حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, June 2010, د ر خشا ں ستا ر ے

جمعہ کا دن تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ گھر سے باہر تشریف لائے تو ’’سرہنگا‘‘ نامی ایک مجذوب دروازے پر کھڑا تھا۔ سرہنگا وہ شخص ہے جو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتا تھا۔ جدھر سے آپ گزرتے تھے‘ اس راستے کی خاک اٹھا کر اپنے سر اور چہرے پر ملتا تھا اور کہتا تھا کہ یہ میرے پیرومرشد کے قدموں کا غبار ہے جو سرہنگا کے لئے کہکشاں سے روشن تر ہے۔ خود حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی سرہنگا کا بہت خیال رکھتے تھے اور ہر طرح اپنے دیوانے خادم کی ناز برداری کرتے تھے۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ سرہنگا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا منہ چڑھا خادم تھا۔ اگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کسی سے ناراض ہوجاتے تو سرہنگا کو آپ کی خدمت میں بھیجا جاتا یہاں تک کہ سرہنگا اس شخص کی سفارش کرتا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ معاف فرمادیتے۔ آج وہی سرہنگا اس طرح دروازے پر کھڑا تھا کہ اس کے سر پر خاک تھی اور پورا چہرہ آنسوئوں سے بھیگا ہوا تھا۔
’’سرہنگا تم؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے اس دیوانے معتقد کو دیکھتے ہوئے حیرت سے فرمایا۔
’’ہاں سرکار! یہ میں ہوں‘ آپ کا غلام سرہنگا‘‘ اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے پیروں پر سر رکھ کر رونے لگا ’’سرکار! میرے لئے دعا فرمادیجئے کہ میں یہیں آپ کے قدموں میں تمام ہوجائوں۔ اب مجھ سے یہ جدائی برداشت نہیں ہوتی‘‘
’’میں تمہارے سامنے موجود ہوں پھر تمہیں یہ شکایت کیوں ہے؟‘‘ حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ نے سرہنگا سے فرمایا۔
’’یہ قربت تو مجھے اتفاق سے حاصل ہوگئی ہے‘‘ سرہنگا مجذوب عرض کرنے لگا
’’ہانسی میں تو مجھ پر یہ پابندیاں نہیں تھیں۔ جب چاہتا تھا‘ خدمت عالیہ میں حاضر ہوجاتا تھا… مگر دہلی میں کسی نے اجازت نہیں دی کہ آپ کی قدم بوسی کرسکوں‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے سرہنگا کواٹھایا اور فرمانے لگے ’’تم میرے ساتھ ہی رہوگے۔ یہ فاصلے بہت عارضی تھے جو عنقریب ختم ہوجائیں گے‘‘
اس کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے نماز جمعہ ادا کی اور ہانسی جانے کا اعلان کردیا۔
یہ اعلان کیا تھا۔ ایک برق تھی جو اہل دل کی سماعتوں پر گری۔ لوگوں نے بہت منت و سماجت کی کہ حضرت اس شہر کو ویران کرکے ہانسی تشریف نہ لے جائیں مگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنے ارادے پر قائم رہے۔
آخر میں حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے خاص خاص مریدوں اور خدمت گاروں نے عرض کیا ’’حضرت شیخ کی مسند کو اس طرح خالی چھوڑ کر جانا مناسب نہیں جبکہ حضرت شیخ خود ہی فرماگئے ہیں کہ ان کا مقام آپ کا مقام ہے‘‘
جواب میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’میرے پیرومرشد نے جو نعمت مجھے عطا کی ہے کہ وہ محدود نہیں ہے۔ شہر میں بھی وہی ہے جنگل اور بیابان میں بھی وہی‘‘ یہ کہہ کر آپ سرہنگا مجذوب کے ساتھ ہانسی روانہ ہوگئے۔
اس کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ وقفے وقفے سے ایک دو دن کے لئے دہلی تشریف لاتے‘ پیرومرشد کی قبر مبارک پر حاضری دیتے‘ صوفیوں اور درویشوں سے مختصر ملاقاتیں کرتے اور پھر واپس ہانسی چلے جاتے۔ بیشتر تذکرہ نویسوں نے سرہنگا مجذوب کی آمد اور فریاد و فغاں کو دہلی چھوڑنے کا سبب قرار دیا ہے لیکن یہ محض قیاس آرائی ہے۔ اگر سرہنگا مجذوب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی جدائی کے باعث بے قرار تھا تو دہلی میں اسے لوگوں نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تک پہنچنے نہیں دیا تو اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو بمشکل ایک ہفتہ گزرا تھا۔ لوگ دیدار کی غرض سے قطار در قطار چلے آرہے تھے۔ خلقت کا اس قدر ہجوم تھا کہ کسی کو کسی کی خبر نہیں تھی۔ اسی لئے سرہنگا شرف باریابی نہ پاسکا تھا۔
کچھ اہل نظر نے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے سرہنگا کی شکایت کو غیب کی تنبیہ سمجھا اور آپ کی دور بیں نظروں نے یہ اندازہ کرلیا کہ دہلی میں رہ کر عوام سے تعلق بھی کم ہوجائے گا اور دارالحکومت کا ماحول بھی سلسلہ چشتیہ کی تبلیغ و ترویج میں حائل رہے گا۔ آنے والے وقت نے ثابت کردیا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اندیشے درست تھے۔ سلطان التمش کی وفات کے بعد ایک طویل عرصے تک دہلی کے حالات خراب رہے۔ التمش جیسے نیک سیرت حکمراں کا بیٹا سلطان رکن الدین فیروز شاہ انتہائی ناکارہ ثابت ہوا۔ عیش کوشی اس کی فطرت تھی۔ وہ دن رات شراب کے نشے میں غرق رہتا۔ سلطان قطب الدین ایبک اور التمش کے خزانوں کو طوائفوں اور میراثیوں پر لٹاتا رہتا۔ پھر ایک دن اس کی سفاک ماں ترکان شاہ نے اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ سلطان رکن الدین فیروز شاہ پازیب کی جھنکار اور شراب کی بوتلوں میں قید ہوکر رہ گیا تھا اور ترکان شاہ التمش کی اولادوں‘ بیویوں اور نمک خواروں کا قتل عام کررہی تھی۔
دوسری طرف علماء اور صوفیاء کا مزاج بھی بدل گیا۔ سیاست کی ایسی ہوا چلی کہ حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ‘ قاضی منہاج سراج‘ مولانا نور ترک‘ شیخ الاسلام سید قطب الدین اور دوسرے سینکڑوں بزرگ اپنے مرکز سے ہٹ گئے۔ خانقاہوں اور مدرسوں کو چھوڑ کر ان لوگوں کا رخ سیاست کی طرف تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو علماء اور صوفیاء کے کردار نے شدید مایوس کیا۔ نتیجتاً آپ نے ہانسی کو گوشہ عافیت سمجھا اور اسی شہر میں پوری یکسوئی کے ساتھ رشد و ہدایت کا کام جاری رکھا۔
15 رجب 634ھ کو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے خاتون بیگم کے ساتھ عقد ثانی کیا۔ دوسری شادی کے کچھ دن بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کے مزار مبارک کی زیارت کے لئے اجمیر حاضر ہوئے اور آپ نے اعتکاف کیا۔ ’’صندل مسجد‘‘ کے عقب میں ایک زینہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کے خادم مزار کو جاتا ہے۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی جگہ اعتکاف (چلہ) کیا تھا۔ وہ کھڑکی اب بند کردی گئی ہے۔ 6 محرم الحرام کو اس زینے کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور بے شمار زائرین اس متبرک مقام کی زیارت کرتے ہیں جہاں خاندان چشتیہ کا یہ عظیم فرزند چلہ کش ہوا تھا۔
دوسرے دن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کے روضہ مبارک پر ایک مخصوص نماز ادا کی تھی اور طویل سجود و قیام کئے تھے۔ اس کے بعد آپ جب تک اجمیر شریف میں قیام پذیر رہے‘ بار بار یہی خیال آتا تھا۔
’’خدا جانے میرا کیا حشر ہو اور قیامت کے دن میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اس اضطراب میں کئی دن گزر گئے تھے کہ ایک رات جب آپ سوئے تو حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کو خواب میں دیکھا خواجہ خواجگان فرما رہے تھے۔
’’مولانا فرید! اتنے آزردہ کیوں ہوتے ہو؟ اس نماز کے پڑھنے والے کا شمار بخشے ہوئے انسانوں میں ہوتا ہے۔ انشاء اﷲ تم بھی سر محشر رحمت باری سے محروم نہیں رہوگے‘‘
اس خواب کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اطمینان قلب حاصل ہوگیا۔ بعض روایات میں درج ہے کہ حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کے مزار مبارک پر اعتکاف کرنے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ دولت روحانی سے مالا مال ہوگئے… اور پھر جب واپسی میں دہلی تشریف لائے تو کیف و جذب کا عالم ہی کچھ اور تھا جس مسلمان پر نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل سے دنیا داری کا غبار دھل جاتا تھا۔
