منکرین کا الزام ہے کہ امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ اور ان کے ماننے والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور سید عالمﷺ ہر جگہ حاضر وناظر ہیں، حالانکہ یہ بہت سنگین بہتان ہے۔

اسی کو بنیاد بنا کر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اہلسنت (بریلوی) حضرات اپنی محافلوں میں ایک خالی کرسی رکھتے ہیں کہ حضورﷺ محفل میں تشریف لاکراس پر بیٹھیں گے، مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صلوٰۃ وسلام میں اہلسنت (بریلوی) حضرات اس لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ تشریف لائے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اہلسنت (بریلوی) اقامت کے دوران ’’اشہدان محمد رسول اﷲ‘‘ پر اس لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ اس وقت تشریف لاتے ہیں۔

اہلسنت کا عقیدۂ حاضر و ناظر

حضورﷺ کے حاضر و ناظر ہونے میں اہلسنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ کے لئے جو لفظ حاضر و ناظر بولا جاتا ہے۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ حضورﷺ کی بشریت مطہرہ ہر جگہ ہر ایک کے سامنے موجود ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں جس طرح روح اپنے بدن کے ہرجزو میں ہوتی ہے۔ اسی طرح روح دوعالمﷺ کی حقیقت منورہ ذرات عالم کے ہر ذرہ میں جاری وساری ہے۔

جس کی بناء پر حضورﷺ اپنی روحانیت اور نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوتے ہیں اور اہل اﷲ اکثر وبیشتر بحالت بیداری اپنی جسمانی آنکھوں سے حضورﷺ کے جمال مبارک کا مشاہدہ کرتے ہیں اور حضورﷺ بھی انہیں رحمت اور نظر عنایت سے سرخرو محظوظ فرماتے ہیں۔ گویا حضورﷺ کا اپنے غلاموں کے سامنے ہونا سرکارﷺ کے حاضر ہونے کے معنی ہیں اور انہیں اپنی نظر مبارک سے دیکھنا حضورﷺ کے ناظر ہونے کا مفہوم ہے۔

معلوم ہوا کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ اپنے روضہ مبارک میں حیات حسی و جسمانی کے ساتھ زندہ ہیں اور پوری کائنات آپﷺ سامنے موجود ہے اور اﷲ تعالیٰ کی عطا سے کائنات کے ذرے ذرے پر آپﷺ کی نگاہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی عطا سے جب چاہیں، جہاں چاہیں جس وقت چاہیں، جسم و جسمانیت کے ساتھ تشریف لے جاسکتے ہیں۔

ہم محفل میلاد کے موقع پر کرسی حضورﷺ کے لئے نہیں بلکہ علماء و مشائخ کے بیٹھنے کے لئے رکھتے ہیں۔ صلوٰۃ و سلام کے وقت اس لئے کھڑے ہوتے ہیں تاکہ باادب بارگاہ رسالتﷺ میں سلام پیش کیا جائے اور ذکر رسولﷺ کی تعظیم اور ادب کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور ہم ’’اشہدان محمد رسول اﷲ‘‘ پر نہیں بلکہ حی علی الصلوٰۃ، حی علی الفلاح پر کھڑے ہوتے ہیں۔ حضورﷺ کی آمد کے لئے کھڑے نہیں ہوتے۔

بعد از وصال تصرف فرمانا

حدیث شریف: حضرت سلمیٰ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں۔ میں حضرت ام سلمیٰ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی، وہ رو رہی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور سید عالمﷺ کو خواب میں دیکھا۔ آپﷺ کی داڑھی مبارک اور سر انور گرد آلود تھے۔ میں نے عرض کیا۔ یارسول اﷲﷺ کیا بات ہے؟ آپﷺ نے فرمایا میں ابھی حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت میں شریک ہوا ہوں

(ترمذی شریف، جلد دوم، ابواب المناقب، حدیث نمبر 1706، صفحہ نمبر 731، مطبوعہ فرید بک لاہور)

ف: حضورﷺ کا یہ فرمانا کہ میں ابھی حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت میں شریک ہوا ہوں۔ اس بات کی طرف دلالت کرتا ہے کہ بعد از وصال ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے حیات کی ضرورت ہے لہذا حضورﷺ بعد از وصال بھی حیات ہیں۔

دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ حضورﷺ وصال کے بعد بھی اپنے رب جل جلالہ کی عطا کی طاقت سے جب چاہیں، جہاں چاہیں تشریف لے جاسکتے ہیں۔

حاضر وناظر کے متعلق اکابر شارحین اور علمائے اسلام کا عقیدہ

شارح بخاری علامہ امام قسطلانی علیہ الرحمہ اور شارح موطا علامہ امام زرقانی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ حضورﷺ کی ظاہری زندگی اور آپ کے پردہ فرمانے کے بعد اس میں کوئی فرق نہیں کہ آپ اپنی امت کا مشاہدہ فرماتے ہیں اور آپ کو ان احوال ونیات وعزائم و خواطر وخیالات کی بھی معرفت و پہچان ہے اور اﷲ کے اطلاع فرمانے سے یہ سب کچھ آپ پر ایسا ظاہر ہے جس میں کوئی خفا و پردہ نہیں

(شرح مواہب لدنیہ جلد 8 ص 305)

شارح مشکوٰۃ شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ علماء امت میں سے کسی کا بھی اس میں اختلاف نہیں کہ آپﷺ بحقیقت حیات دائم و باقی اور اعمال امت پر حاضر وناظر ہیں اور متوجہان آنحضرتﷺ کو فیض پہنچاتے اور ان کی تربیت فرماتے ہیں

(حاشیہ اخبار الاخیار صفحہ نمبر155)

اﷲ تعالیٰ اور حضورﷺ کے حاضر وناظر ہونے میں امتیازی فرق

اﷲ تعالیٰ کی تمام صفات مستقل اور بالذات ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی کوئی صفت غیر مستقل اور عطائی نہیں، بندوں کی صفت مستقل اور بالذات نہیں بلکہ بندوں کی صفات غیر مستقل اور عطائی ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ حضورﷺ کا حاضر وناظر ہونا رب کریم کی عطا سے ہے بالذات نہیں۔ جب آپ کی تمام صفات عطائی ہیں تو اﷲ تعالیٰ کی ذاتی صفات سے برابری کیسے جب ذاتی اور عطائی صفات میں برابری نہیں تو یقیناًشرک بھی لازم نہیں آئے گا۔

تنبیہ

اﷲ تعالیٰ کو حقیقی معنی کے لحاظ سے حاضر و ناظر کہا ہی نہیں جاسکتا اور نہ ہی اﷲ تعالیٰ کے اسماء گرامی میں سے کوئی اسم گرامی حاضر وناظر ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ کو مجازی معنی کے لحاظ سے حاضر و ناظر کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ حاضر کا حقیقی معنی یہ ہے کہ کوئی چیز کھلم کھلا بے حجاب آنکھوں کے سامنے ہو، جب اﷲ تعالیٰ حواس اور نگاہوں سے پاک ہے تو یقیناًاسے حقیقی معنی کے لحاظ سے حاضر نہیں کہا جاسکتا۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

’’لاتدرکہ الابصار‘‘ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں۔

اسی طرح ناظر کا بھی اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے اﷲ تعالیٰ پر اطلاق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ناظر مشتق ہے۔

نظر سے اور نظر کا حقیقی معنی یہ ہے:

النظر تقلیب البصر والبصیرۃ لادراک الشئی وروئیۃ

کسی چیز کو دیکھنے اور ادراک کرنے کے لئے آنکھ اور بصیرت کو پھیرنا

حقیقی معنی کے لحاظ سے ناظر اسے کہتے ہیں جو آنکھ سے دیکھے۔ اﷲ تعالیٰ جب اعضاء سے پاک ہے تو حقیقی معنی کے لحاظ سے اﷲ تعالیٰ کو ناظر کہنا ممکن ہی نہیں، اسی وجہ سے لاینظر الیہم یوم القیمۃ کی تفسیر علامہ آلوسی نے روح المعانی میں یوں کی

لایعطف علیہم ولایرحم

کہ اﷲ تعالیٰ کفار پر مہربانی اور رحم نہیں فرمائے گا۔

مقام توجہ

جب اﷲ تعالیٰ کو حقیقی معنی کے لحاظ سے حاضر وناظر کہنا ہی ممکن نہیں تو واویلا کس بات کا کہ حضورﷺ کو حاضر وناظر ماننے سے شرک لازم آئے گا۔ میں تو اکثر کہتا ہوں کہ ہمارے اﷲ تعالیٰ کی شان بہت بلند وبالا ہے۔ ہم نبی کریمﷺ کو اﷲ تعالیٰ کا بندہ اور مخلوق اور رب کریم کا محتاج سمجھ کر جتنی بھی آپ کی تعریف کریں، اﷲ تعالیٰ سے برابری لازم نہیں آئے گی کیونکہ وہ معبود، خالق اور غنی ہے۔

ہاں ان کو فکر ہوسکتی ہے جن کے نزدیک خدا کا علم محدود ہے وہ معاذ اﷲ مخلوق اور محتاج ہے۔ یقیناًان کے نزدیک نبی کریمﷺ کی زیادہ شان ماننے سے اﷲ تعالیٰ کی برابری لازم آئے گی۔ لیکن بفضلہ تعالیٰ ہمیں کوئی فکر نہیں کیونکہ ہمارا اﷲ تعالیٰ وہ ہے جس کے متعلق شیخ سعدی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’برتر از خیال اوقیاس و گمان وہم‘‘ اﷲ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جو خیال و قیاس و گمان و وہم سے بالاتر ہے۔

اب فرق واضح ہوا کہ اﷲ تعالیٰ مکان، جسم، ظاہر طور پر نظر آنے، حواس سے مدرک ہونے کے بغیر ہر جگہ موجود ہے جو اس کی شان کے لائق ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے وہ حاضر ہے اور اپنے بندوں پر رحمت و مہربانی کرنے کے لحاظ سے وہ ناظر ہے۔ نبی کریمﷺ اپنے مزار شریف میں اپنی جسمانیت کے ساتھ موجود ہیں ۔آپ کی امت اور اس کے اعمال و احوال آپ کے سامنے ہیں۔ آپ اپنے حواس سے امت کے اعمال و احوال کو ادراک کررہے ہیں۔

اگر نبی کریمﷺ کی شان ناپسند ہو تو اس کا علاج تو کچھ نہیں ورنہ روز روشن کی طرح عیاں ہوا کہ جسم، مکان، حدوث و امکان حواس میں آنے اور حواس کے ذریعے ادراک کرنے سے پاک ذات اور جسم، مکان، حدوث، امکان حواس میں آنے اور حواس سے ادراک کرنے کی محتاج ذات میں کوئی محتاج برابری کا ذرہ بھر بھی تماثل نہیں۔