۱۱۰۔ واقیموا الصلوٰۃ واتوا الزکوٰۃ‘ وماتقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عنداﷲ‘ ان اﷲ بما تعملون بصیرO
۱۱۱۔ وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ہودا او نصٰرٰی‘ تلک امانیہم‘ قل ہاتوا برہانکم ان کنتم صٰدقینO
۱۱۲۔ بلی ق من اسلم وجہہ ﷲ وہو محسن

 

اور ادا کرتے رہو نماز کو اور دیتے رہو زکوٰۃ اور جو کچھ پہلے کر رکھو گے اور اپنے بھلے کو کوئی نیکی‘ پائو گے اس کو اﷲ کے یہاں
اور دعویٰ کردیا کہ ہرگز نہ داخل ہوں گے جنت میں مگر وہ جو ہوگئے یہودی یا عیسائی لوگ۔ یہ ان کی خیالی گپیں ہیں ۔ جواب میں کہو کہ لائو اپنی دلیل‘ اگر ہو تم سچے
لیکن ہاں جس نے جھکا دیا اپنے رخ کو اﷲ واسطے اور وہ مخلص ہے

 

(اور) اے مسلمانو! تم ان کافروں کو جھک مارنے دو (اور) اپنی بہتری کی فکر کرو۔ یوں کہ (ادا کرتے رہو نماز کو) پانچوں وقت (اور) پابندی کے ساتھ (دیتے رہو) سال بہ سال (زکواۃ کو) بھی۔ اور اس بات کو بنی اسرائیل کے لئے رہنے دو کہ جب وہ یہودی کوئی گناہ کرتے تو ان کو ان کے دروازوں پر وہ گناہ لکھا ہوا مل جاتا۔ جس سے اگر توبہ کرتے تو بھی ان کے گناہ کو لوگ جان جاتے اور وہ رسوا ہوجاتے۔ اور توبہ نہ کرتے تو عذاب الٰہی ان پر اترتا۔ اﷲ تعالیٰ تم کو دنیا میں ان کی طرح رسوا کرنا نہیں چاہتا۔ تم خود اپنے گناہ پر نادم ہوجایا کرو (اور) تم اپنی نیکی بھی اپنے ہی تک رکھو‘ اور اس کو چھپائو اور خوب یقین کرلو کہ (جو کچھ) بھی تم نیکی (پہلے) سے (کر رکھو گے) اور اپنے رب کے پاس بھیجے رہو گے‘ خود (اپنے) ہی (بھلے) اور فائدے (کو) تو اس میں سے کچھ بھی ضائع نہ ہوئی‘ وہ (کوئی) بھی (نیکی) بڑی ہو یا چھوٹی ہو‘ تم ضرور (پائو گے اس) نیکی کے ثواب (کو اﷲ) تعالیٰ (کے یہاں) آخرت میں۔ اس کو کہیں لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ (بے شک اﷲ) تعالیٰ تم (جو کچھ) بھی نیکی (کرو) سب کا ہر وقت (دیکھنے والا) اور نگرانی فرمانے والا (ہے)
(اور) کتنے بڑے یہ ڈھیٹ‘ یہ یہودی اور عیسائی ہیں۔ حد ہوگئی کہ یہ بھی (دعویٰ کردیا کہ) اور مسلمان بھی خواہ کچھ ہوجائیں‘ پھر بھی (ہرگز نہ داخل ہوں گے جنت میں) قیامت کے دن۔ کسی کو جنت نہ ملے گی (مگر) جنت پائیں گے تو (وہ جو ہوگئے یہودی) اور یہودیت پر مرگئے۔ عیسائیوں کے نزدیک جو بن گئے (عیسائی لوگ) یہ وحشیوں کی طرح الجھن والے سوالات کرنا‘ اپنے لئے جنتی ہونے کی ڈینگ مارنا (یہ) جتنی باتیں ہیں‘ بس (ان) یہودیوں اور عیسائیوں (کی) بس (خیالی گپیں) اور بے دلیل باتیں اور دل خوش کن تمنائیں اور من گھڑت بکواسیں (ہیں) ان لوگوں کے (جواب میں کہو کہ) جنت کے تنہا اجارہ دار بنتے ہو‘ تو (لائو) تو سہی (اپنی دلیل) اور اجارہ داری کا پروانہ (اگر) اپنے خیال میں‘ اس بے بنیاد دعویٰ میں (ہو تم) بڑے (سچے)
تمہارے پاس سند کہاں اور تم سچے کہاں کے؟ (لیکن ہاں) اگر سند والے سچے جنتیوں کو دیکھنا چاہتے ہو‘ تو سنو‘ کہ (جس نے بھی) عرب کا ہو یا عجم کا‘ اونچا سمجھا جاتا ہو یا نیچا (جھکا دیا) اور نیاز مندی کے ساتھ‘ پوری یکسوئی سے سونپ دیا (اپنے رخ) اور جذبہ پرستاری (کو) مگر دکھاوے یا کسی دنیاوی لالچ میں نہیں بلکہ محض (اﷲ کے واسطے) اس کے سارے احکام کی بجا آوری کرنے لگا (اور) پھر یہ بھی ہو کہ (وہ) اپنے اس طریقہ کار میں (مخلص ہے) اور اپنے رب کو برابر پیش نظر رکھتا ہے۔