تحقیقات اعلیٰ حضرت کی روشنی میں عورتوں کی مزارات پر حاضری؟

in Tahaffuz, June 2010, آپ کے مسا ئل کا شر عی حل, سید خرم ریاض رضوی

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد دین و ملت شاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی تعلیمات اقوام عالم کے لئے مشعل راہ سے کم نہیں کیونکہ آپ نے اپنی سینکڑوں تصنیفات میں دینیات کے ساتھ ساتھ سیاسیات‘ معاشیات‘ و عمرانیات سمیت حیات انسانی کی فلاح و نجات کے متعدد پہلو اجاگر کئے ہیں۔ فاضل بریلوی کا زمانہ مسلمانوں کا نظریاتی اور ریاستی انحطاط کا دور تھا۔ دنیا بھر میں مسلمان مطعون و مظلوم تھے۔ گویا مسلمان ہونا دشنام سے کم نہ تھا۔ آشوب کی اس گھڑی میں حضرت امام احمد رضا نے اپنی فکری اصابت‘ خاندانی وجاہت‘ علمی لیاقت اور فقیہانہ تدبر کے ساتھ نہ صرف مذہب اسلام کا پرچم بلند کیا بلکہ حقائق سے مفرور اور حالات سے مایوس قوم مسلم میں جینے کی ایک نئی امنگ پیدا کردی۔ مسلمانوں کے دل و دماغ میں محبت رسولﷺ کی شمع فروزاں کرکے حرماں نصیبی اور حسرت ویاس کے اندھیرے دور کردیئے۔ مسلمانان ہند کو بطور خاص اپنا دینی تشخص نمایاں کرنے کی عملی تدبیریں بتائیں۔ غیر مسلم اقوام کے ساتھ مذہبی و سماجی اختلاط کے نقصانات واضح کئے۔ دشمنان اسلام کی مکروہ سازشوں کو طشت ازبام کیا۔ اہل ایمان کو بڑی دردمندی کے ساتھ ایمانیات سے آگاہ کیا۔ انہیں فرائض و واجبات سے لے کر سنن و مستحباب اور عقیدہ و نظریہ سے لے کر قول وفعل تک ہر پہلو خوب خوب سمجھادیا۔ انہوں نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعہ اسلامی معاشرہ میں پیدا ہونے والی بدعتوں اور غیر شرعی رسوم و رواج کا شدت سے رد کیا۔
آپ کے فتاویٰ نے ہر ایسی بات کی اصلاح کی جو کسی بھی قسم کی قباحت و گناہ کی باعث بن سکتی تھی۔ اختلافی نوعیت کے مسائل میں بھی آپ نے ہمیشہ اجل فقہاء اور اکابر محققین کا رستہ اختیار کیا۔ جس وجہ سے آپ کا قلم افراط و تفریط سے محفوظ رہا اور آپ کو کبھی اپنے کسی فتوے سے رجوع نہ کرنا پڑا اور نہ ہی آپ کی تحریر کی تغلیظ ہوسکی۔ زیر نظر مضمون مزارات پر عورتوں کی حاضری اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی کتاب ’’جمل النور‘‘ سے ماخوذ ہے جس میں آپ نے ایسے لوگوں کی اصلاح فرمائی ہے جو مزارات پر عورتوں کی حاضری اور مزارات پر عورتوں کے حلقہ ذکر و توجہ کے قائل ہیں اور اپنی دانست میںدلیلیں بھی وضع کرتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے ایسے حضرات کے تمام اقوال کا نہایت تسلی بخش جواب تحریر فرماتے ہوئے اہل اسلام کو یوں نصیحت فرمائی۔
نظر بحالات نساء (عورتوں کے حالات دیکھتے ہوئے) سوائے حاضری روضۂ انور (سید ابرارﷺ) کہ واجب یا قریب بواجب ہے۔ مزارات اولیاء یا دیگر قبور کی زیارت کو عورتوں کا جانا باتباع غنیۃ علامہ محقق ابراہیم حلبی ہرگز پسند نہیں کرتا۔ خصوصا اس طوفان بے تمیزی رقص و مزامیر و سرور (ڈانس‘ گانا‘ باجا وغیرہ) میں جو آج کل جہال نے اعراس طیبہ میں برپا کررکھا ہے اس کی شرکت میں تو عوام رجال کو بھی پسند نہیں رکھتا۔ یعنی ڈھول باجے‘ تاشے والے عرسوں میں عورتیں تو عورتیں امام اہل سنت مردوں کا جانا بھی پسند نہیں فرماتے۔ اس ضمن میں ایک تفصیلی سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت نے ایک تفصیلی فتویٰ ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ زمانہ نبوی میں عورتوں کو مسجد میں آنے‘ عیدین کی نماز میں حاضر ہونے کی اجازت تھی لیکن بعد ازاں یہ اجازت اٹھالی گئی جیسا کہ در مختار میں ہے۔
یکرہ حضور ہن الجماعۃ والجمعۃ وعید ووعظ مطلقا ولوعجوزا لیلا علی المذہب المفتی بہ لفساد الزمان
جماعت میں عورتوں کی حاضری اگرچہ جمعہ عید اور وعظ کے لئے ہو‘ مطلقا مکروہ ہے۔ اگرچہ بوڑھی عورت رات کو جائے یہی وہ مذہب ہے جس پر فساد زمانہ کے باعث فتویٰ ہے۔ صحیح البخاری و مسلم شریف کی حدیث ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے بھی اس فتویٰ کی تائید ہوتی ہے۔
لو ادرک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مااحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل
اگر نبیﷺ ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں تو ضرور انہیں مسجد سے منع فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ تابعین کے زمانہ سے ہی ائمہ دین نے (مسجد میں آنے سے) مخالفت شروع فرمادی۔ پہلے جوان عورتوں کو پھر بوڑھیوں کو بھی حالانکہ وہ زمانہ صالحات کا زمانہ تھا۔ فیوض و برکات کا زمانہ تھا اور اب العیاذ باﷲ بلکہ عنایہ امام اکمل الدین میں ہے کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے عورتوں کو مسجد سے منع فرمایا۔ وہ ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے پاس شکایت لے گئیں۔ فرمایا
لو علم النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ماعلم عمر ما اذن لکن فی الخروج
اگر نبیﷺ یہ دیکھتے جو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے دیکھا تو وہ بھی تمہیں مسجد جانے کی اجازت نہ دیتے۔ یہی امام اکمل الدین فرماتے ہیں
فافتح بہ علماونا ومنعوا الشواب عن الخروج مطلقا اما العجائز فمنعھن ابو حنیفۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ عن الخروج فی الظہر والعصر دون الفجر والمغرب والعشاء والفتویٰ الیوم علی کراہۃ حضور ہن فی الصلوات کلھا لظہور الفساد
اسی سے ہمارے علماء نے استدلال کیا اور جو ان عورتوں کو جانے سے مطلقا منع فرمادیا۔ رہ گئیں بوڑھی عورتیں ان کے لئے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ نے ظہر و عصر میں جانے سے ممانعت فرمائی اور فجر‘ مغرب اور عشاء میں اجازت رکھی اور آج فتویٰ اس پر ہے تمام نمازوں میں بھی ان کی بھی حاضری منع ہے۔ اس لئے کہ خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں۔
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔
عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ اﷲ عزوجل سے قریب اس وقت ہوتی ہے جب اپنے گھر کی تہہ میں ہوتی ہے اور جب باہر نکلے شیطان اس پر نگاہ ڈالتا ہے اور حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما جمعہ کے دن کھڑے ہوکر کنکریاں مار کر عورتوں کو مسجد سے نکالتے اور امام ابراہیم نخعی تابعی استاذ الاساتذہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنی مستورات کو جمعہ و جماعات میں نہ جانے دیتے۔ مذکورہ بالا احادیث و اقوال فقہاء بیان کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
جب ان خیر کے زمانوں ان عظیم فیوض و برکات کے وقتوں میں عورتیں منع کردی گئیں‘ اور کاہے سے‘ حضور مساجد وشرکت جماعات سے‘ حالانکہ دین متین میں ان دونوں (مسجد میں جانا اور نماز باجماعت) کی شدید تاکید ہے تو کیا ان منہ شرور (برے دور) میں ان قلیل یا موہوم (خیالی) فیوض کے حیلے سے عورتوں کی اجازت دی جائے گی؟ وہ بھی کاہے کی زیارت‘ قبور کو جانے کی۔
