آفتاب ولایت پیر طریقت حضرت علامہ حافظ قاری محمد مصلح الدین صدیقی قادری رضوی علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, June 2010, حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری, شخصیات

تحریک پاکستان میں علماء و مشائخ اور صوفیائے کرام نے نمایاں کردار ادا کیا۔ علماء و مشائخ اہل سنت نے جناب محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ کے ہاتھ مضبوط کرکے قیام پاکستان کے لئے راہ ہموار کی اور بالاخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کی پہلی اور نظریاتی اسلامی مملکت کے طور پر دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا۔ پیر طریقت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی قادری رضوی علیہ الرحمہ کا شمار بھی ایسی ہی محترم و مقدس ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تحریک پاکستان اور اشاعت اسلام نیز روحانی اور اخلاقی اقدارکے فروغ میں انتھک جدوجہد کی۔ قاری صاحب علماء کرام میں اپنا منفرد اور بے مثال مقام رکھتے تھے۔ آپ سچے عاشق رسولﷺ اور صاحب کمال دینی و روحانی بزرگ تھے۔ دین اسلام کی ترویج و اشاعت اور عقائد اہل سنت کی سربلندی کے لئے آپ نے جو خدمات انجام دیں‘ انہیں مدتوں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
پیر طریقت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی قادری رضوی علیہ الرحمہ 11 ربیع الاول 1336ھ بمطابق 1917ء کو قندھار شریف ضلع ناندھیڑ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آبائو اجداد شرفائے دکن میں سے تھے اور صدیوں سے دین متین کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیتے آرہے تھے۔ آپ کے والد ماجد حضرت مولانا غلام جیلانی رحمتہ اﷲ علیہ سے قرآن حکیم حفظ کیا۔ تقریبا سترہ برس کی عمر میں اپنا وطن چھوڑ کر مدرسہ مصباح العلوم مبارک پور اعظم گڑھ میں علوم اسلامیہ کی تحصیل کا آغاز کیا اور حضرت حافظ ملت‘ حافظ عبدالعزیز محدث مبارکپوری علیہ الرحمہ کی زیر نگرانی آٹھ برس میں تکمیل کی اس کے بعد حافظ ملت آپ کو صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا حکیم محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں لے گئے۔ وہاں آپ حضرت صدر الشریعہ سے بیعت ہوئے اور پھر کچھ عرصہ بعد حضرت صدر الشریعہ نے آپ کو تمام سلاسل طریقت میں اجازت و خلافت بھی عطا فرمائی۔ تحصیل علم کے بعد آپ نے ناگپور کی جامع مسجد میں امامت و خطابت فرمائی نیز جامعہ عربیہ ناگپور میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ کچھ عرصہ سکندر آباد حیدرآباد دکن کی جامع مسجد میں بھی خطابت فرمائی (سقوط حیدرآباد دکن کہ جس میں سات لاکھ مسلمان شہید ہوئے) اس کے بعد 1949ء میں آپ پاکستان تشریف لائے اور اخوند مسجد کھارادر میں خطیب و امام رہے۔ آپ یہی چاہتے تھے کہ کسی چھوٹی مسجد میں رہ کر اسے رضائے الٰہی سمجھ کر اسی جگہ مستقل قیام فرمایا۔ اخوند مسجد کی امامت کے دوران آپ نے محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد لائل پوری‘ حضرت علامہ مولانا عارف اﷲ شاہ صاحب‘ حضرت پیر صاحب دیول شریف‘ غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اﷲ علیہم اجمعین کی خواہش اور ایماء پر ڈیڑھ سال جامع مسجد واہ کینٹ راولپنڈی میں امامت و خطابت کی۔ نیز دارالعلوم مظہریہ آرام باغ اور اس کے بعد دارالعلوم امجدیہ میں وصال سے پہلے تک تدریسی اور علمی خدمات انجام دیتے رہے۔
حضرت علامہ قاری مصلح الدین صدیقی رحمتہ اﷲ علیہ پاکستان میں سلسلہ قادریہ کے ممتاز و معروف روحانی پیشوا تھے۔ آپ کو سلسلہ قادریہ‘ رضویہ‘ سنوسیہ‘ شاذلیہ‘ منوریہ‘ معمریہ اور اشرفیہ میں حضرت صدر الشریعہ کے علاوہ شہزادہ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند مولانا الشاء مصطفی رضا خان بریلوی اور قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی علیہما الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔ آپ کی ذات گرامی علماء و صوفیائے کرام میں خاص توجہ اور عقیدت و محبت کا مظہر تھی جسے بھی آپ کو صحبت اور محبت میسر آئی وہ رسول اﷲﷺ کا گرویدہ اور شیدائی بن کر رہ گیا۔
حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی رحمتہ اﷲ علیہ نے دیگر بزرگان دین کی طرح سلسلہ قادریہ میں حضرت غوث پاک محبوب یزدانی سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ سے خاص نسبت پائی تھی۔ آپ نے اﷲ اور رسولﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری یعنی قرآن و سنت پر کاربند رہنے کے بعد حضرت غوث پاک کی تعلیمات مقدسہ پر خصوصی طور پر عمل کیا تھا۔ اسی لئے قدرت کاملہ نے آپ کو اپنی بہترین نعمتوں سے نوازا تھا۔ آپ پیران پیر سرکار غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کی محبت اور عقیدت میں صوفیاء کرام کے شانہ بشانہ رہے۔ مصلح الدین کے معنی دین کی اصلاح کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کے ہرد ور میں دین اسلام کی اس خدمت کو احسن طریقہ پر پورا کیا۔حضرت غوث الثقلین رضی اﷲ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ اگر مصائب نہ ہوتے تو تمام لوگ عابد و زاہد بن جاتے لیکن مسلمانوں پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے رب سے دور ہوجاتے ہیں۔ یاد رکھو جو صبر کے امتحان میں پورا نہ اترا وہ عطاء الٰہی سے محروم رہ گیا۔ حضور غوث پاک صبر ہی کو اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی قرار دیتے ہیں آپ کے نزدیک صبر ہی عبد اور معبود کے درمیان رشتہ کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ صبر و رضا کو چھوڑ دینا آپ کی تعلیمات کے منافی ہے۔ حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی رحمتہ اﷲ علیہ کے سلسلہ قادریہ کی یہ تعلیمات آپ کی زندگی کا جزولاینفک بن چکی تھی۔ وہ زہد و تقویٰ اور پرہیز گاری‘ حلم اور بردباری کا کامل نمونہ تھے۔ شفقت و محبت کا منبع آپ کی ذات گرامی تھی۔ بزرگان دین سے آپ کا گہرا تعلق تھا اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی سے آپ کو والہانہ عشق تھا۔ اکثر اعلیٰ حضرت کی نعتیں ورد زبان رہتیں اور تقریب میں بھی جابجا اعلیٰ حضرت کے اشعار پڑھتے۔ آپ بہت ہی مختصر مگر جامع اور قابل فہم الفاظ میں تقریر کرتے تھے۔ آپ کا انداز اس قدر دل نشین ہوتا کہ ہر لفظ دل و دماغ میں پیوست ہوکر رہ جاتا تھا۔
مجاہد ملت حضرت علامہ مولانا عبدالحامد بدایونی‘ حضرت قاری صاحب کی بڑی عزت و تکریم کرتے تھے۔ انہیں اپنی روحانی مجلسوں اور محافل میں مدعو کرنے کے لئے دعوت نامہ ارسال کرتے تھے۔ آپ کا وصال 7 جمادی الثانی 1403ھ 23 مارچ 1983ء کو کراچی میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا۔ آپ کے وصال کی خبر آپ کے مریدین‘ متوسلین اور محبین میں بڑے دکھ اور صدمہ کے ساتھ سنی گئی۔ ہزاروں لوگوں نے اشکبار آنکھوں سے آپ کا آخری دیدار کیا۔ آپ کی نماز جنازہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں بریلوی دامت برکاتہم العالیہ نے پڑھائی۔ پاکستان کی ہر دینی‘ مذہبی‘ روحانی تنظیم نے آپ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ نامور مشائخ و علماء کرام نے آپ کی رحلت کو ایک قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے آپ کے درجات کی مزید سربلندی کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں۔ آپ کا جسد خاکی کھوڑی گارڈن‘ موجودہ مصلح الدین گارڈن کراچی میں محو استراحت ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں ان محترم و مقدس ہستیوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے اور ان کے مشن کو جاری و ساری رکھے۔