کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ فرقہ گوہر شاہی کے لوگ کیسے ہیں۔ اس کے بانی کے کیا نظریات تھے؟ اور ہمیں اس فرقہ سے تعلقات استوار کرنے اور رشتہ داری قائم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور سنی حنفی عورت کا گوہر شاہی فرقہ کے مرد سے نکاح کرنا کیسا؟
بینوا بالکتاب توجروا عندالحساب
سائل محمد فضیل قادری آف کراچی
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب
اللھم ہدایۃ الحق والصواب
قرآن مجید میں ارشاد رب العزت جل مجدہ ہے
اہدنا الصراط المستقیم o
ہم کو سیدھا راستہ چلا (الفاتحہ آیت 5‘ ترجمہ کنزالایمان از اعلیٰ حضرت بریلوی علیہ الرحمہ)
خلیفہ اعلیٰ حضرت صدر الافاضل استاذ العلماء مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ الہادی اپنی مشہور زمانہ تفسیر ’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیت کریمہ کے تحت یوں رقم طراز ہیں کہ صراط مستقیم سے مراد اسلام یا قرآن یا خلق نبی کریمﷺ یا حضور یا آل و اصحابہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صراط مستقیم طریق اہل سنت ہے جو اہل بیت واصحاب اور سنت و قرآن اور سواد اعظم سب کو مانتے ہیں (خزائن العرفان فی تفسیر القرآن ص 3‘ مطبوعہ تاج کمپنی لاہور)
نیز ارشاد محبوب رب العزت ﷺ
ان بنی اسرائیل تفرقت علی ثنتین وسبعین ملتہ وتفترق امتی علی ثلث و سبعین ملۃ کلھم فی النار الاملۃ واحدۃ قالوا من یارسول قال ما انا علیہ واصحابی وفی روایتہ وہی الجماعہ
یعنی بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت‘ تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اور سوائے ایک  کے سب دوزخ میں جائیں گے۔ عرض کی گئی یا رسول اﷲﷺ وہ جنتی لوگ کون ہوں گے؟ ارشاد فرمایا میں اور میرے صحابہ جس پر ہیں اور ایک دوسری روایت میں ہے جو امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ارشاد فرمایا۔ وہ جماعت ہے (جامع ترمذی جلد ثانی ص 89 مطبوعہ کراچی)
عزیز من! آج کے اس پرفتن دور میں ہر طرف گمراہی بے دینی کا طوفان بدتمیزی برپا ہے اور لادینی اور اسلام دشمنی کی کالی گھٹائیں چھا رہی ہیں اور مذہب مہذب اہل سنت و جماعت کے خلاف سازشوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ دین و ایمان کے ڈاکو طرح طرح کے لباس میں بھولے بھالے سنیوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ قرآن و سنت میں تحریف مصنوعی کرکے اپنے باطل نظریات پھیلانے میں دن رات مصروف ہیں ۔ایسے پرآشوب دور میں صرف ’’ماانا علیہ واصحابی‘‘ کے مصداق اکابر علماء و اولیاء کی تشریحات کی روشنی میں صرف مذہب اہل سنت و جماعت ہی ایسا مضبوط قلعہ ہے جس کے اندر رہتے ہوئے ہم ایمان کی حفاظت کرسکتے ہیں۔
حضور جان عالمﷺ نے تاکیدی حکم فرمایا
اتبعوا السواد الاعظم فانہ من شذشذ فی النار (مشکوٰۃ المصابیح ص 30 مطبوعہ کراچی)
بڑی جماعت (اہل سنت) کی پیروی کرو کہ جو اس سے ہٹ گیا وہ دوزخ میں گیا
اکابر نے ’’السواد الاعظم‘‘ اور ’’وہی الجماعۃ‘‘ اور ’’ماانا علیہ واصحابی‘‘ کا مصداق اہل سنت و جماعت کو ٹھہرایا‘ جیسا کہ ’’غنیتہ الطالبین‘‘ میں اور مجدد الف ثانی قدس سرہ ربانی نے ’’مکتوبات شریفہ‘‘ میں اور علامہ علی قاری علیہ رحمتہ الباری نے ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں فرمایا کہ حق مذہب اہل سنت ہے اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔
استفتاء میں جس نام نہاد انجمن کے بانی شیطانی کے عقائد و نظریات کے بارے میں سوال کیا گیا ہے فقیر غفرلہ القدیر نے نام نہاد انجمن سرفروشان اسلام کے بانی ریاض احمد گوہر شاہی کے رسالہ روشناس مینارہ نور اور روحانی سفر جو درحقیقت شیطانی سفر کا مطالعہ کیا جس میں کئی عقائد واقوال و افعال اس کے میرے سامنے آئے جو خلاف عقائد اسلامیہ اور خلاف شرع مطہر ہیں اور علماء دین کی بے ادبی پر مشتمل ہیں‘ جس کی روشنی میں گوہر شاہی کے جاہل‘ ضال‘ مضل‘ گمراہ بے دین ہونے میں کوئی شک نہیں رہا۔
