اﷲ نے سب سے پہلے نور محمدیﷺ پیدا فرمایا(۱)‘ نبوت سے سرفراز کیا(۲)‘ درودوں کا سلسلہ شروع ہوا… فرشتے پیدا ہوئے تو وہ بھی درود وسلام میں شریک ہوگئے اور جب وہ نور دنیا میں آیا (۳) تو انسان بھی شریک ہوگئے(۴)… اگر سمجھنے والے سمجھیں تو یہ بھی جشن کا ایک انداز ہے… اﷲ اکبر! روز اول سے ذکر اذکار ہورہے ہیں… اور خوشیاں منائی جارہی ہیں… اﷲ کو اپنے پیاروں سے بڑی محبت ہے‘ ان کی نشانیوں کو اپنی نشانیاں بنادیا (۵) اور تعظیم و تکریم کا حکم دیا(۶) … ان کے یادگار دنوں کو اپنا یادگار دن بنادیا‘(۷) اور ارشاد فرمایا… اور ’’انہیں اﷲ کے دن یاد دلائو‘‘(۸) انبیاء علیہم السلام کا یوم ولادت بھی اﷲ کے دنوں میں سے ایک دن ہے… ’’سلامتی ہو اس پر جس دن وہ پیدا ہوا‘‘(۹) … حضور انورﷺ اس جہان رنگ و بو میں پیر کے روز تشریف لائے… آپ اظہار تشکر کے لئے پیر کے دن روزہ رکھا کرتے تھے‘ جب پوچھا گیا تو فرمایا… ’’اس دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی (۱۰)‘‘ … حضور انورﷺ کی تشریف آوری کی تاریخ بعض روایات کے مطابق ۱۲ ربیع الاول ۵۶۹ء ہے جس کی تائید تین چار ہزار برس پرانے شواہد سے بھی ہوتی ہے(۱۱)… تو پیر کے دن اور ۱۲ ربیع الاول کو حضور انورﷺ سے خاص نسبت ہے اور نسبتوں ہی سے بلندیاں نصیب ہوتی ہیں۔
اﷲ تعالیٰ نے حضور انورﷺ کو مبعوث فرما کر احسان جتایا (۱۲)‘ احسان اس لئے جتایا جاتا ہے تاکہ اس کویاد رکھا جائے‘ یاد کیا جائے‘ فراموش نہ کردیا جائے… پھر خوشیاں منانے کا بھی حکم دیا(۱۳)… حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اﷲ سے عرض کیا… ’’ہم پر آسمان سے خوان نعمت اتار کہ وہ ہمارے لئے عید ہو‘ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کی‘‘ (۱۴) یہ بات قابل توجہ ہے کہ خوان نعمت اترے تو حضرت عیسٰی علیہ السلام اس دن عید منائیں اور جب ’’جان نعمت‘‘ اترے تو وہ دن عید کا دن نہ ہو؟… جس رات قرآن کریم اترا وہ رات ہزار مہینوں سے بہتر قرار پائے (۱۵) اور جس دن قرآن ناطقﷺ اترا اس رات کی عظمت کا کیا عالم ہوگا؟ شب قدر ہر سال منائی جاتی ہے تو وہ رات کیوں نہ منائی جائے جس رات آقائے دو جہاںﷺ تشریف لائے‘ اﷲ نے فرمایا ’’اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو(۱۶)… امام بخاری فرماتے ہیں سب سے بڑی نعمت تو خود حضورﷺ ہیں(۱۷) ‘ تو چاہئے ان کا چرچا کیا جائے۔
حضور اکرمﷺ نے خود برسر منبر اپنا ذکر ولادت فرمایا‘ (۱۸) بعض صحابہ کرام کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کے فضائل و شمائل بیان کئے(۱۹)… آپﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ عنہ نے ۹ھ / ۶۳۰ء میں غزوہ تبوک سے واپسی پر آپ کے سامنے منظوم ذکر ولادت فرمایا(۲۰)… حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے لئے حضور اکرمﷺ نے خود منبر پر چادر شریف بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر آپ کی شان میں قصیدہ پیش کیا۔(۲۱)  آپ نے دعائوں سے نوازا‘ یہ تمام حقائق احادیث میں موجود ہیں۔
