قدوۃ السالکین سراج العاشقین سید الاولیاء سند الاتقیا قطب زمان حضرت بابا میاں چنوں سہروردی علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, June 2010, ثناء شکور قادری (نمائندہ میاں چنوں), د ر خشا ں ستا ر ے

اسم گرامی: چنوں میاں
عہد حیات آپ کی ولادت ۵۸۵ھ ‘ ۱۱۸۷ء وفات ۹ ساون ۶۴۵ھ ‘ ۱۲۴۷ء ہے۔
چنوں میان علاقہ جھنگ میں پیدا ہوئے اور خاندان کے ساتھ نقل مکانی کرکے قلعہ قلمبہ کے علاقہ میں آکر آباد ہوئے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب سلطان شہاب الدین غوری نے ملتان پر قبضہ کیا اور حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ نے مثنوی منطق الطیر 585 بمطابق 1187ء لکھی۔ علاقہ قلمبہ میں چنوں میاں کی دوستی مجید جنجوعہ موجودہ حاجی پکا مجید رحمتہ اﷲ علیہ سے ہوگئی۔ دونوں دوست ایک دن گھوڑوں پر سوار جارہے تھے کہ ان کی نظر بوہڑ کے درخت کے نزدیک بیٹھے لوگوں پر پڑی۔ دونوں دوست وہاں جاکر بیٹھ گئے۔ پتا چلا کہ یہ غوث بہائو الدین ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ ہیں جو اپنے دوست بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ سے ملاقات کرکے واپس ملتان جارہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد غوث بہائو الدین ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ نے پانی طلب کیا مگر قافلہ میں موجود مشکیزہ خالی تھا۔ مجید جنجوعہ اور چنوں میاں مسافر کی تواضع کے جذبہ کے تحت پانی لینے گئے ان دنوں دریا بیاس شہر کے جنوب میں بہتا تھا‘ پانی لے کر دونوں دوست واپس آئے مگر غوث بہائو الدین ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ جاچکے تھے۔
دونوں کو دلی افسوس ہوا۔ دونوں قدموں کے نشان پر ان کے پیچھے چل پڑے کافی دیر کے بعد دور دیکھا کہ غوث بہائو الدین ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ ایک ٹیلہ پر تشریف فرما ہیں اور ساتھ ہی پانی کا چشمہ جاری ہے۔ یہ کرامت دیکھ کر دونوں دوست دوڑ کر گئے۔ چنوں میاں نے پانی پیش کیا۔ غوث بہائو الدین ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ نے چنوں میاں کو سینے سے لگایا۔ مرید کیا اور روحانی طور سے قطب کے درجہ پر پہنچا دیا اور حضرت بابا میاں چنوں رحمتہ اﷲ علیہ کو دین اسلام کی تبلیغ کا کام سونپا۔ بابا میاں چنوں رحمتہ اﷲ علیہ عشق الٰہی میں ایسے محو ہوئے کہ دنیا بھول گئے۔ سلطان التمش نے 26 سال حکومت کرکے 30 اپریل1235ء 14 ماہ شعبان 633ھ کو وفات پائی۔ سلطان التمش غوث بہائو الدین ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ کے گہرے دوست تھے۔ انہی دنوں حضرت غریب نواز خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اﷲ علیہ نے وصال فرمایا۔ غوث بہائو الدین ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے بہت سے خلفاء حضرات کو لے کر بابا میاں چنوں رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس تشریف لائے اور آپکو لے کر انڈیا اجمیر شریف حاضری دی اور یہ سب دہلی گئے وہاں مسجد قنبتہ الاسلام کے شمالی کونے میں دفن سلطان التمش کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر واپس آئے۔ حضرت بابا میاں چنوں رحمتہ اﷲ علیہ کی تبلیغ دین سے یہ سرزمین جہاں کفر و شرک کا غلبہ تھا‘ توحید پرستوں کی آماج گاہ بن گئی۔  آپ نے تمام عمر دین اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کردی تھی۔ آپ نے تمام عمر عشق الٰہی میں گزاردی۔ مجاہدوں اور ریاضتوں کے باعث بابا میاں چنوں جسمانی طور سے بہت کمزور ہوگئے اور اپنے مرشد پاک کی زندگی میں ہی اپنے مالک حقیقی کو 9 ساون 645ھ بمطابق 1247ء بوقت عصر جاملے۔ یہ زمانہ تھا جب سلطان ناصر الدین محمود نے 7 ساون 1247ء کو منگولوں پر حملے کئے۔ حضرت بابا میاں چنوں رحمتہ اﷲ علیہ کی نماز جنازہ خود غوث بہائو الدین ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ نے پڑھائی جس میں ہزاروں مسلمانوں ہندوئوں سکھوں نے شرکت کی۔ غوث بہائو الدین ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ یہ ہمارا مرید اس جہاں میں بھی قطب ہے اور اگلے جہاں میں بھی قطب ہے۔ اس کے مزار پر آنے والا بامراد ہوگا۔ 786سال گزرنے کے باوجود آج بھی آپ کے دربار سے لوگ بامراد ہوکر جاتے ہیں۔
کرامات
حضرت بابا میاں چنوں رحمتہ اﷲ علیہ سے بے شمار کرامات ظہور پذیر ہوئیں اور ہوتی رہیں گی۔ انگریز نے جب 1910ء میں ریلوے اسٹیشن پر شہر کے امیر ترین شخص اجل سنگھ کا بورڈ لگایا تو قدرتی طور پر بورڈ پر بابا میاں چنوں رحمتہ اﷲ علیہ لکھا گیا۔ بار بار نگرانی کی گئی مگر ہر دفعہ ویسا ہی ہوا۔ آخر اس شہر کا نام میاں چنوں رحمتہ اﷲ علیہ رکھا گیا۔ آپ کی دوسری کرامت جسم پر نکلنے والے مہکے ہیں۔ اس کے لئے منت مانی جاتی ہے اور منت پوری ہونے پر ایک جھاڑو ایک سیر نمک دربار شریف پر رکھا جاتا ہے۔ بوہڑ کے درخت کے نزدیک ایک کنواں تھا جس کے پینے سے نہانے والا ہر بیماری سے شفا پاتا مگر زمانہ کے ہیر پھیر نے یہ کنواں بند کردیا جو بہت بڑی نعمت تھی ماننے والوں کے لئے۔ صدیاں بیت گئی۔ ہزاروں آندھیاں آئی‘ ہزاروں طوفان گزرے‘ نہ جانے کتنے بادشاہ چلے گئے‘ زمانہ بدلتا رہے گا۔ 786 سال گزرنے کے باوجود دربار شریف ہر خاص و عام کے لئے فیض بخش رہا ہے بخشتا رہے گا مگر ہم نہ ہوں گے۔ عرس مبارک ہر سال 109 ساون کی 11 تاریخ کو ہوتا ہے۔ دربار شریف کا ہر کام جن میں سالانہ عرس لنگر شریف‘ دودھ کی سبیل ہر جمعرات کو محفل سماع دربار شریف پر مسجد کی تعمیر کا کام غلامان حضرت بابا میاں چنوں رحمتہ اﷲ علیہ نے خود سنبھالا ہوا ہے۔ اﷲ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
مخیر حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ مسجد دربار شریف میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اﷲ تعالیٰ آپ کو دنیا و آخرت میں جزا عطا فرمائے۔ آمین