لوگوں کا خیال تھا کہ اجمیر سے واپسی کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ مستقل طور پر دہلی تشریف لے آئے ہیں۔ اس لئے مقامی عقیدت مندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پورے شہر میں ایک جشن کا سا سماں تھا مگر کوئی بھی اس راز سے باخبر نہیں تھا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اچانک دہلی کیوں تشریف لائے ہیں۔
پیرومرشد کے انتقال کے وقت حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ہانسی میں مقیم تھے۔ حضرت قلب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے وصال سے پہلے وصیت فرمائی تھی کہ آپ کی قبر کی سطح زمین کے برابر رکھی جائے۔ جب خدمت گاروں نے اس کا سبب پوچھا تو حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’میرا مزار سطح زمین کے برابر رکھنا کہ شاید کسی بزرگ کا قدم میرے سینے پر پڑے اور میں برکت و سعادت حاصل کرسکوں‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اجمیر سے واپسی پر دہلی اس لئے تشریف لائے تھے کہ پیرومرشد کی قبر مبارک کو ایسا کوئی نمایاں نشان دے دیں جسے دیکھ کر آنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ یہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ آرام فرما ہیں۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی دوسرے مریدین کی طرح حکم شیخ سے مجبور تھے۔ اس لئے ذاتی طور پر قبر مبارک کی تعمیر نہیں کرسکتے تھے۔ پھر بھی ایک امید پر پیرومرشد کے قدموں میں پڑے رہتے تھے۔
جب تمام زائرین اور عقیدت مند اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے یا تھک کر وہیں سوجاتے تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنے پیرومرشد کے پائیں مزار بیٹھ کر رونے لگتے۔
’’سیدی! اب مجھ سے مزار مبارک کی یہ بے نشانی نہیں دیکھی جاتی۔ جن لوگوں نے آپ کے قدموں کا غبار اپنے چہروں پر ملا‘ وہ بڑے نشان والے بن گئے… اور جو خود صاحب نشان تھا‘ وہ اس طرح زیر خاک سوگیا کہ قبر کی حدود کا بھی پتہ نہیں۔ بس اب اس غلام پر نظر کرم فرمایئے اور اجازت دیجئے کہ کم سے کم مرقد کو سطح زمین سے بلند کردیا جائے‘‘
یہ التجائے نیم شب اور گریہ و زاری کئی دن تک جاری رہی۔
بالاخر یہ گریہ وزاری رنگ لائی۔ ایک رات حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سوئے تو آپ نے خواب میں حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کو دیکھا۔ پیرومرشد فرمارہے تھے۔
’’مولانا! تمہاری ضدوں نے مجبور کردیا۔ اب تم نہیں مانتے تو کل عصر و مغرب کے درمیان میری قبر پر مٹی ڈال کر اس کی سطح زمین سے کچھ بلند کردو‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی آنکھ کھلی تو چہرے پر اطمینان اور سرشاری کا ایسا رنگ تھا جیسے دولت کونین میسر آگئی ہو۔ صبح سے عصر تک کا وقت بمشکل گزارا اور پھر عصر کی نماز ادا کرتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مٹی لاکر پیرومرشد کی قبر پر ڈالنا شروع کردی۔ تمام مرید اور خدمت گار حیران و پریشان تھے۔ سینکڑوں جان نثاروں نے بیک زبان عرض کیا۔
’’مخدوم! یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ غلاموں کو حکم دیں تو پہاڑوں کے سر تراش دیں‘‘
’’نہیں!‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے عجلت میں فرمایا ’’یہ میرا ہی کام ہے مجھے باتوں میں نہ الجھائو‘ اگر وقت گزر گیا تو ساری التجائیں اور دعائیں رائیگاں جائیں گی‘‘
حاضرین اس گفتگو کامفہوم نہیں سمجھ سکے… اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنے گردوپیش سے بے نیاز‘ مٹی لا لا کر پیرومرشد کی قبر پر ڈالتے رہے۔ شام ہونے تک آپ کے کاندھے زخمی ہوگئے تھے اور پورا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ پھر بھی آپ نے اس کام میں کسی کی شرکت گوارا نہیں کی۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں