انسان کو نکاح کا حکم دیا گیا اور اس کا مقصد یہ بیان کیا
ترجمہ: اور وہی (اﷲ) ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی میں اس کا جوڑ بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے (سورۃ الاعراف‘ 189:7)
گویا مرد کے لئے عورت میں اور عورت کے لئے مرد میں رغبت‘ سکون‘ مودت اور محبت رکھ دی اور ساتھ ہی فرمادیا
ترجمہ: جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے (الرعد‘ 28:13)
اگر اس کے سکون میں مست ہوگئے تو یہ سکون ماند ہوجائے گا۔ ایک طرف وہ محبت ہے جس کا منبع ومحور زوجیت ہے اور طرف جانب وہ محبت ہے جس کا منبع و محور عبدیت ہے۔ ایک طرف نسبت نفس ہے اور دوسری جانب نسبت روح ہے۔ دین کا مقصد یہ ہے کہ رشتہ زوجیت اور اس کے تقاضوں کو قائم رکھتے ہوئے اﷲ کی محبت کو قلب و روح پر غالب رکھا جائے۔
مسلمانوں کو یہ یقین دل میں پختہ کرلینا چاہئے کہ اگر وہ دنیاوی محبتوں پر اﷲ کی محبت کو غالب کرلیں تو انہیں وہ حلاوت‘ چاشنی نصیب ہوگی کہ تمام دنیاوی حلاوتیں اس کے سامنے مغلوب ہوجائیں گی۔
اگر ہمیں دنیا اﷲ اور اس کے رسولﷺ سے زیادہ پیاری ہے تو جان رکھو ہم قلباً فاسق ہیں۔
ہر جگہ خالق اور مخلوق کی محبت کا ٹکرائو‘ اﷲ کے مقابلے میں مخلوق کی محبت انسان کو تھکا دیتی ہے‘ مشقت میں ڈال دیتی ہے۔ اﷲ قرآن میں فرماتا ہے:
ترجمہ: بے شک وہ اپنے کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا فرمان ہے:
’’دنیا مردار ہے اور اس کی طلب میں کھپنے والے کتے ہیں‘‘ (کنز العمال)
جب بندہ طالب مولا ہوکر مولا کی محبت میں مستغرق ہوجاتا ہے تو قرآن اس کے اعزاز کو آشکار کرتا ہے کہ
’’کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے سب کو تمہارے ہی کام میں لگادیا ہے‘‘ (سورہ لقمان‘20:31)
اﷲ والوںکی صحبت میں بار بار بیٹھنے سے عشق الٰہی کی پیاس تو لگ ہی جاتی ہے۔
حضرت امام ابو قاسم قشیری تابعین اور قرون اولیٰ کے اولیاء اور صالحین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب ان میں سے کوئی عبادت کی حلاوت میں کمی پاتا تو اپنے کسی دوست کے پاس جاتا اور اس سے کہتا کہ آئو ذرا چل کر اﷲ کے ذکر کی محفل میں بیٹھے۔ روحانی علاج کے سلسلے میں بزرگوں کا یہ طریقہ ثابت کرتا ہے کہ صرف جاکر اﷲ کے ذکر کی محفل میں بیٹھنے سے بھی مسئلے حل ہوجاتے ہیں۔
اﷲ والوں کی صحبت عشق الٰہی کی پیاس کو بھڑکاتی ہے۔
اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے:
ترجمہ: سو تم مجھ کو یاد کرو‘ میں تم کو یاد رکھوں گا‘‘ (البقرہ 152:2)
جب بندہ ایک بار اﷲ کا نام اپنی زبان پر لاتا ہے تو یہ ممکن نہیں کہ جواباً اﷲ بھی کم از کم ایک بار اسے یاد نہ کرے جو اپنے بندوں کو احسان کی روش چلنے کے لئے کہتا ہے وہ خود کس درجہ پاس احسان رکھتا ہوگا۔
سورہ رحمن میں ہے کہ :
’’بھلا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ (سورہ رحمن 60:55)
حدیث قدسی میں اﷲ کا فرمان ہے:
وان اتانی یمشی اتیتہ ہرولۃ (صحیح البخاری 1101:2)
ترجمہ: جو میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف (اپنی شان و قدرت کے مطابق) دوڑ کر جاتا ہوں۔
اﷲ والوں کی صحبت میں بیٹھ کر اﷲ یاد آتا ہے۔
اے بھائی! اگر تو چاہے کہ تیرے ٹوٹے ہوئے تعلق کی ڈوری پھر اﷲ سے جڑ جائے تو کثرت سے اﷲ والوں کی صحبتوں اور محفلوں کا فیض اٹھایا کر اور ذکر الٰہی سے دل کے تاروں کو روزانہ چھیڑتا رہ‘ اس کی محبت میں ڈوب کر اس اﷲ کا ذکر کرتا رہ تو دیکھے گا (انشاء اﷲ) تعلق کی کٹی ہوئی ڈوری خود بخود جڑتی چلی جائے گی اور جب انسان کے قلب و باطن میں حضورﷺ کے عشق و محبت کا چراغ روشن ہوجائے اور رشتہ غلامی استوار ہوجائے تو انسان کی شخصیت خود بخود سچائی و اخلاص کے ساتھ دینداری کے سانچے میں ڈھلتی چلی جاتی ہے۔