ہر فضیلت کے جامع ہیں وہ نبوت کے سوا

in Tahaffuz, June 2010, د ر خشا ں ستا ر ے, مولانا محمد مہتاب عالم قادری

نحمدہ و نصلی ونسلم علی حبیبہ الکریم
اما بعد فاعوذ باﷲ من الشیطن الرجیم
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
امت کے بہترین افراد وہ ہوتے ہیں جو نبیﷺ کے صحابہ کہلاتے ہیں۔ جن کی نظروں کے سامنے نبیﷺ پر وحی اترتی ہے جو روز و شب معجزات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ نبیﷺ کی نگاہوں سے جن کی تربیت ہوتی ہے جن کی آنکھوں میں نبوت کا سراپا ‘ دلوں میں نبیﷺ کی سوچ اور سیرت میں نبیﷺ کا کردار ہوتا ہے۔
جس طرح حضورﷺ گروہ انبیاء میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اسی طرح حضور علیہ السلام کے صحابہ علیہم الرضوان کی کبھی کسی نبی کے اصحاب میں مثال نہیں ملتی۔ یوں تو سارے صحابہ ہی حضورﷺ کے پرستار تھے لیکن جانثاری کی جو مثال حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے قائم کی ہے‘ وہ تاریخ محبت میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔ صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول‘ بس یہ ان کی کتاب زندگی کا عنوان تھا اور ان کی پوری شخصیت اسی عنوان کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔
آئیں اب دیکھتے ہیں کہ امت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی حیثیت کیا ہے۔
صدیق اکبر رسول اﷲﷺ کی معیت
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہر جگہ حضورﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔ سفر ہو یا حضر جنگ ہو یا امن‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہمیشہ رسول اﷲﷺ کی مجلس میں حاضر رہے اور جو شخص سفر حیات میں کسی کے ہم رکاب ہوتا ہے اس کی روح بھی عالم ارواح میں اسی کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیونکہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا ہے ۔ الارواح جنود مجندہ اور جب صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ آقا ﷺکی معیت میں ساتھ ساتھ ہے تو ماننا پڑے گا کہ عالم ارواح میں قبر و حشر اور جنت میں بھی ایک ساتھ ہوں گے۔
اسم و لقب
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ رسول اﷲﷺ کے خلیفہ تھے۔ آپ کا اسم مبارک عبداﷲ تھا اور بعض کتابوں میں ہے کہ آپ کا نام عتیق تھا‘ مگر مشہور اور صحیح عبداﷲ اور مشہور بھی یہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ شب معراج سے واپس آتے وقت مقام ذی طویٰ پر پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا۔
اے جبرائیل! لوگ میری تصدیق نہ کریں گے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ آپ کی تصدیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کریں گے اور وہ صدیق ہیں۔ نزال بن اسبرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا کہ اے امیر المومنین ہمیں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے حال کی خبر دیجئے۔ آپ نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ وہ شخص ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے ان کا نام صدیق حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت رسول اﷲﷺ کی زبان فیض ترجمان سے جاری فرمایا۔
مولود اور جائے پیدائش
آپ حضور اکرمﷺ کے تولد ہونے کے دو سال چند ماہ کے بعد پیدا ہوئے۔ کیونکہ آپ جب فوت ہوئے تو آپ کی عمر مبارک63 برس تھی اور آپ نے مکہ مکرمہ میں نشوونما پائی اور سوائے ضرورت تجارت کے آپ کبھی مکہ مبارکہ سے باہر نہیں نکلے۔ آپ اپنی قوم میں بڑے مالدار اور صاحب مروت و احسان و فضل والے تھے۔ حضرت ابو نعیم نے بسند جید حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں ہی اپنے اوپر شراب حرام کرلی تھی۔ (تاریخ الخلفاء 45)
حلیہ مبارک
ابن سعد حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے یعنی اماں عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے عرض کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا حلیہ بیان فرمایئے۔ آپ نے فرمایا کہ آپ گورے رنگ والے جسم کے دبلے پتلے رخسار پر گوشت نہایت کم تھا۔ قد خمیدہ (یعنی آپ حیاء ووقار کے سبب سرنگوں رہتے تھے) تہہ بند آپ کا نہیں ٹھہرتا تھا۔ چہرے پر پسینہ رہتا‘ چہرے پر گوشت کم تھا۔ آنکھیں اندر کی جانب تھیں۔ انگلیوں کی جڑیں گوشت سے خالی تھیں‘ یہ آپ کا حلیہ ہے۔ اماں عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ آپ مہندی اور وسمہ لگایا کرتے تھے۔
قبول اسلام
صحابہ اور تابعین وغیرہم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے ایمان لائے ہیں بلکہ بعض نے اس پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے اور بعضوں نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے ایمان لائے اور بعض نے فرمایا حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اﷲ عنہا سب سے پہلے مشرف با اسلام ہوئیں‘ لیکن امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ نے اس کی سب سے پہلے کیا خوب تطبیق فرمائی کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ مردوں میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ لڑکوں میں اور حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اﷲ عنہا عورتوں میں سے پہلے ایمان انہوں نے لایا (رضی اﷲ عنہم وارضا عنہ)
ابوبکر رضی اﷲ عنہ اور ہم نشیبی مصطفیﷺ
علماء نے لکھا ہے کہ امیر المومنین اسلام لانے کے بعد سے آقا کی وفات تک آپ سے جدا نہیں ہوئے‘ نہ سفر میں نہ حضر میں بجز ان اوقات کے جس میں آپ علیہ السلام نے رخصت (اجازت) دی ہو مثلا حج‘ غزوہ وغیرہ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے خدائے مہربان اور رسول اﷲ ﷺکی محبت میں اپنے اہل و عیال مال و متاع کو ترک کیا۔
حضور علیہ السلام کے ہمراہ ہجرت کی ‘ غار میں آپ ہی حضورﷺ کے رفیق تھے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے کہ ثانی اثنین اذہما فی الغار اذ یقول لصاحبہ لاتحزن ان اﷲ معنا
ابویعلی‘ حاکم اور احمد حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن آقا کریم علیہ السلام نے مجھے اور حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ تم میں سے ایک کی مدد جبرائیل اور دوسرے کی میکائیل علیہم السلام کرتے ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی شجاعت
حضرت علی کرم اﷲ وجہ الکریم نے ایک دن لوگوں سے فرمایا مجھے بتائو کہ تمام لوگوں میں سے زیادہ شجاع کون ہے؟ لوگوں نے کہا آپ (اس پر) آپ نے فرمایا کہ میں تو صرف اس شخص سے لڑتا ہوں جو شجاعت اور بہادری میں میرا ہم پلہ ہو اور یہ کوئی شجاعت نہیں تم مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ شجاع کا نام بتائو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں۔ ایسا شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ شجاع ترین شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہیں (حوالہ تاریخ الخلفاء 50)
حضور اکرمﷺ پر اپنے مال کو خرچ کرنا
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ تمام جماعت صحابہ میں سب سے بڑ کر سخی تھے۔ خدائے مہربان نے ارشاد فرمایا۔ آپ کے حق میں کہ
وسیجنبھا الاتقی الذی یوتی مالہ یتزکی آخر سورہ تک
ابن جوزی کہتے ہیں کہ علماء کا اجماع ہے کہ آیت مبارکہ آپ ہی کے شان میں نازل ہوئی ہے۔ ترمذی میں ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آقا کریم علیہ السلام نے فرمایا جس کسی نے ہم پر احسان کیا ہے۔ ہم نے اس کا عوض (بدلہ) دیا مگر ابوبکر کے احسان ہم پر ہیں۔ ان کا بدلہ اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن دے گا اور جیسا نفع مجھے حضرت ابوبکر کے مال نے دیا ہے‘ ایسا کسی کے مال نے نہیں دیا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی فضیلت جماعت صحابہ پر
حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا حضور اکرمﷺ کے بعد اس امت میں سب سے بہتر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہیں اور پھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور امام ذہبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے درجہ تواتر (جو حدیث ہر دور میں اتنے کثیر طریق سے مروی ہو کہ ان روایت کا توافق علی الکذب عادۃ بحال ہو) کو پہنچی ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ رافضیوں پر لعنت کرے۔ وہ کیسے جاہل ہیں ملاحظہ ہو۔ (تاریخ الخلفاء 60)
اس حدیث بالا کی روشنی میں ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ خواہ مخواہ حضرات شیخین پر طعن و تشنیع کرتے ہیں کہ معاذ اﷲ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمر‘ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کا اختلاف حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے تھا۔ یہ محض افتراء ہے کہ آپ نے اوپر شان صدیق اکبر بزبان مولا علی پڑھی۔ واضح ہوکہ حضرات صحابہ کرام کا اختلاف آپس میں نہ تھا بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان آپس میں اس آیت کے مصداق تھے۔ کہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہما تو حضرات محترم ہمیںان لوگوں جوکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بغض و عداوت رکھتے ہیں اور جو صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے کسی کی شان بیان کرتے ہیں اور کسی کی شان گھٹاتے ہیں ان سے مراسم اٹھنا بیٹھنا دوستی اور ہر طرح کے تعلق و تعاون سے فی الفور اجتناب کرنا چاہئے اور ایک روایت میں کچھ اس طرح ہے کہ انبیاء اور مرسلین کے بعد کسی مسلمان پر آفتاب طلوع نہ ہوا جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے افضل ہو۔
شان صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بزبان قرآن
اب کچھ آیت کریمہ جوکہ قرآن میں آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شان میں اتری یعنی شان صدیق اکبر خود خدائے بزرگ و برتر بیان فرما رہا ہے۔
ثانی اثنین اذہما فی الغار اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اﷲ معنا (التوبہ 40)
والیل اذا یغشی سے ان سیعکم لشتی تک (پ 30)
وسیجنبھا الاتقی‘ الذی یوتی مالہ یتزکی (سورۃ الیل 18:17)
الا تنصر وہ فقد نصرہ اﷲ (التوبہ 40)
یہ چند آیتیں ہم نے اختصار کے پیش نظر یہاں درج کیں لیکن تفصیل کے لئے تاریخ الخلفاء مولف علامہ جلال الدین سیوطی بن عبدالرحمن نور اﷲ مرقدہ کا مطالعہ کریں تو سیر حاصل شان صدیقی صحیح اور واضح ہوگی انشاء اﷲ عزوجل
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نگاہ رسالت میں
صدیق اکبر کا ہر عمل اتباع رسول ہر سانس رضائے رسول میں صرف ہوتا تھا۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ آقا کی منشاء مزاج رسول میں ڈھلا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ آقا کریمﷺ نے صحابہ کرام کی مجلس سے اچانک سوال کیا کہ آج تم میں سے کون روزہ دار ہے؟ صدیق اکبر نے عرض کی‘ میں روزے سے ہوں۔ آقا ﷺنے فرمایا آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کون گیا؟ آپ نے عرض کی‘میں گیا تھا۔ آقا کریم علیہ السلام نے فرمایا کہ آج مسکین کو کھانا کس نے کھلایا؟ آپ نے عرض کی ‘میں نے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا کسی شخص میں یہ تمام اوصاف مجتمع نہیں ہوں گے مگر وہ جنتی ہوگا (مقالات سعیدی 153)
حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ہر نبی کے دو وزیر آسمان اور دو زمین والوں میں سے ہوتے ہیں اور میرے وزیر آسمان میں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائل علیہم السلام ہیں جبکہ زمین میں میرے وزیر حضرت سیدنا صدیق اکبر و حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں (تاریخ الخلفاء 65)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ نیک خصلتیں تین سو ساٹھ 360 ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ کیا مجھ میں بھی ان میں سے کوئی ایک (خصلت) ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا اے ابوبکر تمہیں مبارک ہو‘ کہ وہ خصلتیں سب کی سب تم میں موجود ہیں۔
مروی ہے کہ اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ایمان تمام جہانوں کے ایمان کے ساتھ (ماسوا انبیاء و رسل کے) وزن کیا جائے تو انہیں کا ایمان بھاری ٹھہرے گا (احیاء العلوم جلد سوم)
صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کا علم غیب
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے اماں عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ پاکیزہ رضی اﷲ عنہا سے اپنی وفات کے وقت فرمایا کہ تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں (اماں عائشہ اس وقت واحد بیٹی تھیں) آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ اس وقت حاملہ تھیں لیکن آپ کے وصال کے بعد آپ کے یہاں بیٹی پیدا ہوئی اور یہ بات آپ نے اپنے وصال اور بیٹی کے تولد سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہاں ان لوگوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہئے کہ جو علم مصطفی علیہ السلام پر اعتراض کرتے ہیں۔ عجب ہے کہ شان صدیقی تو خوب بیان کرتے ہیں لیکن شان مصطفی علیہ السلام پر ان کی زبانیں نہ صرف بند رہتی ہیں بلکہ شان بیان کرنے والوں پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ اﷲ ہمیں ایسوں سے بچائے رکھے آمین (حوالہ احیاء العلوم جلد سوم 48)
آپ کی خلافت کا تذکرہ قرآن میں
وعداﷲ الذین امنوا منکم وعملو الصٰلحٰت (الایہ)
کی تفسیر میں ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ آیت آپ کی خلافت پر منطبق ہے۔ علماء کرام کی ایک جماعت نے حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خلافت قرآن مجید سے مستنبط کی ہے۔ چنانچہ بیہقی رحمتہ اﷲ علیہ حسن بصری رضی اﷲ عنہ سے آیت یاایھا الذین امنوا من یرتدمنکم عن دینہ فسوف یاتی اﷲ بقوم یحبونہم ویحبونہ کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ قوم سے مراد صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ اور ان کے اصحاب ہیں کیونکہ جب عرب کے قبائل مرتد ہوگئے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ اور ان کے اصحاب نے ہی ان سے جنگ کی اور انہیں اسلام کی طرف واپس لائے۔
آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا کارنامہ زمانہ خلافت میں
یاد رہے کہ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خلیفہ اول بلا فصل تھے۔ آپ نے حضور علیہ السلام کے وصال پر جب امت منتشر ہونے لگی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے بکھری ہوئی امت کو مجتمع فرمایا۔ آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد چہار جانب فتنوں کے دروازے کھل گئے کچھ لوگ جو نومسلم  تھے اور ایمان ابھی ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا تھا‘ انہوں نے سوچا کہ اب تو اسلام ختم ہوجائے گا تو ایسے ایمان واسلام کی ہمیں کیا ضرورت ہے لہذا انہوں نے آپ مرتد ہونے کا صاف اعلان کردیا۔ دوسری جانب بعض قبیلے والوں نے مدینہ میں خبر بھیج دی کہ اب ہم زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ زکوٰۃ معاف کردی جائے۔ اس طرح مانعین زکوٰۃ ایک گروہ اٹھ کھڑا ہوا‘ تیسری جانب ایک نیا فتنہ کھڑا ہوا‘ اس نے سوچا کہ نبی کو نبوت کی وجہ سے شہرت ملی تھی اگر ہم بھی اپنے آپ کو نبی کہلوانا شروع کردیں تو ہمیں بھی شہرت مل جائے گی۔ اس کے پیش نظر تین مردوں اور ایک عورت نے اپنی اپنی نبوت کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ اتنے بہت سارے فتنوں نے بیک وقت سر اٹھایا۔ آپ نے ان کذاب بے ایمانوں کا قلع قمع فرمایا۔ خلیفہ رسول صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے جیش اسامہ کی روانگی (وہ لشکر جس کو رسول اﷲﷺ نے حضرت اسامہ بن زید کی سربراہی میں سات سو سوار دے کر شام کی طرف روانہ کیا۔ لیکن آنحضرتﷺ کے وصال کی خبر سننے پر لشکر راستے ذی خشب میں تھا کہ فتنوں کی خبر سن کر تمام اصحاب نے واپس بلانے کا مشورہ دیا۔ لیکن آپ نے فرمایا میںاس لشکر کو کیسے بلا سکتا ہوں جسے خود رسول اﷲﷺ نے روانہ فرمایا)
منکرین زکوٰۃ سے جنگ مسیلمہ کذاب اور فتنہ ارتداد کا مقابلہ کیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں اس خدائے برحق کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ نہ بنتے تو اﷲ تعالیٰ کی عبادت کوئی نہ کرتا
(حوالہ تاریخ الخلفاء 92)
جمع قرآن کا عظیم کام
قرآن مجید فرقان حمید کا ایک جگہ جمع فرمانا آپ ہی کے سر پر اسکا سہرا ہے‘ جوکہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے بے حد اصرار پر آپ نے اس کام کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ابو یعلیٰ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ قرآن مجید کے بارے میں سب سے زیادہ اجر حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو ملے گا کیونکہ آپ ہی نے سب سے پہلے قرآن شریف کو جمع فرمایا۔
آپ کی عاجزی
آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس قدر عظیم شخصیت ہونے کے باوجود آپ کے اندر کمال درجے کی عاجزی و انکساری تھی۔ آپ حلم اور تواضع کے پیکر تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے ایک موقع پر فرمایا یالیتنی کنت سہوا محمد کاش کہ میں حضور علیہ السلام کا سہوہی ہوجاتا‘ اﷲ اکبر صدیق اکبر کو آقا کریم علیہ السلام سے اتنی محبت تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ دنیا میں مقبول سے مقبول شخص کا بڑے سے بڑا عمل بھی حضور اکرمﷺ کے سہو کے برابر نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بخدا میں اس بات کو پسند فرماتا ہوں کہ میں درخت ہوں تاکہ جانور اسے کھاتے یا لوگ اس کو کاٹ ڈالتے۔
آپ رضی اﷲ تعالیٰ کا وصال
حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی وفات کا سبب رسولﷺ کی جدائی کے غم سے ہوا۔ اس صدمے سے آپ کا جسم نحیف و کمزور ہوتا گیا حتی کہ آپ نے دار فانی سے داربقا کی طرف کوچ فرمایا۔ اماں عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی بیماری شروع اس طرح ہوئی کہ آپ نے بروز دوشنبہ (پیر) جمادی الثانی  کی سات تاریخ کو غسل فرمایا اور اس دن سخت سردی تھی۔ اس سے آپ کو بخار ہوا اور پندرہ دن تک رہا۔ ان دنوں میں آپ نماز نہیں پڑھا سکے اور آخر سہ شنبہ (منگل) 22 جمادی الثانی کو 13 ہجری میں 63 برس کی عمر میں انتقال فرمایا۔ انا ﷲ و انا الیہ راجعون
محترم حضرات یہ کچھ مختصر باتیں آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے بارے میں پیش کی۔ آپ کی شان تو بہت ارفع و اعلیٰ ہے کہ کہاں آپ کی شان اور کہاں مجھ جیسا علم سے نابلد۔ اﷲ ان کا مرتبہ مزید بلند فرمائے اور ہمارا حشر آپ کے ساتھ فرمائے۔ آمین۔
22 جمادی الثانی کا دن آپ کے وصال کا دن ہے۔ لیکن آج عوام اہلسنت کی اکثر تعداد اس سے ناواقف ہے ‘ہمیں چاہئے کہ جس طرح ہم اہلسنت و الجماعت اپنے بزرگان دین علماء و صلحاء کے ایام مبارکہ یاد کرکے مناتے ہیں مثلا گیارہویں شریف پر غوث اعظم‘ چھٹی شریف پر خواجہ غریب نواز‘ 25 صفر کو امام اہلسنت‘ 21 رمضان شہادت حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وغیرہ کو یاد کرکے ہم ان ایام کو کافی تزک و احتشام کے ساتھ مناتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ اس دن کو بھی خاص طور پر یاد کرکے منائیں کہ آج وہ حضرات جن کے نزدیک یوم مولود النبیﷺ کا منانا‘ بزرگان دین کے اعراس کو منانا ‘ دن مقرر کرنا ناجائز تھا آج وہی حضرات یوم صدیق اکبر‘ یوم عمر‘ یوم عثمان‘ یوم امیر معاویہ رضی اﷲ عنہم اجمعین کے دن کو مناتے ہیں۔ جلوس نکالتے ہیں اپنے مدارس میں ان ایام کے حوالے سے محافل منعقد کرتے ہیں بلکہ پوسٹر ‘ ہینڈبل‘ بینرز اور دیگر ذرائع سے نام نہاد سپاہ صحابہ والے اہلسنت وجماعت اور سنی ایکشن کمیٹی کا لیبل لگا کر حکومت وقت سے ان ایام کے موقع پر عام تعطیل اور سرکاری سطح پر منانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ہم ان کو اس کام سے منع نہیں کرتے لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ جب تم غلامان مصطفی کے دنوں کو مناتے ہو تو دیگر اولیاء و صحابہ و صلحائ‘ اتقیاء اور یوم میلاد النبی پر کیوں ناجائز و بدعت کے فتویٰ صادر کرتے ہو؟ یا تو تم خود نہ منائو ان ایام کو یا پھر دیگر ایام مبارکہ پر جھوٹے اور من گھڑت فتویٰ نہ صادر کیا کرو۔ عقل سے سوچو تم کہتے کچھ ہو اور کرتے کچھ ہو۔ اہلسنت وجماعت کا لیبل لگا کر عوام کو فریب نہ دو‘ اﷲ انہیں ہدایت عطا فرمائے اور دین کی صحیح سمجھ بوجھ بھی ( آمین)