جو شرعا موکد (تاکید کیا گیا) نہیں اور خصوصا ان میلوں ٹھیلوں میں جو خدا ناترسوں (خدا سے نہ ڈرنے والوں) نے مزارات کرام پر نکال رکھے ہیں۔ یہ کس قدر شریعت مطہرہ سے منافقت ہے۔ آگے بڑھ کر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی سے نقل فرماتے ہیں۔
سئل القاضی عن جواز خروج النساء الی المقابر قال لایسال عن الجواز والفساد فی مثل ہذا وانما یسال عن مقدار ما یلحقہا عن اللعن فبہا واعلم انہا کلما قصدت الخروج کانت فی لعنۃ اﷲ وملائکتہ واذا خرجت تحفہا الشیاطین من کل جانب واذا اتت القبور یلعنھا روح المیت واذا رجعت کانت فی لعنۃ اﷲ
یعنی امام قاضی سے استفتاء ہوا کہ عورتوں کا مقابر کو جانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: ایسی جگہ جواز و عدم جواز نہیں پوچھتے‘ یہ پوچھو کہ اس میں عورت پر کتنی لعنت پڑتی ہے‘ جب گھر سے قبور کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہے اﷲ اور فرشتوں کی لعنت میں ہوتی ہے۔ جب گھر سے باہر نکلتی ہے سب طرفوں سے شیطان اسے گھیر لیتے ہیں۔ جب قبر تک پہنچتی ہے میت کی روح اس پر لعنت کرتی ہے جب واپس آتی ہے اﷲ کی لعنت میں ہوتی ہے۔
امام احمد رضا کی ان تحقیقات سے خوب روشن ہوگیا کہ عورتوں کو مسجد میں جاکر نماز پڑھنا ممنوع ہے تو بھلا کسی مزار و قبرستان میں جانا کیسے جائز ہوگا؟ عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکنے کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت نے الاصبتہ فی تمییز الصحابۃ سے ایک نصیحت آموز روایت اس طرح بیان فرمائی:
حضرت سیدنا زبیر بن العوام رضی اﷲ عنہ نے اپنی زوجہ مقدسہ صالحہ‘ عابدہ‘ زاہدہ‘ تقیہ‘ نقیہ‘ حضرت عاتکہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو اس معنی پر (یعنی مسجد میں جاکر نماز پڑھنا) عملی طور سے متنبہ کرکے حاضری مسجد کریم مدینہ طیبہ سے باز رکھا۔ ان پاک بی بی کو مسجد کریم سے عشق تھا (حضرت زبیر بن العوام) منع فرماتے وہ نہ مانتیں۔ ایک روز انہوں نے یہ تدبیر کی کہ عشاء کے وقت اندھیری رات میں ان کے جانے سے پہلے راہ میں کسی دروازے میں چھپ رہے‘ جب یہ آئیں اس دروازے سے آگے بڑھی تھی کہ انہوں نے نکل کر پیچھے سے ان کے سر مبارک پر ہاتھ مارا اور چھپ رہے۔ حضرت عاتکہ نے کہا انا ﷲ فسد الناس ہم اﷲ کے لئے ہیں‘ لوگوں میں فساد آگیا۔ یہ فرما کر مکان کو واپس آئیں اور پھر جنازہ ہی نکلا۔ تو حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے انہیں یہ تنبیہ فرمائی کہ عورت کیسی ہی صالحہ ہو‘ اس کی طرف سے اندیشہ ہی سہی فاسق مردوں کی طرف سے اس پر خوف کا کیا علاج…!
یہاں اس امر کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ عورت شرعا کس وقت گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔ تو اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی امام فقیہ ابواللیث وفتاویٰ خلاصہ و فتح القدیر وغیرہا سے نقل فرمودہ یہ نص کافی و وافی ہے۔
یجوز للخروج ان یاذن لھا بالخروج الی سبعۃ مواضع ازا استا ذنتہ زیارۃ الا بوین وعیادتھا وتعزیتھما او احدھما وزیارۃ المحارم فان کانت قابلۃ اوغاسلۃ او کان لہا علی اخر حق او کان لاخر علیہا حق تخرج بالاذن ولغیر الاذن والحج علی ہذا وفیما عدا ذلک من زیارۃ الاجانب وعیادتہم والولیمۃ لایاذن لہا لو اذن وخرجت کانا عاصیین
شوہر عورت کو سات مقامات میں نکلنے کی اجازت دے سکتا ہے
(۱) ماں باپ دونوں یا کسی ایک کی ملاقات
(۲) ان کی عیادت
(۳) ان کی تعزیت
(۴) محارم کی ملاقات
(۵) اور اگر دایہ ہو
(۶) یا مردہ کو نہلانے والی ہو
(۷) یا اس کا کسی دوسرے پر حق ہو یا دوسرے کا اس کے اوپر حق ہو تو اجازت سے اور بلا اجازت دونوں طرح جاسکتی ہے۔
حج بھی اسی حکم میں ہے۔ اس کے علاوہ صورتیں جیسے اجنبیوں کی ملاقات‘ عیادت‘ اور ولیمہ ان کے لئے شوہر اجازت نہ دے اور اگر اجازت دی اور عورت گئی تو دونوں گنہ گار ہوں گے۔
مذکورہ بالا عبارت پر گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت ارشاد فرماتے ہیں۔ تمام نصوص کہ ہم نے ذکر کئے اسی طرف جاتے ہیں (یعنی عورت زیارت قبر کے لئے گھر سے نہ نکلے) (البتہ) اگر قبر گھر میں ہو یا عورت مثلا حج یا کسی سفر جائز کو گئی راہ میں کوئی قبر ملی‘ اس کی زیارت کرلی بشرطیکہ جزع وفزع و تجدید حزن و بکا و نوحہ و افراط و تفریط ادب (یعنی رونا‘ چلانا‘ پیٹنا‘ غم تازہ کرنا‘ قبر کی بے ادبی کرنا یا حد سے گزرنا) وغیرہا منکرات شرعیہ (شریعت نے جن باتوں سے روکا ہو) سے خالی ہو کشف بزدوی میں جن روایات سے صحت رخصت پر استناد فرمایا ان کا مفاد اسی قدر ہے۔
اگلے صفحہ پر ارشاد فرماتے ہیں
پھر نفس زیارت قبر جس کے لئے عورت کا خروج نہ ہو اس کا جواز بھی عند التحقیق فی نفسہ ہے کہ جن شروط مذکورہ سے مشروط ان کا اجتماع نظر بعادت زنان نادر ہے اور نادر پر حکم نہیں ہوتا۔ تو سبیل اسلم اس سے بھی روکنا ہے (مطلب یہ کہ ایسی زیارت قبر جس کے لئے عورت کو نکلنا نہ پڑے‘ نادر ہے‘ یعنی یہ نہ ہونے کے برابر ہے‘ لہذا سلامتی والا راستہ یہی ہے کہ اس سے بھی روکا جائے)
نفس مسئلہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بحر الرائق سے درج ذیل نص نقل فرماتے ہیں
لاینبغی للنساء ان یخرجن فی الجنازۃ لان النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نہا ہن عن ذلک وقال انصر فن مازورات غیر ماجورات
عورتوں کو جنازے میں نہ جانا چاہئے اس لئے کہ نبیﷺ نے ان کے لئے اس سے ممانعت کی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر جائیں تو ثواب سے خالی گناہ سے بھاری ہوکر پلٹیں گی (اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں) اتباع جنازہ کہ فرض کفایہ ہے جب اس کے لئے ان کا خروج ناجائز ہو تو زیارت قبور کہ صرف مستحب ہے اس کے لئے کیسے جائز ہوسکتا ہے۔
امام احمد رضا خان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس تحقیق انیق سے یہ امر آفتاب نیم روز سے بڑھ کر آشکار و ضیاء بار ہوا کہ عورتوں کو قبرستان و مزارات پر جانا جائز نہیں بالخصوص آج کل کی بدنگاہی اور شرپسندی جیسے فتنوں کے ہوتے ہوئے خواتین کو ضرور احتراز کرنا چاہئے۔ ہم یہ تحریر ختم کرنے سے پہلے سیدی امام اہل سنت کے اسی رسالہ مبارکہ سے سیدنا امام عبدالوہاب شعرانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا ایک قول زیب قرطاس کرنا چاہیں گے جو انہوں نے میزان الشریعۃ الکبریٰ میں رقم فرمایا
اہل باطن کا اس پر اجماع ہے کہ داعی الی اﷲ کے لئے مرد ہونا شرط ہے اور ہمیں ایسی کوئی روایات نہیں ملی کہ سلف صالحین کی مستورات میں سے کوئی خاتون تربیت مریدین کے لئے کبھی صدر نشین ہوئی ہو۔ وجہ یہ ہے کہ عورتیں مرتبہ میں ناقص ہیں اور بعض خواتین مثلا حضرت مریم بنت عمران اور حضرت آسیہ زوجہ فرعون کے بارے میں جو کامل ہونے کا ذکر آیا ہے تو یہ کمال تقویٰ اور دین داری کے لحاظ سے ہے۔ لوگوں کے درمیان حاکم ہونے اور انہیں ولایت کے مقامات طے کرانے کے لحاظ سے نہیں… عورت کی غایت شان یہ ہے کہ عابدہ‘ زاہدہ ہو‘ جیسے رابعہ عدویہ رضی اﷲ عنہا‘ واﷲ سبحنہ و تعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم