فتنہ گوہریہ بہت خطرناک فتنہ ہے۔ اس فتنے کا بانی ریاض احمد گوہر شاہی ہے۔ گوہر شاہی نے اس فتنے کا آغاز اپنی انجمن سرفروشان اسلام کے نام سے کیا۔ فتنہ گوہریہ دین کے خادموں کا کوئی گروہ نہیں بلکہ ایمان کے رہزنوں کا سفید پوش دستہ ہے جو عشق و عرفان کی متاع عزیز پر شب خون مارنے اٹھا ہے۔ ان کے مصنوعی تصوف اور بناوٹی روحانیت کے پیچھے خوفناک درندوں کا ارادہ چھپا ہوا ہے۔
اس فرقے کا طریقہ واردات اس لحاظ سے بہت پراسرار اور خطرناک ہے کہ نہ صرف اہلسنت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب علیہ الرحمہ کی اتباع اور عقیدت کا بھی دم بھرتے ہیں۔ فتنہ گوہریہ کے پیرو اہلسنت کو بدنام کرنے اور نوجوانوں کو راہ حق سے بہکانے کے لئے اہلسنت کا لیبل لگا کر مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔
گوہر شاہی نے اپنی گمراہی ان تینوں کتابوں میں تحریر کی ہیں جن کے نام ’’روحانی سفر‘ روشناس اور مینارہ نور‘‘ وغیرہ ہیں۔ اب آپ کے سامنے ان کتب کی عبارات ثبوت کے ساتھ پیش کی جارہی ہے۔
گوہر شاہی اور اس کے معتقدین کے عقائد و نظریات
عقیدہ: نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ‘ حج کو اسلام کے وقتی رکن کہا گیا ہے کہ روزانہ پانچ ہزار مرتبہ عوام‘ پچیس ہزار مرتبہ امام اور بہتر ہزار مرتبہ اولیاء کرام کو ذکر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ہر درجہ کے ذکر کے بغیر نماز بے فائدہ ہے۔ اگرچہ سجدوں سے کمر کیوں نہ ٹیڑھی ہوجائے (بحوالہ: کتاب‘ روشناس صفحہ نمبر 3)
عقیدہ: پیرومرشد ہونے کے لئے عجیب وغریب شرط قائم کی ہے اگر زیادہ سے زیادہ سات دن میں ذاکر قلبی نہ بنادے تو وہ مرشد ناقص ہے اور اس کی صحبت اپنی عمر عزیز برباد کرنا ہے (بحوالہ کتاب: روشناس صفحہ نمبر 6)
عقیدہ: حضرت آدم علیہ السلام نفس کی شرارت سے اپنی وراثت یعنی جنت سے نکال کر عالم ناسوت میں جو جنات کا عالم تھا‘ پھینکے گئے (معاذ اﷲ) (بحوالہ کتاب: روشناس صفحہ 8)
عقیدہ: حضرت آدم علیہ السلام پر یوں بہتان باندھا ہے کہ آپ نے جب اسم محمدﷺ اﷲ تعالیٰ کے نام کے ساتھ لکھا دیکھا تو خیال ہوا کہ یہ محمدﷺ کون ہیں۔ جواب آیا کہ تمہاری اولاد میں سے ہوں گے۔ نفس نے اکسایا کہ یہ تیری اولاد میں ہوکر تجھ سے بڑھ جائیں گے۔ یہ ’’بے انصافی‘ٍ ہے۔ اس خیال کے بعد آپ کو دوبارہ سزا دی گئی (معاذ اﷲ) (بحوالہ کتاب: روشناس صفحہ نمبر 9)
عقیدہ: قادیانیوں اور مرزائیوں کو مسلمان کہا ہے۔ البتہ جھوٹے نبی کو مان کر اصلی نبی کی شفاعت سے محروم کہا ہے (بحوالہ کتاب: روشناس صفحہ نمبر 10)
عقیدہ: اﷲ تعالیٰ کا خیال ثابت کرکے اس کے علم کی نفی کی ہے۔ ایک دن اﷲ تعالیٰ کے دل میں خیال آیا کہ میں خود کو دیکھوں‘ سامنے عکس پڑا تو ایک روح بن گئی۔ اﷲ اس پر عاشق اور وہ اﷲ پر عاشق ہوگئی (معاذ اﷲ) (بحوالہ کتاب: روشناس صفحہ نمبر 20)
عقیدہ: حضرت آدم علیہ السلام کی شدید ترین گستاخی اور اخیر میں ان پر شیطانی خور ہونے کا الزام لگایا ہے (معاذ اﷲ) (بحوالہ کتاب: مینارہ نور صفحہ نمبر8)
عقیدہ: ذکر کو نماز پر فضیلت دی۔ ذکر کا نیا طریقہ نکالا اور قرآنی آیات کے مفہوم کو بگاڑ کر اپنے باطل نظریہ پر استدلال کیا ہے (بحوالہ کتاب: مینارہ نور صفحہ نمبر 17)
عقیدہ: جب تک حضورﷺ کی زیارت کسی کو نصیب نہ ہو اس کا امتی ہونا ثابت نہیں (بحوالہ کتاب: مینارہ نور صفحہ نمبر 24)
عقیدہ: قرآن مجید کی آیت کا جھوٹا حوالہ دیا گیا ہے کہ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے بار بار ’’دع نفسک و تعالیٰ‘‘ فرمایا ہے حالانکہ پورے قرآن مجید میں کہیں بھی اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان وارد نہیں ہوا (معاذ اﷲ) بحوالہ کتاب: مینارہ نور صفحہ نمبر 29)
عقیدہ:
علماء کی شان میں شدید ترین گستاخیاں کی گئی ہیں ایک آیت جوکہ یہود سے متعلق ہے‘ اسے علماء و مشائخ پر چسپاں کیا ہے (معاذ اﷲ) (بحوالہ کتاب: مینارہ نور صفحہ نمبر 30,31)
عقیدہ: حضرت خضر علیہ السلام اور ان کے علم کی توہین کی گئی ہے (بحوالہ کتاب: مینارہ نور صفحہ نمبر 35)
عقیدہ: انبیاء کرام علیہم السلام دیدار الٰہی کو ترستے ہیں اور یہ (اولیاء امت) دیدار میں رہتے ہیں۔ ولی نبی کا نعم البدل ہے (معاذ اﷲ) (بحوالہ کتاب: مینارہ نور صفحہ نمبر 39)
گوہر شاہی اپنی کتاب روحانی سفر کے صفحہ نمبر 49 تا 50 پر رقم طراز ہے۔
عبارت: اتنے میں اس نے سگریٹ سلگایا اور چرس کی بو اطراف میں پھیل گئی اور مجھے اس سے نفرت ہونے لگی۔ رات کو الہامی صورت پیدا ہوئی۔ یہ شخض (یعنی چرسی) ان ہزاروں عابدوں‘ زاہدوں اور عالموں سے بہتر ہے جو ہر نشے سے پرہیز کرکے عبادت میں ہوشیار ہیں لیکن بخل‘ حسد اور تکبر ان کا شعار ہے اور (چرس کا) نشہ اس کی عبادت ہے)
(معاذ اﷲ! بالکل ہی واضح طور پر نشہ کو صرف حلال ہی نہیں بلکہ عبادت ٹھہرایا جارہا ہے)
ریاض احمد گوہر شاہی کے نزدیک نماز اور درود شریف کی کوئی خاص اہمیت معلوم نہیں ہوتی
جیسا کہ روحانی سفر ص3پر اپنے بارے میں لکھتا ہے:
عبارت… اب گولڑہ شریف صاحبزادہ معین الدین صاحب سے بیعت ہوا۔ انہوں نے نماز کے ساتھ ایک تسبیح درود شریف کی بتائی۔ میں نے کہا اس سے کیا ہوتا ہے‘ کوئی ایسی عبادت ہو جو میں ہر وقت کرسکوں (یعنی (معاذ اﷲ) نماز اور درود شریف سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا)
گوہر شاہی نے جو روحانی منازل طے کئے ہیں ان میں عورتوں کا بھی بہت زیادہ دخل ہے۔ نہ شرم‘ نہ حیا۔ اس کے روحانی سفر میں ایک مستانی کا خصوصیت کے ساتھ دخل ہے۔
عبارت… میں دن کو کبھی کبھی اس عورت کے پاس چلا جاتا‘ وہ بھی عجیب و غریب فقر کے قصے سناتی اور کبھی کھانا بھی کھلا دیتی (بحوالہ : روحانی سفر ص 34)
عبارت… کہنے لگی آج رات کیسے آگئے۔ میں نے کہا پتہ نہیں۔ اس نے سمجھا شایدآج کی ادائوں سے مجھ پر قربان ہوگیا ہے اور میرے قریب ہوکر لیٹ گئی اور پھر سینے سے چمٹ گئی (بحوالہ کتاب: روحانی سفر ص 32)
کیا اس سے زیادہ دلیری کے ساتھ کوئی دشمن اسلام دین متین کے چہرے کو مسخ کرسکتا ہے۔ کیا شریعت مطہرہ کی تنقیص کے لئے اس سے بھی زیادہ شرمناک پیرایہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کیا اپنے مذہب‘ اپنے دین‘ اپنے عقائد کا اس طرح سے خون کرنے والا یہ شخص مذہبی رہنما ہوسکتا ہے؟
آج کل گوہر شاہی کے چیلوں نے ’’مہدی فائونڈیشن‘‘ کے نام سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ جماعت دوبارہ سرگرم ہورہی ہے۔ اس کے کارکنان دنیا بھر میں ای میل اور خطوط کے ذریعہ خباثتیں پھیلا رہے ہیں۔ اس طرح گوہر شاہی کی فتنہ انگیز جماعت دوبارہ سرگرم ہوگئی ہے۔