مشہور تبع تابعی حضرت مالک بن انس رضی اﷲ عنہ جب حضور اکرمﷺ کی پیاری پیاری باتیں سناتے تو بڑا اہتمام فرماتے۔(۲۲)  ٹھیک ایسا ہی اہتمام جیسا آج علماء و مشائخ کی بعض محافل میں نظر آتا ہے… حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو سرکار دوعالمﷺ کے حضور نذر ونیاز پیش فرماتے تھے(۲۳) … اور یہ طریقہ اب تک رائج ہے… ابن تیمیہ بھی محافل میلاد منعقد کرنے والے مخلصین کی تائید کرتے ہوئے اجروثواب کی بشارت دیتے ہیں(۲۴)… مجالس میلاد النبیﷺ کوئی نئی چیز نہیں… صدیوں سے اس کا سلسلہ جاری ہے اور اس کی اصل عہد نبویﷺ میں موجود ہے… حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے والد ماجد حضرت شاہ عبدالرحیم علیہ الرحمہ پابندی کے ساتھ یوم ولادت باسعادت پر کھانا پکا کر فقراء میں تقسیم کرتے تھے(۲۵) … خود حضرت شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ اور ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا معمول تھا کہ ۱۲ ربیع الاول کو ان کے ہاں لوگ جمع ہوتے‘ آپ ذکر ولادت فرماتے پھر کھانا اور مٹھائی تقسیم کرتے(۲۶) … حضرت شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ مکہ معظمہ میں ایک محفل میلاد میں شریک ہوئے۔ جہاں آپ نے مشاہدہ فرمایا کہ انوار وتجلیات کی بارش ہورہی ہے(۲۷)… مولوی رشید احمد گنگوہی کے مرشد حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی رحمتہ اﷲ علیہ محفل میلاد کو ذریعہ نجات سمجھ کر ہرسال منعقد کرتے اور کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کرتے(۲۸) … مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اﷲ دہلوی علیہ الرحمہ ۱۲ ربیع الاول کو ہر سال بڑے تزک و احتشام سے محفل میلاد منعقد کراتے جو نماز عشاء سے نماز فجر تک جاری رہتی پھر کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کیا جاتا اور مٹھائی تقسیم ہوتی‘ کھانا کھلایاجاتا(۲۹)… اﷲ کے بعض فرشتے بھی کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کررہے ہیں(۳۰) … تو یہ فرشتوں کی سنت ہے… سات سو برس پہلے فاضل جلیل امام تقی الدین سبکی علیہ الرحمہ علماء کی محفل میں تشریف فرما تھے… وہاں حسان وقت امام صرصری کا نعتیہ شعر پڑھا گیا‘ جس میں ذکر مصطفیﷺ کے وقت کھڑے ہونے کی آرزو کی گئی تھی‘ شعر کا سننا تھا کہ سارے علماء کھڑے ہوگئے(۳۱) … تو کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کرنا صلحاء امت کی بھی سنت ہے… حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کرتے تھے اور اس کو قبولیت کا ذریعہ سمجھتے تھے(۳۲)…
حضور انورﷺ نے فرمایا جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اﷲ کے نزدیک بھی اچھی ہے(۳۳)… اور یہ بھی فرمایا جس نے اسلام میں اچھا طریقہ نکالا اس کے لئے اس کا ثواب ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب بھی(۳۴)… آپ نے یہ بھی فرمایا‘ ہر حال میں سواداعظم (۳۵)اور جماعت و جمہور کے ساتھ رہو(۳۶)… تو مجالس عید میلاد النبیﷺ کا اہتمام‘ حضور انورﷺ‘ صحابہ کرام‘ تابعین و تبع تابعین اور صلحاء امت کی سنت ہے اور ان کے عمل سے ثابت ہے۔
محبت کی فطرت ہے کہ عاشق ہمیشہ اپنے محبوب کی تعریف و توصیف اور ذکر اذکار سننا پسند کرتا ہے بلکہ دل سے چاہتا ہے کہ ہر وقت اس کا ذکر ہوتا رہے‘ کوئی ایسا عاشق نہ دیکھا جو محبوب کا ذکر کرنے والے سے الجھتا ہو اور اس کو برا بھلا کہتا ہو کیونکہ یہ محبت کی فطرت کے خلاف ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اصل خوشی منانا تو یہ ہے کہ ہر دن اور ہر آن ظاہر و باطن میں سنتوں پر عمل کریں پھر ہر سال محبوب رب العالمینﷺ کی آمدآمد کی خوشی منائیں جس طرح ہمارے ان کے اکابر و اسلاف نے خوشی منائی جن کے دم سے اسلام کی رونق ہے۔ مولوی رشید احمد گنگوہی کے استاد شاہ عبدالغنی محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے خوب فرمایا… میلاد شریف کی خوشی کرنے میں ہی انسان کی کامل سعادت ہے(۲۷)… اﷲ تعالیٰ نے حضور انورﷺ کی ایسی سچی محبت عطا فرمائے کہ ہم خود بخود سنت کے سانچے میں ڈھلتے چلے جائیں اور ہمارا وجود دوسروں کے لئے مینارہ نور بن جائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین رحمتہ اللعالمینﷺ وآلہ واصحابہ وسلم
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باونر سیدی تمام بولہبی ست
حواشی
۱۔ مدارج النبوۃ ج ۱ ص ۲
۲۔ اشعتہ اللمعات ص ۴۷۴
۳۔ سورہ مائدہ
۴۔ سورہ احزاب ۵۶۔۵۷
۵۔  سورہ بقرہ ‘ ۱۵۸
۶۔ سورہ حج ‘ ۳۲
۷۔ تفسیر خازن و مدارک
۸۔ سورہ ابراہیم ‘ ۵
۹۔ سورہ مریم ‘ ۱۵
۱۰۔ ابن اثیر اسد الغابہ ج ۱ ص ۲۱
۱۱۔ بھاگوت پران‘ اسکندر ۱۲‘ باب ۲ ‘ اشلوک ۱۸
۱۲۔ سورہ آل عمران ‘ ۱۶
۱۳ سورہ یونس ‘ ۵۸
۱۴۔ سورہ مائدہ ‘ ۱۱۴
۱۵۔ سورہ قدر ‘ ۳
۱۶۔سورہ والضحیٰ ‘ ۱۱
۱۷۔ بخاری شریف ج ۲ ص ۵۶۶
۱۸۔ ترمذی شریف ج ۲ ص ۲۰۱
۱۹۔ زرقانی ج ۱ ص ۲۷
۲۰۔ ابن کثیر میلاد مصطفی ص ۲۹۔۳۰
۲۱۔ بخاری شریف جلد ۱ ص ۶۵
۲۲۔ القامتہ القیامہ ص ۲۴
۲۳۔ قرۃ الناظر ص ۱۱
۲۴۔ الدرالشمس ص ۸
۲۵۔ اقتضاء الصراط المستقیم
۲۶۔ الدرالمنظم ص ۸۹
۲۷۔ فیوض الحرمین ص ۸۰۔۸۱
۲۸۔ فیصلہ مفت مسئلہ مع تعلیقات ص ۱۱۱
۲۹۔ تذکرہ مظہر مسعود ص ۱۷۶۔۱۷۷
۳۰۔ سورہ صفت ‘ ۱
۳۱۔ اقامۃ القیامہ
۳۲۔ اخبار الاخیار ص ۶۲۴
۳۳۔ موطا امام محمد ص ۴۔۱
۳۴۔ مسلم شریف ج ۳ ص ۷۱۸
۳۵۔ مشکوٰۃ شریف ج ۱ ص ۵۸
۳۶۔ مشکوٰۃ شریف ص ۳۱
۳۷۔ شفاء السائل