ہمارے اکابر علماء اہل سنت کے فتوے اس کے رد میں شائع ہوچکے ہیں وہ حق اور صحیح ہیں اور ہمیںان پر کامل اعتماد ہے۔ میں فقط چند ضروری باتیں اور کچھ اس کے عقائد باطلہ پیش کرتا ہوں۔ ملاحظہ کیجئے:
نمبر 1… روحانی سفر ص 8 میں اس کا مرزائیت وہابیت کے اثر کو سوسائٹیوں کی وجہ سے قبول کرنا لکھا ہے لیکن اس اثر ناپاک کے زائل ہونے کا کہیں بھی ذکر نہیں
نمبر 2… مینارہ نور ص 11 پر آدم علیہ السلام کے بارے میں تحریر کیا کہ جب آدم علیہ السلام اپنے نفس کی شرارت کی بناء پر زمین پر پھینک دیئے گئے
نمبر 3… مینارہ نور ص 14 پر مرزا غلام احمد قادیانی کو عابد و زاہد لکھا جبکہ یہ شخص اعلان نبوت کی بناء پر جمہور علماء کے متفقہ فیصلہ کی وجہ سے کافر و مرتد ہے
نمبر 4… مینارہ نور ص 22 پر لکھا ’’اگر روزانہ آدمی پانچ ہزار مرتبہ ذکر نہ کرے تو اس کی نماز اور دعا میں نقص ہے‘‘ حالانکہ شریعت مطہرہ نے ایسا حکم کہیں بھی نہیں دیا اور یہ اس کا اپنا ذاتی جبروتی حکم ہے جو شریعت پر افتراء ہے۔
نمبر 5… مینارہ نور ص 37 پر ’’سورہ توبہ‘‘ کی آیت جو یہود و نصاریٰ کے گمراہ سربراہوں کے بارے میں ہے‘ علماء اسلام پر چسپاں کردی
نمبر 6… روحانی سفر اور روشناس میں حضرت آدم وخضر علیہما السلام کی گستاخیوں کا بیاں یوں کیا کہ آدم نفس کی شرارت سے بہشت سے نکال کر عالم ناسوت میں پھینک دیئے گئے اور خضر علیہ السلام  نے قتل نفس کیا جو گناہ کبیرہ ہے اور اس طرح مینارہ نور میں بھی لکھا ہے۔
حالانکہ عصمت نبوی کا عقیدہ اجماعی قطعی ہے اور نفس نبی شریر نہیں ہوتا بلکہ حد درجہ شریف ہوتا ہے اور خضر علیہ السلام اگر ولی بھی ہوں تو ان کے بارے میں ایسی گفتگو کرنا ضرور زیادتی اور بے ادبی تھا جبکہ علامہ بدر الدین محمود عینی نے ’’عینی شرح بخاری جلد اول ص 447 مطبوعہ بیروت‘‘ میں خضر علیہ السلام کے متعلق نبوت کا قول راجح قرار دیا۔ علامہ خازن اور اعلیٰ حضرت نے بھی اس قول کو راجح قرار دیا اور علامہ عینی نے تو اس پر جماعت علماء کا جزم بتایا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی تھے۔
نمبر 7… گوہر شاہی روحانی سفر 35 پر لکھتاہے اور بھنگ  کو خواہ مخواہ ہمارے عالموں نے حرام قرار دیا ہے۔
نمبر 8… روحانی سفر صر 33 پر بھنگ پینے کو یاد الٰہی کا سبب لکھا ہے (معاذ اﷲ)
نمبر9… روحانی سفر ص 38,37,32 پر اجنبیہ عورت سے مصافحہ ‘ معانقہ کرنا اور گلے لگ کر رونا اور ساری رات آپس میں گلے لگ کر سویا رہنا صاف لکھا ہے۔
درج بالا عقائد باطلہ اور افعال فاسدہ کا ارتکاب کرنا اور پھر اس کو خود بیان کرنا اور علماء کے سمجھانے پر بجائے توبہ کے علماء کے خلاف پروپیگنڈے کرنا اور ان کی تشہیر کرنا گناہ در گناہ اور حرام در حرام ہے۔ لہذا ان ساری خرابیوں کے باعث اس کی صحت زہر قاتل تھی۔ اب وہ خود تو مرکھپ گیا اور اپنے ماننے والوں کا گروہ چھوڑ گیا اور جو آج کل ’’مہدی فائونڈیشن‘‘ کے نام سے لوگوںکو گمراہ کرنے کی ناپاک جسارت کررہے ہیں لہذا ان سے ضرور ضرور بچیں۔
ارشاد رب العزت ہے۔
یعنی شیطان اگر بھلا دے تو یاد آجانے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھو اور حدیث بخاری میں ہے
ایاکم ویااہم لایفتنونکم ولایضلونکم
یعنی بچائو اپنے آپ کو ان سے اور ان کو اپنے سے دور رکھو کہیں تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں اور تمہیں گمراہ نہ کردیں۔
بہرحال ایسا شخص نہ خود پیری کے لائق تھا‘ نہ اس کے ماننے والوں کی صحبت اختیار کرنی چاہئے۔ بلکہ ان لوگوں کے ساتھ میل جول‘ شادی بیاہ‘ ان کے حلقہ ہائے ذکر وفکر میں شرکت کرنا ہرگز جائز نہیں۔ تفصیل کے لئے الحاج مولانا ابو دائود محمد صادق صاحب مدظلہ العالیٰ کا رسالہ ’’خطرہ کا الارم‘‘ ملاحظہ کیجئے۔
مولیٰ کریم بطفیل اپنے محبوب کریمﷺ مسلمانوں کو ان فتنوں سے محفوظ و مامون رکھے۔ آمین