ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مودبانہ عرض کیا۔
’’چند روزہ قیام سے کیا ہوگا؟ جدائی کی منزل تو سر پرکھڑی ہے‘‘ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ بہت اداس اور دل گرفتہ نظر آرہے تھے۔ ’’ہر طرف الفراق الفراق کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ تجھے بھی جانا ہوگا تیرے سفر عشق کا ابھی آغاز ہوا ہے ابھی اس کا انجام کہاں؟ مجھ اسیر غم کی طرف نہ دیکھ کہ میں تو ازل سے قیدی ہوں۔ یہی تاریک غار میرا مکان ہے۔ یہی میری خلوت ہے اور یہی میرا انجمن ہے تو ہرگز گوشہ نشینی اختیار نہ کرنا کہ بندگان خدا کا ہجوم تیرا منتظر ہے۔ میں تجھے اپنی دعائوں کے سائے میں رخصت کروں گا۔ بس ایک رات اور ٹھہر جا‘‘ اتنا کہہ کر حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ مراقبے میں چلے گئے اور بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ذکر الٰہی میں مشغول ہوگئے۔
صبح سورج طلوع ہوا تو بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت شیخ عبدالواحدرحمتہ اﷲ علیہ سے اجازت طلب کی۔ حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ نے ایک نظر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی طرف دیکھا اور پھر غمزدہ لہجے میں فرمانے لگے۔
’’فرید! تو مجھے بہت پسند ہے تجھے اپنا دوست بنالیتا مگر کیا کروں کہ کسی اور کی دوستی کا دم بھر چکا ہوں۔ اپنے اس عہد کو توڑ نہیں سکتا۔ اگر عہد شکنی کروں گا تو ہلاک ہوجائوں گا۔ پھر بھی تو میرے دل سے دور نہیں رہے گا۔ جب تک زندہ رہوں گا اپنے اﷲ سے تیرے لئے عافیت طلب کرتا رہوں گا‘‘ یہ کہہ کر حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ بیساکھی کے سہارے کھڑے ہوئے پھر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو سینے سے لگالیا۔
اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں ’’مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میرا پورا جسم جل اٹھا ہو‘‘ یہ حضر ت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کا سوز عشق تھا جو نزدیک آنے والوں کو بھڑکتے ہوئے شعلوں کے مانند محسوس ہوتا تھا۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں