بین الاقوامی خطیب ونقاد ڈاکٹر کوکب نورانی اوکاڑوی سے تفصیلی گفتگو

in Tahaffuz, June 2010, انٹرویوز

بارعب صورت‘ وجیہ شخصیت‘ بھاری بدن‘ کشادہ جبیں‘ روشن دماغ‘ وسیع نظر‘ وافر علم اور ہر وقت ذکر دین اور فکر دعوت۔ یہ ہے مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی کی کل کائنات۔ لیکن مولانا کے جس وصف کو عالمی شہرت حاصل ہے اور جسے اپنے بیگانے سب جانتے اور مانتے ہیں‘ وہ ہے ان کی شیریں گفتار زبان اور ان کا زرنگار قلم‘ جن کے اندر ہر بات کو مدلل‘ واضح‘ فصیح و بلیغ اور ہر پہلو کو مفصل پیش کرنے کا دلکش انداز قدر مشترک کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ 17 اگست 1957ء کی صبح صادق سلطان مینشن عقب بولٹن مارکیٹ‘ کراچی پاکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی زبردست عالم دین‘ قلم کار اور بے مثال خطیب تھے۔ اس طرح مولانا کی پرورش ایک دینی و علمی گھرانے میں ہوئی۔ ایک ساتھ دینی و عصری علوم سے بہرہ مند ہوئے۔ چنانچہ جہاں ایک طرف آپ نے انٹرمیڈیٹ‘ بی اے‘ بی کام ‘ ایم اے اور پی ایچ ڈی کیا ‘ وہیں درس نظامیہ کی متنبی کتابیں اپنے وقت اور اپنے فن کے باکمال شخصیتوں سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔ آپ کے اساتذہ کی فہرست میں والد ماجد علامہ شفیع اوکاڑوی‘ علامہ سید احمد سعید کاظمی‘ علامہ سید علوی مالکی اور مولانا زید ابوالحسن فاروقی مجددی جیسی عبقری ہستیوں کا نام شامل ہے۔ آپ کو عرب و عجم کے 16 مشائخ کرام سے تمام سلاسل طریقت میں خلافت و اجازت حاصل ہے۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں آپ کے ہزاروں مریدین میں 300 سے زائد تعداد ان نومسلموں کی ہے جو آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔ آپ 1967ء سے ریڈیو پاکستان سے براڈ کاسٹ اور 1969ء سے تاحال PTV اور پھر QTV اور GEOسے ٹیلی کاسٹ کئے جارہے ہیں۔ 1984ء سے مسجد گلزار حبیب کراچی کی امانت و خطابت کی ذمہ داری بھی آپ کے سر پر ہے۔ خطابت کے لئے اب تک تقریبا چالیس ممالک کا سفر کرچکے ہیں‘ لیکن آپ کا طبعی میلان لوح و قلم کی طرف ہے۔ دو درجن سے زائد دینی وعلمی تصنیفات کے علاوہ اب تک درجنوں مضامین سے عوام و خواص مستفید ہوچکے ہیں جن میں ’’نعت رنگ‘‘ میں شائع ہونے والے آپ کے علمی خطوط اور گراں قدر تنقیدی تبصروں کا تو کوئی جواب ہی نہیں۔ اس ماہ موصوف کے انٹرویو کو اپنے قارئین کے سامنے پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں۔

 

سوال: موجودہ ملکی دینی مذہبی اور سیاسی صورتحال کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: اﷲ تعالیٰ جل شانہ نے انسان کو عقل و شعور سے نوازا ہے اور قرآن کریم میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ ہر وہ شخص جو قرآن و سنت کو رہنما بناتا ہے‘ اور اپنے ایمانی تشخص کو اہم جانتا ہے اور اس سے مطمئن ہوتا ہے تو وہ کسی صورتحال میں بھی اپنی فکرونظر کے زاویئے اور پیمانے موجودہ ماحول سے اس طرح متاثر نہیں ہونے دیتا‘ جس طرح کہ ان لوگوں کے زاویہ ہائے فکرونظر بدل یا متاثر ہوجاتے ہیں جوکہ اپنے ایمان و یقین کے حوالے سے مطمئن اور مستحکم نہیں ہوتے۔ مجھے موجودہ صورتحال سمجھنے میں کوئی دقت یا دشواری نہیں ہوتی اور برملا یہ عرض کرتا ہوں کہ ملک میں موجودہ یہ صورتحال خود یہاں کے حکمرانوں اور معاشرے کے مختلف اداروں اور افراد کی کارگزاریوں کا نتیجہ ہے۔ بیرونی اور خارجی عوامل کو قبول کرنے اور ان کی اثر پذیری میں بھی ہمارے اپنے معاشرے کے افراد ہی کا کردار نظر آئے گا۔ کسی کا شعر یاد آرہا ہے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
یہ مملکت خداداد‘ وطن عزیز پاکستان‘ کس غرض سے حاصل کیا گیا؟ اگر ہم حقائق دیکھیں تو یہ بات واضح ہے کہ اسلامیان ہند کے دو ہی مسئلے تھے۔ ایمانی اور معاشی۔ کیا نماز روزے اور ارکان اسلام کی غیر منقسم ہند میں آزادی نہیں تھی؟ کمی تھی تو اسلامی قوانین کے عملی نفاذ کی تھی۔ جب اسلامی تشخص کو مغلوب کرنے اور مسلمانوں کو علیحدہ قوم تسلیم نہ کرنے کی باتیں ہوئیں تو اسلامیان ہند نے اس ظلم و جبر کے خلاف تحریک چلائی۔ مغل خاندان کے بعد مسلمانوں کو جس طرح پامال کیا گیا اور انہیں اقلیت ہی نہیں پس ماندہ بھی ثابت کیا گیا تو وہ اپنے ایمانی تشخص اور معاشی و معاشرتی حقوق کے لئے اٹھے اور بیش بہا قربانیاں دے کر انہوں نے آزاد مملکت حاصل کی مگر وہ اس اسلامی جمہوریہ پاکستان کو حاصل کرکے اپنی قربانیوں اور تحریک کو بھول گئے۔ اپنا نصب العین اور مقصد انہوں نے فراموش کردیا۔ وقت گزرتا رہا اور حقائق اوجھل ہوتے رہے‘ کیونکہ وہ لوگ جو تحریک پاکستان کے شریک سفر نہ تھے‘ وہ حصول پاکستان کے مقاصد کو فراموش کروانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے نمایاں ہوتے رہے۔ اصول پس پشت ڈال دیئے گئے اور فروعی امور و معاملات میں لوگوں کو الجھا دیا گیا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ اب نہ وہ سیاسی مقاصد مقدم ہیں جو پاکستان کے قیام کی بنیاد تھے اور نہ ہی وہ دینی و مذہبی جوش و جذبہ باقی ہے جو تحریک پاکستان کی اصل تھا۔ قرآن وسنت سے عملی وابستگی کی بجائے اب انہی کی رضا جوئی اہم ٹھہرالی گئی ہے جن سے آزادی حاصل کی گئی تھی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم یہ کہتے کہ ہم پہلے مسلمان ہیں پھر کچھ اور۔ لیکن کہا کچھ اور جارہا ہے اور دین و ایمان کے حوالے سے حکمرانوں اور سیاست کاروں کے لہجے معذرت خواہانہ ہیں۔ ایسے میں یہ واضح ہی نہیں ہوا کہ ’’پاکستان‘‘ اسلام اور اسلامیات کے لئے ہے یا اب اس کا وجود اور اس کے وسائل غیر مسلموں کی بقاء کے لئے مخصوص ہوکر رہ گئے ہیں؟ مجھے عصری علوم وفنون اور ان میں مہارت حاصل کرنے سے کوئی اختلاف نہیں لیکن اس بات پر شدید ملال ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکومت و سیاست کا قبلہ اسلام اور اسلامیات نہیں رہنے دیا گیا‘ جس کی وجہ سے بے ہنگم معاشرہ اور بدنظمی کا ماحول ہے۔ یقین کی بجائے بے یقینی کا راج ہے اور موجودہ ملکی صورتحال‘ اسلام اور اسلامیات سے بالفعل دور ہونے اور ایمانی تشخص کو اہم نہ جاننے کا نتیجہ ہے۔ اور اس بے راہ روی کا تسلسل کسی اچھے انجام کی طرف نہیں ہوگا۔ اسے یوں بھی کہوں کہ سچ اور سچائی سے غیر وابستہ ہوکر کسی کامیابی و بھلائی کا تصور بلاشبہ غلط اور غلطی ہوگا۔ گزشتہ 63 برسوں میں ہمارے پاکستانی معاشرے نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ حقائق کے مطابق اس کی تفصیل کچھ یہی بتاتی ہے کہ اس ملک میں جھوٹ‘ منافقت‘ اخلاقی بگاڑ‘ قانون شکنی اور دین سے دوری ہی نے رواج پایا ہے۔ آپ سچ کی عینک اتار دیجئے اور شخصی و گروہی مفاد کی عینک لگا لیجئے تو جواب یہ ہوگا کہ ’’سب ٹھیک ہے بہت اچھا ہے‘‘ لیکن سچ اور سچائی کے تناظر میں جواب یہی ہے کہ ہم خواب غفلت سے ایسے مانوس ہوگئے ہیں کہ بے داری سے گھبراتے اور ڈرتے ہیں۔ ہم نے جھوٹ کو ایسا اپنالیا ہے کہ اب سچ گوارا ہی نہیں کرتے۔ جب دوا اور غذا ہی مرض ہوجائے تو شفا کیسے ممکن ہو؟
سوال: دین مبین مکمل ہے ‘ قرآن کریم ضابطہ حیات ہے‘ ائمہ کرام ضابطہ اخلاق ہیں‘ پھر کیا وجہ ہے کہ فرقہ واریت جیسے افسوس ناک عوامل کا ملک کو سامنا ہے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: آپ کی شاید توجہ نہیں رہی۔ رسول کریمﷺ کے واضح ارشادات ہیں کہ بنی اسرائیل میں 72-71 فرقے ہوئے‘ میری امت میں 73 فرقے ہوں گے اور ان میں سے سوائے ایک کے باقی سب جہنمی ہوں گے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دریافت کرنے پر رسول کریمﷺ نے اس ناجی فرقے کی پہچان بھی بیان فرمادی۔ اس کا نام اہلسنت وجماعت ہے اور یہ بھی واضح فرمادیا کہ جو اس ناجی فرقے سے الگ ہوگا وہ جہنم کا مستحق ہوگا۔ ان ارشادات سے یہ واضح ہوگیا کہ امت میں فرقے ہوں گے اور سوائے ایک کے باقی تمام ناری ہوں گے۔
دنیا کے ہر دین دھرم میں فرقے ہیں اور بہت زیادہ ہیں۔ ہمیں اس وقت ان پر گفتگو نہیں کرنی آپ کے سوال میں فرقہ واریت کا ذکر وطن عزیز کے حوالے سے ہے۔ یعنی اس ملک میں فرقوں کے درمیان شدید کشیدگی اور انتہا پسندی اصل مسئلہ ہے۔ آپ شاید یہی جاننا چاہ رے ہیں کہ سب سے اچھے اور مکمل دین کے ماننے والوں اور قرآن کریم رکھنے والوں میں یہ فرقہ وارانہ فسادات وغیرہ کیوں ہیں؟ آپ کے سوال میں یہی تاثر ہے کہ فتنہ و فساد کی جس دین اور کتاب میں گنجائش ہی نہیں اس کے ماننے والوں میں یہ کشیدگیاں کیوں ہیں؟ اس کے جواب کو آپ کے پہلے سوال کے جواب سے جوڑتے ہیں پھر عرض کرتا ہوں کہ پاکستان خالص اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اس کے بنانے والوں میں نمایاں کردار بھی خالص اسلامیوں یعنی اہلسنت و جماعت نے ادا کیا۔ تحریک پاکستان کی مخالفت کرنے والوں میں جو نمایاں تھے خود ان کی اپنی تحریریں ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ پاکستان کا قیام اور وجود جنہیں کھٹکتا رہا ہے‘ وہ کیسے چاہیں گے کہ یہ ملک صحیح معنوں میں اسلامی مملکت اور خوش حال اسلامی ریاست بنے‘ چنانچہ انہوں نے اس ملک میں ہر سطح پر انتشار و افتراق اور ابتری کی فضا رکھنے کا جتن کیا۔ کون کس طرح منفی کردار پیش کرتا رہا؟ اور کون کون مخالفوں کے آلہ کار بنے رہے؟ یہ تحقیق گزشتہ 63 برسوں کے حقائق سے واضح ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ محمد علی صاحب کے بعد اب تک حکمرانوں نے کس سطح پر عدل و انصاف کو روا رکھا ہے؟ یقین جانئے کہ حکمران طبقہ ہی فرقہ واریت میں شدت کا اصل مجرم ہے۔ عوام میں فرقے کی بنیاد پر کشیدگی کا کوئی ایسا شدید سانحہ کم ہی پیدا ہوگا جس میں حکمران طبقے کا دخل نہ ہو۔ یہاں حکمرانوں نے فرقہ واریت کو اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے ہر دور میں خوب برتا ہے۔ اس موضوع پر متعدد مرحلوں میں پہلے بھی بہت تفصیل پیش کرچکا ہوں۔ مختصرا پھر عرض کرتا ہوں۔ افواج کا شعبہ ہی دیکھئے۔ ان کے ہاں صرف ایک دو گروہوں کی کتابیں منظور کی جاتی ہیں‘ انہی گروہوں کے افراد کو مذہبی مناصب دیئے جاتے ہیں‘ انہی کے اجتماعات میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے۔ حکومتی سطح پر کس کس شعبے میں فرقہ وارانہ جانب داری ہے؟ اس کی پوری تفصیل ہے۔ رائے ونڈ میں ایک گروہ کا اجتماع ہوتا ہے تو اس کی سرکاری سطح پر نہ صرف تائید وحمایت کی جاتی ہے بلکہ اعلانیہ اعانت بھی کی جاتی ہے۔ ملتان میں دعوت اسلامی کے اجتماع کے ساتھ وہ سلوک نہیں رکھا جاتا۔ تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ میں بھی جو احوال ہیں‘ وہ پوشیدہ نہیں۔ محرم کے مہینے میں ریڈیو‘ ٹی وی جو رویہ رکھتے ہیں وہ ربیع الاول میں نظر نہیں آتا۔ خلفائے راشدین صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ایام وصال پر دس پندرہ منٹ سے زیادہ وقت ریڈیو‘ ٹی وی نہیں دیتے۔ ایک گروہ کی تبلیغی جماعت کے افراد کو جہاں وہ جانا چاہیں اور جس تعداد میں جانا چاہیں  NOC جاری کردیئے جاتے ہیں۔ کیا کسی اور گروہ یا جماعت کے ساتھ یہ رعایت رکھی جاتی ہے؟ ریڈیو ٹی وی سے قرآن کریم کا ترجمہ صرف ایک گروہ کے افراد کا کیا ہوا نشر کیا جاتا ہے۔ ریڈیو ٹی وی کے مراکز میں اسکرپٹ ایڈیٹر کس گروہ کے رکھے جاتے ہیں؟ محکمہ اوقاف کا احوال تو اور بھی ’’نرالا‘‘ ہے۔ حکومت کے علاوہ بھی دیکھئے جیو ٹی وی چینل پر دیکھا ہوگا کہ ہر مذہبی پروگرام میں شیعہ عالم لازمی ہوتا ہے۔ جبکہ سنی‘ بریلوی اور دیوبندی وہابی بدل بدل کر پیش کئے جاتے ہیں ۔ واضح تاثر یہی دیا جاتا ہے جیسے شیعہ آبادی زیادہ ہے اس لئے اس کی نمائندگی لازمی ہے اور باقی کو خانہ پری کے لئے شامل کیا جاتا ہے حالانکہ ملک کی اکثریتی آبادی فقہ حنفی سے وابستہ اور صحیح العقیدہ اہلسنت و جماعت کی ہے۔
یہ صرف مختصر سی جھلک ہے… کیا یہ سب فرقہ وارانہ سرپرستی اور جانب داری شمار نہیں ہوگا؟اب تو یہ حال ہے کہ کوئی اسلامی تعلیمات و احکامات اور اشعار اسلامی کے خلاف بات یا کام کرے‘ اسے مجرم نہیں کہا جاتا۔ ہاں جو حقائق واضح کرے اسے مجرم شمار کیا جاتا ہے۔ غلط کو غلط کہنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ آپ سے کیا عرض کروں اس اسلامی مملکت میں عدل و انصاف مفقود ہے۔ یہاں حکمراں طبقے کے مفادات سے اہم کوئی شے نہیں گردانی جاتی۔ فرقہ واریت میں یہ شدت اور انتہا پسندی اسی لئے ہے کہ یہاں حکومت و سیاست کا محور شخصی ہے یا گروہی‘ یہاں سچ اور حقیقت کا چلن نہیں ہے۔ اگر حکمراں طبقہ اور سیاست کار درست ہوجائیں تو فرقہ وارانہ کشیدگی کا یہ افسوسناک ماحول بھی درست ہوسکتا ہے۔ فرقوں میں اصولی اختلاف ہوں یا فروعی‘ ان میں علمی مباحث رہیں اور اشتعال انگیزی کو راہ نہ دی جائے۔ مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت و سیاست کے اہل کار بھی کسی گروہ کی سرپرستی اور جانب داری چھوڑ کر صرف عدل و انصاف کے تقاضے پورے کریں ورنہ یہ افسوس ناک صورتحال ختم نہیں ہوگی۔
سوال: پاکستان میں فرقہ بندی کی بنیاد کیوں پڑی جبکہ پاکستان کے قیام کی جدوجہد ایک ایسے شخص نے رکھی جس نے صرف لاالہ الا اﷲ کے نا مپر راس کماری سے طورخم تک کے عوام کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کردیا‘ یہاں موجودہ دور میں سب لوگ بکھر گئے ہیں؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: آپ کے سوال میں اشارہ اگر قائداعظم محمد علی جناح کی طرف ہے تو یہ عرض کرتا چلوں کہ قائداعظم سے بہت پہلے ہی یہ جدوجہد شروع ہوچکی تھی۔ وہ تو بہت بعد میں قافلہ سالار ہوئے‘ دوسری بات یہ کہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں سبھی شامل اور اکھٹے تو نہیں تھے‘ البتہ اسلامیان ہند کی بڑی تعداد شامل تھی اور وہ لوگ قائداعظم کی وجہ سے شامل نہیں تھے بلکہ وہ لوگ اسلام کے نام پر آزاد مملکت کے قیام اور غیر مسلموں سے آزادی کے لئے مکمل کلمہ طیبہ کا نعرہ بلند کرکے اس جدوجہد میں شریک ہوئے تھے۔ جو لوگ قیام پاکستان کی جدوجہد میں شامل نہیں تھے‘ ان کے حوالے سے آپ کچھ تفصیل دیکھنا چاہیں تو چوہدری حبیب احمد صاحب کی ضخیم کتاب ’’تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علمائ‘‘ دیکھیں۔ اس کے علاوہ ’’مکالمتہ الصدرین‘‘ اور دیگر کتابیں مطبوعہ موجود ہیں۔
دو قومی نظریہ کی بات تو حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے مغل حکمراں اکبر اور جہانگیر کے عہد میں واضح کردی تھی۔ ہندوستان میں جب ’’مسلم ہندو بھائی بھائی‘‘ کے نعرے سے ذہن سازی کی سازش کی جانے لگی تو اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خاں بریلوی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے ملت کی رہنمائی فرمائی۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کے افکار بھی ان کی شاعری میں اس حوالے سے واضح ہیں۔ آپ کے سوال میں بنیادی بات یہ ہے کہ اس ملک کے قیام کی جدوجہد میں جو اکھٹے تھے‘ وہ اس ملک کے بننے کے بعد کیوں بکھر گئے؟
اس سوال کو مجموعی طور پر دیکھوں تو بہت تفصیل ہوجائے گی‘ مختصرا یہی کہہ سکتا ہوں کہ قیام پاکستان کے بعد فوری طور پر جو اہم امور سرانجام پانے چاہئے تھے‘ ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی اور زمام اقتدار ان ہاتھوں میں رہی جو فکری اعتقادی طور پر مختلف تھے اور ان کی ترجیحات بھی وہ نہیں تھیں جو ہونی چاہئے تھی۔ جس ملک اور معاشرے میں آئین کی پاسداری اور عدل و انصاف کی عملداری نہیں رہتی‘ وہاں ہر برائی راہ پا جاتی ہے۔ ایجوکیشن کی بجائے ایجی ٹیشن‘ تعمیر کی بجائے تخریب‘ آسودگی کی بجائے آلودگی اور خوش حالی کی بجائے بدحالی رواج پاتی ہے۔ حکمرانوں نے دین کے خلاف باتیں ہی نہیں کیں‘ دین میں اعلانیہ مداخلت کی اور حق گوئی کو جرم ٹھہرایا تو معاشرے میں دین سے دوری اور اخلاقی انحطاط اور ساذشی عناصر کے لئے راہیں آسان اور ہموار ہوگئیں۔ محافظوں کو اپنا منصب یاد نہیں رہا تو راہ زنی کا دور دورہ ہوگیا۔ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کی یہی خواہش تھی۔ انہوں نے اس ماحول سے مزید فائدہ اٹھایا اور کئی عنوانات سے بکھیر دیا۔ ذرا ماضی پر نگاہ دوڑایئے‘ تعلیمی اداروں میں اسلحے کے استعمال کی ابتداء دیکھئے۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کا کھیل دیکھئے۔ آپ  فرقہ بندی کی بات کرتے ہیں کہ کیوں بنیاد پڑی۔ مجھے خوب یاد ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان کے دور حکومت میں میرے والد گرامی علیہ الرحمہ کی ریڈیو پاکستان کے پروگرام’’قرآن حکیم اور ہماری زندگی‘‘ میں تقاریر نشر ہوتی تھیں تو وہ تقریر کے شروع میں خطبہ مسنونہ پڑھا کرتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور حکومت آیا تو ریڈیو والوں نے کہاکہ سرکاری حکم ہے کہ خطبہ نہیں پڑھا جائے گا صرف بسم اﷲ سے تقریر شروع کرنی ہوگی (ابا جان قبلہ علیہ الرحمہ خطبہ ضرور پڑھتے لیکن وہ نشر نہیں کیا جاتا تھا‘ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پھر خطبہ پڑھا جانے لگا) اہل تشیع کے گورنر پنجاب قزلباش کہا کرتے تھے کہ ’’میں شیعہ پہلے ہوں اور گورنر بعد میں ہوں‘‘ پرویزی فرقے کی سرپرستی کس نے کی؟ بھٹو کے دور حکومت میں شیعت کو اور جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں دیوبندیت کو جو فروغ دیا گیا اس کا انکار ممکن نہیں؟ بتایئے کہ فرقہ بندی اور فرقہ واریت کا یہ ماحول پہلے کیوں نہیں تھا؟ حکمرانوں کے سوا بتایئے اس کا ذمہ دار اور کون ہے؟ اس حوالے سے آپ اسلامی ممالک کی مثالیں بھی پیش نظر رکھیں چونکہ آپ کا سوال صرف وطن عزیز کے حوالے سے ہے‘ اس لئے مختصرا کچھ حقائق پیش کئے ہیں۔
سوال: آپ کے والد محترم حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمتہ اﷲ علیہ کا دینی‘ سیاسی‘ مذہبی‘ ملی حلقوں میں ایک بڑا نام ہے۔ ان کے حوالے سے بھی اور آپ کی اپنی صلاحیتیں بھی بہت ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کی دینی ملی اور سیاسی خدمات کا دائرہ آپ کے والد محترم کی طرح وسیع نہیں ہوا؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: مجھے حیرت ہورہی ہے کہ آپ میرے والد گرامی علیہ الرحمہ سے تقابل میں بات کررہے ہیں‘ میں خود میری ہر صلاحیت اور میرا ہر حوالہ انہی سے ہے۔ میرے لئے یہی کیا کم ہے کہ مجھے ان کی نیکیوں کو اپنانے اور جاری رکھنے کی سعادت ملی ہے۔ مجھے ابھی تک اپنے والد گرامی علیہ الرحمہ کی خوبیوں کا پوری طرح عرفان نہیں ہوسکا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے انہیں کتنا نوازا تھا۔ کچھ اسی سے اندازہ کیا جائے کہ ان کی ولادت سے قبل ہی باکمال مشائخ نے ان کے علو مرتبت کی بشارت سنا دی تھی۔ رسول کریمﷺ کی بارگاہ میں انہیں مقبولیت اور محبوبیت کا مژدہ ملا۔ میں تو یہی کہوں گا کہ اﷲ تعالیٰ جل جلالہ نے ان سے جو کام لینا تھا انہیں ہر طرح اس کا اہل بنایا اور انہیں اپنی تائید و نصرت سے بے پناہ نوازا۔ انہیں دنیا سے پردہ فرمائے26 سے زائد برس ہوگئے ہیں۔ اس عرصے میں ان کی عزت و مقبولیت میں ہر نئے دن اضافہ ہوا ہے‘ سمتوں میں ان سے عقیدت و محبت فزوں تر دیکھنے میں آئی ہے۔ میں کچھ بھی کرلوں مگر ان کی بات ہی کچھ اور ہے۔ مجھے تو ان کی محنتیں ملی ہیں۔ انہوں نے تو مختصر وقت میں صدیوں کے کام کئے اور تنہا ہی کئی اداروں سے بڑھ کر کام کئے۔ میری اتنی شہرت میں تو ٹیلی ویژن کا بھی دخل ہے جبکہ ان کا یہ اعزاز ہے کہ ان وسائل کو ان کی ضرورت تھی‘ انہیں بفضلہ تعالیٰ ان کی محنت سے ان وسائل کے بغیر بھی بچہ بچہ جانتا پہچانتا تھا۔
آپ کی تسلی کے لئے مزید عرض کروں کہ ماحول کو نظرانداز نہ کیجئے۔ انہوں نے تحریک پاکستان سے خطابت کا آغاز فرمایا تھا۔ قیام پاکستان کے فوری بعد جو ماحول تھا‘ اب سے مختلف تھا۔ تحریک ختم نبوت‘ تحریک دفاع پاکستان اور تحریک نفاذ نظام مصطفیﷺ کے مراحل درپیش ہوئے۔ اباجان قبلہ جو فضیلت و مرتبت رکھتے تھے‘ اس کے مطابق انہوں نے ان مراحل میں مثالی کردار یادگار بنایا۔ انہیں جس سیاست سے واسطہ رہا‘ اس میں اور موجودہ مروجہ سیاست میں بہت واضح فرق ہے۔ وہ تو 1976ء ہی میں سیاست کی بدلتی چال دیکھ کر اس سے بالکل الگ ہوگئے تھے‘ انہیں حق و صداقت کے باب میں مفاہمت و مصالحت ہرگز گوارا نہیں تھی۔ وہ اپنے قلب و لسان میں کوئی تضاد نہیں رکھتے تھے۔ میری طبع و مزاج کا پوچھیں تو مجھے تحریر و تحقیق سے جو شغف ہے وہ تقریر سے اس قدر نہیں لیکن اس کا کیا کروں کہ مجھے تقریریں زیادہ کرنی پڑتی ہیں‘ اس مروجہ سیاست پر تو لاحول پڑھیئے‘ مجھے تو عہدوں کی کئی مرتبہ پیشکش ہوئی مگر میں نے قبول نہیں کئے۔
اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وقت ضائع نہیں کرتا ہوں اور مقدور بھر خدمات انجام دے رہا ہوں۔ تحدیث نعمت کے طور پر عرض کررہا ہوں کہ بحمد ﷲ تعالیٰ دنیا کے 41 ممالک کا سفر کرچکا ہوں‘ متعدد کتابیں لکھی ہیں‘ رسائل و جرائد میں طبع ہونے والی تحریروں کا شمار نہیں‘ تدریسی‘ تحقیقی ‘ تنظیمی اور تعمیری شعبوں میں کام کی الگ تفصیل ہے۔ یہ سب اﷲ کریم کا کرم‘ رسول کریمﷺکی رحمت و عنایت اور میرے والدین اور بزرگوں کی دعائوں کی برکت ہے۔
اپنے والد گرامی علیہ الرحمہ کی خدمات کے تذکار ہی تاحال پوری طرح محفوظ نہیں کرسکا۔ ان کی جانشینی کون سا آسان کام ہے‘ کسی وسیع دائرے کی کیا بات کروں‘ میری دعا یہی ہے کہ اﷲ کریم میرا بھرم رکھے۔
سوال:  کیا ہمارے علماء بے عمل تو نہیں ہوگئے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: اس کے جواب میں پہلے یہ جان لیجئے کہ علمائے سوء بھی ہوتے ہیں یعنی وہ جو خود کو عالم تو کہلاتے ہیں لیکن اپنے تشخص اور منصب کا خود ہی خیال نہیں رکھتے بلکہ اسے بری طرح پامال کرتے ہیں اسی لئے ان کو علمائے سوء یعنی برے علماء کہا گیا۔ ان کے علاوہ بہت سے بنام علماء دکھائی دیتے ہیں‘ مگر وہ علماء نہیں ہیں۔ وہ اپنے نام کے ساتھ خود ہی القاب وضع کرتے ہیں۔ اپنی تعظیم و تکریم چاہتے ہیں‘ اسی طرح جانے کیا کیا وبال اپنے ذمے لیتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ کچھ نام کمانے اور کچھ دنیا کمانے میں لگ گئے ہیں حالانکہ کام کریں تو نام بھی ہوگا اور دنیا بھی ملے گی۔ فی الواقع جو علماء ہیں ان میں ہوسکتا ہے عمل میں کچھ کم زور اور سست ہوں لیکن اکثریت کا حال عمل میں بھی اچھا ہی نظر آئے گا۔ اب عوام نہیں جانتے کہ کون فی الواقع عالم ہے کون نہیں؟ انہیں مسجدوں‘ مدرسوں‘ تنظیموں‘ اداروں سے وابستہ ہر وہ شخص جس کا حلیہ علماء سے مشابہ نظر آتا ہے‘ وہ اسی پر سب کو قیاس کرلیتی ہوں گے۔ ویسے حالات یہی ظاہر کرتے ہیں کہ علماء و مشائخ کہلانے والوں کی خاصی تعداد میں تقویٰ و روحانیت اور علم وعمل کی وہ آب و تاب نہیں رہی جوکہ ان کا خاصہ تھی۔
سوال: پاکستان نظریاتی ملک ہے‘ 63 سال ہوگئے‘ آج تک نہ اس نظریئے کی ترویج کی گئی‘ نہ حقیقت میں اسلامی مملکت بن سکی؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: اس کا آسان اور مختصر جواب تو یہی ہوسکتا ہے کہ اس ملک کی باگ دوڑ ان ہاتھوں میں گئی یا دی گئی جو اس کے اہل نہیں تھے یا اس ملک کا نظریاتی بنیادوں پر قیام نہیں جانتے اور نہیں چاہتے تھے۔ آج بھی آپ کے صدر مملکت ماڈرن اسلام کی بات کرتے ہیں‘ یہاں ایک ریفرنڈم اسی عنوان سے جنرل ضیاء الحق صاحب نے کروایا تھا کہ اس ملک میں اسلامی نظام چاہتے ہیں یا نہیں؟ (حالانکہ ’’نہیں‘‘ میں جواب شرعی طور پر کس درجہ کا جرم تھا اس کے حوالے سے ان دنوں اخبارات نے میرا بیان شائع نہیں کیا تھا) سابق گورنر سندھ جناب محمد میاں سومرو نے گزشتہ برسوں 14 اگست کے دن گورنر ہائوس کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مدینہ منورہ کے بعد پاکستان ہی وہ مملکت ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی ہے۔ کوئی بتائے کہ حکمرانوں کا یہ اعلان و اعتراف غلط ہے یا اس اعلان و اعتراف کے برعکس ان کا عمل اور طرز وطریق غلط ہے؟ اس ملک میں جنرل ضیاء الحق نے زمام اقتدار اسی وقت اپنے ہاتھ میں لی تھی جب نفاذ نظام مصطفیﷺ کی تحریک زوروں پر تھی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ وہ بیک جنبش قلم جانے کیا کیا کرسکتے تھے لیکن گیارہ برس کے لگ بھگ عرصہ گزرا اور کچھ نہیں ہوا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے کتنے مسودہ ہائے قانون تیار کررکھے ہیں لیکن کاغذوں کے پلندے سے زیادہ ان کی حیثیت نہیں۔ کیونکہ یہاں حکمراں ہی نہیں خود مودودی صاحب نے بھی تحریک نظام مصطفیﷺ کو اپنے ایک اخباری بیان میں صرف ایک ’’ایشو‘‘ کہا۔
’’شریعت بل‘‘ کے نام پر جو کھیل رہا‘ اس کی تفصیل سے اخبارات بھرے رہے‘ جمعہ کی چھٹی منسوخ کرنے اور میک ڈونلڈ کا یہاں اجراء کرنے والے نواز شریف صاحب نے بھی علماء کو جمع کرکے نفاذ دین کے ارادے ظاہر کئے تھے۔ بتایئے کہ نظریاتی بنیاد کو کس حکمران نے ’’واقعی‘‘ مانا ہے؟ یا کس نے اس کی عملی ترویج چاہی ہے؟ اور اب تو باتیں یہی کچھ اور ہورہی ہیں۔ عائلی قوانین اس اسلامی جمہوریہ میں وہ ہیں جو قرآن و سنت سے واضح متصادم ہیں۔ پولیس کے محکمہ کا سارا نظام ہی انگریز کے بنائے ہوئے قوانین پر ہے اور وہ تمام قوانین جنگ آزادی کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے تھے۔ عدالتی تمام نظام کون سا ہے؟ آپ خود ہی کہئے‘ یہ ملک کیسے حقیقی اسلامی مملکت بنے؟ یہاں دینی مدرسوں اور دینی سرگرمیوں کو کس نظر سے دیکھا جارہا ہے؟ دین اور دینیات کے بارے میں منفی لہجہ رکھنے والوں سے آپ کیا توقعات رکھیں گے؟
حکمرانوں اور سیاست کاروں کی اس روش سے یہ ملک تو حقیقی اسلامی مملکت تاحال نہیں بن سکا لیکن حکمرانوں اور سیاست کاروں کے اس طرز عمل کا نتیجہ برعکس ہوگا اور ان شاء اﷲ تعالیٰ معاشرے میں اسلامی روحانی انقلاب آئے گا کیونکہ گمراہی پھیلتی ضرور ہے لیکن قائم نہیں رہتی اور جھوٹ منافقت اور اصل سے بغاوت کے خوگر بالاخر ناکام و نامراد ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہر قوت ہرگز حق نہیں لیکن حق یقینا قوت ہے اور دوام صرف حق کے لئے ہے۔
سوال: کیا وجہ ہے کہ علمائے اہلسنت میں آپس میں اتحاد اور اتفاق نہیں؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: آپ پہلے یہ بتایئے کہ آپ نے نااتفاقی کہاں اور کیسے محسوس کی؟ اعتقادی‘ مسلکی یا سیاسی یا تنظیمی؟ کس سطح پر آپ نے محسوس کیا کہ علمائے اہلسنت میں اتحاد و اتفاق نہیں ہے؟ کیا آپ اختلاف رائے سے کسی شخص کو بھی خالی پاتے ہیں‘ اتحاد و اتفاق اس طرح کا ہو کہ سب کی رائے اور ہر بات و معاملے میں سب کا موقف و خیال ایک ہو‘ یہ تو نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک عقائد کی بات ہے تو ایسا نہیں ہے کہ علمائے اہلسنت میں اتحاد و اتفاق نظر نہ آئے البتہ مسائل اور معاملات میں یا تنظیمی امور میں اختلاف نظر آتا ہے تو آپ کو یہ صرف علمائے اہلسنت ہی میں نہیں بلکہ ہر جگہ نظر آئے گا۔ آپ کے سوال میں جو بات آپ کا مقصود ہے اس حوالے سے آپ کی تسلی و تشفی کے لئے کچھ عرض کرتا ہوں۔
براعظم پاک و ہند میں تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد وہ ہستیاں جنہیں ہم اپنا اکابر شمار کرتے ہیں‘ فخر و مسرت کا اظہار کرتے ہیں‘ گزشتہ صدی ہجری وعیسوی کے آخر تک ہمارے درمیان رہیں‘ اہلسنت و جماعت میں علمی قیادت کے حوالے سے بھی بہت سے نام نمایاں تھے اور سیاسی عنوان سے بھی۔ پھر یکے بعد دیگرے ان مبارک اور مقتدر شخصیات کا وجود مسعود ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوتا چلا گیا اور کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ درس گاہوں اور خانقاہوں میں قحط الرجال کا احساس ہونے لگا۔ ادھر ملک میں حکمرانوں اور سیاست کاروں کے نامناسب طرز عمل اور قلابازیوں نے معاشرے میں مختلف تعصبات کو اتنا فروغ دیا کہ معاشرہ جانے کتنے طبقوں میں بٹ گیا‘ نفرتوں اور کشیدگیوں کا ایک طوفان امڈ آیا جس نے پورے ماحول کو پراگندہ کردیا‘ تعلیمی اداروں اور مذہبی مقامات پر اسلحے کا استعمال اور غنڈہ گردی کے سانحے ہونے لگے‘ لوٹ مار‘ قتل وغارت اور لاقانونیت کی اس فضا نے دینی خدمات سے وابستہ لوگوں (جنہیں عام طور پر مذہبی طبقہ کہا جاتا ہے) کی خدمات کا دائرہ محدود کرنے کی کوشش کی۔ حکومتی سطح سے بھی دین اور دین داروں کے بارے میں منفی قول و فعل کا مظاہرہ تھا۔ ایسے میں مذہبی طبقے کے کچھ افراد بھی بٹ گئے اور انہوں نے اپنی ترجیحات کا رخ بدل دیا۔ ہر سیاسی پارٹی میں مذہبی طبقے کے افراد بھی شامل ہوگئے اور ترجیحات کے ساتھ ساتھ توجہات میں بھی تبدیلی آئی‘ مختصر کروں۔
اس تناظر میں اب دیکھئے کہ وہ ہستیاں نہیں رہیں کہ ان کی علمی قیادت پر سب کا اتفاق ہوتا اور رہی سیاست تو مروجہ سیاست میں وفا اور استقامت کا تصور ہی نہیں ۔یوں سب بکھرے بکھرے نظر آنے لگے۔ آپ یہ مطلب نہ لیجئے گا کہ اہلسنت و جماعت میں اب اہل علم نہیں رہے یا قابل قدر ہستیاں نہیں ہیں‘ ایسا نہیں ہے صحیح العقیدہ اہلسنت و جماعت حسب سابق آج بھی علمی برتری رکھتے ہیں‘ دوسرے فرقوں میں ان کا مقابل شاید ہی کوئی ہو بلکہ مجھے خوشی ہے کہ نوجوانوں میں بہت قابل اہل علم نمایاں ہورہے ہیں۔ غیروں کی سازشوں نے اتنا الجھا دیا ہے کہ اہلسنت و جماعت میں کچھ کمزوریاں کسی قدر راہ پا گئی ہیں۔ تاہم دیکھا جاتا رہا ہے کہ اہلسنت کو ان کمزوریوں کا احساس ہوگیا ہے۔ یہ احساس ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ انشاء اﷲ اس کا تدارک اور ازالہ کیا جائے گا۔
سوال: آپ کے پاس اتحاد اہلسنت کا کیا لائحہ عمل ہے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: اتحاد اہلسنت کے حوالے سے اصل عرض تو یہی ہے کہ ہر سنی اپنا جائزہ لے اور دیکھئے کہ اس کی ذات یا اس کے کسی قول و فعل میں کون سی ایسی کجی یا کمی ہے جو اپنے سنی بھائی سے الگ یا دور رکھے ہوئے ہے؟ اس بارے میں اپنے طور پر مختلف مواقع پر کئی تجاویز پیش کرچکا ہوں ان میں سے کچھ مختصر پھر عرض کردیتا ہوں۔
٭… ’’جماعت اہلسنت‘‘ صحیح العقیدہ اہلسنت و جماعت کی مرکزی اور نمائندہ تنظیم ہے اسے منظم کیا جائے اور ہر سطح پر اس میں ہر سنی کو شامل کیا جائے اور کسی عہدے و شعبے کی قیادت کا دورانیہ دو تین برس سے زیادہ نہ رکھا جائے۔
٭… جماعت اہلسنت کو اتنا فعال بنایا جائے کہ وہ ہر سنی کے تمام دینی و دنیوی امور و معاملات میں رہنما اور معاون ہو۔
٭… چھوٹی چھوٹی تنظیموں کو جماعت اہلسنت میں ضم کردیا جائے اور جماعت اہلسنت کے متوازی کوئی تنظیم نہ ہوؒ
٭… ہر شہر میں جماعت اہلسنت کے زیر اہتمام درس گاہ ہو‘ جہاں مختلف کورس رکھے جائیں تاکہ ہر شعبے کے لئے باقاعدہ تعلیم و تربیت کا اہتمام ہو اور ہر شعبہ قابل اعتماد افراد کے سپرد ہو۔
٭… جماعت اہلسنت میں تمام سنی مساجد کی رجسٹریشن ہو اور ان کے اہم امور نمٹانے کے لئے مشاورتی کونسل بنائی جائے۔
٭… جماعت اہلسنت کے زیر اہتمام مراکز میں اکابر علماء کا بورڈ بنایا جائے اور ہر اہم مسائل کا حل اس بورڈ میں طے کیا جائے۔ شہروں میں جماعت اہلسنت دارالافتاء قائم کرے جو اس بورڈ کے تحت ہوں۔
٭… کسی علمی مسئلے میں نزاع پر جماعت اہلسنت ’’علماء کی عدالت‘‘ قائم کرکے اس کا فیصلہ کرے اور متفقہ فیصلے تک کوئی محض اپنے موقف کو الگ سے مشتہر نہ کرے۔
٭… خواتین‘ طلبہ‘ فلاح و بہبود‘ معاشرتی مسائل کے لئے الگ شعبے قائم کئے جائیں۔
٭… تصنیف و تحقیق کا الگ شعبہ ہو۔ اہل قلم کے مسودات اس شعبے کے ارکان کی منظوری سے شائع ہوں۔ اہم کتب کی تصانیف خود جماعت کرے۔
٭… کرنٹ افیئرز کے حوالے سے مشاورت کا فوری اہتمام رکھا جائے۔ ان تجاویز سے اصل مقصود باہمی رابطہ بڑھانا اور ہر سنی کو تنظیم سے وابستہ کرنا ہے یوں انتشار و افتراق کی راہیں مسدود کی جاسکیں گی اور کسی اختلاف پر نزاع کی گنجائش کم رہے گی۔ جب کسی مرکز اور تنظیم سے تمام سنی وابستہ ہوں گے تو ان میں وحدت و جمعیت نمایاں ہوگی۔ میڈیا‘ اداروں اور جانے کہاں کہاں سنی موجود ہیں لیکن مرکز یا تنظیم سے وابستہ نہیں اس لئے ان کی صلاحیتوں اور قابلیت سے استفادہ بھی نہیں کیا جارہا اور مسلکی کام بھی پوری طرح نہیں ہورہا۔
سوال: معاشرے سے علماء پر اعتماد کیوں اٹھتا جارہا ہے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: اسی طرح کے سوال کا پہلے بھی جواب ایک انٹرویو میں بیان کرچکا ہوں انہی باتوں کی پھر تکرار سی ہوگی۔
پہلی بات تو یہ ذہن نشین کرلیجئے کہ علماء یعنی دین جاننے اور سمجھنے والوں کے خلاف ہر سطح پر پروپیگنڈہ بہت ہے چنانچہ عام لوگ زیادہ تر دیکھا دیکھی اور سُنا سُنی کر بغیر تحقیق کئے وہی پروپیگنڈہ دہراتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ علماء بھی معاشرے ہی کے افراد ہیں اور ہر طبقے میں بہت اچھے یا کم اچھے اور کچھ برے بھی ہوتے ہیں۔ اس لئے کچھ یعنی چند لوگوں کے نامناسب یا غلط قول و فعل کی وجہ سے پورے طبقے کو مطعون نہیں کیا جاسکتا۔ تیسری بات یہ کہ علماء ہی وہ طبقہ ہیں جو حکمرانوں‘ سیاست کاروں اور بہت سے شعبوں کے افراد کی غلط کاریوں کی راہ میں سب سے اہم اور بڑی رکاوٹ ہیں تو علماء کو ظاہر سی بات ہے کہ بے راہ روی یا غلط کاری کے خوگر کب برداشت کریں گے؟ وہ اپنی غلط کاریوں کو جاری رکھنے کے لئے علماء کے خلاف بولتے رہتے اور ان کا امیج بگاڑنے اور خراب کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور لوگوں کو ان سے متنفر یا دور کرنے کی جتن کرتے ہیں۔ معاشرے میں فیشن یا ماڈرن ازم کے نام پر جو کچھ غلط ہوتا ہے‘ اس پر اعتراض بھی علماء ہی کرتے ہیں۔ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ دین کے خلاف بات کرنا آسان نہیں‘ اس لئے وہ علماء کی کردار کشی کرتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ سچے عالم حق کے خلاف قول وفعل کا مظاہرہ بھی شرعی طور پر سنگین جرم ہے اور اپنے دین و ایمان کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علمائے حق پر اعتماد میں کمی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے البتہ علمائے حق کچھ کم ہی نظر آتے ہیں اور وہ لوگ جو بنام علماء و عام طور پر دیکھے جارہے ہیں ان کے احوال پر علمائے حق کو گمان نہیں کیا جاسکتا۔
علماء کہلانے والے وہ لوگ اپنے مرتبہ و منصب کے منافی قول و فعل کا مظاہرہ کرتے ہیں یاو ہ لوگ جو فی الواقع علماء نہیں مگر بنام علماء وہ اپنی ہر طرح کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ان کی وجہ سے علمائے حق کے بارے میں بھی بدگمانی کی جارہی ہے۔ اﷲ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔
سوال: مستقبل میں اسلام اور مغرب کے درمیان تصادم کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: علامہ اقبال مرحوم کاشعر یاد کیجئے
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شررار بولہبی
’’ستیزہ کار‘‘ کے معنی لڑنے جھگڑنے والا ہے۔ قرآن کریم نے واضح کردیا ہے کہ یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بنائو۔ ہمیں صاف طور پر بتادیا گیا ہے کہ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہیں۔ اس کے باوجود مسلمان سربراہوں اور مملکتوں نے فرامین خداوندی کی پابندی نہیں کی اور خود کو غیرت و حمیت والا ثابت نہیں کیا۔ آج بھی فکروشعور پر ابلیسی دھند گہری دکھائی دیتی ہے۔ تعیش کی آلائش اور دنیا کی حقیقتوں کو اوجھل کردیا ہے۔ وہ مسلمان جن کی فضیلت و عظمت علم و عمل سے عبارت تھی‘ وہ لہو و لعب میں آسودگی پاتے ہیں۔ محنت و ہمت کے خوگر اب نفسی خواہشوں اور مادی سہولتوں کے پیکر ہوگئے ہیں۔ ضرورت ہے ایمانی و روحانی انقلاب کی۔ اہل باطل نے اسلام اور مسلمانوں سے تصادم ہی کو اپنا وتیرہ بنارکھا ہے۔ مسلمانوں کو خواب غفلت کی نیند سے جاگنا نہیں چاہتے۔ اس دور کے اسلامیان عالم کو اعتقادی علمی اور عملی طور پر خود کو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا سچا وارث ثابت کرنا ہوگا۔ اب سے دو چار صدیاں پہلے مسلمانوں کا جو تعارف دنیا میں تھا‘ بدل دیا گیا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کا وہ رعب اور دبدبہ اب نظر نہیں آتا۔ معیشت ہو یا معاشرت‘ فرد ہو یا مملکت‘ ہر سطح پر اہل باطل جھلکتے ہیں۔ مسلمانوں کے پاس بظاہر کیا نہیں ہے؟ افرادی قوت‘ سی روٹ‘ معدنیات اور وسائل سبھی کچھ ہے لیکن ان کی ذہانت‘ دماغ اور عقلیں اہل باطل کے تصرف میں آگئی ہیں‘ نفس کو خدا کا مطیع نہ کیا جائے تو یہ بندے کو شیطان کا مطیع بنادیتا ہے۔ مسلمانوں کے پاس کمی ہے تو ایمانی غیرت و حمیت اور فکر آخرت کی ہے۔ مغرب جس روش پر چل نکلتا ہے‘ وہ اس کی تباہی کا راستہ ہے لیکن اس تباہی سے پہلے وہ ملت اسلامیہ کو تنہا کرنا چاہتے ہے۔ مسلم معاشرے کو آگہی اور بے داری سے وابستہ کرنا ہوگا۔ یوں مسلمانوں کا ایمانی و روحانی اور علمی و عملی انقلاب ہر باطل کو مغلوب کردے گا۔
سوال: کیا عوام دینی جماعتوں کی سیاست سے مایوس ہوچکے ہیں؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: دینی جماعتیں دو طرح کی ہیں۔ ایک وہ جو خالص دینی خدمات کے حوالے سے ہیں اور دوسری وہ جو مروجہ سیاست میں اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ مشغول ہیں اور آپ کا سوال سیاست میں مشغول انہی جماعتوں ہی کے حوالے سے ہے۔ واضح رہے کہ مروجہ سیاست اور کسی سیاسی وغیر سیاسی تنظیم سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ مسلک حق اہل حق اہلسنت و جماعت کی خالص دینی علمی خدمات سے شغف ہے اور دین و ملت کا خادم ہی رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کے اس سوال کے جواب میں عرض ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک ملک میں جتنی پارٹیاں نمودار ہوئی ہیں ان سبھی نے کسی نہ کسی طرح عوام کو مایوس ضرور کیا ہے اور یہاں ہر پارٹی صرف اقتدار کے حاصل کرنے میں مگن ہے اور اقتدار مل جائے تو اپنی ذات اور اپنی جماعت کو ہر فائدہ پہنچانے میں مگن ہوجاتی ہے۔ یہ پارٹیاں اگر ملک و قوم کی خدمت کا سچا جذبہ رکھتی ہیں تو انہوں نے مستقل بنیادوں پر کیا کام کئے ہیں؟ جو وژن کے سوا ٹی وی کے کتنے چینلز پرائیویٹ ہیں۔ اخبارات اور جرائد و رسائل کی خاصی تعداد ہے۔
صحافت کا لفظ اور اس کی تاریخ بھی آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں اور اس حوالے سے اب تو کتابیں بھی موجود ہیں ورنہ انسائیکلوپیڈیا دیکھ لیا جائے۔
وہ اخبار و جریدہ یا ٹی وی چینل جو حکومت کے زیر انتظام ہوتا ہے‘ وہ سرکاری پالیسی کے تحت کام کرتا ہے۔ حکومت میں انفارمیشن ڈپارٹمنٹ قائم ہے۔ وہ اخبارات و جرائد اور ٹی وی چینلز جو نجی شعبے میں ہیں‘ ان کو لائسنس یا پرمٹ بھی حکومت جاری کرتی ہے۔ ہمارے ملک میں حکومت کے سرکردہ افراد کے بیان نشر بھی ہوتے ہیں اور شائع بھی کئے جاتے ہیں۔ ان کے اقتباس بھی آپ کے سامنے پڑھوں تو آپ کو اندازہ ہوجائے کہ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے میڈیا کا سفر کس سمت میں ہورہا ہے۔ ہمارا ملک بلاشبہ اسلامی ملک شمار ہوتا ہے مگر مجھے بتایئے کہ میڈیا (ذرائع ابلاغ) کا مقصد کیا ہے؟
ہمارے ہاں کا کلچر یعنی ہماری ثقافت کیا ہے؟ تفریح کسے کہتے ہیں اس کی حدود کیا ہیں؟ آپ کو یاد ہوگا کہ بھارت کی سونیا گاندھی نے چند سال پہلے ایک بیان دیا تھا اس کے مطابق بتایئے کہ کیا درست سمت کا تعین کیا گیا ؟ اگر دین اسلام کے حوالے سے دیکھیں تو ہمارے میڈیا کا سفر درست سمت میں نظر نہیں آتا۔ایک مثال ہی سمجھنے اور جانچنے کے لئے کافی ہوگی۔
اپنے اخبارات دیکھئے۔ عاملوں کے اشتہار کتنی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ ان اشتہارات کی اشاعت صرف اسی لئے کی جاتی ہے کہ اخبارات کو آمدنی ہوتی ہے۔ اس آمدنی کے پیش نظر ان اشتہارات کو اخبار والے بخوشی قبول کرتے ہیں۔ میں کوئی تبصرہ نہیں کرتا‘ آپ ہی بتایئے کہ ان اشتہارات کی اشاعت ہونی چاہئے؟ چند ماہ پہلے برمنگھم میں مجھے حافظ سعید احمد صاحب مکی نے بتایا کہ وہاں سگریٹ کی تشہیر ممنوع قرار دے دی گئی ہے اور سگریٹ ساز کمپنیوں نے اپنے رخ پاکستان کی طرح کرلیا ہے وہاں دکانوں پر کم سن بچوں کو سگریٹ فروخت بھی نہیں کی جاتی۔ اب آپ ہی کہئے کہ یہاں سوائے کمرشل ازم کے ’’قبلہ‘‘ کیا ہے؟
نیم عریاںتصاویر کی اشاعت ‘ لڑکیوں کو ماڈلنگ کی زبردست پیشکش‘ مخرب اخلاق کہانیاں اور داستانیں کوئی ایک بات ہو تو کہوں۔ میرے ہی کتنے بیان اخباروں نے شائع نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ یہ ہماری پالیسی کے خلاف ہیں۔ یعنی جن سے اشتہارات ملتے ہیں ان کے خلاف کوئی بات شائع نہیں کی جاسکتی۔ خواہ اسلام کی مخالفت ہوتی رہے‘ پالیسی کے بہانے یہ عذر‘ یہ کمزوریاں ہی مسلمانوں کے دشمنوں کی محنت کا نتیجہ ہیں یعنی انہوں نے اتنا بے حس بنادیا ہے کہ اب (الا ماشاء اﷲ) یہاں دین ایمان اہم نہیں‘ دنیا اور مال اہم ہے۔ الامان والحفیظ
سوال: اسلامی تحریکوں کی ناکامی کا سبب کیا ہے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: ہر وہ تحریک و اخلاص سے صرف اعلائے کلمتہ اﷲ کے لئے ہو بفضلہ تعالیٰ وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے‘ خواہ کامیابی مرحلہ وار ہو لیکن بالاخر فتح حق ہی کی ہوتی ہے‘ راست اقدام نہ ہو‘ اخلاص میں کمی ہو یا مقصد میں ملاوٹ ہو تو ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔ اسلامی تحریکوں کی تاریخ دیکھئے تو واضح ہوگا کہ ان کی بنیاد کیا رہی اور قیادت و معاونت کا احوال کیا تھا۔ وطن عزیز پاکستان میں تحریک تحفظ ختم نبوت‘ تحریک نفاذ نظام مصطفیﷺ دو بڑی تحریکیں تھیں۔ تحریک ختم نبوت یہاں پہلی مرتبہ 1952-53ء میں بڑے جوش و جذبے سے شروع ہوئی‘ قیادت کرنے والے علماء قید کرلئے گئے اور ریکارڈ دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کتنے علماء نے معافی نامے پر دستخط کرکے رہائی حاصل کرلی۔ میرے والد گرامی مجدد مسلک اہلسنت خطیب اعظم حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمتہ اﷲ علیہ اس تحریک میں ضلع منٹگمری کے لئے میر کارواں تھے۔ انہوں نے معافی نامے پر دستخط نہیں کئے تو انہیں دس ماہ نظر بند رکھا گیا۔ میرے دو بڑے بھائی ایک ہفتے میں وفات پاگئے لیکن ابا جان علیہ الرحمہ نے حق پر استقامت کو متزلزل نہیں ہونے دیا۔ تحریک نفاذ نظام مصطفیﷺ جس صدق و خلوص سے شروع ہوئی تھی وہ باقی نہ رہا تو تحریک میں وہ شدت و حرارت نہ رہی۔اس تحریک کو شروع کرنے والوں میں سے کچھ نے ان لوگوں کو بھی اپنے ساتھ شریک کرلیا جو صدق و خلوص سے خالی تھے۔ ملاوٹ ہوئی تو بات بگڑ گئی۔ قیادت یا مقصد میں کہیں فرق آجائے تو تحریکیں دم توڑ دیتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ صدق و اخلاص کے ساتھ سچی قیادت اور سچائی پر استقامت ہی سے کامیابی ممکن ہوتی ہے اور سچوں کو تائید ایزدی حاصل ہوتی ہے۔
سوال: میڈیاپر آپ اپنی اردو اور انگلش تقریر کے ذریعے پوری دنیا میں پیغام عام کررہے ہیں۔ آپ سب سے پہلے یہ بتائیں کہ دعوت کے اس جدید اور ہمہ گیر طریقے کی طرف آپ کو کس چیز نے مائل کیا؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: شاید آپ کے علم میں نہیں کہ میں 1969ء سے ٹیلی ویژن پر ٹیلی کاسٹ کیا جارہا ہوں ’’پی ٹی وی‘‘ سے یہ سلسلہ شروع ہوا۔ اس دور ہی سے ریڈیو پاکستان سے بھی براڈ کاسٹ ہوتا رہا ہوں۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بہتات گزشتہ عشرے میں ہوئی ہے۔ اب تک یہاں کے ساتھ آٹھ چینلز پر ٹیلی کاسٹ کیا گیا ہوں اور جس قدر میرے پروگرام پیش کئے ہیں بحمدہ تعالیٰ انہیں بہت پسند کیاگیا ہے۔
’’میرے سرکارﷺ کے قدم پہنچے‘‘ کے عنوان سے تیس پروگرام ’’نبوت کا سفر‘‘ کے عنوان سے تیس پروگرام ’’سفر معراج‘‘ کے عنوان سے 19 پروگرام ’’واقعہ کربلا‘‘ کے عنوان سے گیارہ پروگرام اب تک کئی بار نشر کئے گئے ہیں۔ ’’درود شریف کی اہمیت‘‘ کے عنوان سے ایک گفتگو ناظرین کے اصرار پر کئی مرتبہ ٹیلی کاسٹ ہوئی ہے۔ کیو ٹی وی سے 1424ھ میں ’’یوم عرفہ‘‘ کی 9 گھنٹے کے دورانیہ کی مسلسل ٹرانسمیشن بھی دنیا بھر میں یادگار رہی۔ ’’قصص القرآن‘‘ کے عنوان سے بارہ پروگرام بھی بہت پسند کئے گئے۔ پی ٹی وی سے ٹیلی کاسٹ ہونے والے متعدد اہم پروگرامز کی ایک فہرست ہے۔ تقریبا دو ہزار پروگرام اب تک ٹی وی چینلز سے پیش کرچکا ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ میرے والد گرامی علیہ الرحمہ کی وجہ شہرت میں ان کا منفرد اور مثالی انداز خطابت نمایاں ہے۔ میں نے صرف ’’ایک شخض‘‘ کو سننے کے لئے جو ہجوم ان کی خطابت کے جلسوں میں دیکھا وہ اب تک کسی اور کے لئے میرے دیکھنے میں نہیں آیا۔ کانفرنسوں اور اولیاء اﷲ کے لئے مثالی اجتماع اپنے والد گرامی علیہ الرحمہ ہی کے جلسے میں دیکھا۔ اس دور میں ان کے ہر جلسے کے لئے اخبارات میں تشہیر بھی نہیں ہوتی تھی مگر ہجوم قابل دید ہوتا۔ ابھی وہ لوگ خاصی تعداد میں موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ وہ روزانہ کتنی مسافت پا پیادہ طے کرکے ان کے جلسوں میں شرکت کرتے تھے۔ شروع میں ٹیکنالوجی کی فراوانی اور ارزانی بھی اتنی نہیں تھی کہ ان کی تمام تقاریر کی ریکارڈنگ کی جاتی۔ کیسٹ ریکارڈر کی ابتداء کے بعد ان کی تقاریر کی ریکارڈنگ کا یہ منظر بھی دیکھا کہ اکثر سو سے زائد کیسٹ ریکارڈرز اسٹیج کے سامنے نظر آتے اور عشرہ محرم کے گھانچی پاڑہ کی محمدی وعظ کمیٹی کو تین بڑے کمرے ریکارڈنگ کو آنے والوں کے لئے مخصوص کرکے اہتمام کرناپڑتا۔ پھر ٹیلی فون سے بھی خطاب سننے کا اہتمام ہونے لگا۔ یہ سب اس لئے بتا رہا ہوں کہ عمدگی سے کہی گئی اچھی بات سننے کا شوق لوگوں میں کبھی کم نہیں ہوتا اور ’’ذرائع ابلاغ‘‘ (باتیں پہنچانے کے ذریعے) شاید اسی لئے بڑھ رہے ہیں کہ ’’ابلاغ‘‘ ایک اہم ضرورت ہے۔ وقت اور فاصلوں پر ممکنہ درست رہی اس مادی سائنس کی پیش رفت ہے۔ انسان نے گویا خود کو پر لگالئے ہیں۔ وہ ناشتہ مشرق میں کرتا ہے تو ظہرانہ مغرب میں پہنچ کر کرلیتا ہے۔ ٹیلیکس کی جگہ فیکس آیا‘ ٹیلی گرام کی جگہ ٹیلی فون نے لی اور اب موبائل فون مروج ہے۔ پہلے حاجیوں سے وہاں کی باتیں کس چاہ سے سنی جاتی تھیں اب گھر بیٹھے تمام مناظر بچشم خود دیکھ لئے جاتے ہیں۔ کتاب اور کمپیوٹر کے احوال دیکھئے۔ ایک ویب سائٹ میں کتنی کتابیں جمع کردی جاتی ہیں۔ اسپول سے کیسٹ پھر سی ڈی اور ڈی وی ڈی تک سفر کی رفتار دیکھئے۔ کیمرے کا اب تک کا سفر بھی کم تیز نہیں۔ تاریخ میں کتنے اہل علم کے نام نمایاں ہیں۔ اکثر کے نام تو زیادہ تک پہنچے مگر کام سے کم ہی واقف ہوئے۔ کتاب سے ناتا ہر دور میں زیادہ لوگوں کا نہیں رہا اور خواندگی کے تناسب کی کمی بیشی کے باوجود ہر تحریر بھی ہر کسی تک نہیں پہنچتی۔ پھر یہ بھی کہ جو لوگ پڑھ نہیں پاتے انہیں کیسے باور کرایا جائے؟ جلسوں میں گھر کا ہر فرد شریک نہیں ہوتا اور شرکت کرنے والا ہر شخص اپنے گھر کے افراد کو اپنی دید شنید نہیں بتاتا۔ ٹیلی ویژن اس لحاظ سے ایک ایسا ذریعہ ہے جو گھر کے تمام افراد تک باآسانی رسائی رکھتا ہے اس کے ذریعے گھر کے تمام افراد کو بیک وقت وہ بات پہنچ جاتی ہے جو فی الحال کسی اور ذریعے سے شاید نہیں پہنچ سکتی۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس ذریعے کی طرف مائل ہوا اور دوسری وجہ بالکل اصل اور اہم وجہ یہ بنی کہ ہمارے مخالفین نے اپنے فتوے صرف تحریروں اور تقریروں تک رکھے ہیں ان کا اپنا عمل بھی خود ان کے اپنے فتوئوں سے خالی ہی نظر آتا ہے۔ وہ اپنے بیش تر مفادات کی تکمیل میں حرام و ناجائز کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور ہر ذریعہ ’’بخوشی‘‘ اپناتے ہیں اور اپنی غلط بات بھی کہنے سے نہیں چوکتے۔ اگر ہم یہی کہتے رہتے کہ انہیں نہ سنو‘ نہ دیکھو تو یہ بات بھی سب تک نہ پہنچتی اور جو انہیں دیکھتے سنتے وہ حقائق سے ناواقفی یا صرف انہیں ہی سننے کی وجہ سے ان کی بات ہی کو صحیح جان لیتے اور گمراہ ہوجاتے۔ اس لئے بھی اس ذریعہ کو اپنایا تاکہ اس ذریعے سے حق اور صحیح بات پہنچائی جائے اور ابطال باطل کیا جائے۔ چنانچہ ٹیلی وژن کی چالیس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ واقعہ بھی ہوا کہ میں نے مخالفین کی کتابیں دکھا کر جواب پیش کیا اور پہلی مرتبہ ان آیات قرآنی کا صحیح ترجمہ و تفسیر بھی بیان کرنے کا مجھے موقع ملا جنہیں غلط ترجمہ و تفسیر سے پیش کیا جاتا رہا تھا۔ آپ شاید جاننا چاہیں گے کہ مخالفین کی کتابیں دکھانے کا تاریخی واقعہ کیا ہوا؟
کراچی میں دیوبندی مکتب فکر کے جناب احتشام الحق تھانوی خاصے مشہور تھے‘ ان کے بیٹے احترام الحق تھانوی اس سیاسی پارٹی سے وابستہ ہوئے جس کی سربراہ ایک عورت ہے۔ ان دنوں وہ سندھ کی صوبائی حکومت میں ’’مشیر‘‘ بھی تھے۔ ’’مذہبی مسائل‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام میں ان سے مزارات اور مزارات میں آرام فرما اولیائے کرام سے استمداد وغیرہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو تھانوی صاحب نے نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ گستاخانہ گفتگو کی جس سے بہت اشتعال ہوا۔ اہل سنت کے مطالبے پر اسی پروگرام کی دوسری نشست میں جواب کے لئے میرا انتخاب ہوا۔ جناب اشرف علی تھانوی کی کتابیں میں ساتھ لے گیا اور ان کتابوں سے اپنے موقف کی تائید میں عبارات پیش کیں۔ اس پروگرام کو بڑے اہتمام سے دیکھا سنا گیا اور بہت مفید اثرات و نتائج مرتب ہوئے۔ اس حوالے سے میری کتاب ’’مزارات و تبرکات اور ان کے فیوضات‘‘ میں تفصیل آپ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ بھی محفوظ ہے۔
اسی طرح آیات قرآنی و ما اہل بہ لغیر اﷲ اور انما انا بشر مثلکم کے صحیح ترجمہ و تفسیر کے حوالے سے بھی پہلی مرتبہ بہت واضح بیان کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ’’بے مثل بشر‘‘ کے عنوان سے پروگرام کی ریکارڈنگ بھی محفوظ ہے۔
اس مختصر گفتگو سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ تھانوی صاحب کا جواب اگر اسی میڈیا پر نہ ہوتا تو ان تمام لوگوں تک حقائق کیسے پہنچتے جو تھانوی صاحب کی بات سن چکے تھے۔
سوال: آپ اپنے خطابات کے مثبت اثرات کس حد تک محسوس کرتے ہیں؟ اور یہ کہ اس برقی دور میں دعوت کے لئے برقی ذرائع کا استعمال آپ کتنا ناگزیر سمجھتے ہیں؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: تحدیث نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ بحمدہ تعالیٰ اب تک اپنے ہر خطاب کے مثبت اثرات ہی دیکھے سنے ہیں اور اصلاح عقائد و اعمال کے حوالے سے بہت کامیابی ہوئی ہے۔ خطاب کے لئے سمتوں سے لوگ مسلسل تقاضا کرتے ہیں اور جس کسی جگہ ایک مرتبہ گیا ہوں پھر وہاں سے بار بار تقاضا ہوا ہے اور کچھ اتنی یلغار رہتی ہے کہ مجھے مہلت ہی نہیں ملتی ۔یقین مانئے کہ نیند بھی پوری نہیں کرپاتا۔ خطاب کا مجھے اتنا شوق نہیں تھا لیکن زیادہ وقت اسی کی نذر ہوا ہے اور سلسلہ جاری ہے۔ طبیعت کا زیادہ میلان مطالعہ و تحریر سے ہے اور اب اس کے لئے اسفار اور مشاغل کے کثرت میں بمشکل وقت نکال پاتا ہوں۔ لوگوں سے خطاب کے لئے معذرت کروں تو وہ اس کی اہمیت اور ضرورت کے کچھ ایسے دلائل خود مجھے سناتے ہیں کہ سنتا رہ جاتا ہوں۔ ٹیلی فون‘ خطوط اور ملاقاتوں میں لوگ جب مجھ سے میرے خطابات پر مثبت تبصرے اور تاثرات بیان کرتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے کہ حق کا فیضان میرے ذریعے عام ہورہا ہے۔ اﷲ کرے کہ یہ محنتیں میری بخشش کا سامان ہوں۔
آپ کے سوال کے دوسرے حصے کا کچھ جواب تو پہلے سوال کے تحت عرض کرچکا ہوں مزید یہ کہوں گا کہ دنیا کو اب ’’گلوبل ولیج‘‘ کہا جارہا ہے اور اس میں تیزی و تیز رفتاری ہی کا چلن ہے اور کچھ ایسی دوڑ لگی ہے کہ جو اس میں شامل نہیں ہورہا وہ خود کو پیچھے رکھ رہا ہے۔ اسکول کے بچے بھی اب ہندسوں کے میزان کے لئے کیل کو لیٹر استعمال کرتے ہیں‘ دنیا کی ہر ایجاد کی ضرورت بنایا جارہا ہے اور الیکٹرانک میڈیا نے خاصے طبقے کو اپنا اسیر کرلیا ہے‘ جانے کتنی چیزیں تھیں کہ اپنے وقت میں اہم تھیں مگر اب وہ فرسودہ شمار ہوتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی شاید یہی روایت ہے کہ پہلی چیزوں کو وہ کالعدم ٹھہرا دیتی ہے۔ اب کتابت کی بجائے کمپوزنگ ہوتی ہے۔ لیتھو اور بلاک پرنٹنگ کی بجائے اب کمپیوٹر سے بلاواسطہ کلر پرنٹنگ ہورہی ہے اور صرف کاغذ ہی پر نہیں ہورہی۔ ٹیلی فون کوئی وقت تھا کہ اس کا کنکشن حاصل کرنا ایک مہم سر کرنا تھا اب ہر ہاتھ میں موبائل فون ہے بلکہ اب تو ہینڈ فری فون بھی کانوں میں ان کے نظر آرہے ہیں۔ ایک ملک سے دوسرے ملک میں ٹیلی فونک خطاب بھی ہورہے ہیں۔ یہ فہرست طویل ہے۔ ایسے میں ’’دعوت‘‘ کے لئے ان جدید‘ آسان اور وافر ذرائع کا استعمال نہ کرنا ’’دعوت‘‘ ہی کو محدود کرنا قرار پائے گا۔ یہاں یہ بھی عرض کروں کہ دین و مذہب کے بارے میں کچھ لوگوں کا تاثر یہ رہا ہے کہ زندگی کے سفر میں دین و مذہب ہی جدید تقاضوں کا ساتھ نہیں دیتا۔ وہ لوگ ’’رجعت پسندی‘‘ کے لفظوں سے دین والوں کو ہدف طعن بناتے رہے ہیں۔ اس بارے میں ان کی دینی علمی کم فہمی ہی ان کا ماخذ رہی ہے۔ انہیں شاید یہ نہیں معلوم کہ جدت اور جدید تقاضوں کو سمجھنا اور ان کے نتائج سے آگہی ضروری ہے ورنہ ’’اندھی تقلید‘‘ کے لفظوں سے ان مادہ پرستوں پر زیادہ دراز کی جاسکتی ہے۔ دین و مذہب کی پابندی تو تہذیب ہی کے لئے ہے اور زندگی کے سفر کو صحیح سمت میں درست اور آسان رکھنے کے لئے ہے۔ قرآن نے واثمھما اکبر من نفعھما کے الفاظ بیان کرکے جو بات سمجھائی ہے اس پر توجہ دی جائے۔ ہر ایجاد کو ’’رحمت‘‘ قرار دینے والے اس کی ’’زحمت‘‘ پر بھی نظر رکھیں اور ہر دو کے تناسب کے حوالے سے بات کریں۔ ہر سہولت کو ضرورت نہیں بنایا جاسکتا اور ضرورت کے لئے ہر سہولت کو ٹھکرایا بھی نہیں جاتا۔ شرائط و قیود کو پیش نظر رکھ کر ہی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ’’دعوت‘‘ وہ فریضہ ہے جس کے لئے غفلت یا کوتاہی جرم ہی کے زمرے میں شمار ہوگی۔ اور یہ بھی عرض کروں کہ برطانیہ میں نبوت کے جھوٹے دعوے دار مرزا قادیانی کی ذریت نے ٹیلی ویژن کے چینل ’’اسلام‘‘ کے نام پر شروع کررکھے ہیں اس کے مقابل کسی ٹی وی چینل سے کوئی جوابی کارروائی نہیں ہورہی۔ شاید اس بہانے کچھ لوگوں کو برطانیہ کی ’’یاترا‘‘ کا شرف مل جاتا ہے۔ ان کانفرنسوں کی ’’باتصویر‘‘ روداد کسی قدر وہاں شائع بھی ہوتی ہے تو اردو اخبارات میں ہوتی ہے جبکہ قادیانی چینل وہاں کئی زبانوں میں اپنی تبلیغ و ترویج کے لئے ہر گھر تک پیہم کوشاں ہے۔ گزشتہ پانچ برس سے جوابی چینل کے شروع کرنے کے وعدے اور اعلان میں نے بھی سنے ہیں لیکن تاایں دم کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اسے غفلت کہا جائے یا کیا نام دیاجائے؟
موجودہ عہد میں دعوت کے کام کو بڑھانا اور پھیلانا ہے تو برقی ذرائع کے استعمال سے اجتناب نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان ذرائع کا صحیح استعمال ہی ان سے دعوت کا کام لینا ہے۔ یہاں یہ بھی عرض کروں کہ یہود و نصاریٰ کی بیشتر ایجادات ان کے مذہبی پروپیگنڈے اور مقاصد کے لئے ہیں ایسے میں مسلمانوں کی آگہی و رہنمائی اور غیروں کو دعوت پہنچانے کی ذمہ داری کچھ زیادہ ہوگئی ہے اگر اس کا احساس نہ کیا گیا تو برقی ذرائع کو استعمال کرکے یہ کام نہ کیا گیا تو اس کوتاہی کا وبال سنگین ہوسکتا ہے۔
سوال: تصویر کے ساتھ ٹیلی ویژن پر خطاب کرنے پر علمائ‘ دانش وران اور عوام کی طرف سے کس طرح کے ردعمل سامنے آئے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: اس کا مختصر اور فی الواقع صحیح جواب تو صرف اتنا ہے کہ علمائے کرام‘ مشائخ عظام‘ دانشوروں اور عوام سبھی نے ٹیلی وژن پر میرے خطابات کو بہت زیادہ سراہا اور اسے اہم ضرورت کہا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان سب نے دیکھ سن کر ہی سراہا۔ کسی ایک شخص کی طرف سے بھی کوئی منفی تاثر اب تک نہیں سنا‘ شاید یہ بھی وجہ ہو کہ میں نے خود ٹیل یویژن پر آنے کے لئے نہیں بلکہ حق بات لوگوں تک پہنچانے کے لئے ٹیلی ویژن کو ذریعہ بنایا اور اب تک کوئی ایسا پروگرام قبول نہیں کیا جس میں حق کی ترجمانی نہ کرسکوں اور جس قدر پروگرام کئے ہیں ان کے بارے میں پہلے ہی کچھ تفصیل بیان کرچکا ہوں۔
اس جواب کے ساتھ یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوںکہ پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں جاندار کی تصویر کی حرمت کے حوالے سے واضح شرعی تعلیمات میں نے بیان کیں اور نیت خیر کے باوجود اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتے ہوئے یہی کہا کہ اپنے اس فعل پر اﷲ تعالیٰ سے معافی چاہتا رہتا ہوں حالانکہ اسی پروگرام میں شامل دوسری شخصیت نے اسے بالکل جائز بلکہ ضروری قرار دیا۔ واضح رہے کہ ویڈیو کے حوالے سے ضرور کچھ جلسوں میں عوام نے استفسار کیا اور کچھ علماء نے اعتراض کیا لیکن ٹی وی پر خطاب کی سبھی نے خوب تعریف کی۔
سوال: کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ QTV سے جہاں لوگوں میں دینیات کی تحصیل کا خروش پیدا ہوا ہے وہیں ٹیلی وژن کا غیر معمولی فروغ ہورہا ہے جس سے بڑے پیمانے پر فحاشی کی بھی اشاعت ہورہی ہے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: آپ نے صرف QTV کا ذکر کیا ہے‘ شاید اس لئے کہ ابھی تک یہی ایک چینل صرف مذہبی پروگرام کے لئے ہے اور Q کا حرف ’’قرآن‘‘ کے لفظ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ بھی وجہ ہوسکتی ہے کہ بھارت میں یہی چینل دیکھا جارہا ہے۔
آپ کے سوال کے جواب میں یہی کہوں گا کہ اس چینل پر یقینا کچھ پروگرام ایسے پیش کئے جارہے ہیں کہ ان کے ذریعے دینیات سے واقفیت اور اس کی تحصیل کا شوق فزوں ہوا ہے۔  مگر میں تحفظات رکھتے ہوئے یہ بھی کہوں گا کہ کچھ باتیں ناروا بھی ہیں۔ نعت خوانی کے حوالے سے نامناسب انداز اور نادرست کلام اور نہایت متنازع کچھ افراد کی ناروا گفتگو بھی اس چینل پر پیش کی جارہی ہے لیکن علمائے اہلسنت نے پیغام حق پہنچایا ہے اور حقائق پیش کرکے باطل کا قلع قمع کیا ہے۔ اس خادم نے بھی کچھ محنت کی ہے۔ اسی QTV سے جانے کتنے ملکوں میں پہلی مرتبہ دینیات کے حوالے سے پروگرام پہنچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو غلط پروپیگنڈے کی وجہ سے گمراہ اور بدظن ہورہے تھے‘ یہ معلوم ہونے لگا ہے کہ دین صرف عقائد و عبادات ہی نہیں سکھاتا بلکہ دین ہی دنیا برتنے کا طریقہ و سلیقہ سکھاتا ہے اور دین کی صحیح و غلط تعبیر و تشریح میں فرق بھی انہیں نظر آنے لگا ہے‘ کیونکہ حق چھپانا اب اہل باطل کے لئے آسان نہیں۔
ٹی وی کو متعارف ہوئے چار پانچ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ شروع میں بہت سی تکنیکی سہولتیں اس کے لئے ارزاں و فرواں نہیں تھیں اور ہر علاقے کے لئے نہیں تھیں مگر اب تو موٹر کاروں میں اور جیبی سائز کے موبائل ٹی وی سیٹ بھی میسر ہیں اور پانچ سو چینلز ایک جگہ دیکھنے کو میسر ہیں۔ ٹی وی کے اس فروغ ہی نے پرائیویٹ سیکٹر کو چینلز کے لئے موقع فراہم کیا۔ یہ بھی واضح رہے کہ متعدد لوگوں نے مخصوص چینلز دیکھنے ہی کے لئے ٹی وی سیٹ اور کیبل یا ڈش انٹینا وغیرہ اپنے ہاں لگایا ہے۔ ٹی وی کا بہتر اور صحیح استعمال یہی ہوسکتا ہے کہ اسے حقائق سے آگاہی کا ذریعہ بنایا جائے اور عمدہ پیرائے میں صحیح پیغام اور معلومات اس کے ذریعہ پھیلائی جائیں۔
سوال: کتابی سلسلہ ’’نعت رنگ‘‘ کے صفحات پر آپ نے تنقید کی جو نئی طرح ڈالی ہے اس پر آپ کی جتنی تحسین و آفرین کی جائے کم ہے۔ مگر کیا آپ بتائیں گے کہ اس نئی راہ پر چلنے کی محرک کون سی چیز بنی؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: اگر پوری تفصیل بیان کروں تو بات واضح ہوگی تاہم کوشش کرتا ہوں کہ اختصار ہی میں مدعا واضح ہوجائے۔
گزشتہ دو دہائیوں میںنعت گوئی اور نعت خوانی کے حوالے سے جو فضا دیکھنے میں آئی اس میں جہاں خوش آئند اور خوش گوار باتیں ہوئیں وہیں کچھ باتیں نہایت ناگوار بھی رہیں۔ مسلک حق اہل سنت و جماعت کے اہل علم کو مخالفوں کے علاوہ خود ان کے اپنے ’’نادان دوستوں‘‘ کی نادانیوں نے کم پریشان نہیں کیا۔ علمائے حق اہلسنت کو اس حال تک پہنچادیا گیا کہ ان کی توانائیاں مدافعت کے لئے ہوکر رہ گئیں۔ ہمارے مخالفوں نے خود کو سنی ظاہر کرکے ہمارے سادہ لوح افراد اور کچھ اپنے ہی چیلوں کو ہمارے خلاف کچھ ایسی باتیں اور کام سکھائے جو وہ ان کے کہنے سننے میں آکر کرنے لگ گئے تھے۔ ایک طرف تو مخالفوں نے خود غلطیاں کروائیں اور دوسری طرف اپنی ہی سکھائی ہوئی انہی باتوں پر فتوے بھی داغے اور کیا کیا فتنے ڈھائے۔ صدیوں سے ہمارے اہل علم نے علم و عمل ہی سے شغف رکھا اور آج تک جس قدر بھی قابل ذکر علمی سرمایہ اور روحانی اثاثہ ہے وہ ہمارے اسلاف کی یادگار ہے۔ ہمارے مخالف ہماری علمی و عملی جدوجہد روکنا چاہتے تھے۔ مخافلوں کی اس چال اور سازش پر ہمارے اہل علم نے توجہ نہیں کی بلکہ وہ ان کے داغے ہوئے فتوئوں کے جواب اور ان کے ڈھائے ہوئے فتنوں سے دفاع میں مشغول ہوگئے۔ مخالفوں کی یہ چال اس لئے بھی تھی کہ ان کے اپنے کفر وضلال پر لوگوں کی توجہ نہ رہے اور ان کے جرم لوگوں کو یاد نہ رہیں۔
کفر والحاد اور زندقہ کے یہ مجرم خود کو آج دین و ملت کا ٹھیکے دار اور ذمے دار ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور ہم اہل حق کو یہ مشرک و بدعتی بنانے اور بتانے کا مذموم شغل اپنا روزینہ بنائے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان ظالموں نے دین دنیا ہر ایک میں دوزخی اور دوغلی پالیسی ہی اپنا شیوہ و شعار بنائی اور ہر سطح پر بے حیائی ڈھٹائی کا طرز عمل رکھا۔
نعت گوئی اور نعت خوانی پر تنقید کے بیان میں یہ باتیں اس لئے بتا رہا ہوں کہ ان مخالفوں نے اس باب میں بھی ظلم و ستم کی خوب مشق کی ہے۔ خود غلط شعر کہنے‘ پڑھوانے‘ چھاپنے اور پھر خود ان کے خلاف لکھنے بولنے کا شغف بھی انہیں بہت مرغوب ہے۔ اور صحیح عقائد اور صحیح اعمال کو غلط کہنا تو ان کا روزگار ہے۔ جانے کتنی نثری تحریریں بھی اسی طرح ان ہی کا شاخسانہ ہوں گی۔ ان ظالموں نے کس شعبے اورکس مرحلے میں اپنی اس روش کا دخل نہیں رکھا‘ عید میلاد النبیﷺ منانے کے یہ مخالفین‘ میلاد شریف کی ہر محفل میں بھی پہنچے ہوتے ہیں۔ ایصال ثواب کے لئے سوم دہم اور چہلم کے خلاف ان کے فتوے بھی جوں کے توں ہیں اور ان مواقع پر یہ خود نمایاں موجود ہوتے ہیں۔ نعت خوانی یا میلاد شریف کی محافل ان کے ہاں تو نہیں ہوسکتی تھیں سو ہماری محفلوں میں انہوں نے اپنی شرکت اور دخل اندازی ضرور کرلی اور نعت کے موضوع پر لکھی جانے والی تحریروں میں اور انتخاب نعت کے مجموعوں میں بھی انہوں نے اپنی ریشہ دوانی شروع کردی۔ علاوہ ازیں ان اہل قلم ادیبوں شاعروں کو (جو مذہبی اختلافات کے حقائق سے آگاہ نہیں) یہ لوگ حقائق سے باخبر ہونے نہیں دینا چاہتے اور خود ہمارے بعض ادیب و شاعر حضرات بھی صحیح اور پوری معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اظہار و بیان میں لغزش کرجاتے ہیں اور یہ بھی دیکھا کہ وہ ناواقفی یا کم واقفی کی وجہ سے اپنے معترض کے سامنے خاموش ہوجاتے ہیں۔ مخالفوں کی طرف سے اعتراض کی یلغار ہوتی رہی۔ ہمارے اہل علم اپنی تحریروں اور تقریروں میں جواب دیتے رہے۔ وہ جوابی تحریریں انہی رسائل و جرائد میں شائع نہ ہوں جہاں معترضہ تحریریں شائع ہوئیں تو ان معترضین اور ان رسائل و جرائد کے قارئین حقائق کیسے جانیں گے؟ اور اعتراض کیسے دور ہوں گے؟ بہت سے معترض اور کچھ ہمارے اہل قلم بھی ایسے ہیں جنہیں اختلافات کی نوعیت اور حقیقت سے آگاہی نہیں ہے۔ ایک المیہ یہ بھی رہا کہ بغیر دانائی و تحقیق کے اپنے طور پر جواب دینے والوں نے بھی تضحیک و تحقیر کا ماحول بنادیا۔
ہمارے اہل علم زیادہ تر ایسے ہیں جو رسائل و جرائد کے مطالعے سے کوئی دلچسپی ہی نہیں رکھتے اور ان کی اپنی ترجیحات بھی ہوتی ہیں۔ وہ رسائل و جرائد میں لکھنا غیر ضروری گردانتے ہیں۔ معترض کو آئینہ نہ دکھایا جائے تو اس کا اعتراض ہی لوگوں میں راہ پاجاتا ہے اور دھند رہے تو اجالا نہیں ہوپاتا۔ پھر حق پس پردہ ہی رہتا ہے اور ظلمات سے نور کی طرف لانا وہ ذمہ داری ہے جو اہل حق ہی کا حصہ ہے۔ کتابی سلسلہ ’’نعت رنگ‘‘ کا پہلا شمارہ میں نے دیکھا تو اسے اپنے موضوع پر دیگر جرائدو رسائل سے مختلف پایا۔ اس کے تین شماروں تک میں اس کے تسلسل اور اس میں شامل متن کا جائزہ لیتا رہا۔ میرے مشاغل کی کثرت مجھے اجازت نہیں دیتی تھی کہ میں اپنے لئے کام کا اضافہ کروں لیکن نعت رنگ کے مدیر و مرتب محترم سید صبیح رحمانی کے صدق و اخلاص اور نعت شریف سے اپنی قلبی وابستگی پر اس خدمت کے لئے بفضلہ تعالیٰ مجھے ہمت ہوئی اور اﷲ کریم کے فضل و کرم اور نبی پاکﷺ کی رحمت و عنایت سے میں نے کامیابی پائی۔ لوگ میرے معلومات و مشاغل کی کثرت میں ان تنقیدی خطوط کی طوالت پر حیرت کرتے ہیں یقین مانئے یہ میرے کریم و رحیم نبی پاکﷺ کا فیضان ہی ہے‘ نعت شریف ہی کا مصرع یاد آرہا ہے۔
یہ تو کرم ہے ان کا ورنہ مجھ میں ایسی بات نہیں ہے
سوال: اہل علم نے ادب و تحقیق کے لئے تنقید کو زندگی کے لئے سانس کی طرح ناگزیر قرار دیا ہے۔ کیا مذہبی ادب وتحقیق کے لئے بھی آپ تنقید کو اتنی ہی ضروری شے سمجھتے ہیں یا مذہبی ادب اس حکم کلی سے مستثنیٰ ہے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: سوال میں ’’حکم کلی‘‘ کے الفاظ محل نظر ہیں۔ یوں کہہ لیجئے کہ ’’کیا اس حکم سے کلی مستثنیٰ‘ ہے؟‘‘ بات یہ ہے کہ تنقید کا لفظ سنتے ہی بالعموم یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ’’کوئی منفی رائے‘‘ ہوگی۔ لوگ یا تو تنقید کے صحیح معنی و مفہوم سے آگاہ نہیں ہیں یا انہیں تنقید کے نام پر وہ کچھ پڑھنے سننے کو ملا ہے کہ وہ تنقید کو ناپسند کرتے ہیں ’’ادب‘‘ اور ’’تحقیق‘‘ کی بات یہاں نہیں کرتا البتہ ’’تنقید‘‘ کے معنی اپنی دانست کے مطابق ضرور عرض کروں گا کہ ’’کسی کلام یا بیان کی خوبیاں اور خامیاں ظاہر کرنا‘‘ تنقید کہلاتا ہے۔ ایک لفظ میں اسے ’’پرکھ‘‘ یا ’’تمیز‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ غیر جانبدارانہ رائے کو بھی تنقید کہتے ہیں۔ آپ نے ادب و تحقیق کی سوال میں تقسیم کی ہے اور مذہبی ادب و تحقیق کو الگ بیان کیا ہے۔ اس وقت اس تقسیم پر بھی گفتگو نہیں کرتا صرف پوچھی گئی بات ہی کا جواب پیش کرتا ہوں۔
قرآن کریم کلام اﷲ تعالیٰ ہے۔ اس کے ترجمہ و تفسیر کے لئے بھی ہمارے ہاں شرائط و قواعد ہیں۔ احادیث کے حوالے سے ہمارے ہاں اسماء الرجال کا وہ علم و فن ہے جو کسی اور کے ہاں نہیں ’’لغت‘‘ کے حوالے سے بات کروں تو بہت تفصیل ہوجائے گی۔ جسے آپ نے مذہبی ادب و تحقیق کہا ہے اس بارے میں اتنا ہی کہہ دینا کافی ہوگا کہ وہ تنقید کے بغیر ہے ہی نہیں کیونکہ اس میں بنیاد‘ ایمانیات ہے‘‘ عقائد ہیں اور اس باب میں تنقید نہ ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ یوں بھی کہوں کہ ہر وہ بات یا کلام جس کے لئے اصول و ضوابط اور شرائط و قواعد ہیں‘ وہ تنقید سے خالی کیسے ہوسکتی ہے؟ کہنے لکھنے والے نے ان اصول و ضوابط اور شرائط و قواعد کا کتنا خیال رکھا اور کس طرح رکھا اسی کے بیان کو تنقید کہا جائے گا۔ جس طرح سانس‘ زندگی کے لئے ضروری ہے۔ اسی طرح سمجھ لیجئے کہ مذہب سے وابستگی ثابت کرنے کے لئے ایمان اور صحت عقائد لازمی ہے۔ ہمیں ثواب و عذاب کا یقین بلاشبہ مذہب ہی سے ہے اور مجھے بتایا جائے کہ یہ مدح وذم کیوں ہوتی ہے؟
قرآن کریم کی کتنی ہی آیات ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ حسن و قبح کی پرکھ اور تمیز کتنی اہم ہے۔ میں نے مختصرا اتنا کہا ہے۔ بہت تفصیل بھی کہہ سکتا ہوں۔ خلاصہ یہ کہ وہ ادب و تحقیق جس کے لئے تنقید کو زندگی کے لئے سانس کی طرح ناگزیر کہا گیا ہے‘ اس میں تنقید کی کمی بھی ہو تو دین اور آخرت کا مسئلہ نہ ہوگا لیکن دینی و مذہبی ادب و تحقیق میں تنقید یعنی خوبی و خامی اور صحیح و غلط کی تمیز نہ ہوئی تو ایمان و نجات کے لئے مسئلہ ہوجائے گا۔
اس جواب کے بعد یہاں ایک بات مزید کہنے کی اجازت چاہتاہوں وہ یہ کہ جو لوگ نعت شریف یا مذہبی موضوعات پر تحریروں کو تنقید سے کلی مستثنیٰ سمجھتے ہیں وہ جان لیںکہ انسان ‘ مرکب عن الخطاء ہے‘ خالی از خطاب نہیں (نبیوں کی بات نہیں کررہا) کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ علم کے باوجود توجہ نہیں ہوتی۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ پیرایہ بیان ناموزوں ہوگیا‘ یا یہ کہ لفظوں کی نشست و ترکیب صحیح نہ رکھنے میں مفہوم بدل گیا۔ ایسی کئی صورتیں ہوجاتی ہیں۔ تنقید نہ ہو تو خوبی یا خامی کی تمیز کیسے ہوگی؟
سوال: مذہبی ادب میں تنقید کی روایت کتنی قدیم ہے؟ اور ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ موجودہ مذہبی تنقید کی کیا صورتحال ہے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: جی تو چاہتا ہوں کہ آپ سے پوچھوں کہ آپ جسے مذہبی ادب فرما رہے ہیں وہ خود کتنا قدیم ہے؟ تاہم عرض یہ ہے کہ کلام اﷲ تعالیٰ‘ قرآن مجید کے نزول سے اگر ہم بات کریں تو قرآن کریم سے ہمیں اس بارے میں بنیادی تعلیم ملتی ہے پھر ارشادات رسول کریمﷺ ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ اصحاب نبوی رضوان اﷲ علیہم اجمعین کا میرے نبی پاکﷺ کے حضور گفتگو کرنا اور نبی پاکﷺ کا انہیں بہتر الفاظ و انداز تعلیم فرمانا‘ اسی طرح اصحاب کی عمدہ باتوں پر ان کی تحسین فرمانا کتب احادیث اور کتب سیرت میں ہمیں ملتا ہے۔
مثالیں بیان کروں تو حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ اور حضرت زینب رضی اﷲ عنہا نے حضرت صفیہ رضی اﷲ عنہا کو کہا کہ ہم ازواج رسول ہیں اور ان میں افضل ہیں اور نبی پاکﷺ کے قرابت دار بھی ہیں لیکن تم تو یہود یہ ہو۔ تو نبی پاکﷺ نے حضرت صفیہ کو کیا خوب جواب تعلیم فرمایا۔ الاستعیاب‘ الاصابہ اور طبقات ابن سعد میں وہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ کے قارئین کی معلومات کے لئے عرض کرتا ہوں۔ نبی کریمﷺ نے انہیں فرمایا کہ تم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ میرے باپ حضرت ہارون‘ میرے چچا حضرت موسیٰ اور میرے شوہر حضرت محمدﷺ ہیں‘‘ حضرت صفیہ کے والد حی بن اخطب جس قبیلہ کے سردار تھے‘ وہ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے تھا۔
ایک واقعہ اس طرح ہے کہ حضرت اسماء بنت زید رضی اﷲ عنہما کو مسلمان خواتین نے اپنا ترجمان بنا کر بارگاہ رسالت مآبﷺمیں بھیجا۔ اس محترم خاتون نے جب اپنی بات کی تو رسول کریمﷺ نے اپنا رخ انور اپنے اصحاب کی طرف کرکے فرمایا کہ کیا تم اپنے دین کے متعلق اس عورت سے بہتر انداز میں کسی کو سوال کرتے سنا ہے؟ یہ واقعہ بھی علامہ  ابن عبدالبر کی کتاب الاستیعاب میں ہے۔
اسی طرح کے متعدد واقعات ہیں۔ تنقید کے حوالے سے اشعار کی اصلاح کا ذکر بھی ہے کہ بہتر لفظ تعلیم فرمایا۔ یوں مختصرا یہ بات واضح ہوگئی کہ تنقید کی روایت کتنی قدیم ہے۔ آپ نے موجودہ مذہبی تنقید کی صورتحال بھی دریافت فرمائی ہے۔
کیا عرض کروں! موجودہ دور میں وہ لوگ جنہیں ’’مذہبی‘‘ کہا جاتا ہے الا ماشاء اﷲ عزوجل مجھے تو مذہب کے ساتھ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ واضح رہے کہ میں نے یہ بات سب کے لئے نہیں کہی ہے۔ بنام علماء و مشائخ جانے کہاں کہاں کیا کچھ نہیں ہورہا۔ سیاست کاروں نے‘ شوبز نے اور دنیا کی نیرنگیوں نے ’’مذہبی‘‘ طبقے کے بہت سے افراد کو بھی ان آلودگیوں میں ملوث کردیا ہے جن آلودگیوں کو معاشرے سے دور کرنا اس مذہبی طبقے کی منصبی ذمہ داری تھی۔ یہ بات تمام مسالک اور مکاتب فکر کے حوالے سے کہہ رہا ہوں۔ الحق مر (سچ کڑوا ہوتا ہے) سچی بات تو یہ ہے کہ علم و تقویٰ کی پاسداری اب کم ہی نظر آتی ہے اور جو سچے اور اچھے ہیں انہی کے دم قدم سے بات بنی ہوئی ہے۔ آپ کسی شخصیت کی تحریر و تقریر وغیرہ پر ذرا تنقید کیجئے اور تماشا دیکھئے۔ مجھے شبہ ہے کہ آپ کو سخت اور نامناسب سلوک کا مستحق ٹھہرایا جائے گا۔ جانے کیوں ایسا بھی ہے کہ شریعت سے زیادہ شخصیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ موجودہ مذہبی تنقید میں یہ بھی ہورہا ہے کہ لہجہ و انداز اور الفاظ کا برتائو کچھ لوگوں کے ہاں نامناسب ہے۔ دلائل وبراہین کی زبان میں مناسب انداز و تحمل کی بجائے ہفوات‘ ذاتیات اور لغویات کا چلن کچھ زیادہ ہے۔ کورٹ میں وکلاء کو ایک دوسرے کے مقابل خوش اسلوبی سے دلائل بیان کرتے اور ایک دوسرے کا رد کرتے دیکھا جاتا ہے مگر وہ اس طرح باہم الجھ نہیں پڑتے جس طرح اسمبلی کے ارکان پارلیمنٹ میں یا کچھ مذہبی افراد خانقاہ و درس گاہ میں ’’حسن کلام‘‘ کرتے دیکھے جاتے ہیں‘ دھمکیاں دی جانے لگتی ہیں‘ پمفلٹس اور پوسٹرز ایک دوسرے کے خلاف شائع ہونے لگتے ہیں۔ باہمی مقاطعہ ہی نہیں ہوجاتا بلکہ آبرو تک پامال کی جاتی ہے۔ میری طرح ہر کوئی دوسروں کے لئے یہ رونا روتا ہے مگر اپنی ذات کو شمار نہیں کرتا۔ اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم الخ … قرآنی آیت کا کوئی بھی روادار نہیں رہا۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ ایسے لوگ اب بھی ہیں جو صدق و اخلاص سے سرگرم عمل ہیں اور انہیں اپنی ذات اپنی انا‘ اپنے مفاد اور اپنی عزت سے زیادہ حق و صداقت اور شریعت و سنت کا پاس رہتا ہے۔ وہ احقاق حق اور ابطال باطل ہی کے لئے خود کو مشغول و مصروف رکھے ہوئے ہیں اور کسی ملامت کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ اﷲ کریم ہم سب کو ہدایت اور صدق و اخلاص سے نوازے۔ آمین
سوال: بیس ویں صدی عیسوی میں شرعی علوم سے بے بہرہ افراد نے شریعت کے باب میں اپنے موہوم خیالات پیش کرنا شروع کئے‘ یہ روایت اس وقت اکیسویں صدی میں اپنے شباب پر ہے۔ تنقید کے نام پر اس جاہلانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویئے کے امت پر کیا اثرات مرتب ہوئے اور ہورہے ہیں اور ان مفسد اثرات کے ازالے کی حکیمانہ دعوتی تدبیر کیا ہے؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: میرے محترم! یہ بات بیسویں صدی ہی میں نہیں اس سے پہلے بھی نظر آتی رہی ہے۔ فرعون اور نمرود نے خدائی کے دعوے کیوں کردیئے تھے؟ لوگوں کی جہالت ہی ایسے دعوے داروں کو راہ دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں دینیات سے آگاہی کا جذبہ اور چلن حضرت اورنگزیب عالمگیر علیہ الرحمہ کے بعد ختم کرنے کی سازشیں کچھ اس طرح ہوئیں کہ لوگوں کو ان سازشوں کا احساس بھی نہیں ہوا۔ برعظیم کے مسلمانوں نے انگریزی ہی نہیں سیکھی‘ انگریزیت بھی سیکھ لی۔ اپنے نظریات اور اقدار کو مٹتادیکھ کر خود مسلمان بھی برانگیختہ نہیں ہوئے۔ دین داروں نے آواز حق اٹھائی تو انہیں طرح طرح کے الزام دیئے گئی۔ مغربیت اور مادر پدر آزادی کی راہ میں آج بھی سب سے بڑی رکاوٹ دین داروں ہی کو سمجھا جاتا ہے۔ غلط پروپیگنڈا مسلسل ہو تو کچھ لوگ ضرور متاثر ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کو سازشی طور پر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ پڑھے لکھے اور قابل وہی شمار ہوتے ہیں جو ڈاکٹر‘ انجینئر اور پی ایچ ڈی ہوتے ہیں اورمعاشی سہولتیں انہیں لوگوں کا حصہ ہوتی ہیں۔ دین والے تو بیک ورڈ اور رجعت پسند ہیں۔ دیکھا دیکھی اور سنتے سنتے جانے کتنے یہی بولی بولنے لگے ’’علم‘‘ کی تقسیم اور طریقہ تعلیم کی تبدیلی نے ماحول بدل دیا اور سب قبول کرتے چلے گئے۔ علمائے کرام نے اپنی درس گاہوں کو ایک مختصر نصاب کی روایتی تعلیم تک محدود کرلیا اور ان میں سے اکثر نے اپنے بچوں کو کالج یونیورسٹی سے آشنا تو کردیا لیکن اپنا ورثہ انہیں بکمال منتقل نہیں کیا اور یوں جانے کتنی خانقاہیں اور درس گاہیں اپنی آب و تاب برقرار نہ رکھ سکیں۔ آگاہی کو کوئی در بند نہیں ہونا چاہئے لیکن علم کے ساتھ حکمت کا ذکر ہے۔ آگاہی اور دانائی دونوں لازم و ملزوم رہیں۔ تعلیم کسی قدر رہی مگر تربیت نہ ہوئی۔ علم نافع کے ساتھ فہم واقع ہی سینے کو سمندر کرتی ہے۔ لوگ ماحول سے متاثر ہونے لگے مگر ماحول کو متاثر کرنے والے کم ہوتے گئے۔ نتیجے میں دینیات سے بے بہرہ لوگوں نے اپنے موہوم خیالات کو رواج دینے کی سازش کی۔ معاشرے میں جہالت نہ ہوتی تو یہ لوگ کبھی پنپ نہ پاتے ’’غیروں‘‘ نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔ آج اس کے شدید اثرات ہمارے سامنے ہیں۔ یہ اثرات ایمانی کمزوری‘ بے راہ روی‘ بدعملی‘ اخلاقی بگاڑ اور اقدار کی پامالی کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ خوشی ہے کہ اس بات کا احساس ہوگیا ہے۔ مرض معلوم ہوجائے تو علاج آسان ہوجاتا ہے۔ ان مفسد اثرات کے ازالے کے لئے ضروری ہے کہ ہر مسلمان اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ صحیح اور ضروری تعلیم عام ہو۔ مساجد کے ائمہ و خطباء اور مبلغین و مقررین تعلیم یافتہ ہوں۔ ان کی باقاعدہ تربیت بھی کی جائے تاکہ وہ نمازیوں‘ مقتدیوں اور سامعین کی صحیح رہنمائی کرسکیں اور مثبت اثرات مرتب کرسکیں۔ پاکستان میں جماعت اہلسنت مرکزی نمائندہ تنظیم ہے۔ وہ اس کام کو منظم طور پر کرسکتی ہے ’’حکیمانہ دعوتی تدبیر‘‘ میری دانست میں فوری طور پر یہی ہے کہ جن ذرائع اور جس شدومد سے مسلسل غلط پروپیگنڈا ہورہا ہے اسی اہتمام اور انہی ذرائع سے حقائق نہایت عمدہ پیرائے میں تسلسل سے پیش کئے جائیں۔ پردے اٹھا دیئے جائیں تو اجالا روکا نہیں جاسکتا اور حقیقت خود کو منوا کر رہتی ہے۔ علم اور کردار کے حوالے سے جو کمزوریاں ہیں وہ دور نہ کی گئیں تو کسی مثبت نتیجے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
آج معاشرے میں دین و ایمان کی وہ فی الواقع اہمیت نہیں رہی جو ہونی چاہئے۔ ہمیں اپنی مساجد و مدارس کو پھر ویسا بنانا ہوگا کہ لوگ ان سے پوری وابستگی پسند کریں۔ مساجد و مدارس معاشرے کی دینی علمی اخلاقی رہنمائی اور معاونت کے مراکز ہوجائیں تو انشاء اﷲ ہر ایک کی زندگی میں شریعت و سنت ہی کی عمل داری ہوگی پھر موہوم اور مذموم خیالات پیش کرنے کی جرات ہی کم ہوگی اور کوئی جسارت کرے گا تو پنپ نہیں سکے گا۔
سوال: آج یہ وسیع و عریض دنیا‘ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ایک چھوٹے گائوں کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ آپ اپنی بین الاقوامی دعوتی تجربات کی روشنی میں بتائیں کہ اس ماحول میں نئی نسل کو دعوت و تبلیغ کے لئے کس قسم کی تیاریاں کرنی چاہئیں اور انہیں اپنی سوچ و فکر اور کردار وعمل کو کس سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
علامہ اوکاڑوی صاحب: آپ کے اس سوال کے جواب میں پہلے تو یہ کہوں گا کہ انسان کو باور کرایا جائے کہ یہ ساری کائنات اس کے لئے ہے۔ وہ ان سب کے لئے نہیں ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ ٹیکنالوجی سے متاثر اور اس کا اسیر ہونے والا انسان آج خود اپنی پہچان نہیں رکھتا۔ وہ دیکھئے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانی عقل کی کرشمہ کاری ہے۔ اسے خالق عقل رب تعالیٰ کی معرفت کی طرف راغب کرنے کے لئے سائنسی ایجادات اور کرشماتی ٹیکنالوجی ہے کے ذریعے حقائق باور کروائے جائیں۔امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ’’ایئر اینڈ اسپیس میوزیم‘‘ کو دیکھ کر وہاں کی جارج میسن یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ کے سامنے مجھے دینی حقائق سمجھانے میں بہت آسانی ہوئی۔ جغرافیہ کی مقدور بھی معلومات کی وجہ سے سمت قبلہ اور اختلاف مطالع اور رویت ہلال پر بات کرسکا۔ اپنے تمام تجربات بیان کروں تو بات طویل ہوجائے گی۔ ان تجربات کی روشنی میں تیاریوں کے لئے بات کرتا ہوں۔
٭ نئی نسل کو اپنی مادری زبان کے علاوہ عربی اور انگریزی زبان اتنی ضرور سیکھنی چاہئے کہ مطالعہ و گفتگو ہوسکے۔
٭ اپنے اسلاف قابل ذکر اسلامی اسکالرز کے علمی تحقیقی کارہائے نمایاں کی معلومات ہونی چاہئیں
٭ دینی حقائق اور اسلامی تعلیمات کو عقلی دلائل کے ساتھ بھی سمجھانے کی اہلیت پیدا کرنی چاہئے۔
٭ تقابل ادیان کے حوالے سے ضروری معلومات ہونی چاہئے۔
٭ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اور ایجادات سے آگہی رکھنی چاہئے۔ مگر ان سب سے پہلے اسلامی اعتقادات اور حقانیت اسلام کی شرح صدر تک یقینی آگہی اور ان پر شدید پختگی ضروری ہے۔ اور میرے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ داعی و مبلغ کو کسی اﷲ والے کا فیضان تربیت اور روحانی توجہ حاصل ہو کہ اس کے بغیر اثر پذیری نہیں ہوتی۔
کردار و عمل اور سوچ وفکر کے حوالے سے عرض کروں کہ ضبط نفس اور صدق و اخلاص از بس لازمی ہیں اور مطالعہ و تحقیق سے شغف مسلسل رہے۔ ہمارے علمائے ربانی صوفیہ کرام ہمارے لئے فکری و علمی بہترین نمونہ ہیں کہ وہ ایمان و تقویٰ اور شریعت وسنت پر استقامت کے پیکر جمیل تھے۔ دل نواز سخن‘ دل گداز محبت اور عمل پیہم سے انہوں نے انقلابی کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ ان کی سیرت و سوانح کا دلچسپی سے مطالعہ بھی اثر کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اب گلوبل ولیج کہلانے والی اس دنیا میں ٹیکنالوجی کی بہتات نے انسان کو وہ راحت و تسکین نہیں پہنچائی جس کے لئے وہ سرگرداں ہے۔ یہ آسودگی اور طمانیت ایمان و روحانیت ہی کے دامن میں ہے اور ایمان و روحانیت کی یہ دنیا محض کسی پوشاک یا کچھ رسوم کا نام نہیں۔ یہ تو قلب و ذہن کی تہذیب و تطہیر کرنے اور للہیت کا پیکر بن جانے کا نام ہے اور بحمدہ تعالیٰ ایسے لوگوںسے دنیا خالی نہیں۔
سوال: آج اسلامی دعوت کو مغرب سے کتنا خطرہ ہے؟ خصوصا 11 ستمبر کے حادثہ کے بعد اس پر کیا اثر مرتب ہوا؟
علامہ اوکاڑوی صاحب: میرا خیال ہے کہ اسلامی دعوت کو مغرب سے کوئی خطرہ نہیں البتہ مسلم معاشرے کو ضرور خطرہ ہے کیونکہ آسائشوں میں مسلمانوں کے جوہر نہیں کھلتے۔ لفظ مغرب کے حوالے سے ایک جملہ پہلے بھی کہیں لکھا تھا۔ آپ کے قارئین کے لئے پھر کہتا ہوں ’’سورج روزانہ مغرب میں غروب ہوکر یہ پیغام دیتا ہے کہ ’’مغرب‘‘ کی طرف جانے والو ڈوب جائوگے‘‘ مجھے وہ حدیث شریف بھی یاد آرہی ہے جو بخاری شریف‘ کتاب المغازی میں ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا مجھے اپنی امت سے شرک کا خوف نہیں مگر اس کا خدشہ ہے کہ میری امت دنیا کو پسند کرنے لگے گی۔ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی مگر آپ کسی کو دنیا کی کسی چیز سے روک کر دیکھئے‘ اور پھر سنئے کہ کیسے کیسے جواب ملتے ہیں۔ مغرب کی ظاہری چمک دمک نے خود مسلمان کہلانے والے جانے کتنوں کو دین اور تقویٰ سے دور کیا ہے۔ رہے ’’غیر‘‘ تو وہ گیارہ ستمبر کے حادثے کے بعد اس غلط پروپیگنڈے کے زیر اثر ہیں جو سازش کے تحت سامراجی قوتیں کررہی ہیں مگر ’’الانسان حریص علی مامنع‘‘ (انسان اس کی حرص کرتا ہے جس سے اس کو منع کیا جائے‘‘ غیروں کا یہ سازشی غلط پروپیگنڈا ہی اس کے اپنوں کو حقیقت جاننے کی طرف مائل کرے گا اور ایسا ہورہا ہے۔
نائن الیون کا سانحہ تو عالم اسلام کے لئے (ویک اپ کال) Wake up call صدائے بیداری تھی لیکن مجھے اظہار ملال کے سوا چارہ نہیں کہ سانحہ پر توبہ کی بجائے ناچ گانے ہی کی محفلیں سجائی گئیں۔ آج مسلمان رحماء بینہم اور اشداء علی الکفار کی بجائے اپنوں سے معاندانہ اور دشمنوں سے دوستانہ رویہ اپنائے نظر آتا ہے۔ ہرچند کہ سبھی کا یہ حال نہیں تاہم جس قدر بھی ہے قابل افسوس ہے۔ گیارہ ستمبرکے حادثہ سے فوری طور پر یہ نقصان پہنچا کہ وہ مغرب جہاں مسلمان مقیم و مسافر آسانی اور آزادی سے گھومتا پھرتا رہتا اور اپنی عبادات ادا کرتا تھا۔ اب اس کے لئے وہ آسانی اور آزادی نہیں رہی۔ ہر مسلمان کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اوراس کے بارے میں رائے منفی ہوگئی۔ باشرع لباس و انداز میں حضرات  وخواتین کا سرعام نکلنا وہاں خاصی حد تک غیر محفوظ ہوگیا۔ کہیں کہیں اس شدت میں کچھ کمی ہوئی ہے لیکن اب وہاں اسلامی دعوت دینا خود کو مشکلات میں ڈالنا سمجھا جاتا ہے اور اس سانحہ کے بعد دنیا بھر میں داعیوں اور مبلغوں کو دشواریاں ہیں۔ اکثر وبیشتر صرف یہی واضح کرنے میں مشغول ہیں کہ ہم امن پسند ہیں اور دہشت گردی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ یعنی انہیں اپنا تعارف اور تعریف منوانے کی ضرورت پڑ گئی۔ بلاشبہ اسلام اور مسلمان سلامتی اور امن ہی سے عبارت ہیں مگر مسلمان کہلانے والوں میں ’’اسلام‘‘ ان کا دین عملا نظر آنا چاہئے اور مسلمانوں کو اپنے مسلمان ہونے کا ہر طرح مسلسل عملی مظاہرہ کرنا چاہئے۔ جہاد کی بات کرنے میں جھجک نہیں ہونی چاہئے بلکہ جہاد کے خلاف غلط پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنا چاہئے۔
سانحے رونما ہوتے ہیں تو خوابیدہ قوتیں بیدار اور غفلتیں دور ہوتی ہیں اور صحیح سمت میں قوت عمل تیز ہوتی ہے لیکن ملت اسلامیہ کو سچی اور مخلص قیادت شاید میسر نہیں اور ذہن سازی کرنے والی تبلیغ نہیں ہورہی۔ اس سانحے کے بعد اسلامی دعوت کا کام زیادہ اسقام و معائب دور کرکے صحیح اورموثر انداز اپنانے چاہئے تھے مگر لگتا ہے کہ اس سانحے سے بے داری نہیں لوگوں میں بے زاری آئی ہے۔ وہ جو کہا جاتا ہے کہ ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔ غیروں کا تشدد اور ظلم خود ان کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور انشاء اﷲ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر سازش بے نقاب اور ناکام ہوگی
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے